طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں انواع کلام ممنوع میں ہے:
النوع الثانی والخمسون قطع کلام الغیر من غیر ضرورۃ خصوصا اذا کان فی مذاکرۃ العلم) الشرعی (وقدمر ان السلام علیہ) ای علی الجالس لمذاکرۃ العلم(اثم) لما فیہ من قطع الخیر وایذاء المسلم المتکلم والسامع (وکذا تکلم من ھو) جالس (فی مجلس عظۃ) ای وعظ وتذکیر (ولو مع الاخفاء وکذا مجرد التفاتہ وتحرکہ) وقیامہ واتکائہ (من غیر حاجۃ وکل ھذا سوء ادب وخفۃ وعجلۃ وسفہ بل یتعین التوجہ الیہ والانصات والاستماع الی ان ینتھی کلامہ بلاالتفات ولاتحرک ولاتکلم ۱؎اھ مختصراً۔
یعنی کلام کا نوع پنجاہ ودوم بے ضرورت شرعیہ دوسرے کی بات کاٹنا ہے جبکہ وہ علم شرعی کے ذکرمیں ہو، اور اوپر گزرچکا کہ اس پر اس وقت سلام کرنا بھی گناہ ہے کہ اس میں اسی نیک کلام کاقطع کرنا او رقائل اور سامعین مسلمانوں کو ایذا دیناہے یوہیں جومجلس وعظ میں بیٹھا ہو اسے بھی بات کرناگناہ ہے اگرچہ آہستہ ہی ہو اسی طرح صرف بے ضرورت اِدھر اُدھر دیکھنا یاکوئی حرکت وجنبش کرناکھڑا ہوجانا یاتکیہ لگالینا اور یہ سب گستاخی وبے ادبی اور ہلکا پن خفیف الحرکاتی اور جلدبازی اور حماقت ہے بلکہ لازم یہی ہے کہ اسی کی طرف توجہ کئے خاموش کان لگائے سنتے رہیں یہاں تک کہ اس کا کلام ختم ہو اس وقت تک نہ اِدھراُدھر دیکھیں نہ کوئی جنبش نہ اصلاً کچھ بات کریں۔
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثانی والخمسون قطع کلام الغیر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۳۵۰)
(الطریقۃ المحمدیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ مطبعہ اسلامیہ سٹیم پریس لاہور ۲/ ۹۳۔۱۹۲ٌ)
جب وعظ میں مطلق حرکت او رآہستہ بات بے ضرورت بھی گستاخی وبے ادبی وگناہ ٹھہرے تو غل مچانا گالیاں بکنا کس قدر سخت توہین ہوگا یہ توہین اس عالم دین کی توہین نہ ہوگی جو اس وقت وعظ کرتاہے بلکہ اصل دین اسلام اور خود ہمارے نبی اکرم علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام کی توہین ٹھہرے گی کہ مسند وعظ اصل مسند حضورپرنور سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے۔
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
اے نبی! ہم نے تجھے بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈرسناتا اور اﷲ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اورآفتاب روشنی پہنچاتا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۴۵ و ۴۶)
نیکیوں پرمژدہ دیتا، برائیوں پرڈرسناتا، اﷲ کی طرف مطابق شریعت بلاتا۔
یہی معنی وعظ ہے اور آیہ کریمہ
وذکّر فان الذکرٰی تنفع المؤمنین۳؎
(لوگوں کو نصیحت کیجئے کیونکہ نصیحت کرنا ایمان والوں کو فائدہ پہنچاتاہے۔ت) میں بھی اصل مخاطب حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں یہ کام علمائے دین حضور کی وراثت سے کرتے ہیں کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انّ العلماء ورثۃ الانبیاء۔ رواہ ابوداؤد۱؎ والترمذی عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں علیہم الصلوٰۃ والسلام (امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے اسے حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
(۳؎القرآن الکریم ۵۲/ ۵۵)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب العلم باب فضل العلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۷)
اور نائب جب مسندنیابت پرہوتو اس دربار کی توہین اصل سلطان کی توہین ہے، ہرعاقل جانتاہے کہ اگرکوئی شخص کسی ادنٰی درجے کے اجلاس میں غل کرے گا گالیاں بکے تو وہ اس ادنٰی ہی کی توہین نہ ہوگی بلکہ اصل بادشاہ کی،
والعیاذباﷲ رب العٰلمین ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
(اﷲ تعالٰی کی پناہ جو تمام جہانوں کاپروردگار ہے، گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں بجزاﷲ تعالٰی بلندوبرتراور بڑی شان رکھنے والے کی توفیق عطاکے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۰ : ازشہرمحلہ مسئولہ جناب محمد فضل حق صاحب بتاریخ ۸محرم ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید خود بھی تخت الم تعزیہ وغیرہ دیکھناجائز رکھتاہے اور مستورات کو اس قسم کے ہنگاموں میں جانے سے منع نہیں کرتا بلکہ بچوں کو بھی خواہ بنظرثواب خواہ بخیال تماشہ اپنے ساتھ لے جاکر دکھاتا ہے علمائے دین متین اور حامیان سنت رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کیافتوٰی دیتے ہیں ایسے لوگوں سے جن کا یہ خیال ہے کہ فقیر بن کر سلسلہ میں شامل ہوجائے اور یہ عقیدہ ہے کہ اس طرح اولاد کاتحفظ اور بیمہ جان کاہوجاتا ہے، کیاہوناچاہئے، فقیرمذکور کو بھیک دینے اور پیسہ دینے کاکیاحکم ہے اور عقیدہ اور عمل بالا کو کیساجانناچاہئے؟ بینواتوجروا
الجواب : تخت عَلم تعزیے وغیرہ سب ناجائز ہیں اور ناجائز کام کو بطور تماشہ دیکھنا بھی حرام لان ماحرم فعلہ حرم التفرح علیہ (اس لئے کہ جس کام کاکرنا حرام ہے اس پر خوشی منانابھی حرام ہے۔ت) اور بچوں کو دکھانے کابھی گناہ اسی پرہے کما فی الاشباہ وغیرہ (جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔ت) اور عورتوں کو ایسے جلسوں میں جانے کی اجازت دینی حرمت کے سوا سخت بے حرمتی اور نہایت بے غیرتی بھی ہے وفی الخلاصۃ والدر وغیرھما ان اذن کانا عاصیین۲؎(خلاصہ، درمختار اور ان دو کے علاوہ دوسری کتب فقہ میں مرقوم ہے، اگر مردنے (اپنی اہلیہ کوناجائزکام کی) اجازت دی تو میاں بیوی دونوں گنہگار ہوں گے۔ت) اور اس کو ثواب سمجھناگناہ کے علاوہ فسادعقیدہ بھی ہے، والعیاذباﷲ تعالٰی،
(۲؎ خلاصۃ الفتاوی کتاب النکاح الفصل الخامس عشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۵۳)
سلسلہ اولیائے کرام میں کسی ایسے شیخ کے ہاتھ پر داخل ہونا کہ عالم سنی متصل السند غیرفاسق ہو ضرور برکت عظیمہ ہے دنیاوآخرت میں اس کے منافع بے شمارہیں اور اس سے زیادت عمر کی امیدرکھنا بھی بیجانہیں کہ وہ بِرّ یعنی نکوئی ہے اور نکوئی سے رزق بڑھتاہے عمرمیں برکت ہوتی ہے اور یہ کوئی جاہل سے جاہل بھی نہ سمجھے گا کہ اب موت محال ہوگئی، ہاں بھیک مانگنے کے لئے فقیر بناناحرام ہے اور بے ضرورت شرعیہ و مجبوری محض بھیک مانگناحرام، اور جوبلاضرورت مانگے اسے دینابھی حرام لکونہ اعانۃ علی المعصیۃ کما فی الدرالمختار (اس لئے کہ یہ بھیک دینا(اس لئے حرام ہے کہ) یہ گناہ کے کام پردوسرے کی مددکرناہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۱: ایک عالم نے اپنے متعدد وعظوں میں سودخوری، شراب فروشی، شراب نوشی، بیع لحم خنزیر، اکل غیرمذبوح مرغ، زناکاری، لواطت واغلام کی حرمت قرآن وحدیث سے بیان کی اور میراث کے مسئلے محمدن لاء(شریعت محمدی) کوچھوڑ کر ہندو لاء(ہندودھرم) قبول کرنے کوکفرصریح بتلایا جس جماعت میں یہ باتیں تھیں بجائے اس کے کہ ان باتوں کو ترک کردیتے اورتوبہ واستغفار کرتے اور خداورسول کے حکم کے آگے سرجھکادیتے خلاف اس کے ضد اور نفسانیت میں آن کر اپنی جماعت کو اکٹھا کرکے اتفاق کرلیا کہ جماعت کا کوئی فرد اپنے ہاں اس عالم کے وعظ کی مجلس منعقد نہ کرے اور اگرکیا تو جماعت سے خارج کردیاجائے گا، آیا اس صورت میں شرعاً اس جماعت کاکیاحکم ہے اور دوسرے مسلمانوں کو شرعاً اس جماعت سے قطع تعلق کرناچاہئے یانہیں؟ بدلائل شرعیہ جواب لکھ کر عنداﷲ ماجورہوں۔
الجواب: اس صورت میں جماعت سخت ظالم اور عذاب شدید کی اور اس آیت کریمہ کی مصداق ہے:
اور جب اس سے کہاجائے کہ اﷲ تعالٰی سے ڈرئیے تو اسے گناہ ، مزید ضد(اورطیش) پر آمادہ کرے اور اُبھارے، پس (بدنصیب) کے لئے دوزخ ہی کافی ہے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۰۶)
اگر وہ لوگ توبہ نہ کریں تو مسلمانوں کو ان سے قطع تعلق چاہئے ورنہ بحکم احادیث کثیرہ وہ بھی ان کے ساتھ شریک عذاب ہوں گے او شک ان یعمھم اﷲ بعقاب منہ (قریب ہے کہ اﷲ تعالٰی انہیں اس کے عذاب میں شامل اور شریک فرمائے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم