مسئلہ ۴۷ : ازکٹرہ ڈاکخانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی سیدکریم خاں صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک زمیندار مسلمان کی کچہری میں ایک کائستھ بذریعہ نوکری اسی زمیندار کے ہاں سکونت گزیں ہے اور اس میں ناقوس بجایاکرتاہے اور وہ زمیندار ناقوس بجانے سےا س کو نہیں روکتا ہے تو وہ زمیندار رضابالکفر کے باعث گنہگار ہوگا یانہیں؟ بیّنواتوجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : بیشک گنہگار اور سخت گنہگارکہ ازالہ منکر بقدرقدرت فرض ہے خصوصاً منکر بھی کیسا کہ شرک کفّاروعبادت بتان وناہنجار، والعیاذباﷲ العزیز الغفار۔ یہ اگر بفرض غلط اسے نوکر رکھ کر منع پر قادر نہ ہو تو موقوف کرنے پرتو قادرہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ من اٰوی محدثا۔ رواہ الامام احمد۱؎ ومسلم فی صحیحہ والنسائی عن علی کرم اﷲ تعالٰی وجھہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ کی لعنت اس پر جو کسی شرعی مجرم کو پناہ دے ۔(امام احمداورمسلم نے اپنی صحیح میں اور نسائی نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے اسے روایت کیا۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ مسندامام احمد بن حنبل عن علی ابن ابی طالب رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۱۰۸)
(صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب تحریم الذبح لغیراﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۱۔۱۶۰)
مسئلہ ۴۸ : ازکلکتہ دھرم تلا ۱۲۴ مرسلہ جناب محمدیونس صاحب ۸رجب ۱۳۲۷ھ
علمائے دین سے سوال ہے کہ اس شخص کاکیاحال ہے، زید حتی الامکان اوامرالٰہی بجالاتاہے مگر نواہی کابھی مرتکب ہوتاہے اور جو اس سے کہاجاتاہے توکہتا ہے:
ان الحسنٰت یذھبن السیئات۱؎
(بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔ت) بیّنواتوجروا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۱۴ )
الجواب : معصیّت کے جواب میں اس آیت کریمہ کو دستاویز بنانا جاہل مغرور کاکام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی زیّن لھم الشیطٰن اعمالھم۲؎ وقال اﷲ تعالٰی ولایغرنکم باﷲ الغرور۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: شیطان نے ان کے لئے ان کے کرتوت (برے اعمال) خوشنما بناڈالے ہیں اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: لوگو! تمہیں خدا تعالٰی کے معاملہ میں وہ بڑا فریبی یعنی شیطان دھوکے میں نہ ڈال دے۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ القرآن الکریم ۸/ ۴۸ و ۲۷/ ۲۴)(۳؎القرآن الکریم ۳۵/ ۵)
مسئلہ ۴۹ : ازبمبئی عطارگلی کاناکہ مرسلہ مولوی ہدایت رسول صاحب ۲۱ جمادی الاخرٰی
کیافرماتے ہیں حضرات علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ امربالمعروف ونہی عن المنکر کرنا یعنی وعظ کہنا اور حاضرین جلسہ کا اس کو خاموشی اور رجوع قلب کے ساتھ ادب سے سننا مذہبی عبادت ہے یانہیں؟ اور جو اس میں دست اندازی کرے غل مچائے گالیاں بکے اس نے مذہبی توہین کی یانہیں؟ قرآن وحدیث واقوال علماء سے لکھیں اور اجردارین حاصل کریں۔
الجواب : عالم دین کا امربالمعروف ونہی عن المنکر کرنابندگان خدا کو دینی نصیحتیں کرنا جسے وعظ کہتے ہیں ضرور اعلٰی فرائض دین سے ہے۔
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
لازم ہے کہ تم میں ایک گروہ ایسا رہے کہ نیکی کی طرف بلائے اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۰۴)
اور فرماتاہے:
وذکر فان الذکرٰی تنفع المؤمنین۲؎۔
وعظ کہتارہ کہ وعظ مسلمانوں کو فائدہ دیتاہے۔
(۲؎القرآن الکریم ۵۱/ ۵۵)
اور حاضرین کا ادب وخاموشی ورجوع قلب کے ساتھ اسے سنتے رہنا بھی مذہبی عبادت اور دینی فرض ہے،
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
فبشر عبادی الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ۳؎۔
خوشخبری دے میرے ان بندوں کو جو متوجہ ہوکربات سنتے پھر اس کے بہتر پرعمل کرتے ہیں۔
(۳؎القرآن الکریم ۳۹/ ۱۸۔۱۷)
اس میں دست اندازی کرناغل مچانا گالیاں بکنا ضرورمذہبی توہین اور خاص عادت کفاربے دین ہے۔
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
وقال الذین کفروا لاتسمعوا لھذا القراٰن والغوافیہ لعلکم تغلبون۴؎۔
کافربولے اس قرآن کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے میں غل شورکرو شایدیونہی تم غالب آؤ۔
(۴؎القرآن الکریم ۴۱/ ۲۶)
شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی برادر مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب موضح القرآن میں اس آیت کے نیچے لکھتے ہیں: یہ جاہلوں کازورہے شورمچاکر سننے نہ دینا۵؎۔
(۵؎ تفسیر موضح القرآن برترجمہ شاہ رفیع الدین تحت آیۃ وقال الذین کفروالاتسمعوا الخ ممتاز کمپنی لاہور ۵۲۶)
اور فرماتاہے:
فما لھم عن التذکرۃ معرضینoکانہم حمر مستنفرۃo فرت من قسورۃ ۱؎o
انہیں کیاہوا وعظ سے منہ پھیرے ہیں گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہیں کہ شیر سے بھاگے ہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۷۴/ ۵۰ و ۵۱)
وعظ سے روگردانی تو شیر سے گدھے کابھڑکنا ٹھہرے اس پر غل مچاناگالیاں بکنا کیاچاند پرکتوں کابھونکنانہ ہوگا۔ وعظ تو وعظ کہ وہ بنص صریح قرآن مجید فرض مذہبی ہے کتب دینیہ میں تصریح ہے کہ ہرخطبے حتی کہ خطبہ نکاح وخطبہ ختم قرآن کاسننا بھی فرض ہے اور ان میں غل کرنا حرام حالانکہ خطبہ نکاح صرف سنت ہے اور خطبہ ختم نرا مستحب۔
اسی طرح معتمد قول کے مطابق تمام خطبات کاسننا واجب ہے مثلاً خطبہ جمعہ، عیدین، نکاح اور ختم قرآن وغیرہ۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۳)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ وختم ای ختم القراٰن کقولھم الحمدﷲ رب العٰلمین حمد الصابرین۳؎۔الخ
صاحب درمختار کاقول وَخَتْمٍ سے مراد ختم قرآن ہے جیسے اس موقع پر ان کاکہنا ہے الحمدﷲ رب العٰلمین حمد الصابرین یعنی تعریف اس خدا کے لئے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ایسی تعریف جو صبرکرنے والوں کی تعریف جیسی ہو۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۵۱)