Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
23 - 160
جواب سوا ل چہارم 

امربالمعروف ونہی عن المنکر ضرور بنصوص قاطعہ قرآنیہ اہم فرائض دینیہ سے ہے اور بحال وجوب اس کا تارک آثم وعاصی، اور ان نافرمانوں کی طرح خود بھی مستحق عذاب دنیوی واُخروی۔ احادیث کثیرہ اس معنی پرناطق ہیں اور اہلسنّت وغیرھم کا واقعہ خود قرآن عظیم میں مذکور۔
قال اﷲ تعالٰی: لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علٰی لسان داؤد وعیسٰی بن مریم ذٰلک بما عصوا وکانوا یعتدون۱؎o کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون۲؎۔
بنی اسرائیل کے کافروں پرلعنت پڑی داؤد و عیسٰی بن مریم کی زبان سے، یہ بدلہ تھا ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کابرے کام سے، ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے ضرور ان کا یہ فعل سخت براتھا۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۵/ ۷۸)(۲؎القرآن الکریم       ۵/ ۷۹)
اصحاب سبت پر داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعا کی: الٰہی! انہیں لعنت کر اور لوگوں کے لئے نشانی بنادے۔ بندرہوگئے۔ اہل مائدہ پرعیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہی دعا کی ، سورہوگئے، والعیاذباﷲ رب العالمین۔ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کلا واﷲ لتأمرن بالمعروف ولتنھون عن المنکر اولیضربن اﷲ بقلوب بعضکم علٰی بعض ثم لیلعننکم کما لعنھم۔ رواہ ۳؎ ابوداؤد عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ھذا مختصر۔
یوں نہیں، خدا کی قسم یا تو تم ضرور امربالمعروف کروگے اور ضرورنہی عن المنکر کروگے یاضروراﷲ تعالٰی تمہارے دل آپس میں ایک دوسرے پر مارے گا پھر تم سب پر اپنی لعنت اتارے گا جیسی ان بنی اسرائیل پر ۔ (امام ابوداؤد نے حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے اسے روایت کیاہے، یہ مختصر ہے۔(ت)
 (۳؎ سنن ابی داؤد     کتاب الملاحم     باب الامروالنہی     آفتاب عالم پریس لاہور     ۲/ ۲۴۰)
مگریہ امرونہی نہ ہرشخص پرفرض نہ ہرحال میں واجب، توبحال عدم وجوب اس کے ترک پریہ احکام نہیں بلکہ بعض صور میں شرع ہی اسے ترک کی ترغیب دے گی جیسے جبکہ اس سے کوئی فتنہ اشدپیداہوتاہو، یونہی اگرجانے کہ بے سودہے کارگرنہ ہوگا تو خواہی نخواہی چھیڑنا ضرور نہیں خصوصاً جبکہ کوئی امراہم اصلاح پارہاہو، مثلاً کچھ لوگ حریر کے عادی نماز کی طرف جھکے یاعقائد سنت سیکھنے آتے ہیں اور جب حریر وپابندی وضع میں ایسے منہمک ہیں کہ ان پراصرار کیجئے توہرگز نہ مانیں گے غایت یہ کہ آنا چھوڑدیں گے وہ رغبت نمازوتعلم عقائد بھی جائے گی تو ایسی حالت میں بقدرتیسر انہیں ہدایت اور باقی کے لئے انتظار وقت وحالت، ترک امرونہی نہیں بلکہ اسی کی تدبیر وسعی ہے۔
واﷲ یعلم المفسد من المصلح۱؎۔ واﷲ علیم بذات الصدور۲؎۔
اﷲ تعالٰی فسادی اور مصلح دونوں سے واقف ہے اور وہ سینے میں پوشیدہ راز جاننے والاہے۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲/ ۲۲۰)(۲؎ القرآن الکریم        ۳/ ۱۵۴)
بستان امام فقیہ سمرقند پھرمحیط پھرہندیہ میں ہے:
 ان الامر بالمعروف علی وجوہ ان کان یعلم باکبر رایہ لوامر بالمعروف یقبلون ذٰلک منہ ویمتنعون عن المنکر فالامر واجب علیہ ولایسعہ ترکہ ولوعلم باکبررایہ انہ لوامرھم بذٰلک قذفوہ وشتموہ فترکہ افضل وکذٰلک لو علم انھم یضربونہ ولایصبر علی ذلک ویقع بینھم عداوۃ ویھیج منہ القتال فترکہ افضل، ولوعلم انھم لو ضربوہ و صبرعلی ذٰلک ولایشکو الی احد فلابأس بان ینھی عن ذٰلک وھو مجاھد ولوعلم انھم لایقبلون منہ ولایخاف منہ ضربا ولاشتما فھو بالخیار والامرافضل۱؎۔
امربالعروف کی متعدد قسمیں ہیں، اگرکوئی اپنے غالب گمان کی بناپرسمجھتاہے کہ اگر اس نے امربالمعروف کیاتو لوگ اس کی بات تسلیم کریں گے اور گناہ سے بازآجائیں گے تو ایسی صورت میں اس پر امربالمعروف واجب ہوتاہے یعنی اسے ترک کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی اور اگرغالب گمان یہ ہوکہ اس کے امربالمعروف کاالٹا اثرہوگا لوگ الزام تراشی اور گالی گلوچ سے کام لیں گے تو اس صورت میں امربالمعروف نہ کرنا افضل ہے۔ اسی طرح اگرجانتاہے کہ امربالمعروف کرنے کی صورت میں لوگ زدوکوب کریں گے اور یہ اسے برداشت نہیں کرسکے گا اور باہمی عداوت وخانہ جنگی کی صورت پیدا ہوجائے گی تو ایسی صورت حال میں بھی امربالمعروف کاترک کردینا افضل ہے۔ اور اگر اسے معلوم ہے کہ لوگ مشتعل ہوکر اسے اذیّت پہنچائیں گے مگر وہ صبر کرلے گا اور سختی برداشت کرلے گا اور کسی سے شکوہ شکایت نہیں کرے گا توپھر امربالمعروف اور نہی عن المنکر پرعمل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ ایسی صورت حال میں اس کاعمل ایک مجاہد کاساعمل متصورہوگا، اور اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ لوگ اس کی بات تونہیں مانیں گے البتہ کسی سخت رَدِّ عمل کااظہار بھی نہیں ہوگا (یعنی نہ ماننے کے باوجود مارپٹائی اور گالی گلوچ سے کام نہیں لیں گے) تو اس صورت میں اسے اختیارہے کہ امربالمعروف سے کام لے یانہ لے البتہ یہاں امربالمعروف افضل ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الکراہۃ     الباب السابع عشر     نورانی کتب خانہ پشاور     ۵/ ۵۳۔۳۵۲)
لیکن پیری مریدی اگردل سے ہے تو وہاں ایسی صورت کاپیداہونا جس میں امرونہی منجر بضرر ہوں ظاہراً نادرہے ایسے متبوعوں مقتداؤں پر اس فرض اہم کی اقامت بقدرقدرت ضرورلازم، اور اسی میں ادنٰی اتباع کے حق سے اداہونا ہے جوباوصف قدرت وعدم مضرت ان کے سیاہ وسپید سے کچھ مطلب نہ رکھے بلکہ ہرحال میں خوش گزر ان کی ٹھہرائی خواہ یوں کہ خود ہی احکام شرعیہ کی پروانہ رکھتا ہو جیسے آج کل کے بہت آزاد متصوّف یاکسی دنیوی لحاظ سے پابندی شرع کو نہ کہتاہو جیسے درصورت امرونہی اپنے پلاؤ وقورمے یاآؤ بھگت پرخائف تویہ ضرور پیرغوایت ہے نہ کہ شیخ ہدایت۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جواب سوال پنجم

ہنود قطعاً بت پرست مشرک ہیں وہ یقینا بتوں کو سجدہ عبادت کرتے ہیں اور بالفرض نہ بھی ہو تو بتوں کی ایسی تعظیم پربھی ضرور حکم کفرہے اورانہیں بارگاہ عزت میں شفیع جاننا بھی کفر، ان سے شفاعت چاہنا بھی کفر کہ قطعاً اجماعاً یہ افعال واقوال کسی مسلم سے صادرنہیں ہوتے، نہ کوئی مسلمان بلکہ کوئی اہل ملّت بت کی نسبت ایسا اعتقاد رکھے اور اس میں صراحۃً تکذیب قرآن ومضادت رحمن ہے۔ شرح فقہ اکبر میں ہے:
قال ابن الھمام وبالجملۃ فقد ضم الی تحقیق الایمان اثبات امور الاخلال بھا اخلال بالایمان اتفاقا، کترک السجود لصنم وقتل نبی اوالاستخفاف بہ او بالمصحف او الکعبۃ۱؎ الخ۔
محقق ابن الہمام نے فرمایا حاصل یہ ہے کہ وجودایمان کے لئے چندامور کے اثبات کا انضمام کیاجائے گا اور ان میں خلل اندازی بالاتفاق ایمان میں خلل اندازی کے مترادف ہوگی جیسے بُت کو سجدہ نہ کرنا، کسی نبی کو قتل نہ کرنا، نبی یامصحف یا بیت اﷲ شریف کی توہین نہ کرنا الخ۔(ت)
 (۱؎ منح الروض الازھر شرح فقہ الاکبر     استحلال المعصیۃ ولوصغیرۃ کفر     مطبع مصطفی البابی مصر     ص۱۵۲)
اعلام بقواطع الاسلام میں قواعد امام قرافی سے ہے:
ھذا الجنس قدثبت للوالد ولو فی زمن من الازمان وشریعۃ من الشرائع فکان شبھۃ دارئۃ لکفر فاعلہ بخلاف السجود لنحو الصنم اوالشمس فانہ لم یرد ھو ولامایشابھہ فی التعظیم فی شریعۃ من الشرائع فلم یکن لفاعل ذٰلک شبھۃ لاضعیفۃ و لاقویۃ فکان کافرا ولانظر لقصد التقرب فیما لم ترد الشریعۃ بتعظیمہ بخلاف من وردت بتعظیمہ۲؎۔
یہ جنس، والد کے لئے ثابت ہے اگرچہ کسی زمانے یاکسی شریعت میں ہو پس یہ شبہہ کفرفاعل کے لئے دافع ہوگا بخلاف اس کے کہ مثل بت یا سورج کو سجدہ کیاجائے کیونکہ وہ اور جو بھی اس کے مشابہ ہوتعظیم میں، کسی شریعت میں وارد نہیں ہوا لہٰذا اس کام کے کرنے والے کے لئے کوئی ضعیف اور قوی شبہہ نہیں بس کرنے والا کافرہے اور جس کی تعظیم کے لئے شریعت میں کچھ وارد نہیں ہوا ارادہ تقرب کے لئے اسے نہیں دیکھاجائے گا بخلاف اس کے جس کی تعظیم کے لئے شریعت وارد ہوئی۔(ت)
 (۲؎ الاعلام بقواطع الاسلام         لابن حجر مکی الہیتمی         مکتبۃ الحقیقۃ استنبول ترکی     ص۳۴۸)
شفاشریف میں ہے:
کذٰلک نکفر بکل فعل اجمع المسلمون انہ لایصدر الامن کافروان کان صاحبہ مصرحا بالاسلام مع فعلہ ذٰلک الفعل  السجود للصنم وللشمس والقمروالصلیب والنار۱؎الخ۔
اسی طرح سب ایسے کام جن کا صدور کفارسے ہوتاہے اگروہ دعوی اسلام کے باوجود وہ کام کرے تو اس کی تکفیر پرمسلمانوں کا اتفاق ہے اور ہم بھی اس کی تکفیر کرتے ہیں جیسے چاند، سورج یا کسی بت یا صلیب اورآگ وغیرہ کے آگے سجدہ کرنا الخ (ت)
(۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی     فصل فی بیان ماھو من المقالات     المطبعۃ الشرکۃ النعمانیۃ     ۲/ ۲۷۲)
اُسی میں ہے:
کل مقالۃ صرحت بنفی الربوبیۃ او الوحد انیۃ اوعبادۃ احد غیراﷲ او مع اﷲ فھی کفر کمقالۃ الدھریۃ والذین اشرکوا بعبادۃ الاوثان من مشرکی العرب واھل الھند والصین ۲؎ اھ مختصراً۔
ہرایسی گفتگو جس سے نفی ربوبیت یا نفی الوہیت کی تصریح اور اظہارہوتا ہو یا اﷲ تعالٰی کے سوا کسی کی عبادت یا اﷲ تعالٰی کی عبادت کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرنا کفرہے جیسے دہریوں کی گفتگو اور مشرکین عرب میں سے ان لوگوں کی گفتگو جو بت پرستی کی وجہ سے مشرک ہوئے اور اہل ہند اور اہل چین کی گفتگو اھ مختصراً (ت)
 (۲؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی     فصل فی بیان ماھو من المقالات     المطبعۃ الشرکۃ النعمانیۃ    ۲/ ۲۶۸)
اذکار افکار مراقبات کاجوگیوں سے لیاجانا افترائے بیمزہ ہے اور ممکن وشاید سے کوئی کتاب آسمانی نہیں ٹھہرسکتی نہ لیت ولعل سے کوئی صریح مشرک بت پرست قوم کتابی مشرکین ہنود کے شرک وکفر کامنکر ان اقوال مخذولہ تعظیم وشفاعت اصنام کامظہر ضروربددین گمراہ ملحدکافر ہے، والعیاذباﷲ تعالٰی۔
شفاشریف میں ہے:
ولھذا نکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل او وقف فیہم او شک اوصحح مذھبھم وان اظھر مع ذلک الاسلام واعتقدہ واعتقد ابطال کل مذھب سواہ فہو کافر باظھارہ من خلاف ذٰلک۳؎۔
لہٰذا ہم ان لوگوں کی تکفیر فرماتے ہیں جو ملت اسلامیہ نہ رکھنے والوں کاطریقہ اختیارکرتے ہیں یا ان کے معاملہ میں توقف یا شک کرتے ہیں یا ان کے مذہب کو صحیح قراردیتے ہیں اگرچہ باوجود اس روش کے اسلام کا اظہارکریں اور اس پر عقیدہ رکھیں اور اپنے بغیر ہرمذہب کوباطل یقین کریں یہ لوگ کافرہیں اس لئے کہ انہوں نے اس چیز کا اظہارکیا جس کے خلاف ان سے ظاہرہوا۔(ت)
(۳؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی     فصل فی بیان ماھو من المقالات     المطبعۃ الشرکۃ النعمانیۃ     ۲/ ۲۷۱)
عجب شان الٰہی ہے یہی ناپاک وبیباک بات یعنی اصنام سے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو معاذاﷲ ملانا پہلے ایک خبیث نے مسلمانوں کو مشرک بنانے کے لئے لکھی تھی کہ بت پرست بھی شفاعت خواہی اور اس کے مثل افعال ہی بتوں سے کرکے مشرک ہوئے، یہی باتیں یہ لوگ انبیاء اولیاء کے ساتھ کرتے ہیں تو یہ اور ابوجہل شرک میں برابرہیں، اب یہی مردود وملعون قول دوسرے نے مشرکوں کو مسلمان ٹھہرانے کے لئے کہا کہ بتوں سے شفاعت خواہی ان کی تعظیم حتی کہ انہیں سجدہ کفر نہیں کہ مسلمان بھی توانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعظیم کرتے ان سے شفاعت مانگتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم نسأل اﷲ العفو والعافیۃ (گناہوں سے بچنے اور نیکی اپنانے کی طاقت بجزاﷲ تعالٰی بلند مرتبہ عظیم القدر کی توفیق کے کسی میں نہیں ہم اﷲ تعالٰی سے عفووعافیت مانگتے ہیں۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔

رسالہ مسائل سماع ختم ہوا۔
Flag Counter