پھر جمیع صحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین کانام لے دینا کیاجائے ادب۔ مشائخ طریقت رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں زیادہ مہربانی حضرات چشت پرہے، ان کے ارشادات اوپرگزرے، اور حضرت مولانافخرالدین زراوی خلیفہ حضورسیدنامحبوب الٰہی رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے زمانہ حضورمیں خود حکم حضور سے رسالہ کشف القناع عن اصول السماع تحریر فرمایا جس میں ارشاد فرماتے ہیں:
اما سماع مشائخنا رضی اﷲ تعالٰی عنہم فبریئ عن ھٰذہ التہمۃ وھو مجرد صوت القوال مع الاشعار المشعرۃ من کمال صنعۃ اﷲ تعالٰی۴؎۔
یعنی ہمارے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا سماع اس تہمت مزامیر سے مبراہے وہ تو صرف قوال کی آواز ہے ان اشعار کے ساتھ کہ کمال صنع خداوندی جل وعلا پر آگاہ کریں۔(ت)
(۴؎ کشف القناع عن اصول السماع )
بالجملہ ائمہ عارفین وارثان انبیاء ومرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام اجمعین ضرور ان بہتانوں سے منزّہ ہیں، حکایت بے سروپا رطب ویابس بے سند معتمد قابل قبول نہیں نہ خلاف بعض مذہب جمہور خصوصاً تحریحات جلیلہ کتب مذہب پر کچھ اثر ڈالے ہاں خواہش نفسانی کی پیروی کو اخذوتلفیق بے تحقیق کا ہرشخص کو اختیارہے مغلوبین حال کے افعال، احوال، اقوال، اعمال نہ قابل استناد ہیں نہ لائق تقلید۔ حضرت مولوی معنوی قدس سرہ القوی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں: ؎
درحق اوشہد ودرحق تو سم درحق اومدح ودرحق توذم
درحق او ورد ودرحق توخار درحق اونور ودرحق تونار۱؎
(اس کے حق میں شہد ہے جبکہ تیرے لئے زہرہے، اس کے حق میں تعریف ہے جبکہ تیرے حق میں برائی ہے، اس کے لئے تو پھول اور تیرے لئے کانٹاہے، اس کے حق میں نورہے جبکہ تیرے حق میں نار (آگ) ہے۔ت)
(۱؎ مثنوی شریف وحی آمد ازحق تعالٰی بعتاب موسٰی الخ دفتر دوم نورانی کتب خانہ پشاور ص۴۴)
بالفرض اگرزید بھی اپنے مغلوب الحال ہونے کا دعوی کرے اور مان بھی لیاجائے تو ایک زید وارفتہ وبیخود سہی یہ جو سیکڑوں ہزاروں عوام کا ہجوم وازدحام کرایاجاتا ہے کیایہ بھی سب خدا رسیدہ مغلوب الحال ہوکر آئے ہیں یا دنیابھر سے چھانٹ چھانٹ کر پاگل بوہرے بلائے ہیں جن پر شرع کا قلم تکلیف نہیں، اور جب یہ کچھ نہیں تو اس مجمع کی تحریم اور بانی کی تاثیم میں اصلاً شک نہیں فانما علیک اثم الا ریسیسین(لہٰذا کاشتکاروں کا گناہ تمہارے سرہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
جواب سوال سوم
بدیہیات دینیہ سے ہے کہ اوّلا عقائد اسلام وسنت پھراحکام صلوٰۃ وطہارت وغیرہا ضروریات شرعیہ سیکھنا سکھانافرض ہے اور انہیں چھوڑ کر دوسرے کسی مستحب وپسندیدہ علم میں بھی وقت ضائع کرنا حرام نہ کہ موسیقی کہ اس کا ہلکا درجہ لغووفضول اور بھاری پایہ مخزن آثام۔ وحدۃ الوجود وحقائق ودقائق تصوف جس طرح صوفیہ صادقہ مانتے ہیں (نہ وہ جسے متصوفہ زنادقہ جانتے ہیں) ضرور حق وحقیقت ہے مگر اس میں اکثر ذوق ہے کہ ان مقامات عالیہ پر وصول کے بعد منکشف ہوتاہے زبانی تعلیم وتعلم سے تعلق نہیں رکھتا اور بہت وہ ہے جسے عوام توعوام آج کل کے بہت مولوی کہلانے والے بھی نہیں سمجھ سکتے اور خود اکثر یہ جو پیرومشائخ بنتے ہیں طوطے کی طرح چند لفظ یاد کرلینے کے سوا معانی کی ہوا سے بھی مس نہیں رکھتے پھر کون سکھائے گا اور کون سیکھے گا۔ ہاں یہ ضرور ہوگا کہ ایک تو ان انگھڑبتانے والوں کی کج فہمی کہ مطلب کچھ ہے اور سمجھے کچھ، دوسرے ان معانی کے لئے الفاظ کی نایابی کہ وہ اکثرحال ہے نہ قال۔تیسرے اس پرطرہ کہ ان صاحبوں کی کج مج بیانی کہ جس قدردونوں پہلو حق وحقیقت کے سنبھالے ہوئے بیان میں لاسکتے تھے یہ بتانے والے حضرات اُتنے پر بھی قدرت نہیں رکھتے اور اگرقدرت ہو بھی تو حفظ دین وایمان کی پرواکسے، چوتھے ان سب پر بالا اُن جاہلوں بے تمیزوں کی کودنی جنہیں یہ حقائق ودقائق سکھائے جائیں گے انہیں ابھی سیدھے سیدھے احکام سمجھنے کے لالے ہیں ان متشابہات کو کون سمجھے گا۔ غرض اس کا اثرضرور ان کابگڑنا فتنے میں پڑنازندیق مرتد یا ادنٰی درجہ گمراہ بددین ہوجاناہوگا وبس۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ماانت محدث قوما حدیثا لاتبلغہ عقولھم الاکان علی بعضھم فتنۃ۔۱؎ رواہ ابن عساکر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
یعنی جب تو کسی قوم کے آگے وہ بات بیان کرے گا جس تک ان کی عقلیں نہ پہنچیں تو ضرور وہ ان میں کسی پرفتنہ ہوگی (امام ابن عساکر نے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن ابن عباس حدیث ۲۹۰۱۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۹۲)
امام حجۃ الاسلام محمدغزالی پھرعلامہ مناوی شارح جامع صغیر پھرسیّدی عبدالغنی نابلسی حدیقہ میں فرماتے ہیں: ان العامی اذا زنی او سرق خیرالہ من ان یتکلم فی العلم باﷲ من غیراتقان فیقع فی الکفر من حیث لایدری کمن یرکب لجۃ البحر ولایوف السباحۃ ومکائد الشیطان فیما یتعلق بالعقائد والمذاھب لاتخفی۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کوئی عام آدمی بدکاری اور چوری کرے تو باوجود گناہ ہونے کے اس کے لئے یہ عمل اتنا مہلک اور تباہ کن نہیں جتنا بلاتحقیق علم الٰہی کے بارے میں کلام کرنا مہلک ہے کیونکہ بلاتحقیق اور بغیرپختگی علم کے کہیں وہ کفر کامرتکب ہوجائے گا اور اسے علم بھی نہیں ہوگا اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے تیرنا جانے بغیر دریا کی موجوں اور لہروں پر سوار ہونے کے، اور شیطان کی فریب کاریاں جو عقائد اور مذاہب سے تعلق رکھتی ہیں کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہیں، اور اﷲ تعالٰی سب کچھ خوب جانتاہے۔(ت)
(۲؎ الحدیقۃ الندیۃ النوع الحادی والعشرون سؤال وتفتیش العوام عن کنہ ذات اﷲ وصفاتہ المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ۲/ ۲۷۰)