Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
21 - 160
طریقہ وحدیقہ میں ہے:
ویدخل فیھما ای فی الرقص و الاضطراب (مایفعلہ بعض الصوفیۃ) الذین ینسبون انفسھم الی مذھب التصوف وھم مصرون علی انواع الفسوق والفجور بل ھو اشد لانھم یفعلونہ علی اعتقاد العبادۃ فیخاف علیھم امر عظیم) وھو الکفر باستحلال الحرام (قال العلامۃ ا بوبکر الطرطوسی رحمہ اﷲ تعالٰی اما الرقص والتواجد) الذی یوجب اللھو عن ذکراﷲ تعالٰی (فاول مااحدثہ اصحاب السامری لما اتخذ لھم عجلا جسدالہ خوارقاموا یرقصون علیہ و یتواجدون) ای یظھرون الوجد بالفعل المحرم و ھو عبادۃ غیراﷲ کما یفعل ھٰؤلاء یاکلون الحشیش و یرقصون من نشاط نفوسھم بالمحرم القطعی والکبر والاعجاب ویتواجدون بالوجد الشیطانی والشہوات النفسانیۃ بین الفسقۃ المختلطٰین بالمردان الحسان الوجوہ علٰی سماع الطنابیر والزمور فہودین الکفار وفی التاتارخانیۃ الرقص فی السماع) للآلات المذکورۃ بالحالۃ المزبورۃ (لایجوز) فعلہ و لاحضورہ (وفی الذخیرۃ انہ کبیرۃ وقال البزازی قال القرطبی حرام بالاجماع ورأیت فتوی شیخ الاسلام جلال الملۃ والدّین الکیلانی ان مستحل ھذا الرقص) الموصوف بما ذکرنا من المحرمات القطعیۃ (کافر لما علم ان حرمتہ بالاجماع۱؎ اھ ملخصین وتمام الکلام فیھما۔
اور اس رقص واضطراب میں وہ کام بھی داخل اور شامل ہے جو بعض صوفیاء کیاکرتے ہیں جو اپنے آپ کو طریقہ تصوّف کے ساتھ منسلک گردانتے ہیں حالانکہ وہ کئی قسم کے فسق وفجور اور زیادہ سخت قسم کے جرائم پراصرارکرتے ہیں اس لئے کہ وہ یہ کام عبادت کے اعتقاد کے ساتھ کرتے ہیں لہٰذا (اس عقیدہ کے باعث) ان پرامرعظیم کا خطرہ اور خوف ہے اور حرام کو حلال کہنے کی وجہ سے یہ کفرہے۔ چنانچہ علامہ ابوبکر طرطوسی رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ رقص اور اظہار وجد جویادالٰہی سے بے خبر اور غافل کر ڈالے اسے سب سے پہلے ایجاد کرنے والے سامری کے احباب تھے۔ جب سامری نے ان کے لئے بچھڑا تیارکیا یعنی بچھڑے کا ڈھانچہ تیارکیا تو اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی، وہ آواز سن کر سامری کے ساتھی اُٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے آگے ناچنے اور جھومنے لگے اور وجد کا اظہارکرنے لگے یعنی حرام فعل سے اظہار وجد کرتے رہے جو کہ غیرخدا کی عبادت ہے اور قطعی حرام، تکبّر وخودپسندی کا طریقہ ہے جیسے یہ لوگ کرتے ہیں، بھنگ پیتے ہیں اور اپنے آپ کو خوش رکھنے کے لئے ناچتے ہیں، ستار وغیرہ سے راگ سنتے ہیں، فاسقوں کے درمیان شیطانی اور شہوانی جذبات کے ساتھ اظہارِ وجد کرتے ہیں، بے ریش خوبصورت لونڈوں سے اختلاط اور میل جول رکھتے ہیں۔ بس یہ کفار کا طریقہ کار ہے۔ چنانچہ تتارخانیہ میں ہے کہ بیان کردہ حالات کے مطابق آلات راگ کی وجہ سے سماع کے موقع پر ناچ کرنا جائزنہیں اور نہ وہاں حاضر ہونا درست ہے، اور ذخیرہ میں ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے۔ بزازی نے قرطبی کے حوالے سے ذکرکیا کہ یہ قطعی اور بالاتفاق حرام ہے، چنانچہ شیخ الاسلام جلال الملۃ والدّین کیلانی کا میں نے فتوٰی دیکھا وہ فرماتے ہیں اس رقص کو حلال کہنے والاکافرہے اس لئے کہ یہ ہمارے ذکرکردہ محرمات سے موصوف (اور ان پرمشتمل ہے) کیونکہ یہ معلوم شدہ ہے کہ اس کی حرمت بالاجماع ہے (خلاصہ کرنے والوں کی عبارت پوری ہوگئی) اور پوراکلام اس میں ہے(ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ     الصنف التاسع         مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۲/ ۱۹۔۵۱۸)
اور اگرخلوت وتنہائی محض میں جہاں کوئی دوسرا نہ ہو بہ نیت محمودہ مثل تشبُّہ بہ عشّاق والہین یاجلب حالات صالحین ہو تو ائمہ شان میں مختلف فیہ بعض ناپسند فرماتے ہیں کہ صدق وحقیقت سے بعیدہے اور ارجح یہ ہے کہ ان نیّتوں کے ساتھ جائز بلکہ حسن ہے کہ من تشبہ بقوم فہو منھم۲؎(جب کوئی شخص کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے تو وہ اسی میں شمارہوتاہے۔ت)
 (۲؎ مسندامام احمد بن حنبل         حدیث ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما     المکتب الاسلامی بیروت     ۲/ ۵۰)

؎
ان لم تکونوا مثلھم فتشبھوا         ان التشبہ بالکرام فلاح۳؎
 (اگرتم ان جیسے نہیں ہو پھر ان جیسی صورت بناؤ یعنی ان سے مشابہت اختیارکرو کیونکہ شرفأ سے مشابہت اختیارکرنا ذریعہ کامیابی ہے۔ت)
(۳؎ الحدیقۃ الندیۃ         الصنف التاسع         مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۲/ ۵۲۶)
اور سچی نیت سے نیکوں کی حالت بناتے بناتے خدا چاہے تو واقعیت بھی مل جاتی ہے سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث سے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ھذا القراٰن نزل بحزن وکابۃ فاذا قرأ تموہ فابکوا فان لم تبکوا فتباکوا۔ رواہ ابن ماجۃ۱؎ ومحمد بن نصر فی الصّلٰوۃ والبیھقی فی الشعب۔
بیشک قرآن غم وکرب کے ساتھ اُتراہے تو جب اسے پڑھو تو رؤو اور اگر رونا نہ آئے تو رونی صورت بناؤ (ابن ماجہ اور محمد بن نصر نے کتاب الصّلوٰۃ ار امام بیہقی نے شعب الایمان میں اسے روایت کیاہے۔ت)
 (۱؎ سنن ابن ماجہ     ابواب اقامۃ الصلوٰۃ     باب فی احسن الصوت بالقرآن     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۹۶)

(شعب الایمان     حدیث ۲۱۴۷                دارالکتب العلمیہ بیروت     ۲/ ۳۸۸)
حدیقہ ندیہ میں بعد عبارتِ مذکورہ بیاناتِ نفیسہ ناصحہ مقبولہ ہے:
فان طریق الواجد والتواجد الذی تعلمہ الفقراء الصادقون فی ھذا الزمان و بعدہ کما کانوا یعلمونہ من قبل فی الزمان الماضی نوروھدایۃ واثر توفیق من اﷲ تعالٰی وعنایۃ الی ان نقل عن حسن التنبہ للعلامۃ النجم الغزی انہ قال بعد ذکر الوجد والتواجد عن اکابر الائمۃ واما من اظھر ھذہ الاحوال تعمداللتوصل الی الدنیا اولتعتقدہ الناس ویتبرکوا بہ فھذا من اقبح الذنوب المھلکات والمعاصی الموبقات ۲؎اھ ثم قال فی الحدیقۃ ولاشک ان التواجد وھو تکلف الوجد واظھارہ من غیران اہل وجدیکون لہ وجد حقیقۃ فیہ تشبہ باھل الوجد الحقیقی وھوجائز بل مطلوب شرعا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من تشبہ بقوم فہو منھم رواہ الطبرانی فی الاوسط عن حذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالٰی عنھما وانما کان المتشبہ بالقوم منھم لان تشبھہ بھم یدل علی حبہ ایاھم ورضاہ باحوالھم وافعالھم وقد قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان الرجل اذا رضی ھدی الرجل وعملہ فھو مثل عملہ رواہ الطبرانی من حدیث عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ (الی ان قال بعد ما اطال واطاب کما ھو دابہ قدس سرہ) اما تکلف الوجد علی الوجہ الصحیح لاجل التشبھہ بالصالحین ولغیر ذٰلک من المقاصد الحسنۃ فقد اشار الیہ العلامۃ الشیخ القشیری فی اوائل رسالتہ المشھورۃ حیث قال التواجد استدعاء الوجد بضرب اختیار ولیس لصاحبہ کمال الوجد اذ لو کان لکان واجد اوباب التفاعل اکثرہ علی اظہار الصفۃ ولیست کذلک، فقوم قالوا التواجد غیر مسلم لصاحبہ لما یتضمن من التکلف ویبعد عن التحقیق وقوم قالوا انہ مسلم للفقراء المجردین الذین ترصدوالوجد ان ھذہ المعانی واصلھم خبرالرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابکوافان لم تبکوافتباکوااھ وفی شرعۃ الاسلام قال ومن السنۃ ان یقراء القراٰن بحزن ووجد فان القراٰن نزل بحزن فان لم یکن لہ حزن فلیتحازن اھ والحاصل ان تکلف الکمال من جملۃ الکمال والتشبہ بالاولیاء لمن لم یکن منھم امرمطلوب مرغوب فیہ علی کل حال ۱؎ اھ بالاختصار۔
اس لئے کہ وجد اور تواجد کا طریقہ جسے اس زمانہ کے سچے فقراء ہی جانتے ہیں جیسا کہ پہلے زمانہ کے لوگ جانتے تھے ایک نورہدایت اور اﷲ تعالٰی کی توفیق اور اس کی عنایت کا اثرہوتاہے یہاں تک کہ حسن التنبہ میں علامہ النجم الغزی سے نقل فرمایا کہ علامہ موصوف نے اکابر ائمہ سے وجد او رتواجد کا ذکرکرنے کے بعد ارشاد فرمایا لیکن جس نے ان حالات کو دانستہ دنیا تک رسائی حاصل کرنے اور دنیا طلبی کے لئے ظاہر کیا کہ لوگ اس کے معتقد ہوجائیں اور اس سے برکت حاصل کریں تو یہ رویہ انتہائی قبیح اور مہلک ہے اور تباہ کن جرائم اور گناہوں میں شامل ہے اھ، پھر حدیقہ ندیہ میں فرمایا: بلاشبہ تواجد بناوٹی اور نمائشی وجد ہے بغیر حقیقی وجدکے۔ اور اس میں حقیقی کے ساتھ تشبہ یعنی مشابہت ہے او ریہ جائز بلکہ شرعاً مطلوب ہے، چنانچہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جوکوئی کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے وہ انہی میں سے ہے۔ امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے اسے روایت فرمایا: کسی قوم سے مشابہت اختیار کرنے والا کیوں اسی قوم میں شمارکیاجاتاہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی شخص کا کسی قوم سے مشابہت اختیار کرنا اس بات پر دلالت کرتاہے کہ اس شخص کی ان لوگوں سے دلی محبت ہے اور یہ ان کے حالات وافعال (اور روش) پر راضی ہے اور حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی مرد کسی شخص کی سیرت اور اس کے عمل سے خوش اور راضی ہو تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے بھی وہی عمل کیا۔ امام طبرانی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث کے حوالے سے اسے روایت کیاہے یہاں تک کہ اپنی طویل پاکیزہ گفتگو کے بعد جیسا کہ علامہ موصوف کی عادت ہے ارشاد فرمایا رہا یہ کہ وجہ صحیح کے مطابق نمائشی وجد برائے مشابہت صلحاء وبرائے دیگرمقاصد نیک تو یہ ٹھیک اور درست ہے جیسا کہ علامہ شیخ قشیری نے اپنے رسالہ مشہورہ کی ابتداء میں اس کی طرف اشارہ فرمایاہے چنانچہ ارشاد فرمایا ''تواجد'' کسی نوع کے اختیار سے اپنے آپ پر حالت وجد طاری کرنے کا نام ہے جبکہ صاحب وجد میں کمال وجد نہ ہو(یعنی کماحقہ وجد نہ ہو) اس لئے کہ اگر اس میں حقیقی وجد ہوتا تو وہ واجد(وجد کرنے والا) کہلاتا کیونکہ تواجد باب تفاعل ہے اور یہ زیادہ تر حقیقت کی بنا پرنہیں، بلکہ بناوٹی ونمائشی اظہارصفت کے لئے آتا ہے اسی لئے بعض علم والے کہتے ہیں کہ ''تواجد'' صاحب تواجد کی طرف سے مسلّم یعنی تسلیم شدہ اور ٹھیک نہیں، کیوں؟ اس لئے کہ یہ تکلف پر مبنی ہوتاہے اور حقیقت سے بعید ہوتاہے جبکہ کچھ لوگوں نے فرمایا کہ ان فقراء کے لئے درست ہے جو مجرّد ہوں اور ان معانی کے پالینے کے منتظر اور خواہاں ہوں جو مطلوب ومقصود ہیں اور ان کی دلیل حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ لوگو! کم ہنسو اور زیادہ رویاکرو اور اگر رونا نہ آئے تو کم ازکم رونی صورت ہی بنالیاکرو۔ شرعۃ الاسلام میں فرمایا سنّت یہ ہے کہ قرآن مجید غم کے ساتھ وجد سے پڑھے اس لئے کہ قرآن مجید غم کے ساتھ نازل ہواہے اور اگر غم کی کیفیت طاری نہ ہو تو غمگین صورت ہی بنالی جائےاھ مختصر یہ کہ تکلفِ کمال بھی منجملہ کمال ہے یعنی کسی کمال میں بناوٹ اور نمائش اختیارکرنا بھی کمال میں شامل ہے اور جو شخص اولیاء اﷲ میں سے نہ ہو اس کا اولیاء اﷲ سے مشابہت اختیارکرنا ایساامرمطلوب ہے جو بہرحال لائق توجہ ہے، اختصار سے عبارت مکمل ہوگئی ہے۔(ت)
(۲؎ الحدیقۃ الندیۃ     الصنف التاسع                 مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۲/ ۵۲۳ تا ۵۲۵)

(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ    الصنف التاسع     مکتبۃ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۲/ ۵۲۵ تا ۵۲۷)
بالجملہ وجد صوفیہ کرام طالبین صادق اصلا محل طعن نہیں اور دربارہ امر قلب ونیت باطن صادق وکاذب میں تمیز مشکل اور اساءت ظن حرام وباطل
واﷲ یعلم المفسد من المصلح۲؎
 (اﷲ تعالٰی فسادی اور مخلص دونوں کو جانتاہے۔ت)
 (۲؎ القرآن الکریم     ۲/ ۲۲۰)
ردالمحتار میں نورالعین فی اصلاح جامع الفصولین اور اسی میں علامہ تحریرابن کمال باشاوزیرسے ہے     ؎
ما فی التواجد ان حققت من حرج         ولاالتمایل ان اخلصت من باس

فقمت تسعی علٰی رجل وحق لمن         دعاہ مولاہ ان یسعی علی الراس ۱؎ الخ
 (اگرتواجد سچا اور حقیقی ہوتو کوئی حرج نہیں اور اضطراب (لڑکھڑانے) میں کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ ہو پھر توپاؤں پر کھڑا رہ کر دوڑلگاتارہ، اور اس کے لئے حق ہے جس کو اس کا مولابلائے تو وہ اپنے سر کے بل دوڑتا ہواجائے الخ۔ت) واﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی اعلم۔
 (۱؎ ردالمحتار         باب المرتد         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳/ ۳۰۸)
Flag Counter