Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
20 - 160
اُسی میں ہے:
یکے بخدمت حضرت سلطان المشائخ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عرض داشت کہ دریں روزہا بعضے ازدرویشاں آستانہ دار در مجمع کہ چنگ ورباب ومزامیربودرقص کردند فرمودنیکونکردہ اندانچہ نامشروع ست ناپسندیدہ است۲؎۔
کسی شخص نے حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں یہ شکایت پیش کی کہ آستانہ کے بعض درویشوں نے اس محفل میں رقص کیا ہے جس میں چنگ ورباب اور مزامیراستعمال ہوئے آپ نے فرمایا انہوں نے اچھانہیں کیاکیونکہ جو کام ناجائزہے اسے پسندیدہ قرارنہیں دیاجاسکتا۔(ت)
 (۲؂  سیرالاولیاء         باب نہم درسماع ووجدورقص         مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور   ص ۵۳۰)
اسی میں ہے:
حضرت سلطان المشائخ فرمودمن منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیان نباشد۱؎۔
حضرت سلطان المشائخ نے ارشاد فرمایا میں نے منع کیاہے کہ مزامیراورحرام آلات درمیان میں نہ ہوں۔(ت)
 (۱؎ سیرالاولیاء         باب نہم درسماع ووجدورقص         مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور     ص۵۳۲)
خود حضورپرنورسلطان المشائخ محبوب الٰہی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ملفوظات طیبات فوائدالفوادشریف میں ہے:
مزامیر حرام ست۲؎
(مزامیرحرام ہیں۔ت)
(۲؎ فوائد الفواد )
احادیث اس بارے میں حدتواتر پرہیں، اور کچھ نہ ہو تو حدیث جلیل جمیل رجیح صحیح بخاری شریف کافی ووافی ہے کہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیکونن من امتی اقوام یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف۳؎۔
ضرور میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہونے والے ہیں کہ حلال ٹھہرائیں گے عورتوں کی شرمگاہ یعنی زنا اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو۔(ت)
(۳؎ صحیح البخاری     کتاب الاشربہ         قدیمی کتب خانہ کراچی         ۲/ ۸۳۷)
حدیث صحیح جلیل متصل لامطعن فیہ سندا ولامتنا الاعند من ھوی فی ھوۃ الہوی کابن حزم ومن مثلہ غوٰی وقد اخرجہ ایضا الائمۃ احمد وابوداؤد وابن ماجۃ واسمٰعیل وابونعیم باسانید صحاح لاغبار علیھا وصححہ جماعۃ اخرون من الائمۃ کماقالہ بعض الحفاظ قالہ الامام ابن حجر المکی فی کف الرعاع۴؎۔
حدیث صحیح، جلیل القدر اور متصل سندوالی ہے اس کی سند اور متن پرکوئی معترض نہیں سوائے اس کے جو خواہش نفس کے گہرے گھڑے میں گرگیاہواور بے راہ ہوگیاہو جیسے ابن حزم اور اس جیسے دیگرلوگ، نیزا سے ائمہ کرام مثلاً امام احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، اسمٰعیل اور ابونعیم نے ایسی صحیح سندوں کے ساتھ روایت کیاہے جو شکوک وشبہات سے مبرّا ہیں۔ ان کے علاوہ بعض دیگرائمہ اورحفّاظ نے بھی اس کی صحت کو تسلیم کیاہے، چنانچہ امام ابن حجرمکی نے کف الرعاع میں ارشاد فرمایا۔(ت)
(۴؎ کفّ الرعاع عن محرمات اللہووالسماع         مکتبۃ الحقیقۃ استنبول ترکی         ص۲۷۰)
فقیرغفرلہ المولی القدیر نے اپنے فتاوٰی میں ثابت کیاہے کہ ان پیروان ہوائے نفس کا حضرات اکابر چشت قدست اسرارہم کی طرف سماع مزامیرنسبت کرنا محض دروغ بیفروغ ہے ان کے اعاظم اجلّہ تصریح فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہ پرافتراہے، نیز ان کے تمام تمسکات واہیہ کاایک اجمالی جواب موضع صواب ان لفظوں میں گزارش کردیاہے کہ بعض جہال بدمست یانیم ملّاہوس پرست یاجھوٹے صوفی بادبدست کہ احادیث صحیحہ مرفوعہ محکمہ کے مقابل بعض ضعیف قصّے یامحتمل واقعے یامتشابہ کلمے پیش کرتے ہیں انہیں اتنی عقل نہیں یاقصداً بے عقل بنتے ہیں کہ صحیح کے سامنے ضعیف، متعین کے آگے محتمل، محکم کے حضور متشابہ واجب الترک ہے پھرکہاں حکایت فعل پھرکجا محرم کجامبیح، ہرطرح یہی واجب العمل، اسی کو ترجیح، مگر ہوس پرستی کا علاج کس کے پاس ہے، کاش گناہ کرتے اور گناہ جانتے اقرارلاتے، یہ ڈھٹائی اور بھی سخت ہے کہ ہوس بھی پالیں اور الزام بھی ٹالیں، اپنے لئے حرام کو حلال بنالیں میں نے یہ بھی واضح کردیاہے کہ ایسی محافل میں جتنے لوگ کثرت سے جمع کئے جائیں گے اسی قدر گناہ ووبال صاحب محفل وداعی پر بڑھے گا۔ حضار سب گنہگار اور اُن سب کاگناہ گانے بجانے والوں پر اور اُن کا ان کا سب کا بلانے والوں پر۔ بغیر اس کے کہ اُن میں کسی کے اپنے گناہ میں کچھ کمی ہومثلاً دس ہزار حضار کامجمع ہے تو ان میں ہرایک پرایک ایک گناہ، اور فرض کیجئے تین اقوال تو اُن میں ہرایک پراپنا گناہ اور دس دس ہزارگناہ حاضرین کے، یہ مجموعہ چالیس ہزارچار اور ایک اپنا، کل چالیس ہزارپانچ گناہ داعی وبانی پر۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا الٰی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل آثام من تبعہ لاینقص ذٰلک من اٰثامھم شیئا۔ رواہ الائمۃ احمدوالستۃ الاالبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو کسی امرضلالت کی طرف بلائے جتنے اس کے بلانے پرچلیں ان سب کے برابر اس پرگناہ ہو اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہ ہو۔ (امام بخاری کے علاوہ امام احمد اور دیگرپانچ ائمہ کرام نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی سند کے ساتھ اس کو روایت کیاہے۔ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب السنۃ    ۲/ ۲۷۹،     جامع الترمذی     ابواب العلم     ۲/ ۹۲،     سنن ابن ماجہ باب من سن سنۃ حسنۃ     ص۱۹)

(صحیح مسلم         کتاب العلم         باب من سنّ حسنۃ اوسیئہ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۳۴۱)

(مسند احمد بن حنبل     عن ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ             المکتب الاسلامی بیروت     ۲/ ۳۹۷)
ایسے محرمات کومعاذاﷲ موجب قربت جاننا جہل وضلال اور ان پراصرار کبیرہ شدیدالوبال اور دوسروں کو ترغیب اشاعت فاحشہ واضلال، والعیاذ باﷲ من سوء الحال (اﷲ تعالٰی کی پناہ بُرے حال سے۔ت) رہا رقص اگر اس سے یہ متعارف ناچ مراد ہو تو مطلقاً ناجائزہے زنان فواحش کاناچ ہے اور متصوفہ زمانہ سے بھی بعید نہیں بلکہ معہود ومعلوم ومشہورہے، جب تو بنصوص قطعیہ قرآنیہ حرام ہے وقد تلوناھا فی فتاوٰنا (اسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں ذکرکیاہے۔ت) اب اُسے مستحب وقربت جاننا درکنار مباح ہی سمجھنے پرصراحۃً کفرکاالزام ہے اور اگر کتھکوں کاناچ تثنی وتکسُّر یعنی لچکے توڑے کے ساتھ ہے جب بھی حرام وموجب لعن ہے کما نطقت بہ الاحادیث وصرح بہ شراح الحدیث (جیسا کہ احادیث اس پرناطق ہیں اور شارحین حدیث نے اس کی صراحت فرمائی ہے ) اور اگر ایسا نہیں بلکہ صرف حرکات مضطربہ ہیں کہ نہ خود موزوں، نہ منکرات پرمشتمل، نہ حالاً یامآلاً فتنے کی طرف منجر، نہ اس کے فاعلین اہل ہیأت ووقار بلکہ بازاری خفیف الحرکات بے وقر، توباینہمہ قیود بھی اس کا اقل مرتبہ یہ ہے کہ ایک قسم لہوولغو ہے اورہرلہوولغو ردوباطل اورہرباطل کا ادنٰی درجہ مکروہ وناجائز۔
طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں ہے:
الرقص وھو الحرکۃ الموزونۃ علی میزان نغمۃ مخصوصۃ (والاضطراب وھوالحرکۃ غیرالموزونۃ فکل) واحد منھما (من) جملۃ (لعب غیرمستثنٰی) کل لعب ابن اٰدم حرام الاثلٰثۃ ملاعبۃ الرجل اھلہ وتادیبہ لفرسہ ومناصلۃ لقوسہ اخرجہ الحاکم فی المستدرک عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وقال صحیح علٰی شرط مسلم۱؎۔
رقص، وہ نغمہ مخصوصہ کے ترازو پرایک موزوں حرکت کانام ہے۔ اضطراب، غیرموزوں حرکت کوکہاجاتاہے۔ پھر ان میں سے ہرایک ان کھیلوں میں سے ہے جن کو شریعت نے مستثنٰی قرارنہیں دیا، چنانچہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد وفرمان ہے کہ سوائے تین کھیلوں کے آدمی کاہرکھیل حرام ہے، مشروع تین کھیل یہ ہیں: (۱) شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا (۲) اپنے گھوڑے کے ساتھ اس کی سکھلائی کرتے اور تیاری کرتے ہوئے کھیلنا (۳) اپنی کمان کے ساتھ تیراندازی کرنا۔ چنانچہ امام حاکم نے مستدرک میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے اس کی تخریج فرمائی اور فرمایا یہ حدیث شرط مسلم کے مطابق صحیح ہے۔(ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیۃ     الصنف التاسع     مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۲/ ۵۱۸)
اور اگر وجد مراد ہو تو اگر بے اختیار ہے زیرحکم نہیں کہ ع
سلطان نگیرد خراج از خراب
 (کیونکہ بادشاہ بنجر اور غیرآباد زمین سے ٹیکس وصول نہیں کرتے۔ت)
بلکہ اگر شوقاً الٰی حضرۃ العزیز الودودجل وعلا ہے تو نعمت کبرٰی ودولت اعلٰی ہے تابکہ بخشند وکرا ارزانی دارند (تاکہ دیکھاجائے کہ وہ کس پر بخشش فرماتے ہیں اور کس کو ارزاں (سستا) دیتے ہیں۔ت) اور اگر باختیاروتصنّع ہو تو مدارنیت پرہے اگرمجمع یامرأی العین میں اظہارمشیخت وجلب قلوب کے لئے ہے قطعاً ریا وسمعہ و نفاق وحرام کبیروشرک صغیرہے، اب اس کی حرمت بھی ضرور اجماعیہ ہے فقہا نے اس پر قیامت کبرٰی قائم کی اور عبادت سمجھنے والے کو کافرلکھا،
Flag Counter