| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۴۲ تا ۴۶ : ازریاست ککینہ ضلع رنگ پور ملک بنگالہ مرسلہ مولوی عبداللطیف ہزاری ۳رمضان ۱۳۲۰ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین مسائل مفصلہ ذیل میں: (۱) متصوفہ زمانہ جو مجلس سماع وسرود مرتب کرتے ہیں جس میں راگ و رقص ومزامیر ومعازف ہرقسم کے موجود رہتے ہیں اور جھاڑوفانوس وشامیانہ وفرش ودیگر تکلفات چشتیہ واسرافات بے جا کے علاوہ اہل ونااہل وصالح وفاسق وعالم وجاہل وہندو اور مسلمان وغیرہ کا کچھ تقید نہیں ہوتا سب کو اذن عام رہتاہے اور اطراف واکناف سے بذریعہ خطوط واشتہارات لوگوں کو بلایاجاتاہے آیا اس کاروائی کی قرآن وحدیث یافقہ وتصوف سے کوئی اصل اور حضرت شارع یاصحابہ یامجتہدین وائمہ شریعت وطریقت سے کوئی نقل قولی خواہ فعلی ثابت ہے یانہ، وبرتقدیرثانی اگر کوئی شخص اس کو مباح بلکہ مستحب اورمسنون وموجب تقرب الی اﷲ سمجھ کر ہمیشہ خود بھی مرتکب رہے اور دوسروں کو بھی راغب کرے حتی کہ اس کی تحریک سے بعض مقامات میں اس فعل کا چرچا شروع ہوجائے اور ہوتاجائے تو ایسا شخص ضال ومضل ٹھہرے گایانہیں؟ (۲) اس فعل کا منسوب کرنا طرف آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور جمیع اکابرصحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین و مشائخ طریقت کے نہایت درجہ کی گستاخی اور کذب علی الرسول وعلی الصحابہ العدول وعلی من بعدہم من الاکابرالفحول میں داخل ہے یانہ؟ (۳) جس ملک کے لوگ محض نو مسلم اوراحکام وارکان اسلام سے نہایت بے خبرہوں گویاابھی تک شریعت میں اُن کی بسم اﷲ بھی درست نہیں ہوئی اور بسبب قرب زمانہ جاہلیت وحدیث العہدبالاسلام ہونے اور مجاورت اقوام ہنود کے اکثرحق وباطل کی تمیزنہ رکھتے ہوں اور اعتقاداً وعملاً انواع شرک و بدعت میں گرفتار ہوں تو ایسوں کو اوّلاً عقائداسلامیہ واحکامات شرعیہ کی تلقین ضرورتر ہے یاسب سے پیشتر فن موسیقی اور حقائق ودقائق تصوّف ومسئلہ وحدۃ الوجود کی تعلیم مناسب ہے؟ (۴) ہرگاہ کہ ہرمسلمان پربقدراستطاعت امرمعروف ونہی منکرعموماً اورپیروپیشوائے قوم پرخصوصاً فرض ہے تو جس پیر کے اکثرمریدنامقید، عیاش طبع، نشہ خوار، مونچھیں دراز، ریش ندارد، اور صوم وصلاۃ وغسل وطہارت کے مقدمے میں غایت درجہ کے سست، ہاں ناچ رنگ وسماع وسرود کی خدمت میں چست ہوں اور وہ کسی کی کن مکن سے غرض نہ رکھے سب کو راضی رکھے اورسب سے راضی رہے، پس ایسا پیرتارکِ فرض او رعاصی ہے یانہ؟ اور وہ پیرکس قسم کاپیرکہلائے گا ہدایت وارشاد کا یا ضلالت والحاد کا؟ (۵) یہ کہنا کہ ویدہنود میں شرک نہیں ہنود کوبالقطع مشرک کہناصحیح نہیں، بتوں کوسجدہ کرنا ان کاباعث کفرنہیں ہوسکتا کہ یہ سجدہ تعظیمی ہے جیسے فرشتوں نے آدم کو کیاتھا اور بُتوں سے شفاعت کاامیدوار رہنا ایساہے جیسے اہل اسلام کا انبیاء سے امیدوارِشفاعت رہنا اورمشائخ نے اکثراذکاروافکارومراقبات جوگیان ہنود سے لئے ہیں، اس قسم کے ہفوات ہدایت وارشاد کے باب سے ہیں یادرپردہ بیخ کنی اسلام کے اسباب ہیں؟
الجواب: جواب سوال اوّل جھاڑ، فانوس، شامیانہ، فروش وغیرہا مباحات فی انفسہا محظورنہیں جب تک نیۃً یاعملاً منکرشرعی سے منضم نہ ہوں بلکہ ممکن کہ نیت محمودہ سے محل محمود میں محمودہوجائیں،
فان ذٰلک شان المباح یتبع النیۃ حسنا وقبحا وتمحضا للاباحۃ کما نص علیہ فی البحر وغیرہ وقدبیناہ غیرمرۃ فی فتاوٰنا وراجع ماذکر الامام حجۃ الاسلام فی احیاء العلوم من حکایۃ ایقاد بعض الصالحین الف سرج فی مجلس الذکر فانکرہ بعضھم فقال تعال واطفیئ ماکان منھا لغیراﷲ تعالٰی فلم یستطع اطفاء شیئ منہا۔۱؎
اس لئے کہ وہ مباح کی صفت ہے کہ وہ اچھی بری نیت میں اس کے تابع ہوتا ہے اور اس لئے تاکہ اباحت خالص ہوجائے جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے اور ہم نے متعددبار اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کیاہے اور اس واقع کی طرف رجوع کیاجائے جوحجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے احیاء العلوم میں ذکرفرمایا کہ ایک بزرگ نے مجلس ذکر میں ایک ہزارچراغ جلائے اس پربعض لوگوں نے اعتراض کیا(یعنی معترض ہوئے کہ یہ اسراف کیاگیاہے) انہوں نے معترضین سے فرمایا کہ آؤ اور جو چراغ ان میں سے غیرخدا کے لئے ہے اسے بجھادو، چنانچہ وہ ان میں سے کوئی ایک چراغ بھی نہ بجھاسکے۔(ت)
(۱؎ احیاء العلوم کتاب آداب الاکل فصل یجمع آدابا الخ مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ ۲/ ۲۰)
زینت مباحہ بہ نیت مباحہ مطلقاً اسراف نہیں، اسراف حرام ہے۔ قال تعالٰی:
ولاتسرفوا انہ لایحبّ المسرفین۲؎۔
بے جا خرچ نہ کیاکرو کیونکہ اﷲ تعالٰی فضول خرچی سے کام لینے والوں کو پسندنہیں کرتا۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۷/ ۳۱)
اور زینت جب تک بروجہ قبیح یابہ نیت قبیحہ نہ ہوحلال ہے، قال تعالٰی: قل من حرم زینۃ اﷲ التی اخرج لعبادہ۳؎۔ فرمادیجئے اس زیب وزینت کو کس نے حرام کیاہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی ہے۔(ت)
(۳؎القرآن الکریم ۷/ ۳۲)
اور حلال وحرام ایک نہیں ہوسکتے ہمیں شق قلوب وتطلع غیوب واساء ت ظنون کاحکم نہیں
بل نحسن الظن مہما امکن واﷲ سبحٰنہ یعلم الضمائر ویتولی السرائر
(بلکہ ہم اچھاگمان کرتے ہیں جب تک ممکن ہو، او ر اﷲ تعالٰی پاک ہے، دلوں کی پوشیدہ باتیں جانتاہے اور اچھے رازوں سے آشناہے۔ت) کوئی مجلس اگرفی نفسہ منکرات شرعیہ پرمشتمل نہ ہو نہ اس میں وہ باتیں ہوں جو اختلاف مقاصد یا تنوع احوال سے حسن وقبح میں مختلف ہوجائیں جیسے سماع مجرد کہ اہل کو مفیداورنا اہل کو مضر، نہ بوجہ دقت وغموض افہام قاصرہ پرموجب فتنہ ہوں جیسے حقائق ودقائق وحدۃ الوجود ومراتب جمع وفرق وظہوروبطون وبروزومکون وغیرہا مشکلات تصوف، نہ تعمیم اذن بوجہ تعظیم فجاروتکریم کفاروغیرذٰلک افعال واحوال ناہنجار منجریہ انکارہو، بالجملہ حالاً ومآلاً جملہ منکرات وفتن سے خالی ہو تو عموم اذن وشمول دعوت میں حرج نہیں بلکہ مجلس وعظ وپندبلحاظ پابندی حدودشرعیہ جس قدرعام ہو نفع تام ہو مگرمحفل رقص وسرود اگربفرض باطل فی نفسہ منکر نہ بھی ہوتی تو یہ تعمیم اسے منکرونارواکردیتی سماع مجرد کو ائمہ محققین علمائے عاملین واولیائے کاملین نے صرف اہل پر محدود اور نااہل پرقطعاً مسدودفرمایا ہے، نہ کہ مزامیر محرمہ کہ خودمنکروحرام ہیں، سیدمولانا محمدبن مبارک بن محمدعلوی کرمانی مریدحضورپرنورشیخ العالم فریدالحق والدّین گنج شکر وخلیفہ حضورسیّدنا محبوب الٰہی نظام الحق والدین سلطان الاولیاء رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کتاب مستطاب سیرالاولیاء میں فرماتے ہیں:
حضرت سلطان المشائخ قدس اﷲ سرہ العزیز می فرمود کہ چندیں چیزمی باید تا سماع مباح شود مسمع ومستمع ومسموع وآلہ سماع، مسمع یعنی گویندہ مردتمام باشد کودک نباشدوعورت نباشدومستمع آنکہ می شنودوازیادحق خالی نباشدومسموع انچہ گویند فحش ومسخرگی نباشد، وآلہ سماع مزامیرست چوں چنگ ورباب ومثل آں می بایدکہ درمیان نباشداینچنیں سماع حلال ست۱؎۔
حضرت سلطان المشائخ قدس سرہ فرماتے ہیں چندچیزیں ہوں توسماع مباح ہوگا(۱) مسمع یعنی سنانے والابالغ مرد ہو بچہ اورعورت نہ ہو(۲) مستمع یعنی سننے والاجوکچھ سنے وہ یادحق پرمبنی ہو(۳) مسموع (جوکچھ سناگیا) جوکچھ وہ کہیں وہ بیہودگی اور مذاق ولغوسے پاک ہو(۴) اسباب سماع: گانے بجانے کے آلات سارنگی، رباب وغیرہ، چاہئے کہ وہ مجلس کے درمیان نہ ہوں۔ اگر یہ تمام شرائط پائی جائیں تو سماع (یعنی قوالی) حلال اورجائزہے۔(ت)
(۱؎ سیرالاولیاء باب نہم درسماع ووجدورقص مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ص۰۲۔۵۰۱ )