| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۳۵ : ازبنارس مسئولہ جناب مولوی ابراہیم صاحب ۲۷شعبان۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بارات کے ساتھ چنددف بجاتے ہوئے لے چلنا جیسا آج کل مروّج ہے یہ جائزہے یانہیں؟
الجواب: شادی میں دف کی اجازت ہے مگرتین شرط سے: (۱) ہیئات تطرب پرنہ بجایاجائے یعنی رعایت قواعد موسیقی نہ ہو ایک یہی شرط اس مروج کے منع کو بس ہے کہ ضرورتال سم پربجاتے ہیں۔ (۲) بجانے والے مرد نہ ہوں کہ ان کو مطلقاً مکروہ ہے۔ (۳) عزت داربیبیاں نہ ہوں، نص علٰی کل ذٰلک فی ردالمحتار (ردالمحتار میں اس سارے مسئلہ کی تصریح کردی گئی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۶ : ازالہ آباد مدرسہ سبحانیہ مرسلہ مولوی ابراہیم صاحب ۱۷رمضان ۱۳۳۸ھ شادی میں ڈھول وغیرہ بجانا اور محرم میں تعزیہ داری کرنا سینہ پیٹنا کیساہے؟
الجواب: ڈھول بجاناممنوع ہے اور تعزیہ داری وسینہ کوبی حرام، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۷ : مولوی عبداﷲ صاحب بہاری مدرس مدرسہ منظرالاسلام محلہ سوداگران بریلی ۹صفر۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گنجفہ، شطرنج، تاش، بھگورکھیلنے والے کے واسطے کیاحکم ہے؟
بیّنواتوجروا۔
الجواب: گنجفہ تاش حرام مطلق ہیں کہ ان میں علاوہ لہوولعب کے تصویروں کی تعظیم ہے اور بگھوریاجیون کمینوں کاکھیل ہے اور منع اور صحیح یہ ہے کہ شطرنج بھی جائزنہیں مگرچھ شرطوں سے: اوّلاً بدکرنہ ہو۔ثانیاً اس پرقسم نہ کھائی جائے۔ثالثاً فحش نہ بکاجائے۔ رابعاً اس کے سبب نمازیا جماعت میں تاخیر نہ کی جائے۔ خامساً سرراہ نہ ہو گوشے میں ہو۔ سادساً نادراً کبھی کبھی ہو۔ پہلی تین شرطیں توآسان ہیں مگر پچھلی تین پرعمل نادرہے بلکہ ششم پرعمل سخت دشوارہے شوق کے بعد نادراً ہونا کوئی معنی ہی نہیں لہٰذا راہ سلامت یہ ہے کہ مطلقاً منع ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۸ : ازموضع رہپورہ تحصیل وضلع بریلی ڈاک خانہ ایزٹ نگر مسئولہ عبدالحمیدخاں صاحب ۱۲صفر ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خادم کے موضع سے ایک میل کے فاصلہ پر رام لیلا کامیلہ ہوتا ہے جس میں راون وغیرہ کے بڑے بڑے بت بنائے جاتے ہیں، موضع کے بہت سے آدمی اس ہندؤوں کے میلہ میں اس کودیکھنے کی غرض سے جاتے ہیں حضور کے یہاں کے ایک طالب علم مسمی مولاناعبداﷲ کی زبانی میں نے سنا تھا کہ حضور کایہ فتوٰی ہے کہ جوکوئی ہندؤوں کے میلہ میں شوقیہ زیبائش اور دیکھنے کی غرض سے جاتاہے اس کانکاح ٹوٹ جاتا ہے لیکن کبھی حضور سے روبرونہیں سناایک شخص نے جواکثر جماعت کی نمازپڑھاتاہے یہ کہا کہ میلے میں جانے سے کچھ حرج نہیں وہاں ہم آریہ وغیرہ کے لکچر سننے جاتے ہیں اور جوناچ ہوتے ہیں ان میں ناچنے والیاں مسلمان ہیں لہٰذا صرف گناہ ہوتا ہے اور کوئی حرج نہیں ہے نکاح وکاح کچھ نہیں جاتا، ہم تو ایک آدھ پیسہ کی چیزبھی تو خریدلیتے ہیں لہٰذا خریدوفروخت کابھی بہانا ہوجاتاہے اس لئے وہ گناہ بھی نہیں ہوتا اور یہ بھی کہتاہے کہ اگرمقتدیوں کو یہ یقین ہے کہ اس کے پیچھے ہماری نماز ہوجائے گی تووہ امام چاہے جیسا ہی گنہگار کیوں نہ ہو اس کے پیچھے نمازہوجائے گی یہ شخص شوقیہ ہمیشہ تعزیہ وغیرہ بھی دیکھنے جاتاہے موضع کے تمام لوگ اس کے تابعدار ہیں اور جیسا حضورحکم فرمائیں گے ویساکریں گے لہٰذا انہوں نے فقیر سے کہا کہ اپنے مرشد قطب العالم امام زمان سے اس میلے اور مذکورہ بالاامام کی بابت دریافت کرو۔ فقیر میں یہ جرأت کہاں کہ حضور کے سامنے اتنامفصّل قصّہ زبانی بیان کرسکے لہٰذا جواب باصواب ارقام فرمایاجائے۔
الجواب: ہنود کے میلے میں جانا حرام ہے مگرنکاح نہیں ٹوٹتا جب تک اسے اچھانہ جانے، اچھا جانے گا تو بیشک کافرہوجائے گا اور نکاح ٹوٹ جائے گا ناچ دیکھنا حرام ہے اگرچہ ناچنے والی مسلمان ہو بلکہ اگرمسلمان ہوتو اورسخت ترحرام ہے دو وجہ سے، اول اجنبیہ عورت مسلمان کی بے پردگی کافرہ کی بے پردگی سے ہزاردرجے سخت ترہے۔ دوم مسلمان عورت کی بے حیائی کافرہ کی بے حیائی سے اورتماشا دیکھنے کے لئے خریدوفروخت کاحیلہ محض جھوٹا ہے خریدوفروخت بازار میں نہیں ہوسکتی اور تعزیہ دیکھنابھی جائزنہیں اور امام جبکہ فاسق معلن ہو اس کے پیچھے نمازمکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب مقتدیوں کا اس میں حرج نہ سمجھنا حکم شرعی کونہ بدل دے گا۔ آریہ کالکچر سننے جانا اور بھی سخت ترحرام ہے وہ کفربکتے ہیں اور یہ کفرسننے جاتے ہیں ایسے جلسے میں شریک ہونے کو قرآن عظیم نے فرمایاہے:
انکم اذا مثلھم۱؎
جب تو تم بھی انہیں جیسے ہو،
اورفرمایا:
ان اﷲ جامع المنٰفقین والکٰفرین فی جہنم جمیعا۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
بیشک اﷲ تعالٰی اُن کافروں اور ان نام کے مسلمانوں ان کے جلسے میں شریک ہونے والوں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ و ۲؎ القرآن الکریم ۴ /۱۴۰)
مسئلہ ۳۹ تا ۴۱ : ازقصبہ خداگنج شاہجہانپوری مرسلہ جناب عبدالرزاق صاحب منتظم عشرہ محرم مورخہ ۱۳۳۹ھ (۱) کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اس امر کی کوشش کرتاہے کہ امیروغریب سب سے چندہ جبراً وصول کرکے بریلی سے چہلم میں باجا منگوایاجائے جس کا صرفہ سواسوروپیہ کے قریب ہوگا خواہ فاتحہ امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہو یانہ ہو اور اسی نمود اور شیخی کو ثواب جانتاہے باوجودیکہ یہاں باجاانگریزی وغیرہ کاموجود ہے۔ (۲) بکراسی امر کی کوشش کرتا ہے کہ اہل ہنود کو اشتعال دینا نامناسب ہے اس واسطے کہ عشرہ محرم میں منجانب انتظام گورنمنٹ مصالحت ہوچکی ہے علاوہ اس کے ایک مینار عیدگاہ ناتمام پڑاہوا ہے اور ایک چہاردیواری مسجدقطعی نہیں ہے کتّے وغیرہ گھستے ہیں پس اگرچندہ فراہم کیاجائے تو اوّل سبیل شربت بنام امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہو اور اس میں سے یہاں کے باجے والوں کو دیاجائے جو بچے مینار اورمسجددرست کرادیاجائے۔ (۳) زیداجہل اورزبردست ہے اعلان کردیاہے کہ بکرکاحقہ پانی بندکردیاجائے اس لئے کہ ہمارے خلاف کرتاہے پس دونوں کاموں میں سے کون ساکام ضروری اور جائزہے اور زید کے ذمہ شریعت کا کیاالزام عائدہوسکتاہے اور قاضی شرع کو کس طرف شامل ہوناچاہئے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب: باجا انگریزی ہو خواہ ہندوستانی، باجے والے وہاں کے ہوں یا یہاں کے سب حرام اورکارشیطان ہیں، ان کے لئے چندہ لینا اور دیناحرام، تخت تعزیہ خود ناجائز ہیں اور ان میں باجے حرام درحرام، جوچندہ دیاجائے فاتحہ ونیازشہدائے کرام میں صرف کیاجائے جبکہ چندہ دہندوں کی اجازت ہو کہ یہ ضروری چیز ہے، عیدگاہ کا میناربھی کوئی اہم چیزنہیں، اوراگرچندہ دہندوں کی اجازت نہ ہو تو جو بچے ان کو واپس کیاجائے۔ یہ حکم شرع کاہے اس کے خلاف جوچاہے گا شریعت کا مخالف اور عذاب الٰہی کا مستحق ہوگا وہی حقہ میں بندکرنے کے لائق ہیں بکر کی اس وجہ سے بندش اس پرظلم ہے اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: الظلم ظلمات یوم القیامۃ۱؎ ظلم کرنے والا قیامت کے دن اندھیروں میں ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب المظالم باب الظلم ظلمات یوم القٰیمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۱)