Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
17 - 160
مسئلہ ۳۰ : ازکمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدابخش زردوزمالک فلورمل اسلامیہ ۲۰ربیع الآخر۱۳۳۶ھ

جس جگہ تقریب شادی میں خلاف شرع مراسم کاعام رواج ہوگیا ہو حتی کہ لکھے پڑھے لوگ اس میں مبتلاہوں باوجودیکہ لوگ علماء سے اس کی مذمت وخرابی وعظ میں سن چکے ہوں ایسی جگہ اگرکوئی عامی مسلمان محض بجوش اسلام وحمایت دین یہ التزام کرے کہ جہاں شادی وغیرہ میں خلاف شرع مراسم ہوں گے وہاں نہ شریک ہوگا گو اپناعزیز قریب کیوں نہ ہوکیاایساشخص شرعاً قابل مدح ہے؟
الجواب: جوایسے جلوسوں میں نہ جانے کاالتزام کرے شرعاً محمود ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۱ :ازکلکتہ ۷۱ آئس فیکٹری لین ڈاکخانہ انٹالی خانقاہ چشتیہ مرسلہ سیدشاہ المبین احمد چشتی نظامی بہاری ۲۱ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

سماع مزامیر یعنی مروجہ قوالی کاجواز بتحقیق اس امرکے کہ صاحب شرع علیہ التحیات والتسلیمات سے کس قدرصادر ہواتھا بعد اس کے پچھلے قرنوں کے لوگوں نے کس قدربڑھایا اب سماع وقوالی کرنے والے کوکون ساطریقہ اختیارکرناچاہئے؟
الجواب : مزامیرحرام ہیں، صیح بخاری شریف کی حدیث صحیح میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک قوم کاذکرفرمایا:ـ
یستحلون الحر والحریر والمعازف۱؎
زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال سمجھیں گے۔ اور فرمایا: وہ بندراور سورہوجائیں گے۔
(۱؎ صحیح البخاری     کتاب الاشربہ     باب ماجاء فی من یستحل الخمر الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳۷)
ہدایہ وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ مزامیر حرام ہیں۔ حضرت سلطان الاولیاء محبوب الٰہی نظام الحق والدّین رضی اﷲ تعالٰی عنہ فوائد الفوادشریف میں فرماتے ہیں:
مزامیر حرام ست ۲؎ (گانے بجانے کے آلات حرام ہیں۔ت)
(۲؎ فوائدالفواد)
حضرت شرف الدین یحٰیی منیری قدس سرہ نے اپنے مکتوبات شریفہ میں مزامیر کو زنا کے ساتھ شمارفرمایا۔ شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے صرف روزعید دف کاسننامنقول ہے وہ بھی نہ بالقصد متوجہ ہوکر، اور اوقات سرور میں بے جلاجل کادف کہ ہیأت تطرب پرنہ بجایاجائے شرعاً جائزہے قوالی والوں پرلازم ہے کہ مزامیر قطعاً ترک کریں اور بوڑھے یاجوان مردوں سے صاف وپاک غزلیں سنیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۲ : ازضلع سیتاپور محلہ قضیارہ     مرسلہ الیاس حسین     ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ 

جب فرائض وواجبات وسنن مؤکدہ کی پابندی لوگوں سے اٹھتی جاتی ہو تو ایسی حالت میں مزامیر کے ساتھ سماع جائزہے کہ نہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب: مزامیر حرام ہیں اور حرام ہرحال میں حرام رہے گا، لوگ گناہوں میں مبتلا ہیں اس کے سبب گناہ جائزہوجائے توشریعت کامنسوخ کردینا فاسقوں کے ہاتھ میں رہ جائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۳ :ازلسبی کوٹلہ ڈاک خانہ خاص ضلع بجنور محلہ سٹھاشہید مرسلہ محمدعبداﷲ خاں ۲۰رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی
(اﷲ تعالٰی آپ پررحم فرمائے آپ کاکیاارشاد ہے) اس مسئلہ میں کہ دیکھنا تماشا ٹھیڑ وناٹک وغیرہ کاکہ جن میں اماردگاتے ہیں اور عورتوں کالباس پہن کر سوال وجواب عاشقانہ کرتے ہیں اور اس میں تماشا دیکھنے والی عورتیں بھی ہوتی ہیں اور انہیں کے سامنے الفاظ عاشقانہ مستعمل ہوتے ہیں اور اجرت لیتے  وقت باجا بجایاجاتاہے اور ہارمونیم جو ایک باجے کی قسم ہے ہاتھوں سے بجایاجاتاہے وہ بھی بجتاہے اور طبلہ بھی بجتاہے، آیا اس تماشے کادیکھنا جائزہے یاناجائز؟ اور اگرناجائز ہے تو اس تماشے کادیکھنے والا کس درجہ کاگناہگار ہے؟ اور اس تماشے کادیکھنے والا مرید بھی کرتاہے اس سے مریدہونا جائزہے یانہیں؟
الجواب: حرام حرام حرام بوجوہ حرام،
کمالایخفی علی العوام من اھل الاسلام فضلا عن العلماء بل یعرف حرمتہ فی الاسلام من لہ مخالطۃ بالمسلمین من الکفرۃ البعدأ۔
جیسا کہ عوام اہل اسلام پرپوشیدہ نہیں چہ جائیکہ علمائے کرام سے مخفی ہو، بلکہ اسلام میں اس کی حرمت اتنی واضح ہے کہ اس کو وہ دور کے کفار بھی جانتے ہیں جومسلمانوں سے میل جول رکھتے ہیں۔(ت)

اس تماشے کادیکھنے والا فاسق معلن ہے اور اسے پیربنانا حرام۔ تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق للامام الزیلعی وغیرہ کتب معتبرہ میں ہے: فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

اس کے آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعی طورپر لوگوں کے لئے اس کی توہین وتذلیل واجب ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ تبیین الحقائق     کتاب الصلوٰۃ     باب الامامۃ         المطبعۃ الکبرٰی مصر     ۱ /۱۳۴)
مسئلہ ۳۴ :ازجے پوربمعرفت حاجی عبدالجبار صاحب ۱۹ربیع الاول ۱۳۳۸ھ

کیاحکم ہے شریعت مطہر ہ کامسئلہ ذیل میں کہ زیدکہتا ہے کہ قوالی مع آلات مزامیر کے جائزہے اور بکثرت مشائخ کرام نے اسی طرح سنا ہے اور کہتاہے کہ مزامیر ان باجوں کو کہتے ہیں جو منہ سے بجائے جاتے ہیں، ڈھلک، ستار، طبلہ، مجیرے، ہارمونیم، سارنگی مزامیر میں داخل نہیں بلکہ اُن کا اوردف کاایک حکم ہے۔ اگرزمانہ اقدس میں یہ چیزیں موجودہوتیں تو مثل دف کے اس کا بھی حکم فرماتے۔ اور کہتا ہے کہ تم لوگ نااہل ہو رموز مشائخ طریقت سے ناواقف ہو اگرحرام ہوتوتمہارے لئے مگر ہمارے لئے جائزہے۔ اور کہتاہے کہ امام غزالی علیہ الرحمۃ نے اس کو صاف جائزبتایاہے۔
پس سوال یہ ہے کہ باجے مذکورالصدر کے ساتھ قوالی سننا کیاجائزہے یاحرام؟ اگرحرام ہے تو زیدکے لئے کہ وہ حرام کو بالاعلان حلال کہتا ہے بلکہ خود اہتمام والتزام کے ساتھ سننا اور بالعموم ایسی مجالس میں شرکت کرتاہے کیاحکم ہے اور اس کے پیچھے نمازفریضہ کیسی ہوگی؟ اور مزامیر کی تعریف کیاہے؟ اور باجے مذکور مزامیر ہیں یانہیں؟ جوحکم خدا ورسول جل وعلاوصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہو وضاحت سے ارشاد ہو،
جزاکم اﷲ فی الدارین خیرالجزاء
(اﷲ تعالٰی تمہیں دنیاوآخرت میں سب سے بہتربدلہ عطافرمائے۔ت)

الجواب: زیدکاقول باطل ومردودہے، حدیث صحیح بخاری شریف میں مزامیر کالفظ نہیں بلکہ معازف کہ سب باجوں کوشامل ہے یستحلون الحروالحریر والمعازف۲؎ زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کوحلال سمجھیں گے۔ت)
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب الاشربہ     باب ماجاء من یستحل الخمر الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۸۳۷)
امام غزالی پربھی افتراء ہے کہ انہوں نے ان مذکورات خبیثہ کو صاف ناجائزبتایاہے طرفہ یہ کہ انہوں نے نَے کے جواز کی طرف میل کیا جومزامیر سے ہے مشائخ کرام پرافترا ہے، حضرت سیّدی فخرالدین زراوی خلیفہ حضرت سیدنامحبوب الٰہی رضی اﷲ عنہما نے ''کشف القناع عن اصول السماع'' میں کہ بحکم حضورلکھا اس کی تصریح فرمائی کہ باجوں کے ساتھ قوالی سننا ہمارے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم پر افترا ہے، اس کاکہنا کہ زمانہ اقدس میں طبلہ سارنگی خاک بلاہوتے توحضوران کابھی حکم فرماتے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرسخت شدیدجرأت ہے ایساشخص سخت نااہل ہے اوروں کونا اہل کہتاہے وہ امام بنانے کے قابل نہیں اس کے پیچھے فرض نفل کچھ نہ پڑھاجائے مگریہاں حکم کفر کی گنجائش نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter