مسئلہ ۲۸۲ : مسئولہ محمدباقرخاں صاحب ڈپٹی کلکٹر پنشنر رائے بریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک قصبہ میں جو اندرحد میونسپلٹی ہے ایک شخص احمدنامی زبان کچہری وزبان انگریزی سے بخوبی واقف ہے اور شریف خاندان اورقابلیت انتظامی میں ماہر اورمعزز عہدوں پرممتاز رہا منجملہ دیگرمسلمان ممبروں کے ایک ممبرمیونسپل ہے اور بحیثیت ممبری قوم کے کام بھی نہایت دیانت وامانت سے کر رہاہے اب زمانہ ممبری احمد کا قریب الاختتام ہے لہٰذا احمدمذکورپھرامیدوار ممبری کاہے لیکن اس کے مقابلے میں ایک شخص معمولی حیثیت کاجو محض اردوجانتاہے عمرنامی امیدوار ممبری کھڑاہواہے اس شخص کوانتظامی قابلیت میں کچھ مَس نہیں ہے اور نہ کبھی اس کو ایساتجربہ ہواہے پس عمر نے اپنی کامیابی کی یہ تدبیر اس حیلہ سے سوچی ہے کہ اگر وہ ممبرمنتخب ہوگیا تومبلغ ڈیڑھ سوروپیہ واسطے کارِخیر کے دے گا یعنی ایک آنہ فنڈ میں جو اس قصبہ میں ہے دے گاتاکہ سیکریٹری ودیگر حصہ ممبران ایک آنہ فنڈ کی کامیابی میں کوشش بلیغ کریں بس ایسی صورت میں مسلمانوں کو احمد کی معاونت کرنی چاہئے جونہایت بیدامغزی اوردیانت سے ممبری کے کام بخوبی انجام دے رہاہے یاعمر کی جوامور انتظامیہ کوانجام دینے کے قابل نہیں ہے۔بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : ممبری کوئی شرعی بات نہیں مگریہ ضرورہے کہ اگرحالت وہ ہے جوسوال میں مذکورہے تواحمد کے مقابل عمرکے لئے کوشش عقل ونقل سے دور ہے جب وہ حسب بیان سائل ذی علم متدیّن نفع رساں مسلمین ہے تو اس پرایسے عاری کی ترجیح صرف ڈیڑھ سوروپیہ کے لالچ سے جہل مبین ہے،
حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من استعمل رجلا علی عشرۃ وفیھم من ھوارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ وجماعۃ المسلمین ۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
جس نے دس آدمیوں پرکسی کو افسرکیا اور ان میں وہ ہے جو اﷲ کو اس سے زیادہ پسندہے تو اس نے اﷲ ورسول اورمسلمانوں کی سب خیانت کی۔
(۱؎ المستدرک للحاکم کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۴ /۹۲)
(کتاب الضعفاء الکبیر للعقیلی ترجمہ ۲۹۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۲۴۸)
مسئلہ ۲۸۳ : ازدھو راجی متصل ناریل مسجد مرسلہ احمدعلی چامڑیا ۳ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں ملک کاٹھیاوارمیں تعلیم کی حالت بہت خراب ہونے کی وجہ سے مختلف شہروں کے مسلمانوں نے مل کر ایک رائے ہوکر ہرشہر کاایک ایک دودوشخص منتخب کرکے ۹۵ ممبروں کی کمیٹی مقام راجکوٹ قائم کی ہے جس کانام مسلم ایجوکیشنل ایسوسی ایشن رکھاہے، جس میں سنت جماعت ممبر ۹۴ اورایک خوجہ، اس ایجوکیشنل ایسوسی ایشن کی طرف سے ہرسال کسی ایک بڑے شہر میں جلسہ عام مسلمانوں کامنعقد ہوتاہے جس میں ہرخاص وعام آسکتاہے اور جس میں مسلمانوں کی ترقی کے ریزولیشن پاس ہوتے ہیں اور اسٹیٹ اورگورنمنت کے پاس سے حق مانگے جاتے ہیں اور ہرشہرمیں مسلمانوں کی طرف سے جومدرسے جاری ہیں ان کے کورس ایک کرنے میں اوردینی اوردنیاوی تعلیم کی ترقی کرنے میں کوشش کی جاتی ہے فی الحال ایک انسپکٹر ایسوسی کی طرف سے مقرر ہے جوکہ ہرمدرسہ میں جاکر تعلیم کی جانچ کرتاہے اور ایک بورڈنگ بھی اس سال مسلمانوں کے واسطے ایسوسی ایشن نے تیارکی ہے اور ایسوسی ایشن کا تعلق ہندوستان میں کسی شہر سے نہیں ہے ان کے سالانہ جلسے میں ہم اہلسنت وجماعت شریک ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ اور ایسوسی ایشن کمیٹی کے ممبربھی ہوسکتے ہیں یانہیں؟ ہمارے ائمہ دین شرح تفصیل کے ساتھ بیان فرماکر احقرکو مشرف فرمادیں۔
نوٹ : ہمارے یہاں خوجہ آغاخان یاخارجی یاسیدنا کوکہتے ہیں۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب : خوجہ کو اسلامی جلسہ کارکن بناناحرام اورمخالفت شارع علیہ الصلٰوۃ والسلام ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
یاایھا الذین اٰمنوا لاتتخذوا بطانۃ من دونکم لایالونکم خبالاودّواماعنتم قدبدت البغضاء من افواھم وماتخفی صدورھم اکبر قدبیّنالکم الاٰیات ان کنتم تعقلون ھٰانتم اولاء تحبونھم ولایحبونکم وتؤمنون بالکتٰب کلہ واذا لقوکم قالوا اٰمنّا واذا خلوا عضّوا علیکم الانامل من الغیظ قل موتوا بغیظکم ان اﷲ علیم بذات الصدور ۱؎۔
اے ایمان والو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ وہ تمہاری نقصان رسانی میں گئی نہ کریں گے وہ جی سے چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑو۔ بَیران کے مونہوں سے ظاہرہوچکا اور وہ جو ان کے سینوں میں دباہے اوربھی بڑاہے ہم نے تمہارے سامنے نشانیاں کھول دیں اگرتم میں عقل ہے ارے یہ جو تم ہو تم تو ان سے محبت کرتے ہواور وہ تم سے محبت نہیں کرتے حالانکہ پورے قرآن پرایمان لائے اور جب تم سے ملتے ہیں توکہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور جب اکیلے ہوتے ہیں توتم پرانگلیاں چباتے ہیں جلن سے، اسے محبوب! تم ان سے فرمادو کہ مرجاؤ اپنی جلن میں، بیشک اﷲ دلوں کی جانتاہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳ /۱۹۔۱۱۸)
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علٰی ھدم الاسلام۲؎۔
جس نے بدمذہب کی توقیر کی بیشک اس نے دین اسلام ڈھادینے میں مدد دی۔
(۲؎ شعب الایمان حدیث ۹۴۶۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۷ /۶۱)
دوسری حدیث میں ہے :
من لقیہ بالبشر فقد استخف بما انزل علی محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۳؎۔
جوکسی بدمذہب سے بکشادہ پیشانی ملابیشک اس نے حقیرسمجھااس چیز کوجو محمدصلی اﷲ تعالٰی تعالٰی علیہ وسلم پر اتاری گئی۔
(۳؎ مسند الشہاب باب من اھان صاحب بدعۃ الخ مطبوعہ بیروت ۱ /۳۱۹)
(فتاوٰی حدیثیہ کانت سبابۃ صلی علیہ اطول من الوسطٰی الخ الطبعۃ الجمالیہ مصر ص۲۰۴)
فتاوی الحرمین میں یہ مضمون مفصل ہے جس پرعلمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق مہریں کیں سنی بھائیوں کوچاہئے کہ اپنے دین کی قدرکریں اوربدمذہب کو رکنیت سے فوراً جداکردیں اﷲ فرماچکاکہ وہ تمہاری بھلائی کبھی نہ چاہیں گے جہاں تک بن پڑے نقصان ہی پہنچائیں گے قرآن وحدیث کے مقابل یہ جاہلانہ خیال نہ کریں کہ ۹۴ سنیوں میں ایک بدمذہبی کیا اثرکرے گی، دیکھو چورانوے ۹۴ قطرے گلاب ہو اور ایک بوند پیشاب ڈال دو سب پیشاب ہوجائے گا، اہل مجلس ان احکام شرعیہ کا اتباع کریں اور مجلس کو خالص اہلسنت کی کرلیں اور اگر اپنی بیجاہٹ پرقائم رہیں توشرعی احکام سن چکے کہ وہ دین اسلام کے ڈھادینے پرمدد دیتے ہیں اورجوکچھ محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پراُترا اس کی تحقیر کرتے ہیں تومسلمانوں پرلازم کہ انہیں اور ان کی مجلس کویک لخت چھوڑدیں
لیقترفوا ماھم مقترفون۱؎
(چاہئے کہ وہی کمائیں جوکچھ وہ کما رہے ہیں۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۶ /۱۱۳)
کبھی اس میں شریک نہ ہوں۔
قال اﷲ تعالٰی واماینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظّٰلمین۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاف فرمایا : اگرتمہیں شیطان بھلاوے میں ڈال دے توپھریاد آنے پرظالموں کے ساتھ مت بیٹھو۔(ت)
( ۲؎ القرآن الکریم ۶ /۶۸)
اوراصلاً اس کی مدد نہ کریں،
قال اﷲ تعالٰی ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: (لوگو!) آپس میں گناہ اور زیادتی کے معاملات میں ایک دوسرے کی مدد نہ کیاکرو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎القرآن الکریم ۵ /۲)
مسئلہ ۲۸۴ : حافظ شمس الدین بیلپور محلہ درگاپرشاد ضلع پیلی بھیت ۲۵/صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سلطان المعظم سلطنت روم خلفۃ المسلمین ہیں یا نہیں؟ موجودہ حالت میں مسلمانوں میں ان کی ہمدردی کرناچاہئے یانہیں؟ اگراس وقت میں ہم کوئی ہمدردی نہ کریں توگنہگارتونہ ہوں گے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب : سلاطین اسلام نہ صرف سلاطین اسلام کہ ہرجماعت اسلام نہ صرف جماعت کہ ہرفرد اسلام کی خیرخواہی ہرمسلمان پرلازم ہے
لحدیث الدین النصح لکل ملسم ۱؎
(حدیث ''دین ہرمسلمان کی خیرخواہی کانام ہے''کے مطابق۔ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الایمان باب فول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۵)
مگرہرفرض بقدرقدرت ہے اور ہرتکلیف بشرط استطاعت
کمانطق بہ الکلام العزیز
(جیسا کہ اس مسئلہ کوکلام عزیز نے بیان فرمایا۔ت) نامقدور بات پرابھارنا جوموجب ضررمسلمین ہوخیرخواہی مسلمین نہیں بدخواہی ہے مثلاً دریامیں طوفان ہے کچھ لوگ ڈوب رہے ہیں جوکنارے پرہیں اور تیرنانہیں جانتے انہیں مجبورکرناکہ ان کے بچانے کے لئے طوفان میں کود پڑو ان کابچانا نہیں بلکہ ان کاڈبونا ہے۔ مشرکوں کی یہ کھلی چال ہے جس سے وہ مسلمانوں کوتباہ کرناچاہتے ہیں اورعقل کے اوندھے بصیرت کے اندھے انہیں اپناخیرخواہ سمجھ رہے ہیں حالانکہ قرآن کریم صاف فرماچکاہے کہ وہ تمہاری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے کہ تم مصیبت میں پڑو، دشمنی ان کے مونہوں سے ظاہر ہوچکی ہے او روہ جو ان کے دلوں میں دبی ہے اوربڑی ہے ہم نے عاقلوں کے لئے نشانیاں صاف بیان فرمادیں۲؎۔ مولٰی تعالٰی کے اتنے صاف ارشاد پربھی آنکھیں نہیں کُھلتیں اوربدخواہوں کوخیرخواہ مانے ہوئے ہیں، مولٰی عزوجل ہدایت دے۔آمین! واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ القرآن الکریم ۳ /۱۱۸)
نوٹ: جلد۲۴سیاسیات کے عنوان پرختم ہوئی۔جلد۲۵ان شاء اﷲ کتاب المدانیات سے شروع ہوگی۔