| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۲۴ : ازفیض آباد مسجد مغل پورہ مرسلہ شیخ اکبرعلی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ربیع الآخر۱۳۳۶ھ گاناقوالی مع ساز اورنااہل لوگوں کاجمع ہونا جوصوم صلوٰۃ کے پابند نہ ہوں خصوصاً مستورات کاجمع ہونا جائزہے یاناجائز؟
الجواب : گانا مع مزامیر مطلقاً ناجائزہے نہ کہ ان منکرات کے ساتھ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۵ تا ۲۷ : ازکمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدابخش زردوز مالک فلورمل اسلامیہ ۲۰ربیع الآخر۱۳۳۶ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل کے بارے میں: (۱) جس کی بارات میں کثرت سے باجے، روشنی، گھوڑے ہوں اور جابجا بارات کی گشتی کی گئی ہو۔ ان کانکاح شرعاً ہوتاہے یانہیں؟ اور ایسی بارات میں شریک ہونے سے گناہ ہوگایانہیں؟ اور شریک ہونے والوں کی دوقسم ہے دونوں کاحکم علیحدہ علیحدہ بیان فرمائیں۔ (۲) بعض توشرکت میں کوئی حرج یاگناہ نہیں سمجھتے۔ (۳) بعض گناہ توسمجھتے ہیں مگر اپنے خاص محلہ یاقرابت دار کی بارات میں اس مجبوری سے شریک ہوتے ہیں کہ نہ شریک ہوں گے توباعث رنج وملال ہوگا اور آپس میں بے لطفی ہوگی، کیایہ مجبوری حائل ہوتی ہے؟
الجواب : روشنی اور گھوڑے ممنوع نہیں، ہاں باجے جیسے رائج ہیں ضرور ممنوع ہیں۔ شرکت دوطرح ایک بارات کے ساتھ جانا اور دوسرے اس مکان میں جانا جہاں بارات ہے اول کسی عالم یا مقتداء کومطلقاً نہ چاہئے جبکہ اس کے ساتھ باجے یا اور کوئی ممنوع شے ہو،
لان المقتدٰی لاینبغی لہ الاختلاط مع اھل الباطل کما فی العٰلمگیریۃ۱؎ وغیرھا ولان ذٰلک یسقط حرمتہ من الاعین وحرمۃ تلک المحرمات من القلوب۔
اس لئے کہ کسی قوم کے دینی پیشوا کو اہل باطل کے ساتھ میل ملاپ نہیں رکھناچاہئے جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری وغیرہ میں مذکورہے اور اس لئے بھی کہ (عام لوگوں سے اگرمیل جول رکھاجائے) تویہ رویہ عام لوگوں کی نگاہوں سے عزت وحرمت کوختم کردیتا ہےاور ان حرام کاموں کی حرمت کو دلوں سے محو کردیتا ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۶)
اور جو اُن ممنوعات کے استحسان کے ساتھ شریک تومطلقاً حرام ہے اگرچہ جاہل محض ہواور عوام میں سے کوئی شخص ہے اوروہ ان ممنوعات کی طرف توجہ نہ کرے اورصلہ رحم یامراعات دوستی یامحکومی کے سبب اُن ممنوعات سے بچاہوا برات کے ساتھ ہوتوحرج نہیں،
واﷲ یعلم المفسد من المصلح کما نصوا علیہ فی اتباع جنازۃ معھا نائحات بل زیارۃ قبور عندھا منکرات کما فی ردالمحتار وغیرہ۔
اﷲ تعالٰی فسادکرنے والے کو اصلاح کرنے والے سے خوب جانتا ہے جیسا کہ ائمہ کرام نے اس کی تصریح فرمائی کہ اگرجنازہ (میت) کے ساتھ رونے پیٹنے والی عورتیں ہوں تو یہ جنازہ کے ساتھ ضرورجائے بلکہ اہل قبور کی زیارت نہ چھوڑے باوجودیکہ وہاں گناہ اور غیرشرعی کام ہورہے ہوں ۔جیسا کہ فتاوٰی شامی وغیرہ میں ہے(ت) اور دوسری صورت یعنی برات کے مکان میں جانا، اگرباجے وغیرہ منکرات دوسرے مکان میں ہوں توحرج نہیں، اور مقتدا کے لئے تین صورتیں ہیں، اگرجانے کہ میرے جانے سے منکرات بندہوجائیں گے میرے سامنے نہ کرسکیں گے توجاناضرور ہے لانہ ازالۃ المنکر (کیونکہ اس طرح کرنے سے گناہ کا ازالہ ہے۔ت) اوراگرجانے کہ میں جانے سے انکارکروں گا تومیری خاطر ان لوگوں کواتنی عزیز ہے کہ مجھے لے جانے کے لئے منکرات سے بازرہیں گے توانکار ضرورہے، پھر اگر وہ اس کے انکار پرباز رہیں توجاناضرور ہے اگرنہ جائے گا تووہ مخلی بالطبع ہوکر پھر انہیں ا فعال کوکریں گے اور اگرنہ مانیں تو نہ جانا ضرورہے، اور اگر اسی مکان میں ہوں توہرگز نہ جائے اور اگرجانے کے بعد شروع ہوں تو فوراً اٹھ آئے، اور عالم کووہاں جانا اور بھی سخت ترناجائزہے مگراس صورت میں کہ جانے کہ میراجانا منکرات کوبند کردے گا۔ جن صورتوں میں ہم نے جوازکاحکم دیا اُن میں آپس کی رنجش اور بے لطفی کالحاظ ضرورچاہئے اور جن صورتوں میں شرکت شرعاً ناجائزہے ان میں کسی کی رنجش کالحاظ بھی جائزنہیں۔
لایخافون لومۃ لائم۱؎، لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالٰی۲؎۔
(اچھے لوگ) کارِخیر کرنے میں کسی ملامت گرکی ملامت سے خائف نہیں ہوتے۔اﷲ تعالٰی کی نافرمانی کرنے میں کسی کی اطاعت نہیں۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵ /۵۴) (۲؎ کنزالعمال برمز ق۔د۔ن عن علی رضی اﷲ عنہ حدیث ۱۴۸۷۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۶۷) (مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث الحکم بن عمرو الغفاری المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۶۶ و ۶۷)
باقی ان معاصی کی وجہ سے نکاح میں کوئی خلل نہیں آتا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۲۸ : ازکمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدابخش زردوز مالک فلورمل اسلامیہ ۲۰ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ اگربارات میں ڈھول تاشہ انگریزی باجانہ ہوصرف دو ایک جوڑدف بلابانسری کاہوتو یہ جائزہے یانہیں؟ یہ واضح رہے کہ دف بجانے والے کاریگری سے بجاتے ہیں جس میں آواز کانشیب وفراز سروتال ہوتا ہے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب: اوقات سرور میں دف جائزہے بشرطیکہ اس میں جلاجل یعنی جھانج نہ ہوں، نہ وہ موسیقی کے تال سُرپر بجایاجائے ورنہ وہ بھی ممنوع۔
کما فی ردالمحتار وغیرہ
(جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۹ :ازکمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدابخش زردوز مالک فلورمل اسلامیہ ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ کیاقوم کے سردار او رعلماء فرض ہے کہ ان مراسم کے مٹانے میں کوشش کریں۔ اگرلوگ نہ مانیں توبرادری ترک کردیں ترک برادری میں جو خرابیاں ہیں وہ بھی ملحوظ رہیں: (۱) برادرانہ پابندی میں مظلوم کی دادرسی اور ظلم کاتدارک ہوتاہے۔ (۲) حق ناحق کافیصلہ آسانی کے ساتھ ہوجاتاہے۔ (۳) محلہ میں اگر کوئی شخص عورت سے ناجائز تعلق رکھتاہے توپنچ اُسے برادری سے خارج کردیتے ہیں اور اس کی شادی غمی میں شریک نہیں ہوتے، پنچوں اور سرداروں کی عبرت سے۔ بالآخر وہ تائب اورنادم ہوتا ہے اورلوگ اس کوبرادری میں شامل کرلیتے ہیں، ترک برادری سے یہ فوائد جاتے رہیں گے، ہرشخص آزادومختار ہوجائے گا، ہاں یہ واضح رہے اگر کوئی شخص تاڑی شراب پیئے، بازاری عورتوں سے زناکرے، جواکھیلے، اپنے یہاں ناچ کرائے، مگربرادرانہ طرف سے اس کی بازپرس نہیں ہوتی اور نہ سردار یاپنچ اس کو برادرانہ طریق سے بندکرتے ہیں، آیا ایسی برادری کرناچاہئے؟
الجواب : علماء اورسرداران پرہدایت ونصیحت فرض ہے اور اہل معاصی کے ساتھ قطع تعلق میں سلف صالحین کے مسلک مختلف رہے ہیں اور مصالح دینیہ کی رعایت سے دونوں صورتیں جائزہیں جس میں مصلحت دیکھیں اور ایسی برادری کہ شراب وزنا سے منع نہ کرے اوراپنے ساختہ قانون کی ذراخلاف ورزی پرسزادے بہت بیہودہ برادری ہے وہ اگر روک سکتے ہیں تو معاصی پرروکنا فرض ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم