خط وکتاب
بلا اجازت کسی کاخط روکنا، کھولنا، اورپڑھنا وغیرہ
مسئلہ ۲۷۹ :حافظ محمود حسین تلمیذ رشیداحمدگنگوہی ۱۱ربیع الآخرشریف ۱۳۱۲ھ
ایک لفافہ بند جس پرمکتوب الیہ کانام اس طرح درج تھا زوجہ مولوی محمدفخرالدین وغلام محی الدین کے پاس پہنچے، ڈاکیہ نے لاکرحاجی رمضان ملازم مولوی محمدفخرالدین کو دیا، حاجی موصوف مردناخواندہ ہے اس لفافہ کوہمشیرہ زادمولوی محمدفخرالدین صاحب کے مکان پرلائے اور کہا کہ کس کے نام کا یہ خط ہے مولوی صاحب موصوف کے ہمشیرہ زاد نے جو اس پرلکھا تھا ان سے کہہ دیا اور ان کو واپس دے دیا، دوسرے وقت حاجی موصوف دوبارہ اس خط کو مولوی صاحب موصوف کے ہمشیرہ زاد کے مکان پرلائے اورچندصاحب باہرمکان میں بیٹھے تھے اس کالفافہ پڑھوایا، چونکہ مولوی محمد فخرالدین صاحب کی زوجہ جو احدالمکتوب الیہما تھیں وہ انتقال کرچکی تھیں اور دوسرامکتوب الیہ یعنی غلام محی الدین کا نام جوساتھ میں لکھاہواتھا وہ سمجھ میں نہیں آتاتھا کہ کون شخص ہے فی الجملہ مولوی صاحب کے دونوں ہمشیرہ زادے موجود تھے، ایک کی رائے ہوئی کہ خط کو واپس کردیاجائے دوسرے نے خیال کرکے کہ کاتب کاجونام اس پرلکھاہوا تھا وہ ایساتھا کہ اس کو تعلق زوجہ مولوی محمد فخرالدین صاحب یعنی اپنے ماموں صاحب کی زوجہ سے تھا او راب ان کاانتقال ہوا اس خیال سے کہ یہ ٹکٹ چسپاں لفافہ واپس کرنے میں شاید ضائع ہوجائے اورکوئی قصدکاتب یا مکتوب الیہا ضروری ہواہو اس کوچاک کرکے سرسری نگاہ سے اس کی ابتداء کو دیکھا جس سے یہ معلوم ہوگیا کہ بیشک مولوی صاحب یعنی اپنے ماموں صاحب کی زوجہ کاہی یہ خط ہے اور چونکہ وہ امرجو ابتداء سے معلوم ہوگیا اس خط کے پڑھنے سے متعلق مکتوب الیہا کے تہائی سے معلوم ہوا کہ ان لڑکیوں کے پیام کی نسبت اس میں لکھاہوا تھااس لئے بدون پورا پڑھے ہوئے خط کے اس کو لفافہ میں رکھ کے چاک شدہ بدون بند کئے ہوئے حاجی رمضان خاں جو اس خط کو لائے تھے ان کودے دیا اور کہہ دیا کہ حافظ غفورالدین صاحب یعنی برادرمکتوب الیہامرحومہ کودے دیں پس صورت حال یہ ہے اس کی نسبت یہ سوال ہے کہ خواہرزادہ مولوی صاحب نے لفافہ چاک کرکے اس کوسرسری گناہ سے دیکھ کے پھر اس کوجس شخص سے متعلق مضمون اس کا نظرآیا واپس بھیج دیا، ایساکرنے میں وہ عندالشرع گنہگار ہے یا موافق نیت اپنی کے عنداﷲ وعندالشرع ماجور ہے اور زوج مکتوب الیہا کے ملک عرب میں ہیں وہ یہاں موجود نہیں ہیں۔ بیّنواتوجوا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : صورت مستفسرہ میں شخص مذکور گنہگار ومستحق وعیدہے، حدیث میں ہے حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من نظر فی کتاب اخیہ بغیر اذنہ فانما ینظر فی النار۔ رواہ ابوداؤد ۱؎ فی سننہ والحاکم وصححہ وابن منیع فی مسندہ والقضاعی وغیرھم فی حدیث عنا بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
جو اپنے بھائی کاخط بے اس کی اجازت کے دیکھے وہ بلاشبہہ آگ دیکھ رہاہے(امام ابوداؤد نے اس کو اپنی سنن میں روایت کیا اور محدث حاکم نے اس کی صحت تسلیم فرمائی اور ابن منیع نے اپنے مسند میں اور قضاعی وغیرہ نے حدیث ابن عباس رضی ﷲ تعالٰی عنہما کے حوالہ سے روایت کی۔ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الدعاء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۰۹)
علماء فرماتے ہیں خط کاتب کی ملک ہے یہاں تک کہ اگروہ لکھے کہ اس پرجواب لکھ دے تو خود مکتوب الیہ کو اس میں تصرف جائزنہیں مالک کو واپس دینالازم، واپس نہ چاہے تو بحکم عرف مکتوب الیہ مالک ہوجائے گا۔
جوہرہ نیرہ ومنح الغفار شرح تنویرالابصار وحاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار وغیرہا میں ہے :
رجل کتب الٰی اٰخر کتابا وذکرفیہ اکتب الجواب علی ظھرہ لزمہ ردہ ولیس لہ التصرف فیہ والا ملکہ المکتوب الیہ عرفا ۱؎۔
ایک آدمی نے کسی دوسرے آدمی کوخط لکھا اور اس میں یہ ذکرکیا کہ اسی قرطاس سوال کی پشت پر جواب لکھ دیں توا س خط کاواپس کرنا لازم ہوجاتاہے۔اور اس میں کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں ہوتا، اوراگریہ صورت نہ ہوتو عرف اور رواج کے مطابق مکتوب الیہ یعنی جس کی طرف خط لکھاگیا وہ اس کامالک ہوگیا۔(ت)
(۱؎ تکملہ ردالمحتار فصل فی مسائل متفرقہ من الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۵۱)
(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ فصل فی مسائل متفرقہ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۳ /۴۰۹)
یہاں کہ خط مکتوب الیہ کے ہاتھ میں پہنچنے ہی نہ پایا بلاشبہہ ملک کاتب پرباقی رہا،
فان التملیک لایتم قبل القبض حتی لومات احدھما قبل التسلیم بطل کما نص علی فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر۲؎۔
کیونکہ تملیک (کسی کومالک بنانا) قبضہ کرنے سے پہلے تام (مکمل) نہیں ہوتی اس لئے کہ سپردگی سے پہلے دونوں میں سے کوئی ایک اگرانتقال کرجائے تومعاملہ باطل ہوجاتاہے جیسا کہ درمختار وغیرہ بڑی کتب عربی میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱)
بے اس کے اذن کے لفافہ چاک کرنامِلک غیر میں تصرف ناجائز ہواکہ شرعاً حرام ہے، حدیث وفقہ کاحکم تو یہ ہے، باقی رہے اس کے بیہودہ عذرات جن کی بنا پر وہ نہ صرف اپنی برأت بلکہ الٹا ماجوری کامتمنی ہے بدتر ازگناہ ہیں واپسی میں ضائع ہونے کا اندیشہ تھاتویہ کاتب تھا مکتوب الیہ تھاکون تھا رکھنا واپس کرنا اس سے کیامتعلق تھا اس کے پاس لفافہ پڑھنے کو آیاتھا پرھ کرلانے والے کودے دیتا جومطالبہ ہوتا اس کے ذمہ ہوتا اسے مداخلت بیجاکاکس نے حکم دیاتھا ایسی ہی خیراندیشی مدنظر تھی توخط محفوظ رہنے کی ہدایت کرکے کاتب کواطلاع دی ہوتی وہ جوکہتا اس پرعمل کیاجاتانہ یہ غضب وخیانت کہ ملک غیرچاک نامہ غیرمیں نظر بےباک یعنی زید نے ایک بکری عمروکہ ہدیۃً بھیجی، عمرو مرچکاتھا لانے والا بکرکے پاس لایایہاں جنگل میں شام ہوگئی واپس کرنے میں اندیشہ تلف تھا بکرنے بکری براہ خیراندیشی وہیں ذبح کرکے چھ لی، یہ خیال کہ شاید کوئی امرضروری مفیدکتاب یامکتوب الیہا ہویہ خیال نہ کیاکہ شاید کوئی امر رازکاہو جس پر اطلاع میں ان کی مضرت ہوپرائے مکان میں بے استیذان جانا شرع نے احتمال ضرر کے سبب حرام فرمایا اوراحتمال نفی کی بنا پراجازت نہ دی یہ خیالات سب مناقض شرح محض وسوسہ شیطانی تھے کہ معصیت پرباعث ہوئے سرسری نگاہ سے دیکھنا بھی دیکھنا ہے آخراس سے مضمون پراطلاع پائی تویہ کیاعذر ہو سکتاہے، جیسے کسی کے دروازہ میں سے جھانکے اور کہے ہم نے بغورتو نہیں دیکھا۔ اسی بنا پر حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس حالت میں اس کی آنکھیں پھوڑدیں تو کچھ الزام نہیں۔
فی الصحیحین عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم : من اطلع فی بیت قوم بغیر اذنھم فقد حل لھم ان یفقأوا عینہ۱؎۔
بخاری اورمسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کسی نے لوگوں کے گھروں میں بغیران کی اجازت کے جھانک کردیکھا تو بے شک ان گھروالوں کیلئے حلال ہے کہ اس کی آنکھ نکال دیں۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الدیات باب من اطلع فی بیت قوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۲۰)
(صحیح مسلم کتاب الآداب باب تحریم النظر فی بیت غیرہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۱۲)
بلکہ دوسری حدیث میں حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ایمارجل کشف سترا فادخل بصرہ من قبل ان یؤذن فقداتی حدا لایحل لہ ان یأتیہ ولوان رجلا فقأعینہ لھدرت۔ رواہ الامام احمد فی مسندہ۲؎ عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جوشخص کوئی پردہ کھول کر قبل اجازت نگاہ کرے وہ ایسی ممنوع بات کامرتکب ہے جو اسے جائزنہ تھی اور اگرکوئی اس کی آنکھ پھوڑدے توقصاص نہیں۔(امام احمدنے اس کو اپنی مسندمیں حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
(۲؎ مسندامام احمدبن حنبل ترجمہ عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۸۱)
انصاف سے دیکھئے تولفافہ چاک کرکے خط پڑھنا بھی ایک قسم کاپردہ کھول کرنگاہ کرناہے اور فقط ابتدائی مضمون دیکھاپورانہ پڑھا یعنی دروازہ ہی میں سے جھانکا سارامکان کب نظرپڑا اور طرفہ یہ کہ چاک شدہ بے بند کئے واپس کیا، شاید اسے بھی ذلیل نیک نیتی ٹھہرادیاجاتا کہ فریب ہوتا توبند کردیاجاتا کیابند کرنے میں گناہ تھا جو اس سے بازرہنا وجہ برأت ہوا یعنی مکان غیرمیں بے اجازت قُفل توڑکرجائیے اورنیک نیتی کاثبوت یہ کہ ہم نے دروازہ کھلاہی چھوڑدیا، طرہ یہ کہ خط زید بنام عمروبکرنے دیکھا اور خالد کوبھیج دیا گویا خود مالک خط تھا کہ جوچاہاکیاجب ساراخط نہ دیکھاتھا توکیامعلوم شاید اس میں کوئی مضمون خالد کے خلاف ہی ہوتا اس کامطلع ہونا ان مسلمانوں کے ضررکاسبب ہوتا، غرض یہ سب حرکات عقل وشرع دونوں کے خلاف تھیں
ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
(گناہوں سے کنارہ کش ہونے اوربھلائی کرنے کی قوت کسی میں موجود نہیں بجزاﷲتعالٰی عظمت وشان والے کی توفیق کے۔اﷲ تعالٰی پاک وبرتر اوربڑاعالم ہے۔ت)
مسئلہ ۲۸۰: ۱۰/صفر۱۳۲۱ھ
خالد کو اس کے چچا نے ہدایت کی کہ باہمی نزاع کی بابت خط وکتابت مسدود رہنا قرین مصلحت ہے اب اگرظن غالب کی بناپر بکر اپنے بھتیجے خالد کے خطوط خود وصول کرکے اس کو نہ دے حالانکہ خالد تبری کرتا ہے کہ ہرگزمیرے کسی خط میں اس ہدایت کاخلاف نہ کیاگیامگر بکرکو بوجہ مرتبہ بادر ہونے کے سبب خالد کی یقین نہیں آیا ان وجوہ سے بکر معصیت کامرتکب قرارپائے گا یانہیں؟ نیزاگر ان میں بابت نزاع باہمی تذکرہ ہوتوکیا بکر کو امور متذکرہ بالا کا اختیارحاصل ہے یانہیں؟
الجواب : بکرکواصلاً اختیارنہیں، نہ خالد کے خطوط روکنے کا، نہ دیکھنے کا، اور وہ ضرورگنہگارہوگا، حدیث میں ارشاد ہواکہ جوبلاضرورت دوسرے کا خط دیکھے وہ جہنم کی آگ دیکھتاہے ۱؎۔ اوربدگمانی دوسراگناہ ہے اورتجسس تیسراگناہ۔اوریہ سوال کہ اگران میں خلاف ہدایت ہو تو امومذکورہ کا اختیار ہے یانہیں محض بے معنی ہے بے دیکھے کیونکرمعلوم ہوگا کہ خلاف ہدایت ہے، غرض یہ سب کارروائی خود خلاف ہدایت ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الدعاء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۰۹)
مسئلہ ۲۸۱ :ازملک گجرات ضلع احمدآباد شہرپیران پاٹن محلہ محمدی دارہ معرفت سیدعبدالقادر صاحب رسیدہ اصغراحمدصاحب بنگالی پنجشنبہ ۱۶ شوال ۱۳۳۴ھ
حضرت شمس علماء الدین، اسوۃ الحکماء المحققین، اعنی مخدومنا ومکرمنا جناب مولانا احمدرضاخان صاحب حفظہم الواہب من النوائب۔ بعد الف الف سلام معروض اینکہ حضور والا کے ارشاد کے بعد جب مراجعت الی الکتب کیا فی الواقع جواب لسان وعلی الفور واجب ہے، اورعلامہ مناوی نے تخیربین اللفظ والمراسلۃ (زبانی جواب دینا اوربذریعہ خط جواب دونوں میں (مکتوب الیہ کو) اختیارہے۔ت) لکھاہے مگرعلامہ شامی نے اسی کا بعد ہی خط کاجواب دینے کو واجب لکھاہے
وھو لکن فی الجامع الصغیر للسیوطی ''ردجواب الکتاب حق کردالسلام''۲؎
(لیکن امام سیوطی نے جامع صغیر میں فرمایا خط کاجواب دینابالکل سلام کے زبانی جواب دینے کی طرح واجب ہے۔ت)اگر اس میں کوئی خلاف ہوتو اصلاح فرماکر مرہون منت فرمائیں فقط۔
(۲؎ جامع الصغیر حدیث ۴۴۴۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۷۲ )
الجواب : مولانا المکرم ذی اللطف والکرم اکرمکم المولٰی تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ہمارے نزدیک جواب سلام علی الفور ہے تاخیرمیں اثم ہوگا
حتی قالوا لو اخرالٰی آخرالکتاب کرہ
(یہاں تک فرمایا کہ اگر اس نے جواب لکھنے تک سلام کے جواب میں تاخیرکی تومکروہ ہے۔ت) علامہ مناوی شافعی ہیں یوں ہی امام سیوطی ولہٰذا عبارت مذکورہ کے بعد مناوی میں ہے :
وبہ قال جمع شافعیۃ منھم المتولی والنووی فی الاذکار زاد فی المجموع انہ یجب الرد فورا ۱؎۔
شافعیوں کے ایک گروہ نے یہی فرمایا، ان میں سے متولی اورامام نووی ہیں، چنانچہ امام نووی نے الاذکار میں ذکرکیا اورالمجموع میں یہ اضافہ کیا کہ سلام کاجواب دیناواجب ہے۔(ت)
(۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ردجواب الکتاب الخ مکتبۃ الامام شافعی ریاض ۲ /۲۲)
اورحدیث کی سند بشدت ضعیف ہے، اوراس کارفع ثابت نہیں، ہاں جواب کتاب حتی الوسع ضروردیناچاہئے ولوبعد حین(اگرچہ کچھ عرصہ کے بعد ہو۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔