Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
158 - 160
سابعاً حدیث صحیح مسلم محض بے محل مذکور ہوئی حدیث میں تعلیم تواضع  ونفی تکبر اور آقاؤں کو  ارشاد  ہے  کہ اپنے غلاموں کوعبد نہ کہو، نہ کہ کہ غلام بھی اپنے کواپنے مولٰی کاعبد یادوسرے ان کوان کے عبیدنہ کہیں، یہ ہے قرآن کہ ہمارے غلاموں کوہماراعبد فرمارہاہے، آیت عنقریب گزری رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں :
لیس علی المسلم فی عبدہ  ولا فی فرسہ صدقۃ رواہ احمد۱؎ والستۃ عن ابی ھریرۃ۔
مسلمان پر اپنے عبد اور اپنے گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں(اسے احمد اوراصحاب ستہ نے ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ صحیح مسلم   کتاب الزکوٰۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۳۱۶)

(سنن ابی داؤد     کتا ب الزکوٰۃ     باب صدقۃ الرقیق     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۲۲۵)

(سنن ابن ماجہ     کتاب الزکوٰۃ      ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۱۳۱)

(مسنداحمدبن حنبل     عن ابی ہریرۃ       المکتبۃ الاسلامی بیروت     ۲ /۲۴۲)
فقہ کامحاورہ عامہ وائمہ صدراول سے آج تک مستمرہ ہے :
اعتق عبدہ ودبرعبدہ
 (اس نے اپنے عبد کوآزاد، مدبربنایا۔ت) خود مولوی مجیب صاحب اپنے رسالہ نفع المفتی مسائل متعلقہ جمعہ میں فرماتے ہیں :
ان اذن المولی عبدہ لہا یتخیر۲؎
 (اگرمولٰی اپنے عبد کو اجازت دے تو اسے اختیارہوا۔ت) وہیں ہے :
وللمولی منع عبدہ۳؎
 (مولٰی کواختیارہے کہ عبد کوروک دے۔ت)
 (۲؎ و ۳؎ نفع المفتی والسائل  مسائل متعلقہ بالجمعۃ   مطبع مجتبائی دہلی   ص۱۰۵)
عجب ہے کہ زیدوعمروبلکہ کسی کافرمشرک کے غلام کو اس کاعبدکہنے پرحدیث وارد نہ ہو اور محمدرسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے غلاموں کوان کاعبد کہنے پرمعترض ہو، اور سنئے توسہی امام ابوحذیفہ اسحق بن بشر فتوح الشام اورحسن بن بشران  اپنی فوائد میں ابن شہاب زہری وغیرہ تابعین سے راوی کہ امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں برسرمنبرفرمایا :
قدکنت مع  رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فکنت عبدہ وخادمہ۴؎۔
میں حضورپُرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگارہ میں تھا تو میں حضورکاعبدتھا حضورکابندہ اورحضورکاخدمتی تھا۔
 (۴؎ فتوح الشام لاسحق بن بشر)
نیز ابن بشران امالی اورابواحمددہقان جزء حدیثی اورابن عساکر تاریخ دمشق اورلالکائی کتاب السنہ میں افضل التابعین سیدنا سعیدبن المسیب بن حزن رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، جب امیرالمومنین حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ خلیفہ ہوئے منبراطہر حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرکھڑے ہوکر خطبہ فرمایا حمدودرودکے بعد فرمایا :
ایھاالناس انّی قدعلمت انکم کنتم تونسون منّی شدّۃ وغلظۃ وذٰلک انی کنت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکنت عبدہ، وخادمہ۱؎۔
لوگو! میں جانتاہوں کہ تم مجھ میں سختی ودرشتی پاتے تھے اور اس کاسبب یہ ہے کہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور میں حضورکابندہ اورحضورکاخدمت گزار تھا۔
 (۱؎ مختصرتاریخ دمشق لابن عساکر     ترجمہ عمربن الخطاب ۱۸۵   دارالفکر بیروت     ۱۸ /۳۱۴)
اب توظاہر ہواکہ حدیث مسلم کو اس محل سے اصلاً تعلق نہیں، ذرا وہابی صاحب بھی اتناسن رکھیں کہ یہ حدیث نفیس جس میں امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ اپنے آپ کو عبدالنبی، عبدالرسول، عبدالمصطفٰی کہہ رہے ہیں، اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا مجمع عام زیرمنبرحاضرہے، سب سنتے اورقبول کرتے ہیں۔

جناب شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی نے بھی ازالۃ الخفا ابوحذیفہ وکتاب مستطاب الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ  میں استناداً ذکرکی اور مقرررکھی، امیرالمومنین کوبجرم ترویح تراویح معاذاﷲ گمراہ بدعتی لکھ دیا، یہاں عیاذاً  باﷲ مشرک کہہ دیجئے، اور آپ کے اصول مذہب نامذہب پرضرور کہنا پڑے گا مگرصاحبو! ذراسوچ سمجھ کرکہ شاہ ولی اﷲ صاحب کادامن بھی اسی پتھر کے تلے دباہوا ہے ع

یوں نظردوڑے نہ برچھی تان کر

اپنا  بیگانہ  ذرا پہچان  کر
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم،
خیر، بات دورپہنچی، لفظ عبد وبندہ کی تحقیق تام وتفصیل احکام فقیر کی کتاب مجیرمعظم شرح اکسیر اعظم میں ملاحظہ ہو۔
یہاں یہ گزارش کرنی ہے کہ مولوی مجیب صاحب کے اس فتوٰی نے ادعائے ایہام کاکام تمام کردیا، عبدالنبی میں جناب کے نزدیک تین احتمال تھے: ایک شرک، ایک کذب، ایک صحیح، توناجائزاحتمال جائزسے دُونے تھے، با ایں ہمہ اس کاحکم صرف خلاف اولٰی فرمایا جوممانعت وکراہت تحریمی درکنار کراہت تنزیہی کوبھی مستلزم نہیں، ہرمستحب کاخلاف ترک خلاف اولٰی ہے مگرمطلقاً تنزیہی نہیں۔
ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے :
لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃ اذ لابدلھا من دلیل خاص۲؎۔
مستحب کوترک کرنے پرکراہت لازم نہیں کیونکہ کراہت کے لے دلیل چاہئے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۴)
اسی میں تحریرالاصول سے ہے :
خلاف اولٰی مالیس فیہ صیغۃ نھی کترک صلٰوۃ الضحٰی بخلاف مکروہ تنزیھا ۱؎۔
خلاف اولٰی وہ ہے جس کے لئے نہی کاصیغہ استعمال نہ ہواہو جیسے چاشت کی نمازکاترک ہے بخلاف مکروہ تنزیہہ کے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۸۴)
توہدایت علی جس میں چاراحتمالوں سے صرف ایک باطل ہے، یعنی جائزاحتمالات ناجائز سے تگنے ہیں یہ کس طرح خلاف اولٰی درکنار مکروہ تنزیہی سے بھی گزرکرلازم الاحتراز ہوگیا، اربعہ کے حساب سے تواسے خلاف اولٰی کانصف بھی نہ ہوناچاہئے تھا بلکہ ۴ /۳،   یعنی مباح مساوی طرفین سے اگرسیربھردوری پرخلاف اولٰی کہاجائے توہدایت علی میں صرف ڈیڑھ پاؤ ہوگئی اس لئے ۳ /۲ ،  ۴ /۱  مجہول پس ۴ /۱ ،  ۳ /۲ ، ۸ /۲  خیریہ حساب تو ایک تطییب قلوب ناظرین تھا حق یہ کہ ہدایت علی میں اصلاً کوئی وجہ کراہت تنزیہی کی بھی نہیں، لزوم احتراز تو بڑی چیزہے، اورفی الواقع ہرادنٰی عقل والا بھی سمجھ سکتاہے کہ عبدالنبی سے ہدایت کونسبت ہی کیاہے، جب وہ صرف خلاف اولٰی ہے تو اسے خلاف اولٰی کہنابھی محض بے جاہے، کلام یہاں کثیرہے اور جس قدر مذکورہوا طالب حق کے لئے کافی۔
واﷲ یقول الحق ویھدی السبیل، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
کتبہ

عبدہ المذنب احمدرضا البریلوی عفی عنہ

بمحمدن المصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم

محمدی سنی حنفی قادری          ۱۳۰۱ھ

عبدالمصطفٰی احمدرضاخاں

رسالہ

النوروالضیاء فی احکام وبعض الاسماء

ختم ہوا

_________________________________
Flag Counter