Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
157 - 160
لاجرم جوتفصیل عبد میں ہے وہی بندہ میں۔

ثانیاً عبدبمعنی بندہ وبمعنی مملوک میں یہ تفرقہ کہ اول شرک اورثانی خلاف واقع ہے محض بے اصل وضائع ہے، مملوک بھی ملک ذاتی حقیقی وملک عطائی مجازی دونوں کومشتمل اور اول میں قطعاً شرک حاصل اوربندہ بھی مقابل خدااورخواجہ دونوں مستعمل، اورثانی سے یقینا شرک زائل۔
ثالثاً آپ نے تو عبدبمعنی ملوک کوخلاف واقع یعنی کذب ٹھہراکر اس ارادے کوشرک سے اتارکر گناہ مانا  مگر ائمہ دین واولیائے معتمدین وعلمائے مسندین قدس اﷲ تعالٰی اسرارہم اجمعین اس اعتقاد کومکمل ایمان مانتے اور اس سے خالی کوحلاوت ایمان سے بے بہرہ جانتے ہیں، حضرت امام اجل عارف باﷲ سیدسہل بن عبداﷲ تستری رضی  اﷲ تعالٰی عنہ پھرامام اجل قاضی عیاض شفاشریف پھرامام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ شریف میں نقلاًوتذکیراً پھرعلامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض  پھر علامہ محمدبن عبدالباقی زرقانی شرح مواہب میں شرحاً وتفسیراً فرماتے ہیں :
من لم یر ولایۃ الرسول علیہ فی جمیع احوالہ ولم یرنفسہ فی ملکہ لایذوق حلاوۃ سنتہ ۱؎۔
جوہرحال میں نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنا والی اور اپنے آپ کو حضور کامملوک نہ جانے وہ سنت نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کی حلاوت سے اصلاً خبردار نہ ہوگا۔
 (۱؎ المواھب اللدنیۃ   المقصد السابع الرضی بماشرعہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۳ /۲۹۹ و ۳۰۰)

(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ   المقصد السابع الرضی بماشرعہ    الفصل الاول     دارالکتب العلمیۃ    ۹ /۱۲۸)
رابعاً مولانا شاہ عبدالعزیزصاحب تحفہ اثناء عشریہ میں نقل فرماتے ہیں کہ حق سبحانہ وتعالٰی زبورشریف میں فرماتاہے :
یا احمد فاضت الرحمۃ علٰی شفتیک من اجل ذٰلک بٰارک علیک فتقلد السیف فان بھائک وحمدک الغالب (الٰی قولہ) الامم  یخرون تحتک کتاب حق جاء اﷲ بہ من الیمن والتقدیس من جبل فاران وامتلأت  الارض من تحمید احمد وتقدیسہ و ملک الارض  ورقاب الامم۲؎۔
اے احمد! تیرے لبوں پررحمت نے جوش مارا میں اسی لئے تجھے برکت دیتاہوں تو اپنی تلوار حمائل کرکہ تیری چمک اورتیری تعریف ہی غالب ہے سب امتیں تیرے قدموں میں گریں گی، سچی کتاب لایااﷲ برکت وپاکی کے ساتھ مکہ کے پہاڑ سے، بھرگئی زمین احمد کی حمداور اس کی پاکی بولنے سے، احمدمالک ہوا ساری زمین اورتمام امتوں کی گردنوں کا، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم۔ 

کیازبور پاک کے ارشاد کوبھی معاذاﷲ خلاف واقع کہاجائے گا۔
 (۲؎ تحفہ اثناء عشریہ   باب ششم دربحث نبوت الخ     سہیل اکیڈمی لاہور     ص۱۶۹)
خامساً امام احمد مسند میں بطریق ابی معشِر البراء ثنی صدقۃ بن طیلسۃ ثنی معن بن ثعلبۃ المازنی والحی بعد ثنی الاعشی المازنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ، اورعبداﷲ بن احمد زوائدالمسندمیں بطریق عوف بن کھمس بن الحسن عن صدقۃ وطیلسۃ الخ، اورامام ابوجعفر طحطاوی شرح معانی الآثار میں بطریق ابی معشر المذکور نحو روایۃ احمدسنداً ومتناً اور ابن خیثمۃ وابن شاھین بھذا الطریق وبغیرہ اور بغوی وابن السکن وابن ابی عاصم بطریق الجنید بن امین بن ذروۃ بن نضلۃ بن بھصل الحرمازی عن ابیہ عن جدہ نضلۃ۔

حضرت اعشی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہ یہ خدمت اقدس حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم میں اپنے بعض اقارب کی ایک فریاد لے کرحاضر ہوئے اور اپنی منظوم عرضی مسامع قدسیہ پرعرض کی جس کی ابتداء اس مصرع سے تھی ع
یامالک  النّاس  و دیّان  العرب۱؎
 (اے تمام آدمیوں کے مالک اور اے عرب کے جزاو سزا دینے والے)
 (۱؎ مسنداحمدبن حنبل   مسندعبداﷲ بن عمرو بن العاص   المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۲۰۱)

(شرح معانی الآثار    کتاب الکراھۃ     باب الشعر     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۲ /۴۱۰)
حضرت اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کی فریاد سن کرشکایت رفع فرمادی، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ایک شخص کامالک کہنا آپ کے گمان میں معاذاﷲ کذب تھا  تو تمام آدمیوں کامالک بتانا یامالک النّاس کہہ کر حضورکوندا کرنامعاذاﷲ سنکھوں مہاسنکھوں  کذب کا مجموعہ ہوگا، حالانکہ یہ حدیث جلیل شہادت دے  رہی ہے کہ صحابی حضورکومالکِ تمام بشرکہا اور حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے مقبول ومقرررکھا۔
سادساً  بات یہ ہے کہ آپ کے خیال شریف میں مالک ومملوک کے یہی معنی تھے کہ زیدعمروکو تانبے کے کچھ ٹکوں یاچاندی کے چند ٹکڑوں  پرخریدے جبھی تو محمد رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مالکیت کوخلاف  واقع فرمادیا حالانکہ یہ مالکیت سخت پوچ لچر، محض بے وقعت، بے قدرہے کہ جان درکنار گوشت پوست پربھی پوری نہیں، سچی کامل مالکیت وہ ہے کہ جان وجسم سب کومحیط اورجن وبشر سب کوشامل ہے یعنی اولٰی بالتصرف  ہونا کہ اس کے حضور کسی کو اپنی جان کابھی اصلاً اختیارنہ ہو یہ مالکیت حقہ صادقہ محیط شاملہ تامہ  کاملہ حضور پرنورمالک الناس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوبخلافت کبرٰی اور حضرت کبریا عزوعلا تمام جہاں پرحاصل ہے۔
قال اﷲ تعالٰی النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسھم۲؎
نبی زیادہ والی ومالک ومختارہے، تمام اہل ایمان کاخود ان کی جانوں سے۔
 (۲؎ القرآن الکریم     ۳۳ /۶)
وقال اﷲ تعالٰی تبارک وتعالٰی ماکان لمؤمن ولامؤمنۃ اذا قضی اﷲ ورسولہ امرا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعص رسولہ فقد ضل ضلٰالاً مبینا ۱؎۔
اﷲ و  (اﷲ تبارک وتعالٰی نے فرمایا) نہیں پہنچتا کسی مسلمان مرد نہ کسی مسلمان عورت کو جب حکم کردیں اﷲ اوراس کے رسول کسی بات کا کہ انہیں کچھ اختیار رہے اپنی جانوں کا، اور جوحکم  نہ مانے اﷲ ورسول کاتو ہو صریح گمراہ ہوا۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۳۳ /۳۶)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا اولٰی بالمؤمنین من انفسھم، رواہ احمد والبخاری۲؎ ومسلم والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
میں زیادہ والی  و مالک ومختارہوں تمام اہل ایمان کاخود ان کی جانوں سے(اسے بخاری، مسلم، نسائی اورابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب الکفالۃ    ۱ /۳۰۸  و کتاب الفرائض   ۲ /۲۹۷     قدیمی کتب خانہ کراچی )

(صحیح مسلم     کتاب الجمعۃ    فصل فی خطبۃ الجمعۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲۸۵)

(صحیح مسلم  کتاب الفرائض   قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲ /۳۶)

(سنن ابن ماجہ         ابواب الصدقات     باب من ترک دینا الخ     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۱۷۶)

(مسندامام احمدبن حنبل    عن ابی ہریرۃ     المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۳۳۵)
اگریہ معنی مالکیت جناب مجیب کے خیال میں ہوتے تو محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کی مالکیت کوخلاف واقع نہ جانتے اور خود اپنی جان اورسارے جہان کو محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کی مِلک مانتے اور اس سے زائد مرتبہ حق حقائق ہے جس کے سننے کو گوش شنواسمجھنے کو دل بینادرکار ہے۔
ومااوتیتم من العلم الاقلیلا۳؎ وفوق کل ذی علم علیم۴؎ ومایلقھا الاالذین صبروا ومایلقھا الا ذوحظ عظیم۵؎۔
تمہیں صرف تھوڑاساعلم دیاگیاہے، ہرعلم والے پربڑے علم والاہے، نہیں پاتے اس کو مگرجولوگ صبروالے ہوں مگرعظیم حصہ۔(ت)
 (۳؎ القرآن الکریم     ۱۷/ ۸۵)   ( ۴؎ القرآن الکریم     ۱۲/ ۷۶)   ( ۵؎ القرآن الکریم     ۴۱/ ۳۵)
Flag Counter