Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
156 - 160
خامساً یاعلی کوفرمایاجاتاہے کہ جب مقصود ندائے معبود تو نزاع مفقود، جی کیا وجہ یہاں بھی صاف دوسرا احتمال موجود، اپناقصد نہ ہونا ایہام واحتمال کانافی کب ہوسکتاہے، ایہام تو کہتے ہی وہاں ہیں جہاں وہ معنی موہم  مراد متکلم نہ ہوں، تلخیص وتعریفات کی عبارتیں ابھی سن چکے اور اگر قصد پرمدار واعتماد ہے تو ہدایت علی پرکیا ایراد ہے، وہاں کب معنی شرک مقصودومراد ہے۔

سادساً علی پرالف لام لاناکب ایسے عالمگیرشرک سے نجات دے گا، علماپرلازم نہ آتاسہی صفۃً پرتو قطعاً آسکتاہے اور وہ یقینا صفات مشترکہ سے ہے تو احتمال اب بھی قائم اور احتراز لازم، بلکہ سراجیہ وتاتارخانیہ  ومنح الغفار وغیرہا سے توظاہرکہ العلی باللام نام رکھنا بھی رواہے،
ردالمحتارمیں ہے :
فی التاترخانیۃ عن السراجیۃ التسمیۃ باسم یوجد فی کتاب اﷲ تعالٰی کالعلی والکبیر  والرشید والبدیع جائزۃ الخ ومثلہ فی المنح عنھا وظاھرہ الجواز ولومعرفا بِاَل ۱؎۔
تتارخانیہ میں فتاوٰی سراجیہ سے نقل کیاگیاہے کہ ایسے نام رکھناجواﷲ تعالٰی کی کتاب میں اﷲ تعالٰی کی صفات کے طورپر پائے جاتے ہیں جیسے علیّ، کبیر، رشید اوربدیع وغیرہ جائزہے الخ، اوراسی طرح منح الغفار میں سراجیہ سے نقل کیاگیاہے پس بظاہر یہ جائزہے اگرچہ وہ ال سے معرفہ ہو۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار   کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع    داراحیاء التراث العربی بیروت   ۵ /۲۶۸)
سابعاً جب گفتگو احتمال پرچل رہی ہے تو معنیین ایصال الی المطلوب واراءۃ طریق میں تفرقہ باطل، ایصال وراءۃ دونوں دومعنی خلق وتسبّب پرمشتمل بمعنی خلق دونوں مختص بحضرت احدیت ہیں، کیاارائت بمعنی خلق رؤیت غیر سے ممکن ہے اور بمعنی تسبّب دونوں غیر کے لئے حاصل ہیں، کیاانبیاء سے ایصال بمعنی سببیت فی الوصول نہیں ہوتا
فطاح التفرقۃ وزاح الشقشقۃ
 (پس دونوں میں تفرقہ نابودہوگیا اور تذبذب زائل ہوگیا۔ت) ہاں یوں کہئے کہ ادھرعلی مشترک ادھر ہدایت خلق وتسبب دونوں میں مستعمل، یوں چاراحتمال ہوئے، مگراب یہ مصیبت پیش آئے گی کہ جس طرح ہدایت بمعنی خلق غیرخدا کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی بمعنی محض تسبب حضرت عزت جل جلالہ، کی طرف نسبت نہیں پاسکتی ورنہ معاذاﷲ اصل خالق ومعطی دوسراٹھہرے گا اور اﷲ عزوجل صرف سبب وواسطہ ووسیلہ، اس کاپایہ شرک بھی اونچاجائے گا کہ وہاں توتسویہ تھا یہاں اﷲ سبحانہ، پرتفضیل دیناقرارپائے گا، علی پرلام لاکر اول کاعلاج کرلیا اور اس دوم کاکہ اس سے بھی سخت ترہے علاج کدھرسے آئے گا اب ایک لام نیا گھڑکرہدایت پرداخل کیجئے کہ وہ معنی خلق میں متعین ہوجائے اوراحتمال تسبب اُٹھ کر ایہام شرک وبدتر از شرک راہ نہ پائے۔
ثامناً ایک ہدایت کیاجتنے افعال مشترکۃ الاطلاق ہیں سب میں اسی آفت کاسامنا ہوگاجیسے احسان وانعام،اذلال واکرام، تعلیم وافہام، تعذیب وایلام، عطا ومنع، اضرارونفع، قہر وقتل، نصب وعزل وغیرہا کہ مخلوق کی طرف نسبت کیجئے تومعنی خلق موہم شرک اور خالق کی طرف تومعنی تسبب مشعرکفر۔
بہرحال مفرکدھر، اگرکہئے خالق عزوجل کی طرف نسبت ہی دلیل کافی ہے کہ معنی خلق مراد ہیں، ہم کہیں گے مخلوق کی جانب اضافت ہی برہان وافی ہے کہ معنی تسبب مقصود ہیں، ولہٰذا علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ امثال
انبت الربیع البقل وحکم علی الدھر
 (بہار نے سبزہ اگایا اوردہرنے مجھ پر حکم کیا۔ت) میں قائل کاموحد ہونا ہی قرینہ شافی ہے کہ اسناد مجازعقلی ہے اب بحمداﷲ اس ایہام کی بنیاد ہی نہ رہی۔
تاسعاً آپ نے (باآنکہ اسمائے الٰہیہ توقیفیہ ہیں اور خصوصاً آپ بہت جگہ صرف نہ واردہونے نہ منقول ہونے کوحجت ممانعت جانتے ہیں) حق سبحانہ، کانیانام مُصّوب ایجاد فرمایا ہرجواب کی ابتداء ھوالمصوّب(وہی درست راستہ  بتانے والاہے۔ت) سے ہوتی ہے یہ کب احتمال شنیع سے خالی ہے، تصویب جس طرح ٹھیک بتانے کو کہتے ہیں یونہی سرجھکانے کو، اورمثلاً جو سر جھکائے بیٹھاہو اسے مصوّب، اوردونوں معنی حقیقی ہیں تو آپ کے طور پر اسی کلمے میں ایہام تجسیم ہے اورتجسیم کفروضلال عظیم  ہے۔
عاشراً جب مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ، کی طرف اضافت ہدایت کااشتباہ امرممنوع کا اشتباہ اورموجب لزوم  احتراز ہے توبالقصد اس جناب ہدایت مآب کی طرف ضافت ہدایت کس درجہ سخت ممنوع ومعترض الاحتراز ہوگی، یہاں مولٰی علی کوہادی کہنا حرام ہوگیا حالانکہ یہ احادیث صریحہ واجماع جمیع ائمہ اہلسنت وجماعت کے خلاف ہے، شاید یہ عذرکیجئے کہ ہدایت بمعنی خلق کا اشتباہ موجب منع تھا اس معنی پر اضافت قصدیہ ضرور حرام بلکہ ضلال تام ہے، نہ بمعنی تسبب کہ جائز ومعمول اہل اسلام ہے، مگریہ وہی عذرمعمول ہے جس کارَد گزرچکا، کیاجب مولٰی علی کی طرف اضافت کا اصلاً  قصد ہی نہ ہو اس وقت تو بوجہ اشتراک معنی مولٰی علی کی جانب ہدایت بمعنی خلق کی اضافت کا اشتباہ ہوتا ہے اور جب بالقصد خود حضرت مولٰی علی ہی کی طر اضافت مراد ہوتواب وہ اشتراک معنی جاتا رہتا اور اشتباہ راہ نہیں پاتا، اگرمانع اشتباہ مخلوق کااس معنی کے لئے صالح نہ ہوناہے توصورت عدم قصد میں کیوں مانع نہیں، اور اگرباوصف عدم صلوح اشتباہ قائم رہتاہے توصورت قصدمیں کیوں واقع نہیں۔
حادی عشر :  نہ صرف امیرالمومنین علی بلکہ انبیائے کرام ورسل عظام وخود حضورپرنورسیدالانام علیہ وعلیہم  افضل الصلٰوۃ والتسلیم کسی کی طرف اضافت ہدایت اصلاً روانہ رہے گی کہ بوجہ احتمال معنی دوم ایہام شرک ہے، اب مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کوہادی کہنا بھی حرام ہوگیا، اوریہ قرآن عظیم وصحاح احادیث واجماع امت بلکہ ضروریات دین کے خلاف ہے۔

ثانی عشر :  خودجناب مجیب نے اپنے فتاوٰی جلدسوم ۸۶ میں اس لزوم احتراز کارَدِّصریح فرمادیا اورادعائے ایہام کافیصلہ بول دیا۔ فرماتے ہیں :
سوال: عبدالنبی یامانند آں نام نہادن درست است یانہ؟
سوال: عبدالنبی یا اس جیسا نام رکھنادرست ہے یانہیں؟
جواب: اگراعتقاد ایں معنی ست کہ ایں کس کہ عبدالنبی نام دارد بندہ نبی است عین شرک است واگرعبدبمعنی غلام مملوک ست آں ہم خلاف واقع است  واگرمجازاً عبدبمعنی مطیع ومنقاد گرفتہ شود  مضائقہ ندارد لیکن خلاف اولٰی ست، روی مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم قال  لایقولن احدکم عبدی و اَمتی کلکم عباد اﷲ وکل نسائکم  اماء اﷲ ولکن لیقل غلامی وجاریتی وفتائی وفتاتی انتھٰی۱؎۔
جواب: اگریہ اعتقاد ہوکہ عبدالنبی نام والا شخص نبی کابندہ ہے توعین شرک ہے اور عبدبمعنی غلام مملوک مرادہو تو یہ خلاف واقع ہے اوراگرمجازاً عبدبمعنی مطیع لیاہوتومضائقہ نہیں ہے لیکن خلاف اولٰی ہے، امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے اشاد فرمایا : کوئی شخص ہرگزعبدی (میراعبد) اوراَمتی (میری باندی) نہ کہے تم سب مرداﷲتعالٰی کے بندے اور تمہاری تمام عورتیں اﷲ تعالٰی کی باندیاں ہیں، لیکن اگرکہتاہو توغلامی (میراغلام)، جاریتی(میری خادمہ) فتائی (میراغلام)، فتاتی (میری لونڈی) کہے انہتی۔(ت)
 (۱؎ مجموعہ فتاوٰی   کتاب العقیقہ ومایتعلق بہا   وجہ نام عبدالنبی وغیرہ   مطبع یوسفی لکھنؤ  ۳ /۸۴)
اقول : قطع نظر اس سے کہ یہ جواب بھی بوجوہ مخدوش ہے اولاً عبدوبندہ میں سوائے اختلاف زبان کے کوئی فرق نہیں ایک دوسرے کا پورا ترجمہ ہے، عبدہ وبندہ دونوں عربی وعجمی دونوں زبانوں میں الٰہ وخدا ومولٰی وآقا دونوں کے مقابل بولے جاتے ہیں توعبد بمعنی بندہ کومطلقاً عین شرک کہہ دینا ایساہی ہے کہ کوئی کہے کہ عین سے مراد عین ہے توغلط ہے اورچشمہ مقصود ہو توصحیح، 

حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی مثنوی شریف میں حدیث شرائے بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں فرماتے ہیں جب صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے انہیں خریدلیا اوربارگاہ رسالت میں حاضرہوئے حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تم نے ہمیں شریک نہ کیا، اس پرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کیا: ؎
گفت ما دوبندگانِ کوئے  تو         کردمش  آزاد ہم  برروئے تو ۲؎
(عرض کیاکہ ہم دونوں آپ کے کوچہ کے غلام ہیں، میں نے اس کو آپ کے رخ انور پر آزاد کردیا۔ت)
(۲؎ مثنوی المعنوی  معاتبہ کردن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باصدیق اکبر  حامداینڈ کمپنی لاہور دفترششم ص۱۱۷)
Flag Counter