Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
155 - 160
الجواب :  ھوالمصوب لفظ علی کہ ازاسمائے الٰہیہ ست الف لام برآں زائدمیشود برائے تعظیم چنانکہ درالفضل والنعمان وغیرہ برلفظ علی کہ ازاسمائے مرتضٰی ست لام داخل نمی شود بناء ً علیہ ہدایت العلی اولٰی ست ازہدایت علی، چہ دراولٰی اشتباہ اضافت ہدایت بسوئے علی مرتضٰی نیست، ودرصورت ثانیہ بسبب اشتراک لفظ ہدایت  بحسب استعمال واشتراک لفظ ہدایت بحسب استعمال واشتراک لفط علی اشتباہ امر ممنوع موجودودراسامی ازہمچواسم کہ ایہام مضموم غیرمشروع سازداحتراز لازم بہ ہمیں سبب علماء ازتسمیہ بعبدالنبی وغیرہ منع ساختہ اند وامّا درعبداﷲ وغیرہ پس ایہام امرغیرمشروع نیست وہمچنیں دریاعلی ہرگاہ مقصود ندائے  پروردگار باشد نزاعی نیست۔

حررہ ابوالحسنات عبدالحی ۱؎
وہی ٹھیک بتانے والاہے، لفظ علی جوکہ اﷲتعالٰی کے ناموں میں سے ہے اس کے ساتھ برائے تعظیم الف لام زائد ہوگا جیسے الفضل، النعمان وغیرہ اور لفظ علی جوبطور نام سیدناحضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے استعمال ہوتاہے اس کے ساتھ الف لام زائد نہیں ہوتا لہٰذا اس بناء پرنام ہدایت العلی بنسبت ہدایت علی کے زیادہ بہترہے اس ئے کہ اول الذکر میں ہدایت کی نسبت کا حضرت علی مرتضٰی کے ساتھ اشتباہ نہیں  پایاجاتا  اور دوسری صورت میں بوجہ استعمال لفظ ہدایت کے اشتراک کے سبب ایہام (مغالطہ) پیداہوتاہے اور لفظ علی میں اشتراک کی وجہ سے امرممنوع کا اشتباہ موجود ہے، پس اس سے پرہیزضروری ہے، یہ وجہ ہے کہ علمائے کرام عبدالنبی نام رکھنے سے منع کرتے ہیں لیکن عبداﷲ وغیرہ میں ایہام غیرمشروع نہیں، اسی طرح یاعلی میں اگر اﷲ تعالٰی کوندا کرنا مقصودہو تو کوئی نزاع نہیں کوئی اختلاف نہیں۔ ابوالحسنات عبدالحی نے اسے تحریرکیا۔(ت)
 (۱؎ مجموعہ فتاوٰی     کتاب الحظروالاباحۃ     مطبع یوسفی لکھنؤ    ۲/۴۱ و ۴۲)
اقول : (میں کہتاہوں۔ت) مگریہ جواب سخت عجب عجاب ہے
یتساوٰی ھزلا بل یساوی ھزلا
 (جواب مذکورخوش طبعی کے برابرہے بلکہ ہنسی مذاق کے مساوی ہے۔ت) اولاً اس تمام کلام مختل النظام کامبنی ہی سرے سے پادر ہوا ہے ممنوع ایہام ہے نہ کہ مجرد احتمالی
ولوضعیفابعیدا
 (اگرچہ ضعیف اوربعیدہو۔ت) ایہام واحتمال میں زمین وآسمان کافرق ہے، ایہام میں تبادر درکا ہے ذہن اس معنی ممنوع کی طرف سبقت کرے، نہ یہ کہ شکوک محتملہ عقلیہ میں کوئی شق معنی ممنوع کی بھی نکل سکے۔
تلخیص میں ہے :
الایھام ان یطلق لفظ لہ معنیان قریب وبعید ویراد بہ البعید ۱؎۔
ایہام یہ ہے کہ ایسالفظ بولاجائے جودومعانی رکھتاہوایک معنی قریب اوردوسرامعنی بعیدہو اور اس لفظ کوبول کرمعنی بعید مراد لیا جائے۔(ت)
 (۱؎ تلخیص المتاح     الفن الثالث    مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی     ص۱۰۵ و ۱۰۶)
علامہ سیدشریف قدسی سرہ الشریف کتاب التعریفات میں فرماتے ہیں :
الایھام ویقال لہ التخییل ایضا وھو ان یذکر لفظ لہ معنیان قریب وغریب فاذا سمعہ الانسان سبق الٰی فھمہ القریب  و مراد المتکلم الغریب  واکثر المتشابھات من ھذا الجنس ومنہ قولہ تعالٰی  : والسمٰوٰت مطویات بیمینہ۲؎۔
ایہام تخییل بھی کہلاتاہے مرادیہ ہے کہ ایسا لفظ ذکرکیاجائے کہ اس کے دومعنی ہوں ایک قریب اوردوراغریب، جب کوئی بندہ اسے سنے تو اس کافہم معنی قریب کی طرف لپکے (یعنی وہی متبادر الی الفہم ہو) لیکن متکلم کی مراد معنی غریب ہو۔ زیادہ تر متشابہات اسی قسم سے ہوتے ہیں، اوراﷲ تعالٰی کا ارشادکہ ''اس دن سب آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں طومار کی طرح لپٹے ہوں گے'' اسی قسم سے ہے۔(ت)
 (۲؎ التعریفات لسیّد شریف علی الجرجانی     باب الالف     انتشارات ناصر خسروطہران ایران ص۱۸)
مجرد احتمال اگرموجب منع ہو تو  عالم میں کم کوئی کلام منع وطعن سے خالی رہے گا، زیدآیا گیا اٹھا بیٹھا، عمرو  نے کھایا پیاکہاسنا، مجیب صاحب نے سوال دیکھاجواب لکھا وغیرہ  وغیرہ سب افعال اختیاریہ کی اسناد  دو معنی کومحتمل۔ ایک یہ کہ زید وعمرو مجیب نے اپنی قدرت ذاتیہ مستقلہ تامہ سے یہ افعال کئے، دوسرے قدرت عطائیہ ناقصہ قاصرہ سے اول قطعاً شرک ہے لہٰذا  ان اطلاقات  سے احتراز لازم ہوجائے گا اور یہ بداہۃً قطعاً اجماعاً باطل ہے۔ فاضل مجیب نے بھی عمربھر  اپنے محاورات روزانہ  میں ایسے ایہامات شرک برتے اور ان کی تصانیف میں ہزار درہزار ایسے شرک بالایہام بھرے ہوں گے، جانے دیجئے نماز میں وتعالٰی جدّک  توشایدآپ بھی پڑھتے ہوں "جد" کے دوسرے مشہور ومعروف بلکہ مشہور تر معنی یہاں کیسے صریح شدید  کفرہیں، عجیب کہ اتنے  بڑے کفرکا ایہام جان کر اسے حرام نہ مانا توبات وہی ہے کہ ایہام میں تبادر وسبقت واقربیت درکارہے اور وہی ممنوع ہے نہ کہ مجرد احتمال، یہ فائدہ واجب الحفظ ہے کہ آج کل بہت جُہلا  ایہام احتمال میں فرق نہ کرکے ورطہ غلط میں پڑتے ہیں۔
ثانیاً ایسی ہی نکتہ تراشیاں ہیں تو صرف ہدایت علی پرکیوں الزام رکھئے مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کے نام پاک علی کو اس سے سخت ترشنیع کہئے وہاں توچار احتمالوں سے ایک میں آپ کو شرک نظرآیا تھا، یہاں برابر کامعاملہ نصفانصف کاحصہ ہے۔ علی کے دومعنی ہیں علو ذاتی کہ بالذات للذات متعالی عن الاضافات ہو(بلندی بالذات یعنی ذاتی بلندی بغیر کسی سبب اور واسطہ کے صرف اس ہستی پاک ہی کے لئے ہے جو تمام اضافتوں اورنسبتوں سے مبرا اوربلند ہے۔ت) دوسرا اضافی کہ خلق کے لئے ہے اول کااثبات قطعاً شرک تو علی میں ایہام شرک ہدایت علی سے دوناٹھہرے گا
ولایقول بہ جاھل فضلا عن فاضل
 (کوئی جاہل بھی یہ نہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ کوئی فاضل یہ کہے۔ت)
ثالثاً ایک علی ہی کیا جس قدر اسمائے مشترکہ
فی اللفظ میں الخالق والمخلوق
ہیں، جیسے رشید وحمیدوجمیل وجلیل وکریم وعلیم وحلیم ورحیم وغیرہا سب کا اطلاق عباد پر ویساہی ایہام شرک ہوگا جوہدایت علی کے ایہام سے دوچند  رہے گا، حالانکہ خود حضرت عزت نے انبیائے کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام میں کسی کو ایک کسی کو دونام اپنے اسمائے حسنٰی سے عطا فرمایا اور حضور پرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے اسمائے طیبہ میں توساٹھ سے زیادہ آئے
کمافصلہ العلماء فی المواھب۱؎ وغیرھا
 (جیساکہ علماء کرام نے مواہب لدنیہ وغیرہ میں مفصل بیان دیاہے۔ت)
(۱؎ المواہب اللدنیۃ     المقصدالثانی         الفصل اول     المکتب الاسلامی بیروت     ۲ /۱۵ تا ۲۱)
خودحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنا نا م پاک حاشر بتایا، صحابہ کرام وتابعین وائمہ دین میں کتنے اکابرکانام مالک تھا ان کے ایہام کوکہئے، درمختار وغیرہ معتمدات میں تصریح کی کہ ایسے نام جائزہیں اورعباد کے حق میں دوسرے معنی مراد لئے جائیں گے نہ وہ جو حضرت حق کے لئے ہیں۔
جاز التسمیۃ بعلی ورشید وغیرھما من الاسماء المشترکۃ ویراد فی حقنا غیرما یراد فی حق اﷲ تعالٰی۔۱؎
علی، رشید اور ان کے علاوہ دیگراسماء مشترکہ کے ساتھ کسی کا نام رکھناجائز ہے لہٰذا ہمارے حق میں وہ معنٰی مراد لیاجائے گا جواﷲ تعالٰی کے حق میں مراد نہیں لیاجاتا۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار   کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع         مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۲۵۲)
کیوں نہیں کہتے کہ ایسے نام بوجہ اشتراک ناجائزہیں کہ دوسرے معنی شرک کااحتمال باقی ہے،
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم
 ( گناہوں سے محفوظ رہنے اورنیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں سوائے اﷲ تعالٰی بزرگ  وعظیم ذات کی توفیق کے۔ت)
رابعاً سائل نے اپنی جہالت سے صرف عبداﷲ میں شرک سے سوال کیاتھا حضرت مجیب نے اپنی نبالت سے وغیرہ بھی بڑھا دیا کہ اپنے نام نامی کو ایہام  شرک سے بچالیں مگرجناب کی دلیل سلامت ہے تو اس ایہام سے  سلامت بخیر ہے۔ عبدالحی میں دوجزوہیں اوردونوں کے دودومعنی، ایک عبدمقابل الٰہ، دوم مقابل آقا۔
قال اﷲ تعالٰی وانکحوا الایامٰی منکم والصّٰلحین من عبادکم وامائکم۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : لوگو! تم میں سے جونکاح کے بغیر(یعنی غیرشادی شدہ) ہیں اورجوتمہارے صالح غلام اورلونڈیاں ہیں ان کے ساتھ نکاح کردو(ت)
 (۲؎القرآن الکریم     ۲۴/ ۳۲)
دیکھو حق سبحانہ، نے ہمارے غلاموں کو ہمارا عبدفرمایا،یوں ہی ایک حی اسم الٰہی کہ حیات ذاتیہ، ازلیہ، ابدیہ، واجبہ سے مشعر، اوردوسرا من  وتُو، زید وعمروسب پر صادق، جس سے آیت کریمہ
تخرجہ الحی من المیت۳؎
 (اے اﷲ تعالٰی! تو مردے سے زندہ نکالتاہے۔ت) وغیرہا مظہر،
 (۳؎القرآن الکریم      ۳ /۲۷)
اب اگر عبد بمعنی اول اورحی بمعنی  دوم لیجئے قطعاً شرک ہے  وہی چار صورتیں ہیں اور  وہی ایک صورت پرشرک موجود، پھرعبدالحی  ایہام شرک سے کیونکر محفوظ، اس سے بھی احتراز لازم تھا، بعینہ یہی تقریرحضرت بابرکت فاضل کامل صحیح لعقیدہ سنی مستقیم جناب مستطاب مولانا مولوی عبدالحلیم رحمۃ اﷲ علیہ کے اسم میں جاری ہوگی ملاحظہ ہو کہ یہ تشقیق وتدقیق کہاں تک پہنچی
نسأل اﷲ سلامۃ
 (ہم اﷲ تعالٰی سے سلامتی کاسوال کرتے ہیں۔ت) فقیرکے نزدیک ظاہراً یہ پھڑکتی ہوئی برہان حضرت مجیب کوجناب سائل کے فیض سے پہنچی،سائل نے ذکرکی، مجیب نے بے غور کئے قبول کرلی ورنہ ان کاذہن شاید ایسی دلیل ذلیل علیل کلیل کی طرف ہرگزنہ  جاتا جس سے خود ان کانام نامی بھی عادم الجواز  ولازم الاحتراز قرارپاتا۔
Flag Counter