Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
154 - 160
سیدنا امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :
ماکان فی اھل بیت اسم محمدا  لاکثرت برکتہ۴؎۔ ذکرہ المناوی فی شرح التیسیر تحت الحدیث العاشر  والزرقانی فی شرح المواھب۔
جس گھروالوں میں کوئی محمدنام کاہوتا ہے اس گھر کی برکت زیادہ ہوتی ہے(دسویں حدیث کے ذیل میں علامہ مناوی نے اس کو شرح تیسیر میں ذکرفرمایا اور اسی طرح علامہ زرقانی نے شرح مواہب للدنیہ میں ذکرکیاہے۔ت)
 (۴؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر    تحت حدیث ماضراحدکم الخ    مکتبۃ الامام الشافعی ریاض     ۲ /۳۵۲)
بہتریہ ہے کہ صرف محمد یا احمدنام رکھے اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا انہیں اسمائے مبارکہ کے وارد ہوئے ہیں۔
غلام علی، غلام حسین، غلام غوث، غلام جیلانی اور ان کے امثال تمام نام جن میں اسمائے محبان خدا کی طرف اضافت لفظ غلام ہوں سب کاجواز بھی قطعاً بدیہی ہے۔ فقیرغفراﷲ تعالٰی لہ، نے اپنے فتاوٰی میں ان ناموں پرایک فتوٰی قدرے مفصل لکھا اورقرآن وحدیث اورخودپیشوایان وہابیہ کے اقوال سے ان کاجوازثابت کیا،
اﷲ عزوجل فرماتاہے :
ویطوف علیھم غلمان لھم کانھم لؤلؤمکنون ۱؎۔
ان کے غلام گشت کرتے ہوں گے گویا وہ موتی ہیں محفوظ رکھے ہوئے۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۵۲ /۲۴)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لایقولن احدکم عبدی کلکم عبیداﷲ ولکن لیقل غلامی۲؎، ھذا مختصر۔ رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ہرگز تم میں اب کوئی اپنے مملوک کویوں نہ کہے کہ میرابندہ تم سب خدا کے بندہ ہو ہاں یوں کہے کہ میراغلام۔(اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ صحیح مسلم   کتاب الالفاظ من الادب     باب حکم اطلاق لفظۃ العبد الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۸)
وہابیہ کے شرک ہمیشہ ایسے ہی ہوتے ہیں کہ خود قرآن وحدیث میں بھرے ہوتے ہیں خداورسول تک ان شرک دوستوں کے حکم شرک سے محفوظ نہیں
والعیاذباﷲ رب العالمین
 (خدا کی پناہ جو تمام جہانوں کاپرورد گار ہے۔ت)

مزہ یہ ہے کہ لفظ غلام کی اسمائے الٰہیہ جل وعلا کی طرف اضافت خود ممنوع ہے اﷲ کاغلام نہ کہاجائے گا، غلام کے معنی حقیقی پسر ہیں، ولہٰذا عبید کوشفقۃً عربی میں غلام  اردو میں چھوکراکہتے ہیں،
سیدی علامہ عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں زیرحدیث فرماتے ہیں :
ولٰکن لیقل غلامی وجاریتی وفتائی وفتاتی مراعاۃ لجانب الادب فی حق اﷲ تعالٰی لانہ یقال عبداﷲ وامۃ اﷲ ولایقال غلام اﷲ وجاریۃ اﷲ ولافتی اﷲ ولافتاۃ اﷲ ۱؎۱ھ باختصار۔
مگروہ یوں کہے میراغلام، میری باندی، میراجوان،میری لونڈی۔ اﷲ تعالٰی کے معاملہ میں تقاضائے ادب کوملحوظ رکھاجائے کیونکہ اس کی نسبت سے یوں کہاجاتا ہے۔ اﷲ تعالٰی کابندہ، اﷲ کی بندی، اوریہ نہیں کہاجاتا کہ  اﷲ تعالی کاغلام یااﷲ تعالٰی کی لونڈی اور فتٰی اور فتاۃ(جوان مرد، جوان عورت) کوبھی اﷲ تعالٰی کے نام کے ساتھ منسوب نہیں کیاجاتا۱ھ باختصار(ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ    النوع الثالث والعشرون   الخطاء ضدالصواب  المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد    ۲ /۲۷۹)
سبحان اﷲ! یہ عجیب شرک ہے جوخود حضرت عزت کے لئے روانہیں بلکہ اس کے غیرہی کے لئے خاص ہے مگر ہے یہ کہ وہابیہ کے دین فاسد میں محبوبان خداکانام ذرا اعزاز  وتکریم کی نگاہ سے آیا اور شرک نے منہ پھیلایا، پھرچاہے وہ بات خدا کے لئے خاص ہونا درکناخدا کے لئے جائزبلکہ متصور ہی نہ ہو، آخر نہ دیکھا کہ ان کے پیشوانے تقویۃ الایمان میں قبرپرشامیانہ کھڑاکرنا مورچھل جھلنا شرک بتادیا، اور اسے صاف صاف ان باتوں میں جوخدانے اپنی تعظیم کے لئے خاص کی ہیں گنادیا یعنی اس کے معبود نے کہہ دیا ہے کہ میری ہی قبرپرشامیانہ کھڑاکرنا میری ہی تربت کومورچھل جھلنا
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم
 (اﷲ تعالٰی بزرگ وبرترشان والے  کی توفیق کے بغیرگناہوں سے بچنے اورنیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں۔ت)آخرنہ سناکہ ان کے طائفہ غیرمقلدان کے اب نئے پیشوا صدیق حسن خاں قنوجی بھوپالی آنجہانی اپنے رسالہ کلمۃ الحق میں لکھ گئے ع
چوغلام  آفتابم  از آفتاب گویم ۲؎
 (جب میں سورج کاغلام ہوں توپھرسب کچھ سورج ہی کے حوالہ سے کہوں گا۔ت)
 (۲؎ رسالہ کلمۃ الحق لصدیق حسن خاں )
خداکی شان غلام محمد، غلام علی، غلام حسین، غلام غوث  تو معاذاﷲ شرک وحرام اورغلام آفتاب ہونایوں جائز وبے ملام، حالانکہ ترجمہ کیجئے توجیسا فارسی میں غلام آفتاب ویساہی عربی میں مشرکین عرب کا نام عبدشمس، ہندی میں کفار کانام سورج داس، زبانیں مختلف ہیں اورحاصل ایک،
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم
 (گناہوں سے بچنے اورنیکی کرنے کی طاقت سوائے اﷲ تعالٰی بزرگ وبرتر بڑی شان والے کی توفیق کے کسی میں نہیں۔ت) ہدایت علی کاجواز بھی ویساہی ظاہر وباہر جس میں اصلاً عدم جواز کی بونہیں، وہابیہ خذلہم اﷲ تعالٰی کے محبوبان خداکے نام سے جلتے ہیں آج تک ان کے کبراء نے بھی اس میں کلام نہ کیا البتہ مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی کے مجموعہ فتاوٰی جلداول طبع اول صفحہ ۲۶۴ میں اس نام  پر اعتراض دیکھاگیا اول کلام میں توصرف خلاف اولٰی ٹھہرایاتھا آخرمیں ناجائزوگناہ قراردے دیاحالانکہ یہ محض غلط ہے۔ اس کاخلاصہ عبارت یہ ہے :
استفتاء

کسے نام خودہدایت علی می داشت بایہام اسمائے شرکیہ تبدیل نمودہ ہدایت العلی نہاد شخصے برآں معترض شد کہ لفظ ہدایت مشترک ست بین میین اراء ۃ الطریق وایصال الی المطلوب و ہکذا لفظ علی بغیرالف ولام مشترک است بین اسمائے الٰہیہ وحضرت علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ۔ مجیب گفت دریں صورت تائید اثبات مدعائے من ست چہ ہرگاہ لفظ ہدایت وعلی مشترک شدبین معنیین پس چہاراحتمال مے شوند یکے ازاں ازہدایت معنی اول وازعلی اﷲ عزوجل شانہ،، دوم ازہدایت معنی ثانی زعلی جل جلالہ، سوم ازہدایت معنی اول وازعلی حضرت علی کرم اﷲ وجہہ، چہارم ازہدایت معنی ثانی وازعلی حضرت علی  پس سہ احتمال اول خالی ازممانعت شرعیہ ہستند البتہ رابع خالی ازممنوعیت نیست چہ درجملہ اسمائے شرکیہ مفہوم مے شود پس ہراسم کہ دائر شودبین اسمائے شرکیہ وعدمہ احتراز ازاں لابدی ست بلکہ واجب  واگرکسے براسم متنازع فیہ قیاس نمودہ برعبداﷲ شرک ثا بت کند یا یاعلی گفتن ممانعت نماید آیا قیاس اوصحیح ست یانہ؟ بیّنواتوجروا۔
ایک شخص کانام ہدایت علی تھا اس نے اسے شرکیہ نام خیال کرتے ہوئے اسے ہدایت العلی سے بدل دیا پھر اس پریہ اعتراض کیاگیا کہ لفظ "ہدایت" اِراء ۃالطریق (راستہ دکھانا) اورایصال الی المطلوب (مطلوب ومقصود تک پہنچادینا ہے) ان دومعنوں میں مشترک ہے اسی طرح لفظ "علی"  بغیر الف لام اسمائے الٰہیہ سے بھی ہے اور حضرت سیدنا علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کانام بھی ہے یعنی خالق ومخلوق دونوں میں مشترک ہے۔ جواب دینے والے نے کہاکہ اس صورت میں میری سوچ کی تائید پائی جاتی ہے وہ اس طرح کہ جب لفظ ہدایت اورعلی دومعنوں میں مشترک ہوا تو چاراحتمال پیداہوگئے، (۱) ہدایت سے  پہلامعنی اورعلی سے اﷲ تعالٰی کی ذات مراد ہو۔ (۲) ہدایت سے دوسرا معنی اورعلی سے اﷲ تعالٰی مراد ہو(۳) ہدایت سے پہلامعنی اورعلی سے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ مراد ہوں(۴) ہدایت سے دوسرامعنی اور علی سے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ مراد ہوں۔ پس تین اول الذکر احتمال شرعی ممانعت نہیں رکھتے، البتہ چوتھے احتمال میں ممانعت کا پہلو موجود ہے، پس تمام اسماء شرکیہ س یہی مفہوم ظاہرہوتا ہے لہٰذا جونام اسماء شرکیہ وغیرشرکیہ مشترکہ وغیرمشترکہ میں دائرہوتا ہو اس سے پرہیز لازمی اور واجب ہے، اگرکوئی شخص اسم مختلف فیہ پر قیاس کرتے ہوئے یاعلی کہنے کی ممانعت کرے تو اس کاقیاس درست متصورہوگا یا نہ؟ بیان فرماؤتاکہ اجروثواب پاؤ۔
Flag Counter