Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
153 - 160
 رب عزوجل فرمائے گا :
ادخلا الجنۃ فانی اٰلیت علی نفسی ان لایدخل النار من اسمہ احمد ومحمد۲؎۔
جنت میں جاؤ میں نے حلف فرمایا ہے کہ جس کانام احمد یا محمد ہودوزخ میں نہ جائے گا۔
 (۲؎ الفردوس بمأثور الخطاب    حدیث ۸۸۳۷    دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۵ /۴۸۵)
یعنی جبکہ مومن ہو ارمومن عرف قرآن وحدیث وصحابہ میں اسی کوکہتے ہیں جوسنی صحیح العقیدہ ہو،
کما نص علیہ الائمۃ فی التوضیح وغیرہ
 (جیساکہ توضیح وغیرہ میں ائمہ کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ت) ورنہ بدمذہبوں کے لئے توحدیثیں یہ ارشاد فرماتی ہیں کہ وہ جہنم کے کتے ہیں ان کاکوئی عمل قبول نہیں، بد مذہب اگرچہ حجراسود ومقام ابراہیم کے درمیان مظلوم قتل کیاجائے اوراپنے اس مارے جانے پر صابر وطالب ثواب  رہے جب بھی اﷲ عزوجل اس کی کسی بات پر نظرنہ فرمائے اوراسے جہنّم میں ڈالے۔ یہ حدیثیں دارقطنی وابن ماجہ وبیہقی ۳؎ وابن الجوزی وغیرہم نے حضرت ابوامامہ وحذیفہ وانس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیں،
 (۳؎ کنزالعمال     بحوالہ قط فی الافراد     حدیث ۱۱۲۵    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱ /۲۲۳)

(العلل المتناہیۃ     باب ذم الخوارج     حدیث ۲۶۱ و ۲۶۲ دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور     ۱ /۱۶۳)
اور فقیر نے اپنے فتاوٰی میں متعدد جگہ لکھیں تو محمدعبدالوہاب نجدی وغیرہ گمراہوں کے لئے ان حدیثوں میں اصلاً بشارت نہیں، نہ کہ سیداحمدخان کی طرح کفار جن کامسلک کفرقطعی کہ کافرپر توجنت کی ہوا تک یقینا حرام ہے۔
حدیث (۶) ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں حضرت نبیط بن شریط رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں :
قال اﷲ تعالٰی عزوجل وعزتی وجلالی لااعذب احدا تسمی باسمک بالنار یامحمد۱؎
رب عزوجل نے مجھ سے فرمایا اپنی عزت وجلال کی قسم جس کانام تمہارے نام پرہوگا اسے دوزخ کاعذاب نہ دوں گا۔
 (۱؎ تذکرۃ الموضوعات لمحمدطاہر الفتنی     باب فضل اسمہ واسم الانبیاء     کتب خانہ مجیدیہ ملتان     ص۸۹)
حدیث (۷) حافظ ابن بکیر امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں ، حدیث (۸) دیلمی مسندالفردوس میں موقوفاً راوی کہ مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں ، حدیث (۹) ابن عدی کامل اور ابوسعد نقاش بسندصحیح  اپنے معجم شیوخ میں راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں :
ما اطعم طعام علی مائدۃ ولاجلس علیھا وفیھا اسمی الا قُدِّ سُوا کل یوم مرتین۲؎۔
جس دسترخوان پرلوگ بیٹھ کرکھاناکھائیں اوران میں کوئی محمد یااحمدنام کاہو وہ لوگ ہر روز دوبارمقدس کئے جائیں۔
 (۲؎ الکامل لابن عدی     ترجمہ احمدبن کنانہ شامی     دارالفکربیروت     ۱ /۱۷۲)
حاصل یہ جس گھر میں ان پاک ناموں کاکوئی شخص ہو دن میں دوبار ا مکان میں رحمت الٰہی کانزول ہو۔ لہٰذا حدیث امیرالمؤمنین کے لفظ یہ ہیں :
مامن مائدۃ وضعت فحضر علیھا من اسمہ احمد ومحمد الا قدس اﷲ  ذٰلک المنزل کل یوم  مرتین۳؎۔
کوئی دسترخوان بچھایانہیں گیا کہ اس پر ایسا شخص تشریف لائے جس کانام احمد اور محمدہو (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم) تو اﷲ تعالٰی ہرروز دوبار  اس گھرکو تقدس بخشتا ہے یعنی مقدس کرتاہے (اورہر روز دوبار وہاں اس کی رحمتوں کانزول ہوتاہے۔مترجم)۔(ت)
 (۳؎ الفردوس بمأثور الخطاب     عن علی ابن ابی طالب     حدیث ۶۱۳۷    دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۴۳،۴۴)
حدیث (۱۰) ابن سعد طبقات میں عثمان عمری مرسلاً راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ماضر احدکم لوکان فی بیتہ محمد  و محمدان  و ثلٰثۃ ۱؎۔
تم میں کسی کاکیانقصان ہے اگر اس کے گھر میں ایک محمدیادومحمدیاتین محمدہوں۔
 (۱؎ کنزالعمال     بحوالہ ابن سعد عن عثمان العمری مرسلاً    حدیث ۴۵۲۰۵    مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۴۱۹)
ولہٰذا فقیرغفراﷲ تعالٰی نے اپنے سب بیٹوں بھتیجوں کاعقیقے میں صرف محمدنام رکھا پھرنام اقدس کے حفظ  آداب اور باہم تمیز کے لئے عرف جدامقرر کئے بحمداﷲ تعالٰی فقیرکے پانچ  محمد اب موجود ہیں
سلمھم اﷲ تعالٰی وعافاھم  والٰی مدارج الکمال رقاھم
 (اﷲ تعالٰی ان سب کو سلامت رکھے اور عافیت بخشے اورانہیں مدارج کمال تک پہنچائے۔ت) اور پانچ سے زائد اپنی رہ گئے
جعلھم اﷲ لنااجرا  وذخرا  وفرطا برحمتہ وبعزۃ اسم محمد عندہ  اٰمین
 (اﷲ تعالٰی اپنی رحمت کے صدقے اوراسم محمد کی اس عزت وتوقیر کے صدقے جو اس کی بارگاہ میں ہے ہمارے لئے اپنی رحمت اور ان کی ذات کوذریعہ اجر، ذخیرہ اورپیشرو بنادے،آمین۔ت)
حدیث (۱۱) ظرائفی وابن الجوزی امیرالمومنین مرتضٰی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الاسنی سے  راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ما اجتمع قوم قط فی مشورۃ وفیھم رجل اسمہ محمد لم یدخلوہ فی مشورتھم الا لم یبارک لھم فیہ۲؎۔
جب کوئی قوم کسی مشورے کے لئے جمع ہو اور ان میں کوئی شخص محمدنام کاہو اور اسے اپنے مشورے میں شریک نہ کریں ان کے لئے مشورے میں برکت نہ رکھی جائے۔
(۲؎ العلل المتناہیۃ     باب فضل اسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم     حدیث ۲۶۷     دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور  ۱ /۱۶۸)
حدیث (۱۲) طبرانی کبیر میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں :
من ولد لہ ثلٰثۃ فلم یسم احدھم محمدا فقد جھل۳؎۔
جس کے تین بیٹے پیداہوں اور وہ ان میں کسی کانام محمد نہ رکھے ضرورجاہل ہے ۔
 (۳؎ المعجم الکبیر   حدیث ۱۱۰۷۷   المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت   ۱۱ /۷۱)
حدیث (۱۳) حاکم وخطیب تاریخ اوردیلمی مسندمیں امیرالمومنین مولٰی علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا سمّیتم الولدمحمدا فاکرمواہ واوسعوا لہ فی المجلس والاتقبحوا لہ وجھا۱؎۔
جب لڑکے کانام محمدرکھو تو اس کی عزت کرو اور مجلس میں اس کے لئے جگہ کشادہ، اور اسے برائی کی طرف نسبت نہ کرو اس پربرائی کی دعا نہ کرو۔
 (۱؎ تاریخ بغداد     ترجمہ محمدبن اسمٰعیل العلوی     ۱۰۸۲    دارلکتاب العربی بیروت    ۳ /۹۱)
حدیث (۱۴) بزارمسندمیں حضرت ابورافع رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا سمیتم محمدا فلاتضربوہ ولاتحرموہ۲؎۔
جب لڑکے کانا محمدرکھو تو اسے نہ مارو نہ محروم رکھو۔
 (۲؎ کشف الاستار عن زوائد البزار    باب کرامۃ اسم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۱۹۸۸ بیروت ۲ /۴۱۳)
حدیث (۱۵) فتاوٰی امام شمس الدین سخاوی میں ہے ابوشعیب حرانی نے امام عطا (تابعی جلیل الشان استاذ  امام الائمہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما) سے روایت کی :
من اراد ان یکون حمل زوجتہ ذَکرا فلیضع یدہ علی بطنھا ولیقل ان کان ذکرا فقد سمیتہ محمدا فانہ یکون ذَکرا۳؎۔
جوچاہے کہ اس کی عورت کے حمل میں لڑکاہو اسے چاہئے اپناہاتھ عورت کے پیٹ پر رکھ کرکہے : اگر لڑکاہے تومیں نے اس کانام محمدرکھا۔ ان شاء اﷲ العزیزلڑکاہی ہوگا۔
 (۳؎ فتاوٰی امام شمس الدین سخاوی )
Flag Counter