یؤخذ من قولہ ولابمافیہ تزکیۃ المنع عن نحو محی الدین وشمس الدین مع مافیہ من الکذب والف بعض المالکیۃ فی المنع منہ مؤلفا وصرح بہ القرطبی فی شرح الاسماء الحسنی وانشد بعضھم فقال ؎
اری الدین لیستحیی من اﷲ ان یری وھذا لہ فخر وذاک نصیر
فقد کثرت فی الدین القاب عصبۃ ھم مافی مراعی المنکرات حمیر
وانی اجل الدین عن عزہ بھم واعلم ان الذنب فیہ کبیر
ونقل عن الامام النووی انہ کان یکرہ من یلقبہ بمحی الدین ویقول لا اجعل من دعانی بہ فی حل ومال الٰی ذٰلک العارف باﷲ تعالٰی الشیخ سنان فی کتابہ تبیین المحارم واقام الطامۃ الکبرٰی علی المتسمین بمثل ذٰلک وانہ من التزکیۃ المنھی عنہا فی القراٰن ومن الکذب قال ونظیرہ مایقال للمدرسین بالترکی اٰفندی وسلطانم ونحوہ ثم قال فان قیل ھذہ مجازات صارت کالاعلام فخرجت عن التزکیۃ فالجواب ان ھذا یردہ مایشاھد من انہ اذا نودی باسمہ العلم وجد علی من ناداہ بہ فعلم ان التزکیۃ باقیۃ ۱؎ الخ۔
مصنف کے قول "لابمافیہ تزکیۃ" سے معلوم ہوتاہے ممانعت مثل محی الدین وشمس الدین نام رکھنے میں ہے، علاوہ اس کے اس میں جھوٹ بھی ہے، اور بعض مالکی علماء نے ایسے ناموں کے ممنوع ہونے میں ایک کتاب لکھی ہے، اورقرطبی نے اس کی تصریح شرح اسماء حسنٰی میں کی ہے،اور بعض نے اس بارہ میں کچھ اشعار لکھے ہیں، پس کہاہے :
میں دیکھتاہوں دین کو حیاکرتاہے اﷲ تعالٰی سے جو دکھایاجائے حالانکہ یہ اس کے لئے فخر ہے اور یہ اس کے لیے نصیر یعنی مددگار ہے، تحقیق بہت ہوئے دین میں القاب اس کے مددگاروں کے۔ یہ وہ لوگ ہیں جوبرائیوں کی رعایت میں گدھے ہیں او ر تحقیق دین کی موت ان جیسے لوگوں نے ساتھ اس کی عزت میں کی ہے او رجان لے کہ اس میں ان کابڑاگناہ ہے۔
اورامام نووی سے نقل کیاہےکہ وہ محی الدین کے ساتھ اپنے ملقب ہونے کوناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے جو شخص مجھے اس لقب سے پکارے گا میں اسے معاف نہیں کروں گا، اور اس کی طرف مائل ہوئے شیخ سنان عارف باﷲ اپنی کتاب تبیین المحارم میں، اور اس طرح کے نام رکھنے والوں کے خلاف حجت قاہرہ قائم کی اور فرمایا کہ تحقیق یہ وہ تزکیہ ہے جس سے قرآن مجید میں منع کیاگیا ہے اور جھوٹ سے ہے، اور کہا مثل اس کے وہ جوکہاجاتاہے واسطے مدرسین کے ترکی میں آفندی وسلطانم، اور اس کی مثل پھرکہا ہے پس اگرکہاجائے یہ مجازات ہیں جوناموں کی طرح ہوگئے ہیں پس تزکیہ سے نکل گئے توجواب یہ ہے کہ ہمارامشاہدہ اس بات کو رَد کرتاہے کیونکہ اگر ان اشخاص کو ان کے اسماء اعلام سے پکاراجائے تو پکارنے والے پر لوگ غصہ کریں گے، پس معلوم ہواکہ تزکیہ کے لئے باقی ہے الخ(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۶۹۔۲۶۸)
سترہ نام کہ سائل پوچھے ان میں سے یہ دس ناجائزوممنوع ہیں باقی سات میں حرج نہیں، علی جان، محمدجان کاجوازتوظاہر کہ اصلی نام علی ومحمدہے اورجان بنظرمحبت زیادہ، اورحدیث سے ثابت کہ محبوبان خداانبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کے اسمائے طیبہ پرنام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انبیاء کے ناموں پرنام رکھو (امام بخاری نے ادب المفرد میں، امام ابوداؤداورنسائی نے ابو وہب جشمی کے حوالے سے اسے روایت کیااور اس کے لئے تتمہ ہے، نیزامام بخاری نے تاریخ میں سَمُّوا کے لفظ سے حضرت عبداﷲ بن جراد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی سنت کے ساتھ اسے روایت کیا اور اس کے لئے دوسراتتمہ ہے۔(ت)
(۲؎ ادب المفرد باب احب الاسماء الی اﷲ عزوجل حدیث ۸۱۳ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ص۲۱۱)
(ابوداؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسماء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۰)
(سنن النسائی کتاب الخیل باب مایستحب من شیۃ الخیل نورمحمدکتب خانہ کراچی ۲ /۱۲۲)
(۱؎ التاریخ الکبیر للبخاری باب العین عبداﷲ بن جراد حدیث ۶۳ دارالباز مکۃ المکرمۃ ۵ /۳۵)
اورمحمدواحمد ناموں کے فضائل میں تواحادیث کثیرہ عظیمہ جلیلہ وارد ہیں : حدیث (۱) صحیحین ومسنداحمد وجامع ترمذی وسنن ابن ماجہ میں حضرت انس (۲) صحیحین وابن ماجہ میں حضرت جابر(۳) معجم کبیرطبرانی میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
سمّوا باسمی ولاتکنوا بکنیتی۲؎۔
میرے نام پرنام رکھو اورمیری کنیت نہ رکھو۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الادب باب من سمّٰی باسماء الانبیاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۵)
(صحیح مسلم کتاب الادب باب النہی عن التکنی بابی القاسم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۶)
(جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی کراھیۃ الجمع الخ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷)
(سنن ابن ماجہ ابواب الادب باب الجمع بین اسم النبی وکنیۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۷۳)
(مسنداحمدبن حنبل عن انس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۷۰)
(المعجم الکبیر حدیث ۱۲۵۱۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ /۷۳)
(کنزالعمال بحوالہ طب عن ابن عباس حدیث ۴۵۲۱۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۴۲۱)
حدیث (۴) ابن عساکر وحافظ حسین بن احمد عبداﷲ بن بکیر حضرت ابوامامہ رضی اﷲ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں :
من ولد لہ مولود فسماہ محمدا حبا لی وتبرکاً باسمی کان ھو ومولودہ فی الجنۃ۳؎۔
جس کے لڑکاپیداہوا اور وہ میری محبت اورمیرے نام پاک سے تبرک کے لئے اس کانام محمدرکھے وہ اور اس کالڑکا دونوں بہشت میں جائیں۔
ان کے شامی شاگرد نے اس میں نزاع کیاکہ جس کو علامہ زرقانی نے رَد کیاتھا لہٰذا اس کی طرف رجوع کریں۔(ت)
حدیث (۵) حافظ ابوطاہر سلفی وحافظ ابن بکیر حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ ٖ وسلم فرماتے ہیں : روزقیامت دو شخص حضرت عزت کے حضور کھڑے کئے جائیں گے حکم ہوگا انہیں جنت میں لے جاؤ، عرض کریں گے : الٰہی ! ہم کس عمل پرجنت کے قابل ہوئے ہم نے تو کوئی کام جنت کانہ کیا۔