Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
151 - 160
علامہ شہاب الدین احمدخفاجی حنفی مصری نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں :
وھو کلام نفیس۲؎
 (یہ ایک نفیس اورشاندارکلام ہے۔ت)
 (۲؎ نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض، بحوالہ ابوبکر ابن العربی، فصل فی اسمائہٖ درالکفر بیروت    ۲ /۳۹۰)
فقیرنے اس کے ہامش (حاشیہ) پرلکھا :
قدکان ظھر لی المنع عنہ لعین ھذا المعنی لکن نظرا الٰی انہ اسم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، ولاندری معناہ فلعل لہ معنی لایصح فی غیرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱؎ الخ ولعل ھذا اولی مماتقدم لان کونہ اسم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اظھر واشھر فلایکون لہ معنی یتفرد بہ الرب عزوجل، واﷲ تعالٰی اعلم۔
بے شک مجھ پر اس معنی کی بعینہٖ ممانعت ظاہرہوگئی ہے لیکن اس حقیقت کوپیش نظر رکھتے ہوئے یہ نام نہ رکھے جانے کے حق میں ہوں کہ یہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانام مبارک ہے اور ہم اس کے معنی سے واقف نہیں، ہوسکتاہے اس کاکوئی ایسامعنی ہوجوحضورعلیہ الصلٰوۃ السلام کے لئے خاص ہو اور آپ کے سواکسی دوسرے کے لئے اس کا استعمال درست نہ ہو شاید یہ وجہ پہلی وج سے زیادہ مناسب ہے اس لئے اس لفظ کاحضوعلیہ السلام کے لئے بطور مقدس نام کے ہونا زیادہ ظاہر اورمشہورہے۔ لہٰذا اس کے لئے کوئی ایسامعنی نہیں کہ جس سے اﷲ تعالٰی جلیل القدرمنفردہو لیکن (اس رازکو) اﷲ تعالٰی ہی سب سے بہترجانتاہے۔(ت)
 (۱؎ حاشیہ امام احمدرضاخاں علٰی نسیم الریاض )
بعینہٖ یہی حال اسم طٰہٰ کاہے
والبیان البیان والدلیل الدلیل
 (بیان وہی سابقہ ہے اوردلیل بھی وہی مرقوم ہے۔ت)  لفظ پاک محمدان میں شامل کردینا ممانعت کی تلافی نہ کرے گا کہ یٰس  وطٰہٰ اب بھی نامعلوم المعنی ہی رہے اگروہ معنی مخصوص بذات اقدس ہوئے تو محمدملانا  ایساہوگا کہ کسی کانام رسول اﷲ نہ رکھا محمدرسول اﷲ رکھا، یہ کب حلال ہوسکتاہے
وھذا کلہ ظاہر جدّا
 (اور یہ تمام خوب ظاہرہے۔ت)، یوں ہی غفورالدین بھی سخت قبیح وشنیع ہے، غفور کے معنی مٹانے والا، اﷲ عزوجل غفور ذنوب ہے یعنی اپنی رحمت سے  اپنے بندوں کے ذنوب مٹاتاعیوب چھپاتا ہے، تو غفورالدین کے معنی ہوئے دین کامٹانے والا، یہ ایساہوا جیسے شیطان کانام رکھناجسے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تبدیل فرمادیا، ہاں دین  پوش تقیہ کوش یہ ایساہوا جیسے رافضی نام رکھنا۔
بہرحال شدید شناعت پرمشتمل ہے اس سے توعاصیہ نام بہت ہلکا تھا جسے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے تغییر فرمادیا کہ معاصی کاعرفاً اطلاق اعمال تک ہے اوردین پوشی کی بلاملت وعقائد پر،
والعیاذباﷲ رب العالمین
 (اﷲ تعالٰی کی پناہ جو تمام جہانوں کامالک اورپروردگارہے۔ت)
حدیث میں ہے :
الفال موکل بالمنطق۱؎
 (فال بولنے کے حوالے کی گئی۔ت)
 (۱؎ الاسرار المرفوعۃ     حدیث ۶۳۸        دارالکتب العلمیۃ بیروت     ص۱۶۵)
بعض برے ناموں کی تبدیل کایہی منشا تھا
کماارشد الیہ غیرماحدیث
 (جیساکہ بہت سی احادیث نے اس کی رہنمائی فرمائی۔ت)
مولاناقاری مرقاۃ میں نقل فرماتے ہیں:
الاسماء تنزل من السماء۲؎،
نام آسمان سے اُترتے ہیں، یعنی غالباً اسم ومسمی میں کوئی مناسبت غیب سے ملحوظ ہوتی ہے،
 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح     کتاب الادب باب الاسماء   تحت حدیث ۴۷۸۱   المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۳۵)
اہل تجربہ نے کہاہے: ع
مزن  فال بد کاورد حال بد
 (بری فال مت نکالواس لئے کہ وہ براحال لائے گی۔ت)
اللّٰھم احفظنا وارحمنا
 (یاﷲ! ہماری حفاظت فرما اور ہم پر رحم کر۔ت)

فقیرنے بچشم خود ایسے قبیح ناموں کاسخت برا اثرپڑتے دیکھا ہے بھلے چنگے سنی صورت کوآخرعمرمیں دین  پوش ناحق کوش ہوتے  پایا ہے۔
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ اللھم یاقوی یاقدیریارحمٰن یارحیم یاعزیز  یا غفور صلی وسلم وبارک علٰی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ وثبتنا علی دینک الحق الذی ارتضیتہ لانبیائک و رسلک وملائکتک حتی نلقاک بہ وعافنا من البلاء والبلوی و الفتن ماظھر منھا وما بطن، وصل وسلم وبارک علٰی سیدنا محمد واٰلہ اجمعین وارحم  عجزنا  فاقتنا بھم یاارحم الراحمین اٰمین والصلٰوۃ والسلام علی الشفیع الکریم واٰلہ وصحبہ  والحمدﷲ  رب العٰلمین۔
ہم اﷲ تعالٰی سے عفووعافیت کاسوال کرتے ہیں اے طاقت وزور والے، اے بے حد رحم فرمانے والے والے، اے ہمیشہ رحم کرنے والے، اے زبردست ذات(سب پرغالب)، اے (گناہوں کی) پردہ پوشی کرنے والے)، اور انہیں معاف فرمانے والے (مالک)، ہمارے آقاومولٰی حضرت محمدمصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم پردرود وسلام اوربرکات نازل فرما اور ان کی آل اولاد اور ساتھیوں پربھی، اور ہمیں اپنے دین حق پراستوار  رکھ جودین تونے اپنے انبیائے کرام اور رسولان عظام اورملائکہ کرام کے لئے پسندفرمایا تا آنکہ ہم اسی دین پر  قائم رہتے ہوئے تیرے ساتھ جاملیں اور ہمیں ظاہرباطن (کھلے چھپے) فتنوں، مصیبتوں اور ابتلاؤں سے عافیت عطافرما اورہمارے آقا حضرت محمدکریم پررحمت وبرکت اورسلام نازل فرما، ان کی طفیل ہمارے عجز اورفاقہ میں ہماری حمات اورمدد فرما اے سب سے بڑے رحم کرنے والے، آمین، درودوسلام ہو شفیع کریم کی ذات اقدس پر اور ان کی تمام آل اولاد اورساتھیوں پر۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پرورد گار  ہے، آمین۔(ت)
اور ایک سخت آفت یہ ہوتی ہے کہ ایسے قبیح نام  والے  اپنے نام کے ساتھ حسب رواج نام پاک محمد ملاکر  لکھتے، کہتے اور اسی کی اوروں سے طمع رکھتے ہیں، اگر کوئی خالی ان کانام اقدس لکھے تو گویا اپنی حقارت جانتے اور آدھانام لینا سمجھتے ہیں، حالانکہ ایسے برے معنے کے ساتھ اس نام پاک کاملانا خود اس نام کریم کے ساتھ گستاخی ہے۔ یہ نکتہ ہمیشہ یاد  رہے کہ ان امور کی طرف اسی کوالتفات وتنبہ عطافرماتے ہیں جسے ایمان وادب سے حصہ وافیہ بخشتے ہیں،  وﷲ الحمد، اسی بناء پر فقیرکبھی جائزنہیں رکھتاکہ کلب علی، کلب حسین، کلب حسن، غلام علی، غلام حسین،، غلام حسن، نثارحسین، فداحسین، قربان حسین، غلام جیلانی وامثال ذٰلک کے اسماء ک ساتھ نام پاک ملاکر کہاجائے،
اللّٰھم ارزقنا حسن الادب ونجنا من مورثات الغضب، اٰمین
 (اے اﷲ! ہمیں حسن ادب سے نواز اوراسباب غضب سے بچا۔آمین۔ت)
نظام الدین، محی الدین، تاج الدین اور اسی طرح وہ تمام نام جن میں مسمّٰی کا معظم فی الدین بلکہ  معظم علی الدین ہونا نکلے جیسے شمس الدین،  بدرالدین،  نورالدین،  فخرالدین، شمس الاسلام،  بدرالاسلام  وغیرذٰلک، سب کوعلماء اسلام  نے سخت ناپسند  رکھا اورمکروہ  وممنوع رکھا، اکابردین قدست اسرارھم کہ امثال اسلامی سے مشہور ہیں، یہ  ان کے نام نہیں القاب ہیں کہ ان مقامات رفیعہ تک وصول کے بعد مسلمین نے توصیعاً انہیں ان لقبوں سے یادکیا، جیسے شمس الائمہ حلوائی،۔ فخرالاسلام بزدوی،  تاج الشریعۃ، صدرالشریعۃ، یونہی محی الحق والدین حضورپر نور سیدنا غوث اعظم، معین الحق والدین حضرت خواجہ غریب نواز، وارث النبی سلطان الہند حسن سنجری، شہاب الحق والدین عمرسہروردی، بہاؤالحق والدین نقشبند، قطب الحق والدین بختیارکاکی، شیخ الاسلام فریدالحق  والدین مسعود، نظام الحق والدین سلطان الاولیاء محبوب الٰہی، محمدنصیرالحق والدین چراغ دہلوی محمود وغیرہم رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ونفعنا ببرکاتہم فی الدنیا والدین۔
حضور نورالنور سیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عن کالقب پاک خودروحانیت اسلام نے رکھاجس کی  روایت معروف ومشہور اوربہجۃ الاسرار شریف وغیرہ کتب ائمہ وعلماء میں مذکور،  حق سبحانہ، وتعالٰی فرماتاہے  :
فلاتزکوا انفسکم۱؎
 (پس آپ اپنی جانوں کوستھرا نہ بناؤ۔ت)۔
 (۱؎ القرآن الکریم   ۵۳ /۳۲)
فصول عمادی میں ہے :
لایسمیہ بما فیہ تزکیۃ۲؎۔
کوئی اس نام کے ساتھ نام نہ رکھے جس میں تزکیہ کااظہارہو۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     بحوالہ فصول العمادی     کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع     داراحیاء التراث العربی بیروت  ۵ /۲۶۸)
Flag Counter