Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
150 - 160
النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء(۱۳۲۰ھ)

(بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالااورروشنی)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ط
مسئلہ ۲۷۸ : مسئولہ شیخ شوکت علی صاحب فاروقی     ۶جمادی الاولٰی ۱۳۲۰ھ

علماء دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ چہ مے فرمایندکہ بعض شخص اس طرح نام رکھتے ہیں، علی جان، نبی جان، محمدجان، محمدنبی، احمدنبی، نبی احمد، محمدیٰسین، محمدطٰہٰ، غفورالدین، غلام علی، غلام حسین، غلام غوث، غلام جیلانی، ہدایت علی۔ پس اس طرح کے نام رکھناجائز ہیں یانہیں؟ مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی نے اپنے فتاوٰی میں ہدایت علی نام رکھنا ناجائز بتایا ہے اس میں حق کیاہے؟ بیّنواتوجروا۔ شوکت علی فاروقی عفی عنہ
الجواب : محمدنبی، احمدنبی، نبی احمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم  پربے شماردرودیں، یہ الفاظ کریمہ حضور ہی پرصادق اورحضورہی کوزیباہیں، افضل صلوات اﷲ واجل تسلیمات اﷲ علیہ وعلٰی آلہٖ۔ دوسرے کے یہ نام رکھناحرام ہیں کہ ان میں حقیقۃً ادعائے نبوت نہ ہونامسلم ورنہ خالص کفرہوتا۔ مگرصورت ادعاء ضرور ہے او وہ بھی 

یقیناحرام ومحظور ہے۔
اور یہ زعم کہ اعلام میں معنی اول ملحوظ نہیں ہوتے، نہ شرعا مسلم نہ عرفا مقبول۔ معنی اول مراد نہ ہونے میں شک نہیں مگرنظر سے محض ساقط ہونا بھی غلط ہے، احادیث صحیحہ کثیرہ سے ثابت کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے بکثرت اسماء جن کے معنی اصلی کے لحاظ سے کوئی برائی تھی تبدیل فرمادئیے۔
جامع ترمذی میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے :
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان  یغیر الاسم القبیح ۱؎۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ برے نام کوبدل دیتے۔
 (۱؎ جامع الترمذی     ابواب الادب    باب ماجاء فی تغییرالاسمارء     امین کمپنی دہلی  ۲ /۱۰۷)
سنن ابی داؤد میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عاصی  وعزیز  وعتلہ  وشیطان وحکم  وغراب و حباب وشہاب نام تبدیل فرمادئیے،
قال ترکت اسانیدھا للاختصار۲؎
 (امام ابوداؤد نے فرمایا میں نے اختصارکے لئے ان کی سندیں چھوڑیں۔ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد    کتاب الادب    باب فی تغییرالاسم القبیح     آفتاب عالم پریس لاہور     ۲ /۳۲۱)
اصرم کا نام بدل کر  زرعہ رکھا
رواہ عن اسامۃ۳؎ بن اخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ
 (اسے اسامہ بن اخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اسے روایت کیا۔ت)
 (۳؎سنن ابی داؤد کتاب الادب    باب فی تغییرالاسم القبیح     آفتاب عالم پریس لاہور     ۲ /۳۲۱)
عاصیہ کانام جمیلہ رکھا
رواہ مسلم۴؎ عن ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنھما
 (اسے مسلم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۴؎ صحیح مسلم      کتاب الادب    باب تغییر الاسم القبیح     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۲۰۸)
برہ کانام  زینب رکھا اور فرمایا :
لاتزکوا انفسکم اﷲ اعلم باھل البر منکم۔ رواہ مسلم ۵؎ عن زینب بنت ابی سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
اپنی جانوں کوآپ اچھانہ بتاؤ خدا خوب جانتا ہے کہ  تم  میں نیکوکار کون ہے۔(اسے مسلم نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۵؎صحیح مسلم      کتاب الادب    باب تغییر الاسم القبیح     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۲۰۸)

 (سنن ابی داؤد      کتاب الادب     باب فی تغییرالاسم القبیح     آفتاب عالم پریس لاہور     ۲/ ۳۲۱)
برہ کے معنی تھے  زن نیکوکار، اسے خودستائی بتاکرتبدیل فرمایا۔اور ارشاد فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم  :
انکم تدعون یوم القیٰمۃ باسمائکم واسماء اٰباءکم فاحسنوا اسمائکم۔ رواہ احمد۱؎ وابوداؤد عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسندجیّد۔
بے شک تم روزقیامت اپنے اور اپنے والدوں کے نام سے پکارے جاؤگے تو اپنے اچھے نام رکھو۔ (اسے احمد اور ابوداؤد  نے ابوالدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسندجید روایت کیا۔ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الادب  باب فی تغییرالاسماء    آفتاب عالم پریس لاہور     ۲ /۳۲۰)

(مسنداحمد بن حنبل     عن ابی الدرداء    المکتب الاسلامی بیروت    ۵ /۱۹۴)
اگراصلی معنی بالکل ساقط النظرہیں توفلاں نام اچھا فلاں براہونے کے کیامعنی، اور تبدیل کی کیاوجہ، اورخود ستائی کہاں، مسمی پردلالت کرنے میں سب یکساں ۔ معہذا انہیں لوگوں سے پوچھ دیکھئے کیا اپنی اولادکانام شیطان ملعون، رافضی خبیث، خوک(سور) وغیرہ رکھنا گواراکریں گے؟ ہرگزنہیں توقطعاً معنی اصلی کی طرف لحاظ باقی ہے پھرکس منہ سے اپنے آپ اوراپن اولاد کو نبی کہتے اورکہلواتے ہیں، کیاکوئی مسلمان اپنایا اپنے بیٹے کارسول اﷲ یاخاتم النبیین یاسیدالمرسلین نام رکھنا روارکھے گا؟ حاشاوکلا، پھر محمدنبی، احمدنبی، نبی احمدکیونکر رواہوگیا، یہاں تک کہ بعض خدا ناترسوں کانام نبی اﷲ سنا ہے،
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم،
کیا رسالت وختم نبوت کااِدعاحرام ہے اور نری نبوت کاحلال، مسلمانوں کولازم ہے کہ ایسے ناموں کوتبدیل کردیں ؎
ہیچ  پسند وخردجان  فروز        تاج شہی برسرک کفش دوز
 (عقل، جان کوروشن ومنور کرنے والی اس بات کوکب گواراکرتی ہے کہ شاہی تاج ایک معمولی کفش دوز (موچی) کے سرپرسجایاجائے۔ت)
عجب نہیں کہ ایسی علیل تاویل ذلیل تخییل والے شدہ شدہ اﷲ عزوجل یاالٰہ العالمین نام رکھنے لگیں کہ آخرعلم میں اصلی معنی توملحوظ نہیں
والعیاذباﷲرب العالمین
 (اﷲ تعالٰی کی پناہ جوتمام جہانوں کاپروردگارہے۔ت) اور نہ بھی رکھیں تو اس نام رکھنے کاجوازتوانہیں خواہی نخواہی مانناہوگا، جوتقریر محمدنبی کے جواز میں گھڑیں گے بعینہٖ وہی اﷲ عزوجل نام رکھنے کے جواز میں جاری ہوگی، اصلی معنی  وہاں مرادنہیں تویہاں بھی نہیں وہ بے  لحاظ معنی تبرکاکیوں نہ جائز ہوگا آخرنام الٰہی میں نام نبی سے زیادہ ہی برکت ہے
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم
 (گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت بجزاﷲ تعالٰی بلند مرتبہ بزرگ شان کی توفیق کے کسی میں نہیں۔ت) یونہی نبی جان نام رکھنا نامناسب ہے اگرجان ایک کلمہ جداگانہ بنظرمحبت زیادہ کیاہوا جانیں جیسا کہ غالب یہی ہے جب تو ظاہر ادعائے نبوت ہو اور اگر ترکیب مقلوب سمجھیں یعنی جان نبی، تو یہ تزکیہ خودستائی میں برہ  سے ہزاردرجے زائد ہو، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے اسے پسند نہ فرمایا یہ کیونکرپسند ہوسکتاہے یہاں تبدیل میں کچھ بہت حرج بھی نہیں ایک ''ہ'' بڑھانے میں گناہ سے بچ جائے گا اور اچھاخاصہ جائزنام پائیے گا۔محمدنبیہ، احمدنبیہ، نبیہ احمد، نبیہ جان کہا اورلکھاکیجئے۔ نبیہ بمعنی بیدارہوشیار ہے۔ یونہی یٰسین  وطٰہٰ نام رکھنا منع ہے کہ اس مائے الٰہیہ واسمائے مصطفی صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ایسے نام ہیں جن کے معنی معلوم نہیں، کیاعجب کہ ان کے وہ معنی وں جوغیرخدا اور رسول میں صادق نہ آسکیں تو ان سے احتراز لازم، جس طرح نامعلوم المعنی رقیہ منترجائز نہیں  ہوتا کہ مبادا کسی شرک وضلال  پر مشتمل ہو۔
امام ابوبکر ابن العربی کتاب احکام القرآن میں فرماتے ہیں :
روی اشھب عن مالک لایتسمی احد بیٰسن لانہ اسم اﷲ وھوکلام بدیع وذلک ان العبد یجوزلہ ان یسمی باسم الرب اذاکان فیہ معنی منہ کعالم وقادر وانما منع مالک من التسمیۃ بھٰذا الاسم لانہ الاسماء التی لایدری مامعناھا فربما کان ذٰلک معنی یتفرد بہ الرب تعالٰی فلاینبغی ان یقدم علیہ من لایعرف لمافیہ من الخطر فاقتضی النظرالمنع منہ۱؎۔
اشہب نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ کوئی شخص بھی یٰس  نام نہ رکھے کہ یہ اﷲ تعالٰی کانام ہے اور یہ نادرکلام ہے، یہ اس لئے کہ بندے کے لئے جائز ہے کہ رب کے نام پراپنا نام رکھے جبکہ اس میں وہ معنی پایاجائے جیسے عالم، قادر وغیرہ، اورامام مالک نے یہ نام رکھنے سے اس لئے منع فرمایا کہ یہ ان اسماء سے ہے جن کے معنی معلوم نہیں، ہوسکتاہے اس کا وہ معنی ہوجو رب تعالٰی کے لئے خاص اور منفردہو، لہٰذا مناسب نہیں کہ یہ نام رکھاجائے جبکہ اس کے ممنوع معنٰی معلوم ہی نہ ہوں پس نظر اور احتیاط کاتقاضا یہی کہ نام رکھنے سے منع کیاجائے۔(ت)
 (۱؎نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض، بحوالہ ابوبکر ابن العربی، فصل فی اسمائہٖ درالکفر بیروت    ۲ /۳۹۰)
Flag Counter