| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
یہ حدیث توصحیحین کی تھی اور اس کی تفصیل اس حدیث جلیل میں ہے کہ ابوداؤد ونسائی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لما خلق اﷲ تعالٰی الجنۃ قال لجبرئیل اذھب فانظر الیھا فذھب فنظرالیھا والی مااعداﷲ لاھلہا فیھا ثم جاء فقال ای رب وعزتک لایسمع بھا احدالا دخلھا ثم حفھا بالمکارہ ثم قال یاجبرئیل اذھب فانظرالیہا فذھب فنظر الیھا ثم جاء فقال ای رب وعزتک لقد خشیت ان لایدخلھا احد قال فلما خلق اﷲ النار قال یاجبرئیل اذھب فانظرالیھا قال فذھب فنظرالیھا ثم جاء فقال ای رب وعزتک لایسمع بھا احد فیدخلہا فحفھا بالشہوات ثم قال یاجبرئیل اذھب فانظر الیھا قال فذھب فنظر الیھا فقال ای رب وعزتک لقد خشیت ان لایبقی احد الادخلھا۱؎۔
جب اﷲ عزوجل نے جنت بنائی جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام کوحکم فرمایا کہ اسے جاکر دیکھ، جبریل نے اسے اور جوکچھ مولٰی تعالٰی نے اس میں اہل جنت کے لئے تیار فرمایاہے دیکھا، پھرحاضر ہوکر عرض کی اے میرے رب! تیری عزت کی قسم اسے توجوکوئی سنے گا بے اس میں جائے نہ رہے گا۔ پھر رب عزوجل نے اسے ان باتوں سے گھیردیا جونفس کوناگوارہیں۔ پھرجبرئیل کو حکم فرمایا کہ اب جاکر دیکھ۔ جبرئیل نے دیکھا، پھر حاضرہوکر عرض کی اے میرے رب! تیری عزت کی قسم مجھے ڈرہے کہ اب توشاید اس میں کوئی بھی نہ جاسکے۔ پھر جب مولٰی تبارک وتعالٰی نے دوزخ پیدا کی جبرئیل سے فرمایا اسے جاکر دیکھ، جبرئیل نے دیکھا پھرآکر عرض کی اے میرے رب! تیری عزت کی قسم اس کاحال سن کرکوئی بھی اس میں نہ جائے گا۔ مولٰی تعالٰی نے اسے نفس کی خواہشوں سے ڈھانپ دیا، پھرجبرئیل کو اس کے دیکھنے کاحکم فرمایا، جبرئیل امین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اسے دیکھ کر عرض کی اے میرے رب! تیری عزت کی قسم مجھے ڈرہے کہ اب توشاید ہی کوئی اس میں جانے سے بچے۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الجنۃ باب ماجاء حفت النار بالشہوات امین کمپنی دہلی ۲ /۸۰) (سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی خلق الجنۃ والنار آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹۶) (سنن نسائی کتاب الایمان والنذور باب الحلف لعزۃ اﷲ تعالٰی نورمحمدکارخانہ کراچی ۲ /۴۲۔۱۴۱)
یہ ہے وہ فرق کہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بتایا اور خود رب العزۃ جل جلالہ قرآن عظیم میں نماز کو فرماتاہے:
وانھا لکبیرۃ الاعلی الخشعین الذین یظنون انھم ملٰقوا ربھم وانھم الیہ راجعون۱؎o
بیشک نمازگراں ہے مگر ان خشوع والوں پر جن کو یقین ہے کہ وہ اپنے رب سے ملیں گے اور انہیں اس کی طرف پھرکرجاناہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۴۵)
غذائے روح کی یہ پہچان ہے، اب مزامیر کو دیکھئے کفّار، فسّاق، فجّار رات دن ان میں منہمک ہیں توواضح ہواکہ وہ شہواتِ نفس ہیں جب توبندگان نفس امارہ ان پرمٹے ہوئے ہیں غذائے روح ہوتے تو وہ ان کا نام نہ لیتے کہ بندگان نفس غذائے روح کانام لئے تھراتے ہیں، ہاں وہ عبادت ضرور ہیں مگرکہاں مندروں اور گرجاؤں میں کہ ان کی عبادت مزامیرہی کے ساتھ ہوتی ہے مگرحاشا وہ مسجدوالوں کی عبادت نہیں، مسجد کا رب اس سے پاک ہے کہ شیطانی لذتوں سے جن میں کافروں کاحصہ غالب ہو اس کی عبادت کی جائے۔ یہ عجب عبادت ہے کہ مندروں گرجاؤں میں ہوتی ہے اور مسجدیں اس سے محروم، ہندؤں نصرانیوں میں دھڑلے سے رائج، اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ وائمہ اس سے محفوظ۔
(گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں مگر اﷲ تعالٰی بلنداورعظیم الشان کی توفیق دینے سے۔ت) یہ اگرعبادت ہے تو ڈوم ڈومنیاں، رنڈیاں پیرجی سے بڑھ کر عابد ہیں کہ یہ گھنٹہ بھر اس عبادت سے مشرف ہوں تو وہ چوبیس گھنٹے اسی میں ہیں ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم جاہلوں کی شکایت نہیں اگرچہ وہ مشائخ بن بیٹھیں اگرچہ اولیاء کرام کا ارشاد ہے کہ:
صوفی بے علم مسخرہ شیطان ست
بے علم صوفی شیطان کامسخرہ ہے۔(ت)
مااتخذاﷲ جاھلا ولیا قط
اﷲ نے کبھی کسی جاہل کو اپناولی نہ کیا ع
بے علم نتواں خداراشناخت
(بغیرعلم کے خداتعالٰی کی شناخت نہیں ہوسکتی۔ت)
غضب تو ان مولوی کہلانے والے مشائخ نے ڈھایاہے کہ اپنے ساتھ عوام کو بھی شریعت پرجری وبیباک کردیا اہل نااہل کاجھوٹا تفرقہ زبانی کہیں اور جلسے میں دنیا بھر کے نااہل بھریں، ائمہ دین فرماتے ہیں اے گروہ علماء! اگرتم مستحبات چھوڑ کر مباحات کی طرف جھکو گے عوام مکروہات پرگریں گے، اگرتم مکروہ کروگے عوام حرام میں پڑیں گے، اگرتم حرام کے مرتکب ہوگے عوام کفرمیں مبتلا ہوں گے۔ بھائیو! ﷲِاپنے اوپررحم کرو، اپنے اوپررحم نہ کرو اُمت مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پررحم کرو۔ چرواہے کہلاتے ہو بھیڑئیے نہ بنو۔ اﷲ تعالٰی ہدایت دے، آمین وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰینا محمدوآلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین، آمین۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۱ : ازشہر بریلی روزسہ شنبہ تاریخ ۲۵شعبان ۱۳۳۴ھ اگرکوئی مجلس خلاف شرع ہو یعنی ناچ یاباجا وغیرہ ہوتو اس میں کھانا وغیرہ کھاناچاہئے اور اس میں شرکت کرنا چاہئے یانہیں؟ اور اگر اس میں کھانا کھاناچاہئے تو وہ کون سی شکل ہے جو شرع کے موافق جائزہوجائے؟ فقط
الجواب : کسی خلافِ شرع مجلس میں شرکت جائزنہیں اور کھانابھی اسی جگہ جہاں وہ خلاف شرع کام ہورہے ہیں تو اس کھانے میں بھی شرکت جائزنہیں، اور اگروہ کھانا دوسرے مکان میں ہے وہاں کوئی امرخلاف شرع نہیں توعام لوگوں کوجانےاورکھانے میں حرج نہیں مگر عالم یا مقتداوہاں بھی نہ جائے مگر اس صورت میں کہ اس کے جانے سے وہ امور خلاف شرع بند ہوجائیں گے تو ضرور جائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۲ : امام بخش فریدی ازجام پور ضلع ڈیرہ غازی خان دوشنبہ ۳محرم ۱۳۳۵ھ سماع فی نفسہ کا قطع نظر اس سے کہ سلسلہ قادریہ اور نقشبندیہ میں نہیں سننے کاکیاحکم ہے۔ بینواتوجروا۔
الجواب : سماع کہ بے مزامیر ہو اور مسمع نہ عورت ہونہ امرد، اورمسموع نہ فحش نہ باطل، اور سامع نہ فاسق ہونہ شہوت پر، تو اس کے جواز میں شبہہ نہیں۔ قادریہ وچشتیہ سب کے نزدیک جائزہے، ورنہ سب کے نزدیک ناجائز، والتفصیل فی رسالتنا اجل التحبیر فی حکم السماع والمزامیر (اس کی تفصیل ہمارے رسالے ''اجل التحبیر فی حکم السماع والمزامیر'' میں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳ : مرسلہ محمدمنظور عالم ۲صفرالمظفر۱۳۳۵ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں، اس ملک کے مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ ہارمونیم بجانا اور سننا اور گراموفون بجانا یاسننا قطعی حرام ہے، اگردرحقیقت حرام ہے تو اکثر بلادمیں بہت سے علماء ہند نے اس کوجائز رکھاہے او دیدہ دانستہ گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں اس کی کیاوجہ، کیاوہ لوگ علم دین سے واقف نہیں ہیں یعنی اجمیرشریف، پھلواری شریف، بغدادشریف وغیرہ میں زمانہ عرس میں قوالی سنتے ہیں اس کے سامنے ہارمونیم وستارضرورہوتاہے اس کی کیاوجہ ہے، ازراہ مہربانی اس کے بارہ میں جیساحکم ہو کس کس طریقہ والے کے نزدیک جائزہے اور کس کس کے نزدیک ناجائزہے؟ جواب سے مطلع فرمائیں۔فقط۔
الجواب : ہارمونیم ضرورحرام ہے، بغدادشریف میں تو اس کانشان بھی نہیں، نہ اجمیرشریف میں دیکھنے میں آیا، نہ فاسقوں کافعل حجت ہوسکتا ہے، نہ کسی عالم نے اسے حلال کہا، اگرکسی نے حلال کہا ہو تو وہ عالم نہ ہوگا ظالم ہوگا۔ گراموفون سے قرآن مجید کاسننا ممنوع ہے کہ اسے لہوولعب میں لانابے ادبی ہے، اور ناچ یاباجے یاناجائز گانے کی آواز بھی سننا ممنوع ہے، اور اگرجائزآواز ہوکہ نہ اس میں کوئی منکر شرعی نہ وہ کچھ محل ادب، تو اس کے سننے میں فی نفسہٖ حرج نہیں، ہاں لہو کاجلسہ ہوتو اس میں شرکت کی ممانعت ہے، اور تفصیل کامل ہمارے رسالہ الکشف شافیا میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم