مسئلہ ۲۷۴ : ازلشکر گوالیار محلہ حیدرگنج مسئولہ حافظ نبی محمد ۱۳محرم ۱۳۳۹ھ
حضور سے کسی وقت میں ایک فتوٰی طلب کیاتھا جواب آگیا مگر اس کے ساتھ ہی میرے نام پر اعتراض فرمایاتھا کہ یہ نام رکھناحرام ہے، اور وجہ کوئی تحریرنہیں فرمائی تھی، ہمارے شہر کے مفتی مقبول حسین صاحب فرماتے ہیں کہ ناجائز نہیں، اس واسطے گزارش ہے کہ آپ اس جملہ کو بالتفصیل تحریرفرمادیجئے گا اور اس کے ساتھ ہی اسی ذیل میں نام بھی خاکسار کاتحریرفرمادیجئے تاکہ اس کو گزٹ کراکر عام لوگوں کومطلع کیاجائے مگر میرے نام میں محمدیا احمدضرورہوناچاہئے چونکہ میرانام بزرگوں نے نبی محمد رکھاہے اور اسی نام سے پکاراجاتاہوں مگرحضور نے فرمایا ہے کہ تمہارانام ناجائزہے شریعت کیوں اس نام کوناجائز کر رہی ہے اس کاسبب حضورخلاصہ تحریرفرمائیں اورنام بھی دوسرا تجویزفرمائیں حضورہی جونام تجویزفرمائیں گے وہی مشتہرہوگا وہ یوں کیاجائے گا کہ نام میرا نبی محمدشریعت کے خلاف تھا سواب فلاں نام تجویز ہوا ہے۔
الجواب : اس مسمی پرمحمول ہوتاہے یہ زید ہے او وصف عنوان سے جوسمجھاجاتا ہے وہ بھی متضمن حمل ہے تو اس میں اپنے آپ کو نبی کہنا اورکہلوانا ہے اور یہ قطعاً حرام ہے، اور علم میں وضع جدیدکاعذر بارد ہے وضع اول ضرور ملحوظ رہتی ہے ولہٰذارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بُرے نام اور تزکیہ کے نام تبدیل فرمادئیے کیاکوئی گواراکرے گا کہ اپنا نام یا اپنے بچے کانام شیطان یاولدالشیطان رکھے حالانکہ وضع جدیدمیں تو خاص یہ ذات مقصود ہے جب اپنے آپ کو شیطان کہناگوارا نہیں کرتا نبی کہنا اورکہلوانا روا رکھتاہے اور یہ خیال کہ نیت دعوٰی نبوت کی نہ تھی سچ ہے جبھی تو حرام ہوا، ورنہ کفرہوتا، آپ اپنا نام نبیل احمد رکھئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۲۷۵ : ازشہر ۲۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آیا عبدالنبی نام رکھناجائزہے کہ نہیں؟
الجواب : اپنے آپ کو عبدالنبی کہناجائز ہے مگرنام عبداﷲ رکھاجائے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۲۷۶ تا ۲۷۷ : مرسلہ مولوی عابدعلی صاحب سیتری ڈاک خانہ سیف اﷲ گنج ضلع سلطان پور ۱۷ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
(۱) احمدبخش، محمدبخش، نبی بخش، رسول بخش، حسین بخش، پیربخش، مداربخش، وغیرہ نام رکھنا از روئے احکام شریعت جائزہے یانہیں؟ اگرنہیں تو اس میں شرک ہے یاکیا؟ اور اگرکوئی شخص ایسے ناموں کے رکھنے کو منع کرے اور نام رکھنے والا منع کرنے والے کو مشرک بتائے اور وہابی ٹھہرائے اورناقابل امامت قراردے اور بالفاظ واضح یہ ثابت کرنا چاہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جب تک نہ بخشیں گے خدائے پاک نہ بخشے گا اور اس کے ثابت کرنے کے لئے آیات قرآنی غیرمتعلق کاحوالہ دے تو ایساشخص کسی خطاب کامرتکب ہوا یا نہیں اور کس خطاب کا؟ اور یہ بھی مخفی نہ رہے کہ نام رکھنے والا اپنے کوعالم کہتاہے اورمجمع عام میں ایسی تقریرکرتاہے۔
(۲) جوشخص اپناخطاب اپنی جسمانی وضع اپنا لباس اپناضروری دیگراسباب مثل ہندوؤں کے رکھے اورنماز کا بھی پابندنہ ہو ایساشخص عالم کہلائے گا یامصداق
من تشبّہ بقوم فھو منھم۱؎۔
(جوکوئی کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے تو وہ اسی میں شمارہے۔ت) کاہوگا۔بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳)
الجواب
(۱) یہ نام شرعاً درست ہیں، ان میں معاذاﷲ کسی طرح کوئی شرک نہیں، نہ شرع سے کہیں ممانعت ہے، بلکہ قرآن عظیم سے اس کاجواز ثابت ہے،
حضرت جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حضرت مریم سے کہا :
انما انا رسول ربک لِاَھَبَ لَکِ غلاماً زکیّا ۱؎۔
میں توتمہارے رب کابھیجاہوا ہوں اس لئے کہ میں تم کوایک ستھرا بیٹادوں ۔
(۱؎ القرآن الکریم ۱۹ /۹)
قرآن عظیم سیدنا عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کوجبریل بخش بتا رہا ہے۔ پھربخش معنی عطا کے لئے متعین نہیں بمعنی حصہ وبہرہ بھی کثیرالاستعمال ہے۔ معہذا علمائے دین تصریح فرماتے ہیں کہ اگرملحد کہے
انبت الربیع البقل
(بہارنے سبزہ اگایا۔ت) تو اس کے الحاد پر محمول ہے، اور اگرمسلم کہے تویقینا تجوز ہے اور اس کا اسلام ہی قرینہ بس ہے
کما نص علیہ فی الفتاوٰی وغیرھا
(جیساکہ فتاوٰی اور اس کے علاوہ دوسری کتابوں میں اس کی صراحت کردی گئی۔ت) منع کرنے والا اگربربنائے اصول وہابیت منع کرتا ہے تو اس پرلزوم وہابیت بے جانہیں،
من یغفرالذنوب الااﷲ۲؎
(سوائے اﷲ تعالٰی کے کون گناہ معاف کرنے والاہے۔ت) اپنا ایمان ہے، اور
ولمن صبر وغفرفان ذٰلک لمن عزم الامور۳؎
(بے شک جس نے صبراختیار کیا اور معاف کیا توبیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔ت) بھی ایمان ہے،
وان تعفوا وتصفحوا وتغفروا فان اﷲ غفوررحیم۴؎
(اوراگرتم معاف کرو اور درگزرکرو اوربخش دو، تو اﷲ تعالٰی بخشنے والامہربان ہے۔ت) بھی ایمان ہے،
واذا ماغضبوھم یغفرون۵؎
(اور جب وہ غصہ میں ہوجائیں تومعاف کردیتے ہیں۔ت) بھی ایمان ہے، اس قسم کے استدلال خارجیوں کی ایجادہیں کہ امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہ الکریم پرحکم کفرلگایا کہ انہوں نے غیرخدا کوحکم بنایاحالانکہ اﷲ عزوجل فرماتاہے
ان الحکم الا ﷲ۶؎
(اﷲ تعالٰی کے سوا کسی کا حکم نہیں۔ت)
( ۲؎ القرآن الکریم ۳ /۱۳۵) (۳؎ القرآن الکریم ۴۲/ ۴۳) ( ۴؎ القرآن الکریم ۶۴ /۱۴)
(۵؎ القرآن الکریم ۴۲ /۳۷ ) (۶؎ القرآن الکریم ۱۲ /۴۰)
اورنہ دیکھا کہ وہی رب عزوجل فرماتاہے :
فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا ۱؎۔
توپھرایک پنچ مرد کے خاندان میں سے، اور ایک پنچ عورت کے خاندان میں سے مقررکرو۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۳۵)
یہ مضمون کہ جب تک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بخشیں گے اﷲ عزوجل نہ بخشے گا۔ اس قائل سے پہلے حضرت شیخ سعدی قدس سرہ، نے فرمایا : ؎
ارحم الراحمین نہ بخشاید بے رضائے تویارسول اﷲ۲؎
(سب سے زیادہ رحم وکرم فرمانے والا(اﷲ تعالٰی) نہ بخشے گا، یارسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) جب تک آپ کی مرضی نہ ہوگی۔ت)
(۲؎ )
حقوق العباد میں کہاجاتاہے کہ جب تک صاحب حق نہ بخشے اﷲ عزوجل نہ بخشے گا، اس کے یہ معنی کسی کے وہم میں نہیں آسکتے کہ معاذاﷲ اس کی مغفرت پر رب العزت قادرنہیں یامغفرت ذنوب میں کوئی اس کاشریک ہے، بندوں کامالک بھی وہی ہے اوربندوں کے حقوق کامالک بھی وہی ہے مگرصاحب حق کی دلداری کے لئے اس کی مغفرت اس کے بخشنے پرموقوف رکھی پھر وہ دلداری کہ اسے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی منظور ہے اس کی مقدارکاجاننا کس کامقدور ہے، صحیح بخاری میں ہے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں
"ارٰی ربک یسارع فی ھواک"۳؎
میں حضورکے رب کودیکھتی ہوں کہ حضور کی خواہش میں شتابی فرماتاہے۔
(۳؎ صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب باب قولہ من ترجی من تشاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۰۶)
( صحیح البخاری کتاب النکاح باب ھل للمرأ ۃ ان تہب نفسہا لاحد قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۶۶)
حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رحمۃ للعالمین بناکربھیجے گئے اور مومنین پربالخصوص کمال مہربان ہیں رؤف رحیم ہیں ان کامشقت میں پڑنا ان پرگراں ہے ان کی بھلائیوں پرحریص ہیں جیسے کہ قرآن عظیم ناطق :
لقدجاءکم رسول من انفسکم عزیزعلیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم ۱؎۔
بیشک تمہارے پاس تمہاری ہی جانوں میں سے (ایک عظیم الشان) رسول تشریف لائے کہ تمہارا مشقت میں پڑنا انہیں ناگوارگزرتاہے، وہ تمہاری (اصلاح کی) بہت چاہت اورحرص رکھتے ہیں۔ اور مسلمانوں پربڑی شفقت اور رحم فرمانے والے ہیں(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۹ /۱۲۸)
تمام عاصیوں کی شفاعت کے لئے تو وہ مقررفرمائے گئے
واستغفرلذنبک وللمؤمنین وللمؤمنات۲؎
(اور اپنی شان کے خلاف امور کے لئے استغفار کیجئے(یعنی طلب بخشش کیجئے) اورمسلمان مردوں اورعورتوں کے لئے بھی۔ت) کیا وہ ان میں کسی کی بخشش نہ چاہیں گے، کیامسلمان کامشقت میں پڑنا ان پرگراں نہ ہوگا، یہ تونص آیت کے خلاف ہے، ضرور وہ کہ جس کا بخشناحضورنہ چاہیں گے وہ ہوگا جومسلمان نہیں، اورجو مسلمان نہیں اﷲ اسے نہ بخشے گا، واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ القرآن الکریم ۴۷ /۱۹)
(۲) خطاب ولباس ووضع اسباب میں کفار سے مشابہت ممنوع ہے اور عالم ہوکر ایساکرے تو اورسخت معیوب ہے مگر
فھومنھم۳؎
(تووہ انہی میں سے ہے۔ت) اس کے لئے ہے جوکفار کے دینی شعار میں بالقصد معاذ اﷲ اس کی پسندکے طور پرکی جائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳)