بالجملہ اس معنی پرتمام جہان ان کی ملک ان کابندہ ان کاعبد ہے یوں اپنالقب عبدالنبی، عبدالرسول، عبدالمصطفٰی رکھناعین سعادت ہے، اور اس سے اسلام وکفر کافرق روشن ہے کہ اﷲ عزوجل کی عبدیت سے کسی کافرکوبھی استنکاف نہ ہوگا حتی کہ وہابیہ بھی بڑی خوشی سے اپنے آپ کو عبداﷲ کہیں گے اگرچہ واقع میں شیخ نجدی کے بندے اورعبدالشیطان ہیں، مگرمصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کابندہ ہرگز اپنے آپ کونہ بتائیں گے، عبدالنبی اورعبدالشیطان دونوں عبداﷲ ہیں، وہ عبدالنبی ہیں جن کوفرمایا :
فادخلی فی عبادی وادخلی جنّتی۴؎۔
(اے نفس مطمئنہ) میرے بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔(ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۸۹ /۲۹)
اور وہ عبدالشیطان ہیں جن کوفرمایا :
یٰحسرۃ علی العباد مایأتیھم من رسول الاکانوا بہ یستھزؤن۱؎۔
ہائے افسوس (نافرمان) بندوں پرکہ ان کے پاس (خداکا) کوئی رسول نہیں آتامگر یہ اس کے ساتھ ہنسی ومذاق کرتے ہیں(ت)
(۱؎القرآن الکریم ۳۶ /۳۰ )
مگرعبدالشیطان ہرگزعبدالنبی عبدالمصطفٰی نہیں ہوسکتا اور اسے معاذاﷲ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین سے کیاعلاقہ، نقل کرنے والے نے ضرور غلط نقل کیا یا غلط سمجھا، ہاں عبدبمعنی بندہ خاص یعنی مطیع وفرمانبردار ہونا ضروردشوار ہے اوربایں معنی عبداﷲ وعبدالنبی ایک ہے کہ :
من یطع الرسول فقد اطاع اﷲ۲؎۔
جوشخص رسول اﷲ کی اطاعت کرتاہے اس نے درحقیقت اﷲ تعالٰی کی اطاعت کی۔(ت)
( ۲؎ القرآن الکریم ۴ /۸۰)
اس معنی پراپنے آپ کو اس وصف عظیم سے یادکرنا ضرورتذکیہ نفس وخودسرائی ہے کہ بنص قرآن مجیدحرام ہے،
قال اﷲ تعالٰی ''لاتزکوا انفسکم۳؎،
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا: ''اپنے نفوس کوپاکیزہ بناؤ۔ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۵۳ /۳۲)
جولوگ اپنالقب مطیع النبی، مطیع الرسول رکھیں جاہل بیخرد ہیں یا قرآن عظیم کے دانستہ مخالف۔خودانہیں کا قول ان کی تکذیب کوبس ہے جومطیع النبی ومطیع الرسول ہوگاہرگز اپنے نفس کاتذکیہ نہ کرے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۹ : ازقادر گنج ضلع بیربھوم ملک بنگالہ مرسلہ سیدظہورالحسین حسینی قادری رزاقی ۲۲جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
عبدالمصطفٰی، عبدالرسول، عبدالنبی، غلام مصطفی، غلام رسول، غلام نبی، غلام محمد، غلام احمد،غلام پنجتن، عبدالعلی، عبدالحسین، غلام علی، غلام حسین، غلام دستگیر، غلام غوث، غلام محی الدین، غلام پیر، غلام مرشد، غلام مولٰی بخش، غلام بخش، پیربخش، نذرمصطفی، نذرپنجتن، نذرحسین، نذرعلی، نذرمحی الدین، نذرپیر خادم علی، خادم غوث، کنیزمصطفی، کنیزپنجتن، کنزمرتضٰی، کنزحسین، کنیزغوث، کنیزمرشد، کنیزفاطمہ وغیرہ اس طرح کانام رکھنا جائزہے یانہیں؟ اورجائز ہے توعلمائے متقدمین ومتاخرین میں اس طرح کانام کس کس کاہے اور اس کاجوازفقہ سے ثابت ہے یانہیں؟ اورا س کے جواز میں آپ کاکوئی رسالہ ہے یانہیں؟ اگر ہے تو اس کاکیانام اورکس قیمت پرملتاہے؟
الجواب : فقیرکے اس بارے میں تین رسالے ہیں جومیرے مجموعہ فتاوٰی میں ہیں۔ ایک دربارہ غلام مصطفی اور اس کاجواز دلائل سے ثابت کیاہے۔ دوسرا دربارہ عبدالمصطفٰی اور اس میں یہ تحقیق کیاہے کہ توصیفاً بلاشبہہ جائزاور اجلہ صحابہ سے ثابت کراہت کہ بعض متاخرین نے لکھی جانب تسمیہ راجع ہے۔ تیسرے میں اسمائے کثیرہ سے بحث ہے اور اس میں محمدبخش اور اس کے امثال کاجواز ثابت کیا ہے۔ یہ تینوں رسالے ابھی طبع نہ ہوئے۔ علامہ عابد سندی مدنی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے طوالع الانور میں اور حاشیہ درمختار میں عبدالنبی و عبدالرسول کاجواز بہت احادیث سے ثابت کیاہے۔ علامہ جمال بن عبداﷲ بن عمر رحمۃ اﷲ علیہ مفتی حنفیہ بمکہ مکرمہ کے فتاوٰی میں بھی اس کاجوازمصرح ہے۔ کنیز ونذر وخادم کے ساتھ نام رکھنے میں بھی حرج نہیں، زمانہ سلف میں رواج نہ ہونا مستلزم ممانعت نہیں دودوتین تین ناموں پرمشتمل نام رکھنا جیسے محمدعلی حسین اس کابھی رواج سلف کھبی نہ تھا سادے ایک لفظ کے نام ہوتے تھے۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۲۷۰ تا ۲۷۲ : ازمرادآباد مرسلہ مولوی محمدعبدالباری صاحب ۷صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) اگرکوئی شخص کسی سنی حنفی رضائی قادری کو لہبڑا کہے جوتصغیر لہبی کی ہے وہابی کاہے تو ایسے شخص کاشرع شریف کے موافق کیاحکم ہے حنفی رضاعی مذکوردرحقیقت ان الفاظ کامحل نہیں تویہ لفظ اسے کہنے والے پرعائد ہوں گے یانہیں؟ اگرنہ ہوں توکہاں جائیں گے؟
(۲) ایساشخص جو ایسے بے جا الزام سنی رضائی پرلگائے اور اس کااکل بھی حلال نہیں بلکہ کھلاہوا مشتبہ اورحرام ہے تواس قول فعل شرع کے احکام میں کہاں تک معتبرہوسکتاہے؟
(۳) یہی شخص کسی مسلمان سے بلاسخت کلامی ودشنام کے گفتگو نہیں کرتا اورکہتاہے مسجد کے لوٹوں میں جوپانی بچناہے وہ قطعی ناپاک ہے یہاں تک کہ اس پانی کو دوسرے برتن وغیرہ میں ڈالو گے تو وہ برتن بھی نجس ہوجائے گا اور مسجد میں اس کے فرش یابوریے پرکبھی نماز نہیں پڑھتا اپنے خاص کپڑے پر جس پرچندہ اور کپڑے ہیں نمازپڑھتاہے اس قسم کے عادات نمازمیں کہاں تک ناجائزہیں؟
الجواب :
(۱) سنی مسلمان کولہبڑا کہنافسق ہے۔ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
سباب المسلم فسوق ۱؎۔
مسلمان کوبلاوجہ شرعی براکہنا فسق ہے۔ اﷲ تعالٰی فرماتاہے :
ولاتنابزوا بالالقاب بئس لاسم الفسوق بعد الایمان ومن لم یتب فاولٰئک ھم الظّٰلمون۱؎۔
مسلمانو! آپس میں ایک دوسرے کو برے لقب سے یاد نہ کرو ایمان کے بعد فسق کیاہی برانام ہے اور جوتوبہ نہ کرے وہی لوگ ظالم ہیں۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الایمان باب خوف المؤمن ان یحبط عملہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲)
(۱؎ القرآن الکریم ۴۹ /۱۱)
آیہ کریمہ بتارہی ہے کہ تم نے مثلاً سنی مسلمان کالقب لہبڑا رکھاتو وہ تمہارے کہنے سے لہبڑا نہ ہوجائے گا مگرتمہارانام بد گیا مومن سے فاسق ہوگیا کتنی بری تبدیلی ہے اور جو توبہ نہ کرے وہی ظالم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲) ایساشخص اگراکل حلال بھی کھاتاہو جب بھی اس کاقول فعل شرع میں معتبرنہیں نہ کہ جبکہ اکل حلال کبھی طرہ ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۳) مسلمان سے سخت کلامی ودشنام کاحکم جواب اول میں گزرا مسجدکے لوٹوں کاپانی ناپاک بتانا باطل ہے اپنامصلّٰی خاس بنظراحتیاط رکھنے میں حرج نہیں بلکہ درمختارمیں اسے افضل بتایا، یہ جبکہ مسجد کی چٹائیوں کواپنی وہم پرستی سے ناپاک نہ جانے اور عام مسلمانوں کو کہ ان پرنمازپڑھتے ہیں خطا پر اپنے سے کم احتیاط وحقیرنہ سمجھے ورنہ وہی حقیر اورپنجہ شیطان کا اثیر ہے۔ والعیاذباﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۳ : ازبھاگلپور
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مولوی اشرف علی کامریدہے، نام اس کا معز الدین، اس نے معیذالدین کسی خط میں لکھا، اس پرایک شخص نے سمجھایا کہ اس طرح پرلکھنے سے معنی بدل جاتاہے اور نعوذباﷲ مسلمانوں کو ایسانام نہیں رکھناچاہئے کیونکہ اس وقت یہ معنی ہوتاہے کہ دین سے پناہ مانگنے والا، لیکن اس کمبخت نے نہ مانا او ریہ کہاکہ میں اپنے حضرت کے پاس برابر اسی املاسے خط لکھتاہوں لیکن حضرت نے کبھی نہ منع فرمایا اور نہ کوئی برائی اس میں بتائی۔ لہٰذا گزارش ہے کہ جو شخص اپنا نام معیذالدین بِالیابعدالعین وقبل الذال رکھے اور صحیح بتائے تو اس کے واسطے شرعاً کیاحکم ہے؟ اور لغت ومحاورہ سے اس کے کیامعنی ہیں؟ پس اس کو بصورت مسئلہ کے خدمت والامیں روانہ کرتاہوں۔
الجواب : علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق دیوبندیوں کانام بنام جن میں تھانوی کانام ہے کافر ومرتد بتایا اور شفائے امام قاضی وبزازیہ ومجمع الانہر وغیرہ کے حوالے سے صراحۃً فرمایا :
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۱؎۔
جوکوی ان کے کفر وعذاب میں شک کرے تو وہ کافرہے۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶)
جو ان کے کفرمیں شک کرے وہ بھی کافرہے نہ کہ وہ جو انہیں مسلمان جانیں، نہ کہ وہ جو انہیں پیرومرشد جانیں، ایسوں کے اقوال وافعال سے کیاسوال۔ معیذالدین کے یہ معنی ہیں ''دین کوپناہ دینے والا'' اور اپنا نام ایساسخت رکھناسخت عظیم تزکیہ نفس وخودستائی ہے اور وہ حرام ہے۔
قال تعالٰی لاتزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا : (لوگو!) اپنی جانوں کی پاکیزگی نہ بتایاکرو اس لئے کہ اﷲ تعالٰی اچھی طرح جانتاہے کہ کون پرہیزگارہے۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۵۳ /۳۲)
ردالمحتار میں ہے :
العارف باﷲ تعالٰی الشیخ سنان فی کتابہ تبیین المحارم ، اقام الطامۃ الکبرٰی علی المستسمین بمثل ذٰلک وانہ من التزکیۃ المنھی عنہا فی القراٰن و من الکذب ۳؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
عارب باﷲ حضرت شیخ سنان نے اپنی کتاب تبیین المحارم میں اس طرح کے نام رکھنے والوں کے خلاف حجت قاہرہ قائم کی(اور فرمایا) یہ ایساتذکیہ اورجھوٹ ہے کہ قرآن مجید میں اس سے منع فرمایاگیاہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۹)