مسئلہ ۲۶۵ : ازکلکۃ دھرم تلا ۱۲۴ مرسلہ جناب محمدیونس صاحب ۸رجب ۱۳۲۷ھ
علمائے دین سے سوال ہے کہ اس شخص کاکیاحال ہے، بکرنے اپنی اولاد کے نام تین زبانوں میں رکھ چھوڑے ہیں عربی انگریزی ہندی، ایک لڑکے کامطیع الاسلام ہے، دوسرے کاپالس، لڑکی کا نام کنول دیوی، جواس سے کہاجاتا ہے توکہتاہے کہ زبان کافرق ہے مگربُرے نہیں۔بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : یہ اس کافعل شیطانی شیطانی حرکت ہے۔ قال اﷲ تعالٰی :
اے ایمان والوا! اسلام میں مکمل طورپرداخل ہوجاؤ اورشیطان کی پیروی نہ کرو کیونکہ وہ تمہاراکھلادشمن ہے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۰۸)
طحطاوی علی الدرالمختار وابوالسعود الازہری علی الکنزمیں ہے :
قسم یختص بالکفار کجرجس وپطرس ویوحنا، فھذا لایجوز للمسلمین التسمی بہ لما فیہ من المشابھۃ ۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
ناموں کی ایک قسم کفار سے مختص ہے جیسے جرجس، پطرس اوریوحنا وغیرہ لہٰذا اس نوع کے نام مسلمانوں کے لئے رکھنے جائزنہیں کیونکہ اس میں کفار سے مشابہت پائی جاتی ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الجہاد فصل فی الجزیہ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۲ /۴۷۲)
مسئلہ ۲۶۶ : ازنینی تال کاشی پور ڈاکٹراشتیاق علی بروزیک شنبہ ۱۸صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
بعض لوگ اپنے نام کے آگے صدیقی اوررضوی لکھاکرتے ہیں جیسے سعیداﷲ صدیقی واشتیاق علی رضوی، تویہ لکھناجائزہے یانہیں؟ اگرلکھاجائے توکچھ کناہ ہے؟فقط۔
الجواب : اگرنسبت صحیح ہے جائز ورنہ حرام۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۶۷ : مرسلہ محمدفیاض الرحمن صاحب روڑ کی کیمپ ۲۲ربیع الآخر ۱۳۳۵ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداپنے نام کے ساتھ اسرائیلی لکھتاہے جس طرح اورلوگ قریشی صدیقی چشتی وغیرہ لکھتے ہیں کیالفظ اسرائیلی ایک حنفی المذہب شخص کے لئے صرف نسبت ظاہرکرنے کوجائز ہوتا ہے؟ مناسب ہے کہ بنی اسرائیل کی کچھ تفصیل کردی جائے کیونکہ اکثرلوگ زید پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ نسبت ایک حنفی المذہب کے لئے ناجائز ہے، جبکہ زید کچھ تھوڑی تفصیل یہ بیان کرتاہے کہ حضرت یعقوب کادوسرا اسم گرامی اسرائیل تھا جن کے خاندان میں ہم لوگ ہیں امید کہ حضور عالی تشریح اورتفصیل کے ساتھ جلدسے جلد بیان فرمائیں تاکہ اگرکوئی گناہ ہو تو فوراً اس نسبت وترک کردیاجائے۔
الجواب: اسرائیل سیدنایعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کانام مبارک ہے۔
قال اﷲ تعالٰی: کل الطعام کان حلالبنی اسرائیل الاماحرم اسرائیل علی نفسہ من قبل ان تنزل التورٰۃ ۲؎۔
سب کھانے بنی اسرائیل کے لے حلال تھے مگر وہ چیزجواسرائیل (حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام) نے نزول تورات سے پہلے اپنی ذات پر حرام ٹھہرالی(اونٹ کاگوشت اوردودھ وغیرہ)۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۳ /۹۳)
زیداگرنسباً بنی اسرائیل سے ہے تو اس کا اپنے آپ کواسرائیلی کہنابجاہے اور اس کے ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں البتہ اب یہ لفظ مسلمانوں میں اجنبی ساہوگیا ہے لوگ اسرائیلی کومحمدی کے مقابل سمجھتے ہیں اور اجلہ اکابر کے کلام پاک میں یہ مقابلہ آیا ہے،
حضورسیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا :
یا اسرائیل قف واسمع کلام المحمدی ۱؎۔
ٹھہرجائیے اسے اسرائیلی! ذرامحمدی نسبت رکھنے والے (یعنی ایک مسلمان محمدی) کاکلام سن لیجئے(ت)
(۱؎ بہجۃ الاسرار عن قول الرجل ای شیئ اعملہ مصطفی البابی مصر ص۷۴)
نسبت نسب ومذہب دونوں اعتبارسے ہوتی ہے اور یہاں بحسب نسب یہ نسبت بہت کم مسموع، لہٰذاعوام مسلمین اسے سن کرچونکتے ہیں اوربلاضرورت ایسی بات پراقدام شرع مطہر کوپسندنہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
بشّروا ولاتنفّروا۲؎۔
(لوگو!) خوشخبری سنایاکرو لہٰذا ایک دوسرے کو نفرت نہ دلایاکرو(ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم علیہ یتحولہم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶)
دوسری حدیث میں ہے :
ایاک ومایسوء الاذن۳؎۔
اس سے بچو جوکانوں کوبری لگے (یعنی غیبت سے بچو)(ت)لہٰذاپنے نام کے ساتھ یہ نسبت لکھنی نامناسب وقابل ترک ہے مگرگناہ وحرام اب بھی نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۳؎ مسنداحمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغاویۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۷۶)
مسئلہ ۲۶۸ : از امرتسر کڑہ گرباسنگھ متصل مسجدکنجری والی دروازہ بھگتا نوالہ مرسلہ منشی نبی بخش ۲۳شعبان ۱۳۳۵ھ
حامی سنت، ماحی بدعت، مجددزماں جناب مولاناصاحب بفضل اولٰینا دامت فیوضہم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ بعد سلام مسنون الاسلام کے خداوندکریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آنجناب کاوجود مبارک واسطے گنہگاروں کی ہدایت کے، اوراشرار ودشمنان دین محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مکروفریب کوملیامیٹ کرنے کے لئے پیداکیا۔ دعاہردم ہے کہ خداوندکریم تا زمانہ ابد الدہرآنجناب کوسلامت باکرامت رکھے۔ بعدازاں خدمت بابرکت میں ملتمس ہوں کہ بندے کانام نبی بخش ہے۔ چونکہ فرقہائے اشرار زمانہ خصوصاً گروہ وہابیہ میں یہ مرض ہے کہ مسلمانوں سے بات بات کی مخالفت کرتے ہیں اگرچہ ان کاسراسر نقصان ہی ہوتا ہے۔ بندے کانام توپہلے ہی وہابیوں کے جلانے کے لئے تھا لیکن بندے نے ان کو اور بھڑکاناچاہا یعنی اپنانام بجائے نبی بخش کے عبدالنبی کردیا۔ نام تبدیل کرنے سے پہلے بندے نے ازحد غورکرلیاجتناکہ ہوسکاکہ کہیں ان کی مخالفت میں اپنانقصان نہ ہو یعنی کئی مسلمانوں کانام عبدالمحمد، عبدالنبی، عبدالرسول لکھاہوادیکھالیکن وہ سب مولوی عالم ہیں اور بندہ محض بے علم ہے، اور سب سے بڑھ کر
قولہ تعالٰی قل یاعبادی۱؎الخ
پڑھ کربے فکرہوکر نام تبدیل کردیا جوکہ ایک عرصہ تک لکھتا رہا لیکن جناب شاہ صاحب جوکہ بندے کے دینیات کے استاد ہیں کسی شخص نے ان کی خدمت میں ذکرکیا کہ منشی نبی بخش جوخط وہابیوں کولکھتاہے اس میں ان کوجلانے کے لئے اپناعبدالنبی لکھ دیتاہے۔ پھر اس شخص نے بندے کو آکر کہاکہ جناب شاہ صاحب فرماتے تھے کہ نبی بخش ازحد غلطی کرتاہے کیونکہ خداونکریم کابندہ بننا توآسان ہے لیکن جناب رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کابندہ ہوجانا ازحد مشکل ہے بلکہ ایسا نام لکھنا آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بے ادبی کرناہے۔ اور انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ جناب حضرت مولانا احمدرضاخان صاحب باوجود مجدد زماں ہونے کے اپنااسم مبارک عبدہ المذنب عبدالمصطفٰی لکھاکرتے ہیں جب سے بندہ نے اس شخص سے یہ بات سنی اسی وقت سے عبدالنبی نہیں لکھا کیونکہ جناب حضرت سیدشاہ صاحب ازحد فقیہ عالم فاضل تصوف میں کامل شریعت میں پکے ہیں بندے کو ان کافرمان ماننے میں ذرابھی عذرنہیں لیکن کہنے والادوسرا شخص ہے شاید اس نے سمجھنے میں غلطی کھائی ہو اور بندے میں باعث رعب شاہی کے اتنی جرأت نہیں کہ جناب شاہ صاحب سے دریافت کر سکے لہٰذا خدمت بابرکت میں مؤدبانہ ملتمس ہوں کہ جناب براہ بندہ نوازی ارشاد فرمادیں کہ بندہ اپنا نام عبدالنبی لکھ سکتاہے یانہیں؟ اور جوشخص پہلے اپنانام عبدالرسول، عبدالمحمد لکھتے ہیں وہ کیوں لکھتے ہیں؟ ایسے طور پر جواب تحریر فرمادیں کہ بندہ سمجھ سکے اورہدایت پائے اور جواپنانام بندہ عبدالنبی لکھ سکوں تو کس طرح لکھ سکتاہوں، کوئی بغیر تبدل یاکوئی لفظ زیادہ کرناپڑے گا یانہیں؟ امید ہے آنجناب جلدی جواب ارسال فرمائیں گے، والسلام
(۱؎ القرآن الکریم ۳۹ /۵۳)
الجواب: ہرمسلمان پرلازم ہے کہ اپنے آپ کو حضوراقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کامملوک جانے، تمام عالم ہی ان کے رب عزوجل کی عطا سے ان کی ملک ہے،
شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثناعشریہ میں توریت مقدس سے نقل فرماتے ہیں کہ رب عزوجل حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت فرماتاہے :
ملک الارض و رقاب الامم۲؎۔
احمدمالک ہیں تمام زمین اور مالک ہیں سب امتوں کی گردنوں کے۔
شاہ ولی اﷲ صاحب ازالۃ الخفامیں حدیث نقل کرتے ہیں امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے صحابہ کرام کوجمع فرماکر اس مجمع کے سامنے خطبہ میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاذکرشریف کرکے فرمایا :
کنت عبدہ وخادمہ کالسیف المسلول بین دیہ ۱؎۔
میں حضورکاعبدتھا بندہ تھاخادم تھا اورحضور کے سامنے تیغ برہنہ کی طرح تھا۔
(۱؎ المستدرک للحاکم کتاب العلم خطبہ عمربعدماولی علی الناس دارالفکر بیروت ۱ /۱۲۶)
امام طحاوی شرح معانی الآثار میں روایت فرماتے ہیں حضرت اعشی مازنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے خدمت اقدس میں حاضرہوکر عرض کی :
یامالک الناس ودیّان العرب۲؎۔
اے تمام آدمیوں کے مالک اورعرب کے جزاوسزادینے والے۔
(۲؎ شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الشعر ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۱۰)
شفاء امام قاضی عیاض ومواہب لدنیہ امام احمد قسطلانی میں ہے حضرت سیدنا سہل بن عبداﷲ تستری رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
من لم یرنفسہ فی ملک النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یذق حلاوۃ سنّتہ۲؎۔
جواپنے آپ کونبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کامملکوک نہ جانے اس نے ان کی سنت کامزہ نہ چکھا۔
(۳؎ المواہب اللدنیۃ المقصد السابع الرضی بماشرعہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۹۹ و ۳۰۰)