مسئلہ ۲۵۵ : ازبنگالہ ضلع جسرڈاکخانہ محمودپور موضع دہنوائل مرسلہ عزیزالرحمن ۲۰جمادی الآخرہ ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں، جانوروں کاخصی کرانا جیسے بیل، بکرا، مرغ وغیرہ جائزہے یانہیں؟ اگرجائزہے تو کس طرح پر؟ اور یہ طریقہ کہاں سے ہے اور کس نے جاری کیا؟
الجواب : جانوروں کے خصی کرنے سے اگرکوئی منفعت جائزہ مقصودہویاگوشت اچھاہونا جیسابیل، بکری وغیرہ میں مقصود ہوتاہے یاشرارت دفع کرنا جیساکہ گھوڑے وغیرہ میں قصد کیاجاتاہے جب تو جائزہے ورنہ حرام، صرف گھوڑے کے باب میں علماء ممانعت کی طرف گئے، مگرتحقیق یہ ہے کہ منفعت کے لئے ہوتو وہ بھی جائزہے البتہ آدمی کوخصی کرنا مطلقاً حرام ہے۔ اوریہ طریقہ خصی کرنے کامشہور ومعروف اورزمانہ اسلام آنے سے پشترجاری ہے۔
فی الدرالمختار جازخصاء البھائم حتی الھرۃ واما خصاء الاٰدمی فحرام قیل والفرس وقیدوہ بالمنفعۃ و الافحرام ۱؎،
درمختارمیں ہے کہ جانوروں کوخصی کرنا جائزہے یہاں تک کہ بِلّے کوخصی کرنابھی مباح اورجائزہے، جہاں تک انسان کاتعلق ہے اسے خصی کرنے کی اجازت ہرگزنہیں، مرد کوخصی کرنا حرام ہے، یہ بھی کہاگیا ہے کہ گھوڑے کوخصی کرنا حرام ہے، اور اس کے خصی کئے جانے کے جواز کوعلماء کرام نے اس کے فائدے کے ساتھ مشروط اورمقیدکیاہے ورنہ اس کوخصی کرنا حرام کہاہے۔
(۱؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۶)
فی ردالمحتار قولہ قیل الفرس ذکر شمس الائمۃ الحلوانی انہ لاباس بہ عند اصحابنا وذکرشیخ الاسلام انہ حرام ،قولہ وقیدوہ ای جواز خصاء البھائم بالمنفعۃ وھی ارادۃ سمنھا اومنعھا عن العض بخلاف بنی آدم فانہ یراد بہ المعاصی فیحرم، افادہ الاتقانی عن الطحاوی۱؎اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فتاوٰی شامی میں مصنف کے قول قیل الفرس کے ذیل کیاہے کہ ہمارے اصحاب گھوڑے کو خصی کرنا جائزقراردیتے ہیں البتہ شیخ الاسلام نے بیان فرمایاکہ یہ حرام ہے۔ مصنف کاقول قیدوہ یعنی جانوروں کوخصی کرنے کاجواز کسی منفعت سے مقیدہے مثلاً جانور کوموٹا اورطاقتوربنانایا یہ کہ وہ شوخی اورشرارت سے بازآجائے گا بخلاف بنی آدم کے کہ اس کے خصی ہونے یاکئے جانے سے کئی قسم کے گناہ جنم لیں گے۔ علامہ اتقانی نے امام طحاوی کے حوالے سے یہ حکمت پیش کی ہےاھ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۹)
مسئلہ ۲۵۶: ۹ربیع الاول شریف :
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کبوتر اڑانا اورپان اورمرغ بازی، بٹیر بازی، کنکیّابازی اور فروخت کرنا کنکیّا اوڈور اور مانجھا جائزہے یاناجائز؟ اوران لوگوں سے سلام علیک کرنا اور سلام کا جواب دینا واجب ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : کبوترپالناجائزہے جبکہ دوسروں کے کبوترنہ پکڑے، اورکبوتراُڑاناکہ گھنٹوں ان کو اُترنے نہیں دیتے حرام ہے اور مرغ یابٹیر کالڑانا حرام ہے۔ ان لوگوں سے ابتداء بسلام نہ کی جائے جواب دے سکتے ہیں، واجب نہیں۔ کنکیّا اڑانے میں وقت ، مال کاضائع کرناہوتاہے۔ یہ بھی گناہ ہے اور گناہ کے آلات کنکیّا ڈوربیچنا بھی منع ہے احتراز کریں تو ان سے بھی ابتداء بسلام نہ کی جائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۵۷ : اگربلی یاکتا وغیرہ آدمیوں کی چیز کانقصان کرتے ہوں یاکاٹ کھاتے ہوں توان کامارڈالناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : کاٹتے ہوں تو درست ہے قتل ان کا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۵۸ تا ۲۶۰ : ازشہرکہنہ ۱۲ رجب ۱۳۳۵ھ بارہ دری مسئولہ مصطفی علی خاں
جناب مولوی صاحب بعدادائے آداب کے گزارش یہ ہے کہ آپ کی خدمت میں آدمی بھیجتاہوں مہربانی فرماکر سوالوں کاجواب عنایت فرمادیجئے:
(۱) کنکیا اگرآکرگھرپرگرجائے اورمعلوم نہ ہوکہ کس کی ہے لے لینے سے گناہ تونہیں؟
(۲) کنکیا اُڑاناگناہ ہے یانہیں؟
(۳) بلی تکلیف دیتی ہو توا س کوبستی میں چھڑوانا گناہ تونہیں ہے؟
الجواب :
(۱)کنکیا لُوٹناحرام، اورخودآکرگرجائے تو اسے پھاڑڈالے، اوراگرمعلوم نہ ہو کہ کس کی ہے توڈور کسی مسکین کودے دے کہ وہ کسی جائزکام میں صَرف کرلے، اورخودمسکین ہوتواپنے صرف میں لائے، پھرجب معلوم ہوکہ فلاں مسلم کی ہے اور وہ اس تصدق یا اس مسکین کے اپنے پرراضی نہ ہو تودینی آئے گی اور کنکیا کا معاوضہ بہرحال کچھ نہیں۔
(۲)کنکیا اڑانا منع ہے اورلڑانا گناہ۔
(۳) بلی اگرایذادیتی ہو تو اسے باہرچھوڑدینے میں حرج نہیں اورتیزچھُری سے ذبح بھی کرسکتے ہیں مگر چھڑوانا ایسی جگہ جائزنہیں جہاں سے وہ اپنے کسی رزق تک نہ پہنچ سکے۔ فقط۔
مسئلہ ۲۶۱ : ازمقام گونڈل علاقہ کاٹھیاوار مرسلہ قاضی قاسم میاں ۱۱صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تواریخ حبیب الٰہ ص ۹۲ میں بحوالہ مشکوٰۃ شریف بروایت حضرت ابوسعیدخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ نقل ہے کہ حضور اقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک قصہ نوجوان انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کو ارشاد فرمایا کہ مکانوں میں ایک قسم کے سانپ ہوتے ہیں کہ عوامر کہلاتے ہیں جب سانپ مکان میں نمودارہو تو تودیکھتے ہی نہ مارڈالو کہ تین دن اسے کہہ دو کہ پھرنہ نکلیو ، پھراگر وہ دکھائی دے تو اسے مارڈالو۔ دریافت طلب یہ ہے کہ اس طرح کہہ کرکیا سانپ کوچھوڑدیاجائے یامارڈالناچاہئے؟ کیاجن بھی سانپ کی شکل نمودار ہوتے ہیں اور ان کی کچھ نشانی ہے یانہیں؟
الجواب : یہ حکم حدیث میں مدینہ طیبہ کے لئے تھا اورجگہ اس کی حاجت نہیں
کماحققہ الامام الطحاوی فی شرح معانی الآثار
(جیسا کہ امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۶۲ : ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ مولوی محمدافضل صاحب ۱۶صفر۱۳۳۸ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ بوزینہ رادرخانہ خودپرورش کردن مکروہ ہست یانہ؟
علمائے دین اس مسئلہ میں کیاارشاد فرماتے ہیں کہ بندر کو اپنے گھرمیں پالنا مکروہ اورناپسندیدہ کام ہے یانہیں۔(ت)
الجواب : بلے زیراکہ او ازفسقہ است واز وے جز ایذا نیاید واگربارے مسخرخواہد چنانکہ قلندران می کنند ایں خود حرامست کما فی الدرالمختار، وھو تعالٰی اعلم۔
ہاں بیشک(اس کاپالنامکروہ ہے) اس لئے کہ وہ فاسق جانوروں میں شمارہے۔ پس اس سے سوائے ایذارسانی اورکچھ نہیں ہوتا، اگرکبھی تابع کیاجائے جیساکہ قلندرلوگ (آزادمنش) کیاکرتے ہیں تویہ بھی حرام ہے جیسا کہ درمختارمیں مذکورہے۔وھوتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۶۳ : ازفریدپور مرسلہ جناب جدالحسین صاحب مورخہ ۲۲جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرگائے یابھینس کابچہ مرجائے اور اس بچہ کے چمڑے کوسکھاکربصورت بچہ کے بناکر اورگائے کے سامنے رکھا، دودھ دوہنا جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : جائزہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۶۴ : ازمیڑتاروڈ مارواڑ ریاست جودھپور مسئولہ عبدالقادر صاحب ۲۶جمادی الاولٰی
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین کہ چیونٹیوں کودانہ ڈالنا جائزہے یاناجائز؟ تحریرفرمائیں، ایک شخص ایک مولوی کے پاس گیا اور کہا کہ میں تنگ دست ہوں، مولانافرمانے لگے چیونٹیوں کودانہ ڈالاکرو۔ اس نے یہ فعل کیا، یہ ثواب ہے یانہیں؟
الجواب : جائز وکارثواب ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
فی کل ذات کبدرطبۃ اجر رواہ الشیخان ۱؎ عن ابی ھریرۃ واحمد عن عبداﷲ بن عمرووکابن ماجۃ عن سراقۃ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہرجاندار کی خدمت کرنے میں اجرہے، بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے اس کو روایت کیا، اور امام احمد نے عبداﷲ بن عمرو سے اور ابن ماجہ نے سراقہ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے اس کو روایت کیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب المظالم باب الدبارعلی الطریق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۳)
(صحیح مسلم کتاب السلام باب فضل سقی البہائم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۷)