Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
145 - 160
مسئلہ ۲۵۴:  ۲۰ربیع الآخرشریف  

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ سگ کاپالناجائزہے یانہیں؟ اورکبوتر پالنا بِلااڑانے کے، بٹیربازی ومرغ بازی وشکرہ وبازپالنا اور ان سے شکارپکڑوانا اورکھانا درست ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب :  شکراوب ازپالنادرست ہے، اور ان سے شکار کرانا اوراس کاکھانا بھی درست ہے
لقولہ تعالٰی وماعلمتم من الجوارح۲؎ الآیۃ۔
اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کی وجہ سے ''اورجن زخمی کرنے والے جانوروں کوتم نے شکار کرنے کاطریقہ سکھارکھاہے۔(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم    ۵ / ۴)
مگریہ ضرورہے کہ شکارغذا ودوا یاکسی نفع صحیح کی غرض سے ہو، محض تفریح ولہوولعب نہ ہو، ورنہ حرام ہے، یہ گنہگار ہوگا، اگرچہ ان کاماراہواجانور جبکہ وہ تعلیم پاگئے ہوں اور بسم اﷲ کہہ کرچھوڑا ہو حلال ہوجائے گا
فان حرمۃ فی کونہ ذکاۃ شرعیۃ لکن سمی اﷲ تعالٰی وضرب الغنم من قفاہ حر الفعل وحل الاکل۔
کسی شکاری جانور کومحض تفریح طبع کے طورپر شکار کرنے کے لئے چھوڑنے کی حرمت اس کے شرعی طورپرذبح ہونے کے منافی یامخالف نہیں لیکن اﷲ تعالٰی کانام لے کرچھوڑے جیسے کسی شخص نے اﷲ تعالٰی کانام لے کربکری کی گدّی کی طرف سے ضرب لگائی اگرچہ فعل حرام ہے مگر اس کاکھانا حلال ہے۔(ت)

اوربٹیر بازی، مرغبازی اور اسی طرح ہرجانور کالڑانا جیسے مینڈھے لڑاتے ہیں لعل لڑاتے ہیں یہاں تک کہ حرام جانوروں مثلاً ہاتھیوں ریچھوں کالڑانا بھی سب مطلقاً حرام ہے کہ بلاوجہ بے زبانوں کوایذاہے،
حدیث میں ہے :
نھٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن التحریش بین البھائم اخرجہ ابوداؤد والترمذی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما وقال الترمذی حسن صحیح ۱؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جانوروں کے لڑانے سے منع فرمایا (امام ابوداؤد اورامام ترمذی نے اس کوحضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے روایت کیا اور امام ترمذی نے فرمایا : حدیث حسن صحیح ہے۔ت)
 (۱؎ جامع الترمذی     ابواب فضائل الجہاد     باب ماجاء فی التحریش بین البہائم     امین کمپنی دہلی      ۱ /۲۰۴)

(سنن ابی داؤد         کتاب الجہاد         باب ماجاء فی التحریش بین البہائم    آفتاب عالم پریس لاہور     ۱ /۳۴۶)
کبوتر پالنا جبکہ خالی دل بہلانے کے لئے ہو اور کسی امرناجائز کی طرف مؤدی نہ ہوجائزہے اور اگرچھتوں پرچڑھ کراڑائے کہ مسلمانوں کی عورات پرنگاہ پڑے یا ان کے اڑانے کوکنکریاں پھیکنے جوکسی کاشیشہ توڑیں یاکسی کی آنکھ پھوڑیں یاکسی کادم بڑھائے اورتماشا ہونے کے لئے دن بھر انہیں بھوکا اُڑائے جب اُترنا چاہیں نہ اُترنے دیں ایساپالنا حرام ہے
،درمختارمیں ہے :
یکرہ امساک الحمامات ولو فی برجھا ان کان یضربالناس بنظر او جلب والاحتیاط ان یتصدق بھا ثم یشتریھا اوتوھب لہ، مجتبی، فان کان یطیرھا فوق السطح مطلعاً علی عورات المسلمین و یکسر زجاجات الناس برمیہ تلک الحمامات عزر  ومنع اشدالمنع فان لم یمتنع ذبحھا المحتسب وصرح فی الوھبانیۃ بوجوب التعزیر وذبح الحمامات ولم یقیدہ بما مر ولعلہ اعتمد عادتھم واما للاستیناس فمباح ۱؎اھ ۔
کبوتروں کوروک رکھنا اگرچہ ان کے برجوں میں ہو مکروہ ہے اگرلوگوں کونقصان پہنچاہودیکھنے یا پکڑنے کی وجہ سے، اور احتیاط یہ ہے کہ انہیں خیرات کردیاجائے  پھرانہیں خریدے یا اسے ہبہ کئے جائیں، مجتبٰی، پھراگرچھتوں پرچڑھ کر اڑانے کہ مسلمانوں کی پردہ دار خواتین  پرنگاہ پڑے یا انہیں اڑانے کے لئے کنکرپھینکنے جن سے لوگوں کے گھروں کی کھڑکیوں روشندانوں کے شیشے ٹوٹنے کی نوبت آئے تو یہ سخت منع ہے اور اگر اس حرکت سے بازنہ آئے توحاکم شہر انہیں ذبح کراڈالے۔ اوروہبانیہ میں تصریح ہے کہ اس صورت میں سزادینا اورکبوتروں کو ذبح کرڈالنا واجب ہے اور اس نے گزشتہ قید کا ذکرنہیں کیا شاید اس نے فقہائے کرام کی عادت پراعتمادکیاہے اور اگرکبوترپروری صرف دل بہلانے اور انس کے لئے ہوتو مباح ہےاھ  (ت)
 (۱؎ درمختار             کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع             مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۲۴۹)
صحیح بخاری وغیرہ میں عبداﷲ بن عمر اورصحیح ابن حبان میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
دخلت امرأۃ النار فی ھرۃ ربطتھا فلم تطعمھا ولم تدعھا تاکل من خشاش الارض۲؎۔
ایک عورت دوزخ میں گئی ایک بلی کے سبب کہ اسے باندھا رکھاتھا، نہ اسے کھانادیانہ چھوڑاکہ زمین کے چوہے وغیرہ کھالیتی۔
 (۲؎ صحیح البخاری         کتاب بدؤالخلق     باب خمس من الدواب فواسق الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۶۷)
ابن حبان کی حدیث میں ہے :
فھی اذا قبلت تنھشھا قبلھا واذا ادبرت تنھشھا۳؎۔
وہ بلی دوزخ میں اس عورت پرمسلط کی گئی ہے کہ اس کا آگا پیچھا دانتوں سے نوچ رہی ہے۔
 (۳؎ الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان     فصل فیما یتعلق بالدواب      مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۸ /۴۵۵)

(مواردالظمآن         باب صلٰوۃالکسوف     حدیث ۵۹۵ و ۵۹۶        المطبعۃ السلفیہ     ص۱۵۷)
ایک حدیث میں حکم ہے کہ جوجانور پالو  دن میں ستربار سے دانہ پانی دکھاؤ نہ کہ گھنٹوں  پہروں بھوکا پیاسا رکھو اورنیچے آناچاہے تو آنے دو۔
علماء فرماتے ہیں جانورپرظلم کافرذمی پرظلم سے سخت ترہے اورکافر ذمی پرمسلمان ظلم سے اشد
کما فی الدرالمختار۴؂  وغیرہ
 (جیساکہ درمختاروغیرہ میں ہے۔ت)
 (۴؎ درمختار    کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع             مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۲۴۹)
اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الظلم ظلمٰت یوم القیامۃ ۱؎۔
ظلم ظلمتیں ہوگاقیامت کے دن۔
(۱؎ صحیح بخاری     ابواب المظالم والقصاس باب الظلم ظلمات یوم القٰیمۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۳۱)
اوراﷲ تعالٰی فرماتاہے:
ان لعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین۲؎۔
سن لو اﷲ کی لعنت ہے ظلم کرنے والوں پر۔
 (۲؎ القرآن الکریم ۷ /۴۴)
کتاپالناحرام ہے، جس گھرمیں کتاہو اس گھرمیں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا، روز اس شخص کی نیکیاں گھٹتی ہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتدخل الملٰئکۃ بیتا فیہ کلب ولاصورۃ۔ رواہ احمد۳؎ والشیخان والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی طلحۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
فرشتے نہیں آتے اس گھرمیں جس میں کتا یا تصویرہو۔ (امام بخاری، مسلم، احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے اس کو حضرت ابوطلحہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالہ سے روایت کیاہے۔ت)
 (۳؎ صحیح البخاری     کتاب بدء الخلق   ۱/ ۴۵۸ وکتاب المغازی  ۲ /۵۷۰ وصحیح مسلم کتاب اللباس ۲ /۲۰۰)

(جامع الترمذی     ابواب الاب ۲ /۱۰۳ وسنن النسائی ابواب الصید     ۲ /۱۹۳)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من اقتنی کلبا الا کلب ماشیۃ اوضاریا نقص من عملہ کل یوم قیراطان۔ رواہ احمد۴؎ والشیخان والترمذی والنسائی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
جوکتاپالے مگرگلی کاکتا یاشکاری، روز اس کی نیکیوں سے دوقیراط کم ہوں (ان قیراطوں کی مقداراﷲ ورسول جانے جل جلالہ، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) (امام احمد، بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی سند کے ساتھ اس کو روایت کیاہے۔ت)
 (۴؎ صحیح البخاری     کتاب الذبائح ۲ /۸۲۴    و صحیح مسلم کتاب المساقات     ۲/ ۲۱)

(جامع الترمذی     ابواب الصید ۱ /۱۸۰     و سنن النسائی ابواب الصید     ۲ /۱۹۴)

(مسندامام احمدبن حنبل عن ابن عمر ۲ /۴،۳۷۰، ۴۷،۶۰)
توصرف دوقسم کے کتے اجازت میں رہے ایک شکاری جسے کھانے یادوا وغیرہ منافع صحیحہ کے لئے شکار کی حاجت ہو، نہ شکار تفریح کہ وہ خود حرام ہے، دوسرا وہ کتا جوگلے یا کھیتی یا گھر کی حفاظت کے لئے پالاجائے اور حفاظت کی سچی حاجت ہو، ورنہ اگرمکان میں کچھ نہیں کہ چورلیں یامکان محفوظ جگہ ہے کہ چور کااندیشہ نہیں، غرض جہاں یہ اپنے دل سے خوب جانتاہو کہ حفاظت کابہانہ ہے اصل میں کتے کاشوق ہے وہاں جائزنہیں، آخرآس پاس کے گھروالے بھی اپنی حفاظت ضروری سمجھتے ہیں اگربے کتے کے حفاظت نہ ہوتی تووہ بھی پالتے، خلاصہ یہ کہ اﷲتعالٰی کے حکم میں حیلہ نہ نکالے کہ وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter