اورطریقے انذاروتحذیر کے مختلف ہیں، ایک یہ کہ یوں کہاجائے میں تم کو قسم دلاتاہوں اس عہد کی جو تم سے سلیمان بن داؤدعلیہما السلام نے لیاکہ ہمیں ایذامت دو اور ہمارے سامنے ظاہر مت ہو۔
قال الامام النووی واما صفۃ الانذار فقال القاضی روی ابن حبیب عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ یقول انشد کن بالعھد الذی اخذ علیکم سلیمٰن ابن داؤد ان لاتؤذونا ولاتظھرن لنا ۱؎۔
امام نووی نے فرمایا کہ انذار کی کیفیت کے متعلق قاضی عیاض کا ارشاد ہے کہ ابن حبیب نے حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے روایت فرمائی کہ آپ فرماتے تھے کہ سانپوں کوڈرانے والا یوں کہے کہ میں قسم دلاتاہوں اس عہد کی جو تم سے سلیمان بن داؤد(علیہماالسلام) نے لیاتھا کہ ہمیں تکلیف نہ دو او رنہ ہمارے سامنے آؤ۔(ت)
(۱؎ شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۳۴)
دوسرے یہ کہ اس طرح کہاجائے ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں بوسیلہ عہدنوح وعہدسلیمان ابن داؤدعلیہم السلام کے کہ ہمیں ایذامت دے،
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا ظھرت الحیۃ فی المسکن فقولوا لھا انا نسئلک بعھد نوح وبعھد سلیمان بن داؤد ان لاتؤذینا فان عادت فاقتلوھا رواہ ابوعیسٰی الترمذی ثم قال ھذا حدیث حسن غریب۲؎۔
حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب گھر میں کوئی سانپ دکھائی دے تو اس سے یوں کہو کہ ہم تجھ سے عہدنوح اورعہدسلیمان بن داؤدکے طفیل یہ سوال کرتے ہیں کہ ہمیں ایذا نہ پہنچاؤ(اگر وہ یہ عہد نہ مانیں اوردوبارہ گھر میں ظاہرہوں توانہیں مارڈالو) امام ابوعیسٰی ترمذی نے اس حدیث کوروایت کرکے فرمایا یہ حسن غریب ہے۔(ت)
(۲؎ جامع الترمذی ابواب الصید باب فی قتل الحیات امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۹)
تیسرے یہ کہ میں تمہیں قسم دلاتاہوں اس عہد کی جوتم سے نوح علیہ السلام نے لیا میں تمہیں قسم دلاتاہوں اس عہد کی جو تم سے سلیمان علیہ السلام نے لیا کہ ایذامت دو۔
کما فی سنن ابی داؤد ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سئل عن حیات البیوت فقال اذارأیتم منھن شیأا فی مساکنکم فقولوا انشد کن العھد الذی اخذ علیکن سلیمان ان لاتؤذوا فان عدن فاقتلوھن ۱؎۔
جیسا کہ سنن ابی داؤد میں ہے کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے گھروں میں رہنے والے سانپوں کے متعلق پوچھاگیاتوفرمایا کہ جب تم لوگ اپنے گھروں میں سانپوں کی طرح کوئی چیزدیکھو تو ان سے یوں کہو کہ میں تمہیں اس عہد کی قسم دلاتاہوں جوتم سے حضرت نوح نے لیاتھا میں تمہیں اس عہد کی قسم دلاتاہوں جوتم سے حضرت سلیمان نے لیاتھا (ان دونوں پرسلام) کہ ہمیں ایذامت دو۔(ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الآداب باب فی قتل الحیات آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۷)
چوتھے یہ کہ لوٹ جاخداکے حکم سے۔
پانچویں یہ کہ مسلمان کی راہ چھوڑدے۔
قال الطحاوی یقال لہا ارجعی باذن اﷲ تعالٰی او خلی طریق المسلمین ۲؎اھ ملخصاً وغیرذٰلک۔
امام طحاوی نے فرمایا کہ سانپ سے یوں کہاجائے کہ تواﷲ تعالٰی کے حکم سے واپس چلاجا، یا یوں کہاجائے کہ مسلمانوں کاراستہ چھوڑدے، یا اس کے کچھ اور الفاظ کے ذریعے اس چلے جانے کوکہےاھ ملخصاً(ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر بحوالہ الطحاوی الفن ثالث احکام الجان ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۱۸۳)
بالجملہ قتل سانپ کامستحب اورسپید اورساکن بیوت مدینہ کاسوا ذوالطیفتین اورابتر کے بے انذاروتحذیر کے ممنوع ہے مگرطحاوی کے نزدیک بے انذار میں بھی کچھ حرج نہیں او رانذار اولٰی ہے۔
فی الاشباہ والنظائر قال الطحاوی لابأس ان بقتل الکل لانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عاھدالجن ان لایدخلوا بیوت امتہ ولایظھروا انفسھم فاذا خالفوا فقد نقضوا عھدھم فلاحرمۃ لھم اولاولٰی ھو الانذار والاحذار۱؎اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
الاشباہ والنظائر میں ہے کہ امام طحاوی نے فرمایاکہ ہرقسم کے سانپوں کو بغیرڈرائے مارڈالنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ حضورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے جِنّات سے عہدلیاتھاکہ میری امت کے گھروں میں نہ داخل ہونا اورنہ ان کے سامنے ظاہرہونا، جب وہ اس عہد کی مخالفت کریں تو گویا وہ عہدشکنی کے مرتکب ہوئے لہٰذا ان کی حرمت باقی نہ رہی ہاں البتہ انہیں ڈرانا اورہوشیارکرنازیادہ بہترہےاھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر بحوالہ الطحاوی الفن الثالث احکام الجان ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۵۸۴)
مسئلہ ۲۵۳ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیل اوربکرے کو خصّی کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : بالاتفاق جائزہے کہ اس میں منفعت ہے۔ خصی کاگوشت بہترہوتاہے اور خصی بیل محنت کی زیادہ برداشت کرتاہے، اورتحقیق یہ ہے کہ اگرجانورکے خصی کرنے میں واقعی کوئی منفعت یادفع مضرت مقصود ہوتو مطلقاً حلال ہے اگرچہ جانور غیرماکول اللحم ہومثلاً بلی وغیرہ ورنہ حرام ہے، اسی اصل کی بناء پرہمارے گھوڑے کوخصی کرنا بھی جائزجانتے ہیں جبکہ مقصود دع شرارت ہواگرچہ بعض منع فرما تے ہیں:
لمافیہ من تقلیل آلۃ الجہاد اقول الموجود لایعدم والمرھوم لایعتبر الاتری ان العزل یجوز عن الاٰمۃ مطلقا وعن الحرۃ باذنھا بخلاف الاکل فان فیہ اعدام موجود۔
اس لئے کہ اس میں آلہ جہاد کی تقلیل ہے، میں کہتاہوں کہ موجود معدوم نہیں ہوتا اورموہوم کا اعتبارنہیں ہوتا کیاتم نہیں دیکھتے کہ لونڈی سے ''عزل'' علی الاطلاق جائزہے جبکہ آزاد عورت سے اس کی اجازت پرموقوف ہے بخلاف کھانے کے کہ اس میں موجود کومعدوم کرناہے۔(ت)
ہاں آدمی کاخصی کرنا بالاجماع مطلقاً حرام ہے۔درمختارمیں ہے:
چوپایوں کوخصی کرنا جائزہے لیکن آدمی کوخصی کرنا حرام ہے اور کہاگیا کہ گھوڑے کوبھی۔ اورفقہائے کرام نے خصی کرنے میں فائدہ اورنفع کی قید لگائی ہے اور اگریہ نہ ہو تو پھرحرام ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۶)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ قیل والفرس ذکر شمس الائمۃ الحلوانی انہ لاباس بہ عند اصحابنا وذکرشیخ الاسلام انہ حرام۱؎۔ واﷲ تعالٰی علم۔
مصنف کاقول ''والفرس'' شمس الائمہ حلوانی نے ذکرفرمایا کہ گھوڑے خصی کرنے میں ہمارے اصحاب کے نزدیک کوئی حرج نہیں جبکہ شیخ الاسلام نے ذکرفرمایا کہ اسے خصی کرناحرام ہے، ط۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۹)