Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
143 - 160
وفی سنن النسائی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال خمس یقتلھن محرم، الحیّۃ و والفارۃ والحدأۃ والغراب الابقع والکلب العقور ۱؎ وفی سنن ابی داؤد عن ابی ھریرۃ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ  وسلم قال خمس قتلھن حلال فی الحرم الحیۃ والعقرب واحداءۃ والفارۃ والکلب العقور۲؎ ۔
سنن نسائی میں ہے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے رویت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں کہ انہیں محرم مارسکتاہے : (۱) سانپ(۲)چوہا(۳)چیل(۴) سیاہ وسفید نشان والا کوا(۵)کاٹنے والاکتا۔ سنن ابوداؤد میں حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں کہ انہیں حدودِحرم میں بھی مارڈالنا حلال اورجائزہے :(۱) سانپ (۲) بچھو (۳) چیل(۴) چوہا (۵) کاٹ کھانے والا کتا۔
 (۱؎ سنن النسائی     کتاب الحج     باب یقتل المحرم من الدواب     نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۲۵)

(۲؎ سنن ابی داؤد    کتاب المناسک     باب یقتل المحرم من الدواب   آفتاب عالم پریس لاہور     ۱/ ۲۵۴)
وفی صحیح مسلم ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امر محرما بقتل حیّۃ ۳؎ بمعنٰی وفی سنن ابی داؤد عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال اقتلوا الحیات کلھن فمن خاف ثأرھن فلیس منّی۴؎۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضورعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے محرم کومنٰی میں سانپ مارڈالنے کاحکم فرمایانیزسنن ابی داؤد میں حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تمام سانپوں کومارڈالو پھرجوکوئی ان کے خون کے مطالبے سے خوف کھائے وہ مجھ سے نہیں۔(ت)
 (۳؎ صحیح مسلم         کتاب قتل الحیات      قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۲۳۵)

(۴؎ سنن ابی داؤد     کتاب الادب     باب فی قتل الحیات     آفتا ب عالم پریس لاہور     ۲ /۳۵۶)
لیکن قتل اسی سانپ کاکہ سپیدرنگ ہے اور سیدھاچلتاہے یعنی چلنے میں بل نہیں کھاناقبل انداز وتحذیرکے ممنوع ہے،
فی سنن ابی داؤد عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  : اقتلوا الحیات کلھا الاالجان الابیض الذی کانہ قضیب فضۃ ۵؎ وروی الزیلعی عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اقتلوا ذا الطفیتین والابتر وایاکم  والحیۃ البیضاء فانھا من الجن۱؎ وفی الترمذی قال عبداﷲ بن المبارک انما یکرہ من قتل الحیات الحیۃ التی تکون دقیقۃ کانھا فضّۃ ولاتلتوی فی مشیۃ۲؎۔
سنن ابوداؤد میں حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے روایت ہے کہ تمام قسم کے سانپ مارڈالو مگر وہ سفید سانپ جواس طرح نظرآئے کہ گویاوہ چاندی کی چھڑی ہے۔ امام زیلعی نے آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جس سانپ کی پیٹھ پردوسفیدخط ہوں یاوہ چھوٹی دُم والاہو اسے مارڈالو لیکن سفید سانپ کرمارنے سے پرہیزکرو اس لئے کہ وہ جِنّات میں سے ہے۔ جامع ترمذی میں ہے کہ حضرت عبداﷲ ابن مبارک نے فرمایا اس سانپ کو مارڈالنا مکروہ یعنی ناپسندیدہ عمل ہے جو باریک ہوتاہے جو دیکھنے میں چاندی کی طرح ہے اور اپنی چال میں بل کھاتے ہوئے نہیں چلتا۔(ت)
 (۵؎سنن ابی داؤد     کتاب الادب     باب فی قتل الحیات     آفتا ب عالم پریس لاہور   ۲ /۳۵۷)

(۱؎ الاشباہ والنظائر    بحوالہ الزیلعی         الفن الثالث         ادارۃ القرآن کراچی     ۲ /۱۸۳)

(۲؎ جامع الترمذی     ابواب الصید         باب فی قتل الحیات     امین کمپنی دہلی         ۱ /۱۷۹)
اور اسی طرح وہ سانپ جومدینہ کے گھروں میں رہتے ہیں بے انذار وتحذیرکے نہ قتل کئے جائیں مگرذوالطیفتین کہ  اس کی پیٹھ پر دوخط سپید ہوتے ہیں اورابتر کہ ایک قسم ہے سانپ کی کبود رنگ کوتاہ دم، اور ان دونوں قسم کے سانپوں کاخاصہ ہے کہ جس کی آنکھ پر ان کی نگاہ پڑجائے اندھاہوجائے، زنِ حاملہ اگرانہیں دیکھ لے حمل ساقط ہو کہ اس طرح کے سانپ اگرمدینہ طیبہ کے گھروں میں بھی رہتے ہوں تو ان کامارنا بے انذارکے جائزہے۔
فی صحیح مسلم قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان بالمدینۃ نفرا من الجن قداسلموا فمن راٰی شیئا من ھٰذہ العوامر فلیؤذنہ ثلاثا فان بدالہ بعد فلیقتلہ فانہ شیطان۳؎اھ  (والعوامر ھی التی تسکن البیوت تؤذی) وفی روایتہ ان لھذہ البیوت عوامر فاذا رأیتم شیئا ھنا فخرجوا علیھا ثلاثا فان ذھب والافاقتلوہ فانہ کافر۱؎ وفی روایۃ ان بالمدینۃ جنا قداسلموا فاذارأیتم منھم شیأا فاٰذنوہ ثلٰثۃ ایام فان بدالکم بعد ذٰلک فاقتلوہ انما ھو شیطان۲؎ وفی سنن ابوداؤد، وقال القاضی عیاض۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ ایسے جنّات ہیں جومسلمان ہوگئے ہیں لہٰذا جوکوئی گھروں میں ان سے کسی کوآباد دیکھے توتین مرتبہ انہیں آگاہ کردے اگراس کے بعد بھی ان میں سے کوئی دکھائی دے یعنی وہ غائب نہ ہوتو اسے مارڈالاجائے اس لئے وہ شیطان ہے اھ  عوامر وہ ہیں جوگھروں میں رہتے ہیں اورلوگوں کوایذاپہنچاتے ہیں اوراسی کی روایت میں ہے کہ ان گھروں میں کچھ رہنے والے  سانپ ہیں اگرتم ان میں سے یہاں کسی کودیکھو تو اسے تین مرتبہ نکل جانے کاکہو، اگروہ چلاجائے تو فبہا ورنہ اسے مارڈالو کیونکہ وہ کافرہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مدینہ منورہ میں کچھ جِن مسلمان ہوگئے ہیں اگران میں سے تم کسی کوگھروں میں دیکھو تو تین روز تک اسے متنبہ کرتے رہو لیکن اس کے بعد بھی وہ اگردکھائی دے تواسے مارڈالو، اس لئے کہ وہ شیطان ہے۔ اور سنن ابی داؤد میں ہے اورقاضی عیاض نے فرمایا۔(ت)
 (۳؎ صحیح مسلم         کتاب قتل الحیات وغیرہا            قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۲۳۵)

(۱؎ و ۲؎ صحیح مسلم     کتاب قتل الحیات وغیرہا         قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۲۳۵)
لیکن بعض علماء نے قتل ان سانپوں کاکہ گھروں میں رہتے ہیں مطلقاً بے انذار کے ممنوع ٹھہرایاہے اورمنشاء اس کا اطلاق لفظ بیوت ہے بعض احادیث میں ہے :
فی صحیح مسلم کان ابن عمر یقتل الحیات کلھن حتی حدثنا ابولبابۃ بن عبدالمنذر البدری ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھٰی عن قتل جنان البیوت فامسک۳؎ وفی روایۃ نھٰی عن قتل الجنان التی فی البیوت۴؎ انتھت، والجنان بجیم مکسورۃ ونون مفتوحۃ ھی الحیات جمع جان وھی الحیۃ الصغیرۃ وقیل الدقیقۃ الخفیفۃ وقیل الدقیقۃ البیضاء کذا قال النووی ۱؎، وفی روایۃ انہ قدنھٰی عن ذوات البیوت۲؎۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عبداﷲ ابن عمرہرقسم کے سانپوں کومارڈالتے تھے یہاں کہ کہ ابولبابہ بن عبدالمنذر بدری نے بیان فرمایا کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کومارڈالنے سے منع فرمایاہے توپھر وہ اپنے اس عمل سے بازآگئے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کومارڈالنے سے منع فرمایا اھ  حدیث میں لفظ الجِناَن حرف جیم کے زیر اورنون کے زبر کے ساتھ متلفظ ہے جس کے معنی سانپ کے ہیں یہ لفظ جان کی جمع ہے اور جان چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں، اوریہ بھی کہاگیاہے کہ باریک اورہلکا پھلکا سانپ، اور یہ بھی کہاگیاکہ باریک اور سفید سانپ۔ امام نووی نے اسی طرح فرمایاہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کے مارڈالنے سے ممانعت فرمائی۔(ت)
 (۳؎صحیح مسلم     کتاب قتل الحیات وغیرہا         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۳۴)

(۴؎صحیح مسلم     کتاب قتل الحیات وغیرہا         قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲ /۲۳۴)

(۱؎ شرح مسلم للنوی مع صحیح مسلم     کتاب قتل الحیات     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۲۳۵)

(۲؎ صحیح مسلم   کتاب قتل الحیات     قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲ /۲۳۴)
مگریہ مذہب ضعیف غیرمختارہے اور جواب اس کایہ ہے کہ یہاں مرادبیوت سے بیوتِ مدینہ ہیں، نہ بیوت مطلقاً اور احادیث مذکور جن میں اذن بیوت مقیدہے مفسران حدیثوں کے مفسّرہیں۔
قال الامام النووی قال المارزی لاتقتل حیات مدینۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الابانذارھا کماجاء فی ھٰذہ الاحادیث فاذا انذرھا ولم تنصرف قتلھا واماحیات غیرالمدینۃ فی جمیع الارض والبیوت والدور فیندب قتلھا من غیرانذار لععموم الاحادیث الصحیحۃ فی الامر بقتلھاو''قال الامام النووی ایضا'' قالوا فاخذ بھذہ الاحادیث فی استحباب قتل الحیات مطلقا وخصت المدینۃ بالانذار للحدیث الوارد فیھا وسببہ ماصرح بہ فی الحدیث انہ سلم طائفۃ من الجن بھا۳؎اھ
امام نووی نے فرمایا کہ امام مارزی نے فرمایا کہ مدینہ منورہ کے سانپوں کوبغیرمتنبّہ کرنے کے نہ مارا جائے، جیسا کہ ان احادیث میں آیاہے، پھر جب انہیں تنبیہ کرے اور اس کے باوجود وہ غائب نہ ہوں توپھرمارڈالے۔ لیکن جوسانپ مدینہ طیبہ کے علاوہ باقی زمین، مکانات اور گھروں میں رہتے ہوں مستحب ہے کہ انہیں بغیرڈرائے مارڈالاجائے۔ ان صحیح احادیث کی بناپر جوسانپوں کومارڈالنے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں امام نووی نے بھی فرمایا کہ اہل علم نے علی الاطلاق فرمایاہے کہ سانپوں کومار ڈالنے کے استحباب میں ان احادیث کو لیاگیا ہے، البتہ مدینہ منورہ کے سانپوں کی انذار یعنی ڈراوے کے ساتھ تخصیص کی گئی ہے یہ اس حدیث کی بناپرہے جومدینہ شریف کے بارے میں وارد ہوئی اور اس کاسبب وہ حدیث ہے کہ جس میں صراحت کی گئی کہ مدینہ طیبہ میں جِنّات کا ایک گروہ مسلمان ہوگیاہےاھ ۔(ت)
  (۳؎ شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم  کتاب قتل الحیات  قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴)
Flag Counter