مسئلہ ۲۵۱ : ازبلگرام شریف ضلع ہردوئی محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سیدابراہیم ۸ذیقعدہ ۱۳۱۱ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پالنا طیور جیسے طوطا، طوطی، لال، مینا، پِدّی وخروس خانگی کابغرض جی لگنے کے اور لڑوانا ان کا علی الرسم کیساہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : لڑانا مطلقاً ناجائزوگناہ ہے کہ بے سبب ایذائے بیگناہ ہے حدیث صحیح میں ہے :
نھٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن التحریش بین البھائم، رواہ ابوداؤد ۱؎ والترمذی وحسّنہ وصحّحہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جانوروں کو (لڑائی پر) اکسانے اورآمادہ کرنے سے منع فرمایاہے، ابوداؤد اورترمذی نے اس کو روایت کیاہے اورحضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے اس کی تحسین وتصحیح فرمائی۔(ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی التحریش بین البہائم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴۶)
(جامع الترمذی ابواب الجہاد باب فی التحریش بین البہائم امین کمپنی دہلی ۱ /۲۰۴)
اورجانوران خانگی مثل خروس وماکیان وکبوتراہلی وغیرہا کاپالنا بلاشبہ جائزہے جبکہ انہیں ایذاسے بچائے اور آب ودانہ کی کافی خبرگیری رکھے،
خودحدیث میں مُرغ سپید پالنے کی ترغیب ہے :
البیھقی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال قال رسول اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الدیک یؤذن بالصلٰوۃ من اتخذ دیکا ابیض حفظ من ثلٰثۃ من شرکل شیطان وساحر وکاھن۱؎ وفی الباب عن ابی زید الانصاری عند الحارث فی مسندہ وعن انس بن مالک عند ابی الشیخ فی العظمۃ وعن خالد بن معدان مرسلا عندالبغوی فی المعجم وعن امّ المؤمنین وعن انس عند الحارث وعن غیرھم رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
امام بیہقی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مرغ نماز کے لئے اذان دیتاہے جس کسی نے سفید مُرغ پالا وہ تین آفتوں سے محفوظ ہوگیا(شیطان کے شرسے(۲)جادوگرکے شرسے(۳)کاہن کے شرسے۔ اس باب میں حضرت ابوزید انصاری سے روایت ہے جوحارث نے اپنی سندمیں ذکر کی ہے۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے جوابوالشیخ نے العظمۃ میں بیان فرمائی اور خالد نے بن معدان سے مرسلاً (یعنی سند کے ذکرکے بغیر) روایت ہے جوامام بغوی نے المعجم میں ذکرفرمائی۔ اور حارث اوردوسرے ائمہ کے نزدیک ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا اور حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے۔(ت)
(۱؎ کنزالعمال عن ابن عمر رضی اﷲ عنہما حدیث ۳۵۲۷۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۳۳۴)
مگرخبرگیری کی یہ تاکید ہے کہ دن میں ستردفعہ پانی دکھائے
کماورد فی الحدیث
(جیساکہ حدیث میں وارد ہواہے۔ت) ورنہ پالنا اوربھوکاپیاسارکھناسخت گناہے،
فانہ ظلم والظلم علی الحیوان اشد من الظلم علی الذمی الاشد من الظلم علی مسلم کمانص علیہ فی الدر المختار۲؎۔
کیونکہ یہ ظلم ہے اور کسی جانور پرظلم کرنا ذمی (کافر) پرظلم کرنے سے زیادہ سخت ہے جوکہ مسلمان پر ظلم کرنے سے بھی زیادہ سخت ہے، جیسا کہ درمختار میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے
(۲؎ الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹)
وقد قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کفٰی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت، رواہ الامام احمد۱؎ وابوداؤد والنسائی والحاکم والبیھقی عن عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند صحیح۔
اور رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان کے گناہ کے لئے یہی کافی ہے کہ جس کی روزی کا وہ ذمہ دار ہو اس کوضائع کردے۔ امام احمد، ابوداؤد، نسائی، حاکم اوربیہقی نے صحت سند کے ساتھ حضرت عبداﷲ ابن عمرورضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اس کی روایت فرمائی۔(ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب صلۃ الرحم آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۳۸)
(مسند احمدبن حنبل عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۶۰و۱۹۴و۱۹۵)
رہاجانور ان وحشی کاپالنا جیسے طوطی، مینا، لال ، بلبل وغیرہا، عالمگیری میں قنیہ سے اس کی ممانعت نقل کی اگرچہ آب ودانہ میں تقصیرنہ کرے،
جیسا کہ صاحب قنیہ نے کہاکہ کسی نے بلبل پنجرے میں قیدکیاہو اور اگراسے آب ودانہ دے تب بھی جائزنہیں، القنیہ میں اسی طرح مذکورہے(ت)
مگرنص صریح حدیث صحیح واقوال ائمہ نقد و تنقیح سے صاف جواب واباحت مستفادہے جبکہ خبرگیری مذکور بروجہ کافی بجالائے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثلاثون فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۸۱)
مسئلہ ۲۵۲ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قتل کرناسانپ کاجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : قتل سانپ کامستحب ہے، اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کے قتل کاحکم کیاہے یہاں تک کہ اس کے قتل کی حرم میں اورمحرم کوبھی اجازت ہے اور جو خوف سے چھوڑدے اس کے لئے لفظ
لیس منّی۳؎
(وہ شخص مجھ سے یعنی میرے طریقے سے اسے کوئی تعلق نہیں۔ت)
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قتل الحیات آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۶)
حدیث میں وارد،
فی صحیح البخاری قال عبداﷲ بینا نحن مع رسول اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی غار اذ نزلت علیہ والمرسلٰت فالتلقیناھا من فیہ وان فاہ لرطب بھا وخرجت حیۃ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اقتلوھا قال فابتدرناھا فسبقتنا قال فقال وقیت شرکم کما وقیتم شرھا ۱؎۔
بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبداﷲ بن مسعودنے فرمایا کہ ہم ایک دفعہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ غارمیں تھے جبکہ آپ پرسورہ مرسلٰت نازل ہوئی اورہم نے اسی وقت آپ کے منہ مبارک سے اسے حاصل کیا جبکہ آپ کامبارک دہن اس سے تروتازہ تھا،پھراچانک وہاں ایک سانپ نکلا توحضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے مارڈالو۔ ہم نے اس کے مارنے میں بڑی جلدی کی لیکن وہ ہم سے سبقت کرتے ہوئے بھاگ گیا۔ اس آپ نے یہ ارشاد فرمایا وہ تمہارے شر سے بچ گیا اورتم اس کے شر سے بچ گئے۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب ابواب العمرہ باب مایقتل المحرم من الدواب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۷)
(صحیح البخاری بدأالخلق باب خمس من الدواب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۶۷)
(صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ ۷۷ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۵۔۷۳۴)
اور اسی کے مثل مسلم ونسائی نے روایت کیا :
وفی صحیح مسلم، سأل رجل ابن عمر مایقتل الرجل من الدواب وھو محرم قال حدثنی احدی نسوۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یامربقتل الکلب العقور والفارۃ والعقرب والحدیا والغراب والحیۃ قال وفی الصلٰوۃ ایضا ۲؎ ۔
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ایک آدمی حضرت عبداﷲ ابن عمر سے پوچھ رہاتھا کہ جب کوئی آدمی حالت احرام میں ہوتو وہ کون کون سے جانور مارسکتاہے؟ آپ نے فرمایا کہ امہات المومنین میں سے ایک بی بی صاحبہ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے بحالت احرام بعض جانوروں کومارڈالنے کاحکم فرمایا اوروہ بعض یہ ہیں: (۱) کاٹنے والاکتا (۲) چوہا (۳) بچھو(۴) چیل(۵)کوا(۶)سانپ۔ ان سب کومارڈالنے کاآپ حکم فرمایاکرتے تھے اور فرمایا: نماز میں بھی ان کے بارے میں یہی حکم ہے۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الحج باب مایندب للمحرم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۸۲)