Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
141 - 160
رابعاً اقول:  وباﷲ التوفیق
 (میں تعالٰی کی توفیق ہی کے حوالے سے کہتاہوں)

ایک اورنکتہ بدیعہ ہے جس پرتنبہ لازم، یہاں چارصورتیں ہیں:
اول تصویر کی توہین مثلاً فرش پا انداز میں ہونا کہ ا س پرچلیں پاؤں رکھیں یہ جائزہے اورمانع ملائکہ نہیں اگرچہ بنانا بنوانا ایسی تصویروں کابھی حرام ہے
کما فی الحلیۃ والبحر وغیرھما
 (جیسا کہ حلیہ، بحررائق اور ان دوکے علاوہ دوسری کتابوں میں مذکورہے۔ت)
دوم جس چیزمیں تصویرہو اسے بلااہانت رکھنا مگروہ ترک اہانت بوجہ تصویرنہ ہو بلکہ اور سبب سے جیسے روپے کوسنبھال کررکھنا زمین پرپھینک نہ دینا کہ یہ بوجہ تصویرنہیں بلکہ بہ سبب مال، اگرسکہ میں تصویر نہ ہوتی جب بھی وہ ایسی ہی احتیاط سے رکھاجاتا، یہ بحال ضرورت جائز ہے جس طرح روپے میں کہ تکریم تصویر مقصود نہیں اوربے تصویرکایہاں چلنانہیں اور اس پرسے تصویرمٹائیں توچلے گانہیں
الضرورات تبیح المحظورات
 (ضرورتیں ممنوع کاموں کومباح کردیتی ہیں۔ت) یوہیں اسٹامپ کی تصویریں اورڈاک کے ٹکٹ، اگر ان کی تصویریں ایسی چھوٹی نہ ہوں کہ زمین پررکھ کر کھڑے ہوکر دیکھنے سے تفصیل اعضا ظاہرنہ ہو جیسے اشرفی، مہر، اس کے رکھنے کاویسے ہی جوازہے کہ اس کی تصویریں ایسی ہی چھوٹی ہیں اور بلاضرورت داخل کراہت کہ اگرچہ ترک اہانت دوسری وجہ سے ہے مگر لازم توتصویر کی نسبت بھی آیاحالانکہ ہمیں اس کی اہانت کاحکم ہے،
عنایہ سے گزرا :
نحن امرناباھانتھا۱؎۔
ہمیں تصویروں کی توہین وتذلیل کاحکم دیاگیاہے۔(ت)
 (۱؎ العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر    کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۳۶۲)
توترک اہانت میں ترک حکم ہے اور ضرورت نہیں کہ حکم جوازلائے، چاقو وغیرہ جوتصویریں ہوتی ہیں اسی حکم میں داخل ہیں اگربڑی ہوں تو انہیں مٹادے یاکاغذ وغیرہ لگادے ورنہ مکروہ ہے۔ یہ بھی اس وقت کے رکھنے والے کو اس شے سے کام ہو تصویر مقصود نہ ہوورنہ صورت سوم میں داخل ہوگا۔

سوم ترک اہانت بوجہ تصویرہی ہومگرتصویر کی خاص تعظیم مقصود نہ ہوجیسے جہال زینت وآرائش کے خیال سے دیواروں پرتصویریں لگاتے ہیں یہ حرام ہے اور مانع ملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام کہ خود صورت ہی کااکرام مقصود ہوا اگرچہ اسے معظم وقابل احترام نہ مانا۔

چہارم صرف ترک اہانت نہ ہوبلکہ بالقصد تصویر کی عظمت وحرمت کرنا، اسے معظم دینی سمجھنا، اسے تعظیماً بوسہ دینا، سرپررکھنا، آنکھوں سے لگانا، اس کے سامنے دست بستہ کھڑاہونا، اس کے لائے جانے پرقیام کرنا، اسے دیکھ کرسرجھکانا وغیرذلک افعال تعظیم بجالانا یہ سب سے اخبث اورقطعاً یقینا اجماعاً اشدحرام وسخت کبیرہ ملعونہ ہے اور صریح کھلی بت پرستی سے ایک ہی قدم پیچھے ہے اسے کوئی مسلمان کسی حال میں حلال نہیں کہہ سکتا اگرچہ لاکھ مقطوع یاصغیر یامستور ہو، یہ قیدیں سب صورت سوم تک تھیں قصداً تعظیم تصویر ذی روح کی حرمت شدیدہ عظیمہ میں نہ کوئی تقیید ہے نہ کسی مسلمان کاخلاف متصوربلکہ قریب ہے کہ اس کی حرمت شدیدہ اس ملت حنفیہ کے ضروریات سے ہوتو اس کااستحسان بلکہ صرف استحلال یعنی جائزجاننا ہی سخت امرعظیم کاخطرہ رکھتا ہے والعیاذباﷲ تعالٰی(اور اﷲ تعالٰی کی پناہ۔ت) صورت مذکورہ سوال یہی صورت چہارم ہے کہ اسے تبرک کے طورپررکھنا اس کے سبب نزول برکت جاننا اسے برزخ ٹھہرانا رب عزوجل تک وصول کاذریعہ بنانایہ سب وہی سخت اشدکبیرہ ہے او رعادۃً اس حالت میں اس کے ساتھ وہی افعال تعظیم بجالائیں گے جن کے حلال جانے پرتجدیداسلام مناسب ہے۔
نسأل اﷲ السلامۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
ہم اﷲ تعالٰی سے (جان وایمان کی سلامتی کاسوال کرتے ہیں۔ گناہوں سے بچنے اوربھلائی کرنے کی کسی میں طاقت نہیں مگریہ کہ اﷲ تعالٰی بڑی شان والاتوفیق عطافرمائے۔(ت)

ناواقف سمجھتے ہیں کہ حضورپُرنورسیدالاسیاد، امام الافراد، واہب المراد باذن الجواد، غوث الاقطاب والاوتاد، سیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ (سادات کے سردار، افراد کے پیشوا، اﷲ تعالٰی سخی کی اجازت سے مرادیں پوری کرنے والے، قطبوں کے فریادرس اور اوتاد کے فریادرس، ہمارے آقا، سب سے بڑے فریاد رس، اﷲ تعالٰی ان سے راضی ہو۔ت) ان کی اس حرکت سے خوش ہوں گے کہ ان کے صاحبزادہ کی ایسی تعظیم کی حالانکہ سب سے پہلے اس پرسخت ناراض ہونے والے سخت غضب فرمانے والےحضوراقدس ہوں گے رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔اﷲ تعالٰی ہدایت واستقامت بخشے،آمین!
واذقد خرجت العجالۃ فی صورۃ رسالۃ وکان ترصیفھا فی النصف الاول من شھرالنور والسرور شھر ربیع الاول ۱۳۳۱ ھ  ناسب ان اسمیھا بعطایاالقدیر فی حکم التصویر وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰینا محمد واٰلہ وصحبہ وسلم واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اچانک جلدی میں کیاہوا کام ایک رسالے کی صورت میں معرض وجود میں آگیا جبکہ ا س کی ترتیب وتالیف نوروسرور کے مہینے کے نصف اول یعنی ماہ ربیع الاول ۱۳۳ اھ  میں ہوئی، لہٰذا مناسب معلوم ہواکہ میں اس کایہ نام رکھوں
العطایاالقدیرفی حکم التصویر
 (بے پایاں قوت وطاقت رکھنے والے پروردگار کے بے شمار عطیات ونوازشات سے تصویر کاحکم بیان کرنے کے بارے میں۔ت) اور اﷲ تعالٰی درودوسلام ہمارے آقااورہمارے مولاپربھیجے جو کہ محمدکریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں اور ان کی آل اورسب ساتھیوں پر اور اﷲ تعالٰی پاک وبرتر سب سے زیادہ علم رکھتاہے اوراس کاعلم کہ جس کی شان بڑی ہے سب سے زیادہ کامل اور سب سے زیادہ پختہ ہے(ت)
رسالہ

العطایا القدیر فی حکم التصویر

ختم ہوا
Flag Counter