Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
140 - 160
عالمگیری میں ہے :
لوکشفت امرأۃ وجھھا وقالت انا فلانۃ بنت فلان لایحتاجون الی شھود المعرفۃ فان ماتت یحتاجون الی شاھدین یشھدان انھا کانت فلانۃ بیت فلان واذالم تسفر وجھھا وشھد شاھدان انھا فلانۃ بنت فلان لم یحل لھما ان یشھدا بذلک یعنی علی اقرار فلانۃ انما یجوز ان یشھدا ان امرأۃ اقرت بکذا وشھد عندنا شاھدان انھا فلانۃ بنت فلان ھکذا فی الملتقط ۱؎۔
اگرکسی عورت نے اپنے چہرے سے پردہ اٹھایا اور کہامیں فلاں دختر فلاں ہوں تو اس صورت میں لوگوں کوپوری زندگی شناخت کرانے کے لئے گواہوں کی ضرورت نہیں(اس لئے کہ چہرے سے پوری طرح شناخت اور تعارف حاصل ہوگیا) پھر اگروہ مرجائے تولوگوں کو اس بات کی ضرورت ہوگی کہ دوگواہ یہ گواہی دیں گے کہ فلاں، دخترفلاں ہے اور اگر اس نے اپناچہرہ کھول کرنہ دکھایا تو پھردوگواہ یہ گواہی دیں گے کہ وہ فلاں دخترفلاں ہے لیکن ان دو گواہوں کے لئے یہ جائزنہیں کہ وہ یہ گواہی دیں کہ وہ فلاں عورت ہے کہ جس نے اقرار کیاتھا۔ ہاں البتہ یہ جائزہے کہ وہ یونہی گواہی دیں کہ ایک عورت نے اقرارکیا ہے اورہمارے پاس دو گواہوں نے گواہی دی کہ وہ عورت فلاں دخترفلاں ہے،فتاوٰی ملتقط میں اس طرح مذکورہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الشہادات     الباب الثانی         نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۳)
اسی میں فتاوٰی ظہیریہ سے ہے:
اختلف المشائخ فی جوازتحمل الشہادۃ علی المرأۃ اذکانت متنقبۃ، بعض مشائخنا قالوا لایصح التحمل علیھا بدون رؤیۃ وجھھا وبعض مشائخنا توسعوا فی ھذہ وقالوا یصح عندالتعریف وتعریف الواحد کفی والمثنی احوط والی ھذا مال الشیخ الامام المعروف بخواھر زادہ والی القول الاول مال الشیخ الامام شمس الاسلام الاوزجندی والشیخ الامام ظھیرالدین وضرب من المعقول یدل علی ھذا فانا اجمعنا علی انہ یجوز النظر الی وجھھا لتحمل الشھادۃ۱؎ اھ  قلت فقد اجمعوا علی حصول المعرفۃ برؤیۃ الوجہ حتی جاز التحمل اجماعا وعلی عدمھا بعدم معرفتھا لم یجزالتحمل عند قوم اصلا واحتیج لما التعریف عند اٰخرین مقاصد ۔
مشائخ کرام نے اس بارے میں اختلاف کیاہے کہ جب عورت نقاب پوش ہوتو اس پرگواہی دینے کے جواز کی کیاصورت ہوگی، چنانچہ ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا کہ چہرہ دیکھے بغیرعورت کے متعلق گواہی نہیں دی جاسکتی، لیکن ہمارے بعض مشائخ نے اس میں کچھ وسعت وگنجائش رکھی ہے، اور یہ فرمایا ہے کہ تعارف اورشہرت کے وقت اس کے متعلق گواہی دینا صحیح ہے اورصرف ایک آدمی کی پہچان کافی ہے اور دو میں زیادہ احتیاط ہے۔ چنانچہ شیخ امام جو خواہرزادہ کے لقب سے مشہورہیں اسی طرف مائل ہیں جبکہ شیخ امام شمس الاسلام اوزجندی اور شیخ امام ظہیرالدین پہلے قول کی طرف مائل ہیں چنانچہ معقول قسم اس پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ ہم نے اتفاق کیاہے کہ تحمل شہادت کے لئے عورت کے چہرہ کی طرف دیکھنا جائزہے اھ  میں کہتاہوں ائمہ کرام نے اس بات پراتفاق کیاہے کہ چہرہ دیکھنے سے شناخت اور معرفت حاصل ہوتی ہے یہاں تک کہ (اس صورت میں) تحمل شہادت بالاتفاق جائزہے، اور اگررؤیت نہ ہوتو معرفت نہ ہوگی لہٰذا بعض لوگوں کے نزدیک (اس صورت میں) تحمل شہادت بالکل جائزنہیں۔ لیکن کچھ دوسروں کے نزدیک مقاصد میں اس کے لئے شناخت کی ضرورت ہوتی ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الشہادات     الباب الثانی         نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۲)
اہل تصویر ہی کودیکھئے جوتصویر کسی کی یادگارکے لئے بنوائیں ہرگز بے چہرہ اس پرراضی نہ ہوں گے نہ اپنے مقصود کو مفیدجانیں گے اگرچہ باقی تمام بدن کی تصویر ہو اور بارہانیم قد بلکہ صرف چہرہ پرقناعت کرتے اور اسے اپنے مقصد کے لئے کافی سمجھتے ہیں جیسا کہ مصوّروں میں بکثرت دائروسائر اورسکہ کی تصویروں سے ظاہر، اورخودیہ تصویر جس سے سوال ہے اس پرشاہد کہ اس کابنانا یادگارہی کے لئے تھا اور نصف سینہ تک قناعت کی توبداہۃً ثابت ہواکہ صرف چہرہ ہی وہ چیز ہے کہ تصویرکو معنی بت میں کرتا ہے اور صرف چہرہ ہی اس معنی کے افادہ میں کافی ہوتا ہے تویہاں جنس مایعبد سے مراد صرف معنی بت میں ہونا ہے اگرچہ نہ خود وہ معبود مشرکین ہو نہ اس کاذوالصورۃ تو وہ اس حالت پرہوکہ مشرکین اپنی عبادت کے لئے عادۃً لازم رکھتے ہیں کہ یہ سب زوائد ہیں اور یہاں غیرملحوظ۔ یہاں صرف اس قدردرکارہے کہ تصویر کسی صورت حیوانیہ کے لئے مرأۃ ملاحظہ ہو اور اس کامدار صرف چہرہ پرہے توقطعاً یہ سب تصویریں معنی بت میں ہیں اور ان کامکان میں باعزاز رکھنا، نصب کرنا، چوکھٹوں میں رکھ کردیوارپرلگانایاپردے یادیواریاکسی اونچی رہنے والی شے پراس کامنقوش کرنا اگرچہ نیم قدیاصرف چہرہ ہو یادیوارگیروں پرانسان یا حیوان کے چہرے لگانا یاپانی کے نل کے منہ یالاٹھی کی بالائی شام پرکسی حیوان کاچہرہ بنوانا یاایسی کسی بنی ہوئی چیزکورکھنا استعمال کرنا سب ناجائزوحرام ومانع دخول ملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام اور اس مکان میں نمازیقینا مکروہ، پھر اگرتشبہ خاص بھی پایاجائے جیسے مصلی کے سامنے ہوناتونمازمکروہ تحریمی واجب الاعادہ، کیا کوئی کہہ سکتاہے کہ قدآدم آئینے جن میں اتنی بڑی بڑی آدمیوں اورجانوروں کی تصویریں ہوں دیوارقبلہ میں نصب کرکے ان کی طرف نماز پڑھنے میں نہ عبادت صورت کی مشابہت ہے نہ شرع مطہر کی مخالفت، حاشاہرگزکوئی نہیں کہہ سکتا، توثابت ہواکہ صواب عامہ کتب ائمہ کے ساتھ ہے جن میں صرف قطع راس ومحو وجہ پراکتفافرمایا اوردیگراعضاء کا ان پرقیاس ہرگزنہ روایۃً منقول نہ درایۃً مقبول۔ لاجرم سربریدہ میں ممانعت نہ ہوئی کہ معنی بت میں نہ رہی، اور دست وپا بریدہ ناجائزہوئی کہ معنی بت باقی سوال دوم حل ہوا،اتنی چھوٹی تصویر کہ نظرمیں متمیزنہ ہو مرأۃ ملاحظہ نہیں کہ آپ ہی زیرملاحظہ نہیں یونہی مستورکہ وہ بھی خود ملاحظہ سے مہجور، مرأۃ ملاحظہ ہونا تواوردور، اورمعنی بت کے حصول کویہ بھی ضرورکہ مشرکین بتوں کواسی لئے بناتے ہیں کہ ان کے آلہ مزعومہ باطلہ کے مرأۃ ملاحظہ ہوں تویہاں بھی وہ معنی مفقود، سوال سوم حل ہوا،
وﷲ الحمد حمداکثیراً طیباً مبارکاً فیہ کمایحب ربنا ویرضی وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰینا واٰلہ وصحبہ ابدا، ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق وقدکان یختلج فی قلبی الکلام علیہ منذزمان وکنت ارجوان یفتح اﷲ تعالٰی بالحق فھذا او ان یسرہ المولی سبحٰنہ وتعالٰی ولہ الحمد اقول وبہ انفصل وﷲ الحمد خلاف مانقلہ القہستانی عن المحیط فی اتخاذ الراس ونقلہ عنہ فی ردالمحتار ولم یذکروا فیہ ترجیحا فثبت بحمداﷲ تعالٰی ترجیح المنع اقول : ثم لایذھبن عنک وان المراد بالاتخاذ الاقتناء کما فی قول القہستانی بعدہ باسطر، یکرہ اتخاذ الصور فی البیوت۱؎، ثم قولہ بعدہ لایکرہ اتخاذھا۲؎ ان صغرت اما اصطناعہ فلایجوز بحال وان صرح علماؤنا بجواز اتخاذ الانف والسن والاصبع من فضۃ لمقطوعھا فان الفرق بین ماذکروا وبین اتخاذ الرأس ممالایخفی علی بلید فضلا عن عاقل، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی کے لئے ہی بے حساب وشمار تعریف وتوصیف ہے پاکیزہ ، ایسی میں برکت رکھی گئی جیسا کہ ہمارا پروردگار پسندفرمائے اور اﷲ تعالٰی ہمارے آقا اورہمارے مولاپررحمت برسائے اوران کی تمام آل اورساتھیوں پرہمیشہ ہمیشہ رحمت ہو، اور مناسب یہ ہے کہ تحقیق اسی طرح ہونی چاہئے اور اﷲ تعالٰی ہی توفیق دینے کامالک ہے۔ مدت سے میرے دل میں اس پرکلام کرنے کی بات کھٹک رہی تھی او رمیں یہ بھی امیدرکھتاتھا کہ (اس معاملہ میں) اﷲ تعالٰی مجھ پرحق کھول دے گا یہاں تک کہ یہ وقت آپہنچاکہ جس میں اﷲ تعالٰی پاک اوربرترنے (اس عقدہ کو) مجھ پرآسان کردیا لہٰذا اسی کے لئے تعریف وستائش ہے اقول : (میں کہتاہوں) جبکہ اﷲ تعالٰی کے لئے حمدوستائش ہے اس سے وہ اختلاف الگ اورجداہوگیا کہ جس کو علامہ قہستانی نے محیط کے حوالے سے سربنانے کے متعلق نقل کیااور فتاوٰی شامی میں اس کونقل فرمایا لیکن اس میں ائمہ کرام نے کوئی ترجیح ذکرنہیں، میں کہتاہوں پھرآپ سے کہیں یہ بات رہ نہ جائے کہ یہاں اتخاذ سے اقتناء (حفاظت کرنا) مرادہے جیسا کہ چندسطروں بعد علامہ قہستانی کایہ قول موجود ہے گھروں میں حفاظت سے تصویریں رکھنا منع ہیں''۔ لیکن اس کے کچھ بعد انہوں نے فرمایا کہ اگر تصویریں چھوٹی چھوٹی ہوں تو ان کاگھروں میں رکھنامکروہ نہیں لیکن ان کابنانا کسی حال میں بھی جائزنہیں، اگرچہ ہمارے علماء کرام نے یہ تصریح فرمائی کہ چاندی کی ناک، دانت اور انگلی بنانا جائزہے اور اس کی وجہ ان کامقطوع ہونا ہے اس لئے کہ جوکچھ انہوں نے ذکرفرمایا اس کے اور سربنانے کے درمیان واضح فرق ہے جو کسی بے عقل سے بھی پوشیدہ نہیں چہ جائیکہ صاحب عقل سے مخفی رہ جائے، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ جامع الرموز     کتاب الصلٰوۃ     فصل مایفسدالصلٰوۃ     مکتبۃ الاسلامیہ گنبدقاموس ایران    ۱ /۱۹۶)

(۲؎جامع الرموز     کتاب الصلٰوۃ     فصل مایفسدالصلٰوۃ     مکتبۃ الاسلامیہ گنبدقاموس ایران     ۱ /۱۹۵)
Flag Counter