تو آج کل جو مشائخ مزامیر سنتے ہیں ان کے لئے کیوں ناجائز ہواکیونکر وہ اس کے اہل ہیں نااہل سنے تو اس پراعتراض چاہئے یہ تو اُسے غذائے روح سمجھتے اور اپنے لئے عبادت جانتے ہیں۔بیّنواتوجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : اللھم ھدایۃ الحق والصواب (اے اﷲ! حق اور ٹھیک راستہ دکھادے۔ت) اہل نااہل کاتفرقہ سماع مجرد میں ہے۔ شعر حضرت شیخ سعدی قدس سرہ میں اسی کاذکرہے۔ مزامیر میں اہل کی اہلیت نہیں، نہ ان کاکوئی اہل نہ وہ کسی کے لئے جائز، مگرمجاذیب اورخودرفتہ کہ عقل تکلیفی نہ رکھتے ہوں اُن پرایک مزامیر کیاکسی بات کامواخذہ نہیں کہ ع
(کیونکہ بنجر اور ویران زمین سے کوئی بادشاہ (لوگوں سے) ٹیکس وصول نہیں کرتا۔ت)
ایسی جگہ اہل عقل میں اہل ونااہل کافرق کرنا ہرکس وناکس کوگناہ پرجری کرنا اور امت مرحومہ پرمکرشیطان لعین کادروازہ کھولنا ہے، ہرفاسق اسی کامدعی ہوگا کہ ہم اہل ہیں ہم کو حلال ہے علانیہ ارتکاب معصیت کرے گا اور حرام خدا کوحلال بتائے گا اور اپنے امثال عوام جہال کو گمراہ بنائے گا، کیاشریعت محمدیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایساحکم لاتی ہے، حاش ﷲ۔ شریعت مطہرہ فتنہ کا دروازہ بندفرماتی ہے اور یہ حکم فتنہ کے روزن کوعظیم پھاٹک کرتا ہے، تو کس قدرمبائن شریعت غرا ہے،اب دیکھ نہ لیجئے کہ آج کل کتنے نامشخص، کتنے بے تمیز، کتنے کندہ ناتراشیدہ، جن کو استنجا کرنے کی تمیز نہیں یہ بھی نہیں جانتے کہ استنجا کرنے میں کیا فرض، واجب، سنت، مکروہ، حرام ہیں۔ وہ گیرواکپڑے رنگ کریاعورتوں کے سے کاکل بڑھاکر رات دن اسی آواز شیطانی میں منہمک ہیں۔ نمازیں قضاہوں بلاسے، مگرڈھولک ٹھنکنا ناغہ نہ ہو، اور پھر وہ پیرومرشد ہیں ان کے پاؤں پرسجدے ہوتے ہیں۔ اور علانیہ کہتے ہیں کہ ہم کو رواہے، ہماری روح کی پاکیزہ غذاہے۔ یہ ناپاک نتیجہ اسی اہل ونااہل کے فرق پُرجہل کا ہے۔ اور ان کا کذب صریح یوں آشکار کہ سماع بے مزامیر جس میں اہل ونااہل کافرق ہے اس کے جوازمیں اس کے اہل نے یہ شرط رکھی ہے کہ جلسہ سماع میں کوئی نااہل نہ ہو، یہاں تک کہ قوال بھی اہل باطن ہو، جیسے بارگاہ حضورسیدنا محبوب الٰہی سلطان الاولیاء نظام الحق والدّین محمدرضی اﷲ تعالٰی عنہ میں حضرت سیدنا امیرخسرو حضرت سیدی میرحسن علی سجزی قدس سرہما۔ بفرض باطل اگرمزامیر میں بھی اہل ونااہل کافرق ہوتا تو اہل وہ تھا کہ کسی نااہل کے سامنے نہ سنتا، یہ جہل کے اہل عام مجمع کرتے ہیں جس میں فسّاق فجّار شرابی زناکار سب کاشیطانی بازارلگتاہے اور مزامیر کھڑکتے ہیں، یہ اہلیت کی شکل ہے، ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم (گناہوں سے بچنے اور بھلائی کرنے کی قوت بجزاﷲ تعالٰی بلندمرتبہ اور بزرگ قدر کے توفیق دینے کے کسی فرد میں نہیں۔ت) ان سب کی گمراہی اور عوام کی بربادی تباہی کاوبال انہیں مولویوں کے سرہے جواہل ونااہل کافرق بتاتے اور حرامِ خدا کوحلال کرنے کی کوشش کرتے اور امت کی بھیڑوں کوابلیس بھیڑئیے کے پنجے میں دیتے ہیں پھرمزامیر کی حالت بالکل شراب کی مثل ہے قلیلھا یدعوالی کثیرھا تھوڑی سے بہت کی خواہش پیداہوتی ہے الذنب یجری الی الذنب گناہ گناہ کی طرف کھینچتاہے ع
(ناقص اور ناکارہ بیج بیکار پھل لاتاہے۔ت)
شدہ شدہ رنڈی کے مجرے تک نوبت پہنچتی ہے پھرحیا یکسرکنارہ کرتی ہے،بھری مجلس میں فاحشہ ناچ رہی ہے اور پیرجی صاحب شیخ المشائخ وپیرمغاں وقطب دوراں بنے ہوئے بیٹھے ہیں اور مریدین ھُوحق مچارہے ہیں، تف بریں اہلیت، یہ سب نتائج ملعونہ اسی مداہنت وتحلیل حرام کے فرق اہل ونااہل کے ہیں، والعیاذباﷲ رب العالمین۔ دربارہ شطرنج تو خود روایات وجوہ عدیدہ پر ہیں مگر ناصحان امت نے نظربعصریہی فرمایا کہ اس کی اباحت میں امت مرحومہ اور خود دین اسلام پر شیطان کو مدددینا ہے لہٰذا مطلقاً حرام وگناہ کبیرہ ہے تومزامیر کہ نفس امارہ کوشیطان لعین کی ان کی طرف رغبت بہ نسبت شطرنج ہزارہا درجہ زائد ہے کیونکر مطلقاً حرام وسخت کبیرہ نہ ہوں گے۔ سَو میں پچانوے وہ ہوں گے جنہیں شطرنج کی طرف التفات بھی نہیں اور سَومیں پانچ بھی نہ نکلیں گے جن کے نفس امارہ کو مزامیر کی شیطانی آوازخوش نہ آتی ہو، اہل تقوٰی بھی اپنے نفس کو بالجبر اس سے بازرکھتے ہیں ع
حُسن بلائے چشم ہے نغمہ وبالِ گوش ہے
کافی شرح وافی للامام حافظ الدین النسفی پھرجامع الرموز پھرردالمحتار میں ہے:
ھوحرام وکبیرۃ عندنا وفی اباحتہ اعانۃ الشیطان علی الاسلام و المسلمین۱؎۔
ہمارے نزدیک وہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور اسے مباح قراردینے میں اسلام اور اہل اسلام کے خلاف شیطان لعین کی مدد کرناہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۵۳)
(جامع الرموز کتاب الکراہیۃ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۳ /۳۱۹)
مسلمانو! زبان اختیارمیں ہے شعریات باطلہ میں العسل مرۃ والخمریاقوتیۃ (شہد کڑواہے اور شراب یاقوتی ہے، یعنی یوں کہنا حقیقت ثابتہ کے سراسرخلاف ہے۔ت) کہہ دینے کاہرشخص کواختیارہے شرابی شراب کو بھی غذائے روح وجانفزا وجان پرورکہاکرتے ہیں کہنے سے کیاہوتاہے محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جو فرق بتایا ہے ذراانصاف وایمان کے ساتھ اُسے سنئے توخود کھل جائے گا ع
کہ باکہ باختہ عشق درشب دیجور
(اندھیری رات میں تُو نے کس کے ساتھ عشق لڑایا۔ت)
ہاں سنئے اور گوش ایمان سے سنئے کہ ارشاد اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کیا ثابت ہے، غذائے روح وہ ہے جس کی طرف شریعت محمدیہ علٰی صاحبہا وآلہ افضل الصلوٰۃ والتحیۃبلاتی ہے اور جس کی طرف شریعت مطہرہ بلاتی ہے اس پروعدہ جنت ہے اور جنت اُن چیزوں پرموعود ہے جو نفس کومکروہ ہیں، اور غذائے نفس وہ ہے جس سے شریعت محمدیہ صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلٰی آلہٖ منع فرماتی ہے اور جس سے شریعت کریمہ منع فرماتی ہے اس پر وعیدنارہے اور نار کی وعید ان چیزوں پرہے جو نفس کو مرغوب ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حفت الجنۃ بالمکارہ وحفت النار بالشھوات۔ رواہ البخاری۱؎ فی کتاب الرقاق بلفظ حجبت وتقدیم الجملۃ الاخیرۃ ومسلم باللفظ عن ابی ھریرۃ واحمد۲؎ ومسلم والترمذی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہما فی صحیحہ۔
جنت ان چیزوں سے گھیردی گئی ہے جو نفس کو ناگوارہیں اور دوزخ ان چیزوں سے ڈھانپ دی ہے جو نفس کو پسند ہیں(امام بخاری نے کتاب الرقاق میں ساتھ لفظ حجبت کے اس کو روایت کیاہے اور آخری جملہ کی تقدیم سے اس کو ذکرفرمایا اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ کے الفاظ سے۔ اور احمد، مسلم اور جامع ترمذی نے حضرت انس سے (اﷲ تعالٰی ان دونوں سے راضی ہو) اپنی صحیح میں ذکرفرمایا۔ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الرقاق باب حجبت النار بالشہوات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۶۰)
(صحیح مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷۸)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الجنۃ ۲/ ۳۷۸ و جامع الترمذی ابواب صفۃ الجنۃ ۲ /۸۰)
(مسند احمدبن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۵۳، ۲۵۴، ۲۸۴)