| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
ان تمام مسائل سے واضح ہواکہ تشبّہ کے لئے اس شے کاجنس مایعبدہ المشرکون سے ہوناضروری ہے، اقول : (میں کہتاہوں) اب یہاں متعدد سوال پیداہوتے ہیں: اول اعیان میں تو اس کے معنی ظاہر ہیں کہ خود وہی نوع یاشخص ہوجس کی عبادت مشرکین کرتے ہیں مگرتصویر میں ہرگزیہ معنی نہیں شمس وقمر کی تصویر نہ گھرمیں رکھنا مکروہ نہ نمازمیں سامنے ہونے سے کراہت، حالانکہ وہ معبودان باطل ہیں، اور ہرانسان وحیوان کی تصویررکھنا بھی حرام، اور اس سے نمازبھی مکروہ، حالانکہ مشرکین ان سب کی عبادت نہیں کرتے، اس کامنشاکیاہے، وہ جوگزراکہ شمس وقمر کے عین کی عبادت ہوتی ہے،نہ تصویر کی، یہاں بدرجہ اولٰی وارد ہے کہ ان کے نہ عین کی عبادت ہوتی ہے نہ تصویرکی، اگرکہئے وہ ذی روح نہیں یہ ذی روح ہیں، ہم کہیں گے یہی توسوال ہے کہ جب مدارعبادت پرہے تو معبودباطل توغیرذی روح کی تصویرکیوں نہ منع ووجہ کراہت ہوئی، اور ذی روح غیرمعبود کی تصویرکیوں حرام وموجب کراہت ٹھہری۔
دوم سربریدہ وچہرہ محوکردہ کو استثناء فرمایا کہ ان کی عبادت نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے کہ یہ نفی نفی امکان نہیں کہ مشرکوں کی بدعقلی سے کسی چیز کی عبادت محال کیا مستبعد بھی نہیں، جب وہ صرف لنگ اور جلہری کی پوجاکرتے ہیں توان کے ساتھ باقی بدن بھی اگرہو ا اور سرنہ ہوا توکون مانع ہے مگرمراد نفی عادت ہے کہ تن بے سر کی عبادت ان کی عادت نہیں۔
تبیین الحقائق وبحرالرائق سے گزرا:
لانھا لاتعبد بدون الراس عادۃ۱؎۔
اس لئے کہ بطورعادت، بغیرسر، تصویر کی عبادت نہیں کی جاتی(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۶) (بحرالرائق باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۸)
اب واضح سوال ہے کہ تصویر کے چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کے بعد جوازکیوں نہ ہوا کہ ایسے لوتھڑے کی عبادت بھی ان کی عادت نہیں بلکہ بھنویں او رآنکھیں مٹادینے پربھی یہی سوال ہوسکتاہے کہ اس حالت پربھی عبادت کی عادت محل منع ہے، اگرکہئے بے سروچہرہ حیات نہیں رہتی اور ان اعضاء کے بغیرممکن ہے، ہم کہیں گے تومدارحیات پرہوا، نہ عادت عبادت پر، ہذا خلف حیات کو اس لئے تھا کہ اصل مناط یعنی عادۃ معبود ہونا بے حیات منتفی ہے نہ اس لئے کہ حیات ہی اصل مناط ہے کہ وہ باقی ہوتو حکم ثابت رہے اگرچہ عادت عبادت معدوم ہو۔
سوم سربریدہ واطراف بریدہ میں توموت وحیات سے فرق کرلیا چھوٹی تصویر اوراطراف بریدہ میں کیافرق ہے، قابلیت حیات دونوں میں ہے اور عادۃً عبادت دونوں کی نہیں ہوتی بلکہ بڑی تصویر صرف مستوررہنے سے کیوں قابل استثناء ہوگئی، اتناخارجی تغیر کہ صرف ایک ہیأت بدلی مفید ہوا اور یہ عظیم تغیر نفس جسم میں کہ چاروں ہاتھ پاؤں جڑ سے کاٹ دئیے کام نہ آیا حالانکہ پردہ ڈالنا اعزاز کابھی پہلو رکھ سکتاہے اور دست وپاکاٹ دیناصریح اہانت ہے۔
چہارم کیافرق ہے کہ زید یامثلاً بکر کی تصویر گھرمیں بے اہانت رکھنا حرام اور مانع ملٰئکۃ رحمۃ علیہم الصلٰوۃ والسلام، حالانکہ مشرکین نہ زید اوربکری کوپوجتے ہیں نہ اُن کی تصویروں کو، اور گائے کاگھرمیں بے اہانت رکھناجائزحالانکہ وہ خود ان کی معبودہ باطلہ ہے اور باندھنا بغرض اہانت نہیں بلکہ حفظ ہے اور بہت گائے بیل بے باندھے بھی رکھے جاتے ہیں، اگرکہئے گائے کارکھنا دودھ کے لئے ہے اور تصویر سے کوئی غرض صحیح نہیں، ہم کہیں گے غرض صحیح کے چاردرجے ہیں، ضرورت، حاجت، منفعت، زینت۔ گائے اگرچہ درجہ سوم میں ہے لوگ تصویر کو درجہ چہارم میں رکھتے ہیں توبے غرض یہ بھی نہ ہوئی،معہذا اور اغراض بھی تصویر میں ہوسکتی ہیں مثلاً معرکہ جہاد کی تصویر جس میں اﷲ عزوجل نے مسلمانوں کو کافروں پرغلبہ عطافرمایا ہوکہ اس کے مشاہدہ سے مسلمانوں کی عزت کفار کی ذلت کاسماں نظرآئے گا نعمت الٰہی کی یادہوگی ان بندگان خدا کی طرح دین کے لئے جانفشانی کاشوق پیداہوگا
الٰی غیرذٰلک من المصالح
(اُن بیان کردہ فوائد کے علاوہ اور بھی بہت سے مصالح ہیں۔ت) حالانکہ ان نیتوں سے بھی اس کارکھنا حرام وناجائزہی ہے توواجب ہوا کہ تصویر میں مایعبد کے وہ معنی لئے جائیں اور ایسامناط تجویزکیاجائے جس سے یہ سب سوالات مرتفع ہوجائیں اور تمام مسائل منع واجازت اس پرمنطبق آئیں
فاقول : وباﷲ التوفیق
(پھرمیں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے ہی کہتاہوں۔ت) یہاں مناط منع، نہ صورت کی عبادت ہوناہے نہ ذوالصورۃ کی، نہ اس کی نوع نہ جنس قریب کی۔ نہ اس کا اس حالت پرہونا کہ ذوالصورۃ اس حال پر ہو تو زندہ رہے ان میں سے کچھ کسی وجہ پر، نہ وہ سوال مرتفع ہوں نہ فروع ملتئم بلکہ مناط تصویر کا معنی وثن میں ہوناہے جیسا کہ محقق نے فتح میں اشارہ فرمایا :
حیث قال کما تقدم لیس لھاحکم الوثن فلاتکرہ فی البیت۱؎۔
جیسا کہ پہلے گزرچکا(کہ اس حالت میں) تصویر کے لئے حکمِ صنم نہیں، لہٰذا اس کاگھرمیں ہونا مکروہ نہیں۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳)
ولہٰذا صورت حیوانیہ کی تخصیص ہوئی کہ غیرحیوان کی تصویربت نہیں، بت ایک صورت حیوانیہ مضاہات خلق اﷲ میں بنائی جاتی ہے تاکہ ذوالصورۃ کے لئے مرأت ملاحظہ ہو اور شک نہیں کہ ہرحیوانی تصویرمجسم خواہ مسطح کپڑے پرہو یاکاغذ پردستی ہویاعکسی اس معنی میں داخل ہے توسب معنی بت میں ہیں اور بت اﷲ عزوجل کامبغوض ہے توجوکچھ اس کے معنی میں ہے اس کابلااہانت گھرمیں رکھناحرام اور موجب نفرت ملائکہ کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام اسی قدر سے بحمداﷲ تعالٰی سب سوال حل ہوگئے تصویر کواکب تصویرحیوانی نہیں کہ معنی بت میں ہو اور تصویر انسان وحیوان اگرچہ مشرکین ان کی عبادت نہ کرتے ہوں معنی بت میں ہے تومبغوض رب العزت ہے، سوال اول حل ہوا، تنورصورت حیوانی ہی نہیں اورگائے ہے مگرخودمخلوق رب العزت نہ کہ مضاہات خلق اﷲ میں مرات ملاحظہ ہونے کوبنائی ہوئی کہ مبغوض الٰہی ہوتویہ بھی معنی بت میں نہیں، سوال چہارم حل ہوا، پھرصورت حیوانی کہاجانا اور اس کے لئے مرأۃ ملاحظہ ہونا دونوں کامدارچہرہ پرہے، اگرچہرہ نہیں تو اسے صورت حیوانی نہ کہاجائے گا، اس پرایک توامین الوحی جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام کا قول گزراکہ ان کے سرکاٹ دیجئے کہ ہیأت درخت پرہوجائیں، دوسرے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاارشاد گزرا کہ صورت سرکانام ہے جس کے سرنہیں وہ صورت نہیں، تیسرے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاارشاد گزرا کہ سرکاٹ دیا تو صورت نہ رہی، چوتھے اس پراول دلیل ارشاد اقدس حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے:
اذا قاتل احدکم اخاہ فلیجتنب الوجہ فان اﷲ خلق اٰدم علٰی صورتہ، رواہ ۱؎ مسلم عن ابی ھریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ حکی النووی فی شرحہ ثلثۃ اقوال امثلہا واعدلھا واصحھا واحملھا ان المراد اضافۃ تشریف واختصاص کقولہ تعالٰی ناقۃ اﷲ وکما یقال فی الکعبۃ بیت اﷲ ونظائرہ ۲؎ اھ
تم میں سے جب کوئی شخص اپنے بھائی سے آمادہ جنگ ہوتو اس کے چہرے کو بچائے کیونکہ اﷲ تعالٰی نے حضرت آدم کواپنی صورت پر پیدافرمایا۔ امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کو روایت فرمایا۔ امام نووی نے اپنی شرح صحیح مسلم میں علٰی صورتہ کے متعلق تین اقوال کی حکایت فرمائی ان میں سب سے زیادہ حمل والا قول یہ ہے کہ اس اضافت سے شرافت واختصاص مراد ہے۔ اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد ''ناقۃاﷲ'' (اﷲ تعالٰی کی اونٹنی) کی طرح، اورجیسا کہ کعبہ شریف کے بارے میں کہاجاتاہے ''بیت اﷲ'' (اﷲ تعالٰی کاگھر) اور اسی طرح اس کے باقی نظائروامثال اھ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب النہی عن ضرب الوجہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۲۷) (۲؎ شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب النہی عن ضرب الوجہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۲۷)
تکریم صورت کو صرف تعظیم وجہ پرمقصود فرمایا اور مرأۃ ملاحظہ ہونے کاوجوداً وعدماً اس پر دوران خودظاہر چہرہ ہی سے معرفت ہوتی ہے چہرہ دیکھا اور باقی بدن کپڑوں سے چھپاہے تو کہے گا میں اسے پہچانتاہوں، اورچہرہ نہ دیکھا تونہیں کہہ سکتا اگرچہ باقی بدن دیکھاہو، ولہٰذا اگرعورت نے اپنا منہ کھول کرگواہوں کو دکھایا اورکہا میں لیلی بنت زید ہوں اورکچھ اقراریا عقدکیا گواہوں کواس پرگواہی دیناجائزہے او رانہیں اس کی زندگی بھرگواہان شناخت کی اصلاً حاجت نہیں کہ منہ دیکھ کرانہیں خودشناخت ہوگئی وہ اسے دیکھ کر بتاسکتے ہیں کہ یہی وہ عورت ہے جس نے ہمارے سامنے اقرارکیااوراگرمنہ کھول کرنہ دکھایاتوگواہان شناخت کے بعد بھی یہ گواہی نہیں دے سکتے کہ فلاں عورت نے یہ اقرارکیابلکہ اتناکہیں کہ ہمارے سامنے ایک عورت نے یہ اقرار کیا اورفلاں فلاں شہود نے ہم سے بیان کیاکہ یہ فلاں عورت ہے۔