Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
138 - 160
اقول :  تفریع عجیب وبحث غریب فالمسافرون فی الفضاء والبحر بمالایجدون ملجاء من استقبال الشمس فی العصروالقمرفیھا وفی المغرب اوفی العشاء ولامحید لھم عن استقبال الکواکب فی العشاء واین یھرب المصلی فی الغیاض والریاض عن استقبال شجرۃ خضراء بل ربما لایجدلہ سترۃ غیرھا فیلجأ الیھا بحکم الشرع وروی الامام احمد وابوداؤد وعن المقداد بن الاسود رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال مارایت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی عیہ وسلم صلی الی عود ولاعمود ولاشجرۃ الاجعلہ علی حاجبہ الایسر اوالایمن ولایصمدلہ صمدا ۱؎ ثم ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما نھی عن الصلٰوۃ حین تشرق الشمس وحین تستوی وحین تتدلی للغروب ولم یقیدہ بکونھا قبالۃ المصلی بل اینما کانت و لو وراء ظھرہ ولوفی غیم غلیظ و عللہ بانھا تکون اذ ذاک بین قرنی الشیطٰن لابانھا عبدت من دون الرحمٰن ولعل شدۃ بعدھا و القمر والنجوم تغنی عن السترۃ فلابی داؤد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا صلی احدکم الی غیر السترۃ فانہ یقطع صلٰوتہ الحمار والخنزیر والیھودی والمجوسی والمرأۃ ویجزئ عنہ اذا مروا بین یدیہ علی قذفۃ بحجر۲؎ وللطحاوی یکفیک اذا کانوامنک قدررمیۃ۱؎
اقول : (میں کہتاہوں) یہ ایک عجیب تفریع اورنادربحث ہے کہ مسافر کھلی فضا اور سمندر میں کوئی ٹھکانا نہیں پاتے، عصر کے وقت سورج کی طرف منہ کرنے سے اور چاند کی طرف منہ کرنے سے اور مغرب یاعشاء میں اور عشاء کے وقت ستاروں کی طرف منہ کرنے سے لوگ کہیں نہیں بھاگ سکتے۔ اور جنگلات اورباغات میں نمازی کہاں بھاگ کر جاسکتاہے کیونکہ جنگلوں اورباغوں میں ہرے بھرے درختوں کی طرف منہ کرنے سے بلکہ بسااوقات وہ ان کے بغیر کوئی سترہ ہی نہیں پاتا، پھرحکم شریعت کی بناپر ان کی طرف پناہ لیتاہے، امام احمد اور امام ابوداؤد نے مقداد بن اسود سے روایت کی(اﷲ تعالٰی ان سے راضی ہو) موصوف نے فرمایا میں نے حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو کسی لکڑی، کسی ستون اور کسی درخت کی طرف نماز پڑھتے ہوئے نہ دیکھا مگر آپ نے انہیں اپنے دائیں یابائیں ابرو کی طرف رکھا اور بالکل ان کی طرف سیدھ نہ فرمائی، اورحضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے لوگوں کو اس وقت نمازپڑھنے سے روکا جب سورج چڑھ رہاہو یا دوپہر کے وقت وسط آسمان میں ٹھہرجائے یاغروب کے قریب ہوجائے، اور اس کو اس بات سے مقیدنہ کیاکہ وہ نمازی کے سامنے اور اس کے مقابل ہو بلکہ جہاں بھی ہو اس کے لئے یہی حکم دیا اگرچہ وہ اس کے پس پشت ہو اور گہرے بادل میں چھپاہواہو، اور اس کی تعلیل یہ بیان فرمائی کہ اوقات مذکورہ میں سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان ہوتاہے نہ یہ کہ اس وقت خدائے رحمان کے علاوہ اس کی پرستش کی جاتی ہے شاید اس کی وجہ زیادہ دورہوناہے، چاند اور ستارے نمازی کو سُترہ سے بے نیاز کردیتے ہیں(مطلب یہ کہ ان کے آگے کسی آڑ کی ضرورت نہیں) چنانچہ ابوداؤد میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات گرامی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: اگرتم میں سے کوئی شخص بغیرسترہ کے نمازپڑھے توگدھا، سور، یہودی، آتش پرست اور عورت اس کی نماز کو قطع کردیتے ہیں، اور جب وہ اس کے آگے سے گزریں تو اس کی طرف سے یہی کافی ہے کہ ایک پتھرپھینکنے کی مقدار دورہو(یعنی اگر اتنی مقدار دور سے گزریں تو کوئی حرج نہیں) اور امام طحاوی کی روایت میں ہے (اے نمازی!) تجھے یہی کافی ہے کہ گزرنے والا تجھ سے ایک تیرپھینکنے کی مقدارہو۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الصلٰوۃ     باب اذاصلی الٰی ساربۃ اونحوھا     آفتاب عالم پریس لاہور     ۱ /۱۰۰)

(۲؎سنن ابی داؤد    کتاب الصلٰوۃ    باب مایقطع الصلٰوۃ    آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۰۲)

(۱؎ شرح معانی الآثار     باب المرور بین یدی المصلی الخ     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۳۰۹)
وفی صلٰوۃ الھندیۃ عن التتارخانیۃ ان کانت القبور وراء المصلی لایکرہ فانہ ان کان بینہ وبین القبر مقدار مالوکان فی الصلٰوۃ ویمر انسان لایکرہ فھٰھنا ایضا لایکرہ۲؎ اھ
فتاوٰی عالمگیری بحث صلٰوۃ میں تاتارخانیہ کے حوالے سے منقول ہے اگرقبریں نمازی کے پس پشت ہوں تو کوئی کراہت نہیں بشرطیکہ نمازی اور قبر کے درمیان اتنی مقدار مسافت ہوکہ جتنی نمازمیں نمازی کے آگے ہونی چاہئے کہ اگرکوئی آدمی اس کے آگے سے گزرے توکراہت نہ ہوتو یہاں بھی اس قدر مسافت ہو تو کراہت نہ ہو گی اھ
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ     الباب السابع         الفصل الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۰۷)
اما الشجر، فاقول : کونہم عبدوا نوعا اوشخصا من الشجر لایلزم کراھۃ الاستقبال الا الی ذٰلک النوع او الشخص بخصوصہ لاالی کل شجرۃ ولیس ذٰلک مثل التمثال فان الحکم متعلق بنفسہ من دون نظر الٰی کونہ صورۃ ماعبدوہ اولا کما سیاتیک تحقیقہ ان شاء اﷲ تعالٰی بخلاف الاعیان فلا یعتبر فیھا الجنس بل خصوص ماعبد علی وجہ عبد الا تری الی مامر من الفرق بین تنور فیہ نار وبین شمع وسراج اَولا تری ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یستتر فی صلوتہ براحلتہ ولم یمنعہ عن ذٰلک کونھا من جنس الحیوان الذی یعبدہ المشرکون نوع البقر وعبدوا شخص عجل السامری، اخرج الشیخان عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یعرض راحلتہ فیصلی الیھا۱؎، وفی الفتح ان استتر بظھر جالس کان سترۃ وکذا الدابۃ واختلفوا فی القائم۲؎ اھ  وفیہ وفی الھندیۃ عن النھایۃ قالوا حیلۃ الراکب ان ینزل فیجعل الدابۃ بینہ وبین المصلی فتصیر ھی سترۃ فیمر۱؎ اھ  فالذی تحرر بماتقرر کراھۃ استقبال خصوص حیوان اوشجر اخضر یعبدہ المشرکون ان نوعا فنوعا اوشخصا فذلک الشخص عینا دون غیرہ من نوعہ بشرط ان لایکون بینہ وبین المصلی اکثر ممایؤثم المار ھذا ماظھر لی وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالٰی واﷲ تعالٰی اعلم۔
رہادرختوں کامعاملہ، فاقول : (تو اس کے متعلق میں کہتاہوں کہ) مشرکین کسی نوع یاکسی فرد معین درخت کی عبادت کرنے سے اس کی طرف منہ کرنے سے کراہت لازم آئے گی مگریہ اس وقت ہوگا جبکہ اس نوع یاخصوصی فرد کی طرف منہ کرے اور یہ معاملہ ہردرخت کے ساتھ نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کامعاملہ تصویرجیسانہیں اس لئے کہ حکم اس کی ذات سے وابستہ ہے اس پرنظرکئے بغیر کہ یہ اس کی تصویر ہے کہ جس کی پہلے مشرکین نے عبادت کی یانہیں جیسا کہ ان شاء اﷲ تعالٰی عنقریب اس کی تحقیق تیرے پاس آجائے گی بخلاف اعیان (ذوات) کہ ان میں جنس کااعتبارنہیں کیاجاتا بلکہ اس میں جس کی عبادت کی جائے جس وجہ پرعبادت کی جائے اس خصوص کو پیش نظر رکھاجاتاہے۔ کیاآپ نہیں دیکھتے اس گزشتہ فرق کو جو ایسے تنور کہ جس میں آگ ہو اور شمع اورچراغ کے درمیان کیاگیاہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  اپنی نمازمیں اپنی سواری (ناقہ) کوپردہ اورآڑ بناتے اور اس رویّہ سے آپ کو یہ چیز نہ روکتی کہ ناقہ اس جنس حیوان میں سے ہے کہ جس کی ایک قسم گائے کی مشرکین عبادت کرتے رہے اورسامری کے بنائے ہوئے فرد معین بچھڑے کی پرستش کرتے رہے، چانچہ بخاری اورمسلم نے حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے تخریج فرمائی کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام جب نمازپڑھنے کاارادہ فرماتے تواپنی سواری (ناقہ) کوچوڑائی میں بٹھادیتے پھر اس طرف منہ کرکے نمازپڑھتے۔ فتح القدیر میں ہے اگرکسی بیٹھے ہوئے شخص کی پیٹھ کو (نمازپڑھتے وقت) پردہ بنائے توپھر اس کے لئے سُترہ کے قائم مقام ہے، اور کسی دوسرے جانور کابھی یہی حکم ہے، اور کھڑے ہونے والے شخص میں ائمہ کرام نے اختلاف کیاہے اھ  اوراس میں اورفتاوٰی عالمگیری میں نہایہ کے حوالے سے ہے۔ ائمہ فقہ نے فرمایا(سفرمیں سُترہ کے لئے تجویز وتدبیر یہ ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے والا سوار ہے توزمین پراترے، پھرگزرنے والا اپنے اورنمازی کے درمیان اپنے جانور کوآڑبنالے، پس یہی اس کے لئے سُترہ کی حیثیت رکھتاہے اھ  اور جوکچھ اثبات کردہ حقیقت کے مطابق تحریرہوا کہ مشرکین جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں بربنائے خصوص خواہ وہ حیوان ہو یاکوئی سرسبزوشاداب درخت ہو، نمازمیں اس کی طرف منہ کرنامکروہ ہے، اگرنوع ہوتواس نوع کایہی حکم ہے۔ اگرشخص (یعنی فردمعین ہوتو) پھرعین (یعنی اس فرد معین کا یہی) حکم ہے۔ لہٰذا اس نوع میں سے کوئی دوسرا مرادنہ ہوگا۔ بشرطیکہ اس کے اور نمازی کے درمیان اتنی زیادہ مسافت نہ ہو کہ جس سے گزرنے والا گناہگارہوتاہے۔ اور یہ وہ تحقیق ہے جو مجھ پرظاہرہوئے۔ اور مجھے امید ہے کہ وہ ضرورمبنی برصواب ہوگی بشرطیکہ اﷲ تعالٰی چاہے۔ اور اﷲ تعالٰی سب سے بڑاعالم ہے(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الصلٰوۃ     باب الصلٰوۃ الی الراحلۃ الخ         قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۷۲)

(۲؎ فتح القدیر      کتاب الصلٰوۃ     باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا     مکتبہ رضویہ سکھر     ۱ /۳۵۴)

(۱؎ فتح لقدیر     کتاب الصلٰوۃ     باب مایفسدالـصلٰوۃ ومایکرہ فیہا     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۳۵۴)
Flag Counter