| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
رجل فی یدہ تصاویر وھویؤم الناس لاتکرہ امامتہ لانھا مستور بالثیاب فصار کصورۃ فی نقش خاتم وھو غیر مستبین۲؎ اھ ولفظ الخلاصۃ اذا کانت فی یدہ (وفی نسخۃ علی یدیہ) وھو یصلی لاباس بہ لانہ مستور بثیابہ وکذا لوکانت علی خاتمہ۳؎ اھ عزافی الحلیۃ العبارۃ الاولی للمحیط والخلاصۃ معا وفرق فی البحر فاحسن وقال تحت قول المحیط وھو یفید ان المستبین فی الخاتم تکرہ الصلٰوۃ معہ۱؎ اھ۔
کسی شخص کے بازو میں تصویریں ہیں اور لوگوں کی امامت کراتاہے تو اس کی امامت مکروہ نہ ہوگی اس لئے کہ یہ تصویریں کپڑوں سے چھپی ہوئی ہیں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے انگوٹھی کے نقش میں تصویر ہوجبکہ وہ واضح نہ ہو اھ خلاصہ کے الفاظ یہ ہیں: اگرکسی کے بازو میں، اورایک نسخہ میں ہے اس کے دونوں بازوؤں میں تصویر ہو اور وہ اس حالت میں نمازپڑھے تو کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ کپڑوں سے ڈھانپی ہوئی ہیں۔ اور اسی طرح اگر انگوٹھی پرتصویرہو اھ چنانچہ حلیہ میں پہلی عبارت کی محیط اورخلاصہ کی طرف نسبت کی، اور بحررائق میں بہت اچھے انداز سے فرق کیاہے، اور محیط کے قول کے ذیل میں فرمایا اور اس سے یہ فائدہ برآمد ہواکہ اگرانگوٹھی میں نقوش واضح ہوں تو اس کے ساتھ نمازپڑھنا مکروہ ہے اھ۔
(۲؎ بحرالرائق بحوالہ المحیط کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷) (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلٰوۃ الجنس فیمایکرہ فی الصلٰوۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۵۸) (۱؎ بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷)
اقول : العادۃ ان الخاتم لایکون علیھا الاغیرمستبین بل لعل الخاتم لایحتمل الا ایاہ فقول المحیط وھو غیرمستبین لبیان العلۃ الجامعۃ بین نقش الخاتم والمستور، قال البحرویفیدانہ لایکرہ ان یصلی ومعہ صرۃ اوکیس فیہ دنانیر اودراھم فیھا صور صغار لاستتارھا۲؎ اھ واعترض فی النھر بان عدم الکراھۃ فی الصغار غنی عن التعلیل بالاستتاربل مقتضاہ ثبوتھا اذا کانت منکشفۃ وسیأتی انھا لاتکرہ الصلٰوۃ لکن یکرہ کراھۃ تنزیہ جعل الصورۃ فی البیت لخبر ان الملٰئکۃ لاتدخل بیتا فیہ کلب اوصورۃ اھ نقلہ فی المنحۃ ۱؎ مقرا علیہ اقول : وھو کماقال وکانّ زیادۃ الصغار وقع وفاقا فان المعھود فی الدراھم والدنانیر ھی الصغار لکن فی قولہ لکن ماقد علمت ان الصغار لاتکرہ فی البیت ایضا کما مرتصریحہ عن الفتح، وقد تظافروا علی نقل اٰثارفیھما عن الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم وقدمنا عن الامام فخرالاسلام ان امساک الصورۃ علی سبیل التعظیم ظاھرا مکروہ الخ فقید بالظاھر فغیرہ لایؤثر کراھۃ لافی الصلٰوۃ ولافی الامساک، قال البحر ویفیدانہ لوکان فوق الثوب الذی فیہ صورۃ ثوب ساتر لہ فانہ لایکرہ ان یصلی فیہ لاستتارھا بالثوب الاٰخر واﷲ سبحنہ اعلم۲؎ اھ
اقول :(میں کہتاہوں) عادت کے مطابق انگوٹھی پرنقوش واضح نہیں ہوتے بلکہ شاید انگوٹھی غیرواضح نقوش کے علاوہ کوئی اوردوسرا احتمال ہی نہیں رکھتی، لہٰذامحیط کایہ کہنا کہ انگوٹھی کے غیرواضح نقوش ہواکرتے ہیں، ایسی علت کے بیان کے لئے ہے جو انگوٹھی کے نقش مستور کے لئے جامع ہے۔ صاحب بحررائق نے فرمایا: اس سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ اگرتھیلی یابٹوہ میں درھم، دیناررکھے ہوں اور ان کے ساتھ نمازپڑھے جبکہ ان میں چھوٹی چھوٹی تصویریں ہوں توکراہۃ نہ ہوگی اس لئے کہ وہ مستورہیں اھ النہرالفائق میں اس پر اعتراض کیا کہ چھوٹی تصویروں میں بوجہ صغر عدم کراہت کے لئے کافی ہے لہٰذا تعلیل بالاستتار کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا مقتضٰی ثبوت کراہت ہے جبکہ وہ کھلی ہوں۔ ابھی آئے گا کہ نمازمکروہ نہ ہوگی، لیکن گھرمیں تصویررکھنا مکروہ تنزیہی ہے اس حدیث کی بناء پر کہ ''اس گھرمیں فرشتے نہیں جاتے جس میں کتا یا تصویر ہو اھ منحۃ الخالق میں اس کا اقرارکرتے ہوئے اسے نقل فرمایا۔ اقول : (میں کہتاہوں) او روہ اسی طرح ہے جیسا کہ موصوف نے کہا ہے، گویاچھوٹے پن کا اضافہ اتفاقیہ واقع ہو اکیونکہ درھم ودینار میں نقوش تصویر کاچھوٹا ہوناایک امرمعہود ہے لیکن اس کے قول ''لکن یکرہ'' میں آپ جانتے ہیں کہ چھوٹی تصویر گھرمیں ہوتو کوئی کراہت نہیں۔ جیسا کہ اس کی تصریح فتح القدیر کے حوالہ سے پہلے گزرچکی۔ ائمہ کرام نے صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے ایسے آثار نقل کرنے پر باھم اتفاق اور تعاون فرمایا اور ہم اس سے پہلے فخرالاسلام کے حوالے سے ذکرکرچکے ہیں کہ برملاکسی تصویر کوبطور تعظیم اٹھائے رکھنامکروہ الخ موصوف نے اپنے کلام میں ''الظاھر'' کی قیدلگائی، پس اس کاواضح مفہوم یہ ہے کہ اگرتصویر ظاہرنہ ہوتوپھرکراہت میں اس کاکوئی اثرنہیں، نہ نمازمیں اورنہ اسے اٹھائے رکھنے میں، مصنف بحررائق نے فرمایا: اس سے یہ فائدہ برآمد ہواکہ جس کپڑے میں کوئی تصویر ہوپھر اس کے اوپر کوئی دوسرا کپڑا ڈال کر اسے چھپالیا جائے تو پھرایسے کپڑے پر نمازپڑھنی مکروہ نہیں اس لئے کہ وہ دوسرے کپڑے سے چھپالیاگیاہے۔ اور اﷲ تعالٰی پاک ومنزّہ ہے، وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والاہے۔
(۲؎بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷) (۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷) (۲؎ بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷)
اقول : ولاقرۃ عین فیہ لمن یمسک التصاویر فی صندوقہ لینظر فیھا متی شاء فانھا وان کانت مستورۃ مادامت فی الصندوق لکنہ یفتحہ ویخرجھا فتظھر فیاتی التحریم والامساک لامر ممنوع ممنوع کمن امسک امرأۃ لیفجربھا فھو فی اثم الفجورحین لایفجر لان الاعمال بالنیات، نسأل اﷲ السلامۃ، بل لوامسکھا ولم یقصد النظر فیھا متی شاء، کان فیہ حفظ مافیہ الفساد فکان کامساک اٰلۃ اللھو کمن لایضرب قال الامام الاجل قاضی خان فی فتاواہ لوامسک شیئا من ھذہ المعازف والملاھی یکرہ ویاثم وان کان لایستعملھا لان امساک ھذہ الاشیاء للھو عادۃ۱؎۔
اقول : (میں کہتاہوں) اس میں کوئی آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں اس آدمی کے لئے جو اپنے صندوق میں تصویریں بند کررکھے اس مقصد کے لئے کہ جب چاہے صندوق کھول کرانہیں دیکھ لے، مذکورہ تصویریں اگرچہ صندوق میں بند ہونے کی وجہ سے مستورہیں جب تک کہ صندوق میں ہیں لیکن جب وہ صندوق کوکھولے گا اور انہیں نکالے گا تو وہ سامنے آجائیں گی پھرحرمت پیداہوجائے گی کیونکہ کسی امرممنوع کے لئے کسی چیز کو روکے رکھنا بھی ممنوع ہے، اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے کہ جس نے کسی عورت کو اپنی نگرانی میں پابندکررکھاتھا تاکہ موقع پر اس سے بدکاری کاارتکاب کرے، پھرجس وقت تک وہ بدکاری نہ کرے گا اس وقت بھی بدکاری کرنے کے گناہ میں گرفتارہوگا اور اس لئے کہ اعمال کامدارانسانی ارادوں پرہے، لہٰذاہم اﷲ تعالٰی سے سلامتی کاسوال کرتے ہیں، بلکہ اگر اس نے اسے روک رکھا اور جب چاہے دیکھنے کاارادہ بھی نہ کیا تو پھربھی اس میں یہ خرابی ہے کہ اس نے اس صورت میں اسی چیز کی حفاظت کی جس میں فساد ہے اور اسی طرح یہ ہے کہ جیسے کوئی آدمی گانابجانا نہیں کرتا لیکن گانے کے آلات واسباب کو اپنے پاس روکے رکھتاہے چنانچہ ہمارے ایک جلیل القدرامام فقیہ قاضی خاں نے اپنے فتاوٰی میں ارشادفرمایا کہ اگرکوئی شخص گانے بجانے اورلہو میں سے کسی چیز کو اپنے پاس روکے رکھے مکروہ ہے اور وہ اسی طرح کرنے سے گنہگارہوگا اگرچہ انہیں اپنے استعمال میں نہ لائے، کیونکہ اس قسم کے آلات واسباب کو روکے رکھنا عادتاً کھیل تماشے کے لئے ہی ہوتاہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضیخان کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسبیح والتسلیم الخ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۹۳)
(۷) چاند، سورج، ستاروں اوردرختوں کی تصویریں نمازمیں سامنے ہوں توحرج نہیں کہ مشرکین نے اگرچہ ان اشیاء کوپوجا مگران تصویروں کی عبادت نہیں کرتے،سومنات اگرچہ معبدقمرتھا، سوم بمعنی قمرہے اورناتھ بمعنی مالک، مگر اس میں بت تھا جسے صورت روحانیت قمرقراردیاتھا نہ شکل ہلالی یاقمری یابدری کی تصویر،
ردالمحتارمیں درایہ شرح ہدایہ سے ہے :
فان قیل عبدالشمس والقمر والکواکب والشجرۃ الخضراء قلنا عبد عینہ لاتمثالہ۱؎ اھ اقول : وبہ ظھر بطلان مابحث القاری فی المرقاۃ اذ قال ماعبد من دون اﷲ ولو کان من الجمادات کالشمس والقمر ینبغی ان یحرم تصویرہ ۲؎ اھ وھو کماتری بحث غریب ساقط لادلیل علیہ ولااثر لہ فی کلام الائمہ بل مخالف لاطلاقات جمیع کتب المذھب متونا وشروحا وفتاوی واﷲ الموفق ھذا،ثم قال العلامۃ الکاکی فعلی ھذا ینبغی ان یکرہ استقبال عن ھذہ الاشیاء قال الشامی ای لانھا عین ماعبد بخلاف مالوصورھا واستقبل صورتھا۱؎۔
اگریہ کہاجائے سورج، چاند، ستارے اور سرسبزدرختوں کی عبادت کی جاتی ہے(توپھر ان کی تصویروں کاکیاحکم ہے) ہم اس کے جواب میں عرض کرتے ہیں کہ اشیاء مذکورہ کی عین ذات کی عبادت کی جاتی ہے نہ کہ ان کی تصویروں کی اھ اقول : (میں کہتاہوں) اس سے اس قول کا باطل ہوناواضح ہوگیا کہ ملاعلی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں جس سے بحث کی، چنانچہ موصوف نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی کے سوا جس کی عبادت کی جائے اگرچہ وہ بے جان چیزوں میں سے ہو جیسے سورج اورچاند وغیرہ، تومناسب یہ ہے کہ اس کی تصویرحرام قراردی جائے اھ یہ جوکچھ فرمایاجیسا کہ آپ دیکھتے ہیں ایک بحث غریب ہے جودرجہ اعتبار سے ساقط ہے کیونکہ اس امرپرکوئی دلیل نہیں، اورنیزائمہ کرام کے کلام میں اس کی کوئی نشانی موجودنہیں بلکہ وہ ایک مخالف کلام ہے، ان تمام اطلاقات کے لئے جو مذہبی کتابوں میں متون، شروح اورفتاوٰی کی صورت میں موجودہیں، اور اﷲ تعالٰی ہی اس کی توفیق بخشنے والا ہے، علامہ کاکی نے فرمایا کہ پھر تو اس بناپر مناسب یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کی بعینہٖ ذات کی طرف منہ کرنامکروہ ہے، چنانچہ اورعلامہ شامی نے فرمایا کہ تمام وہ چیزیں جن کی عبادت کی جاتی ہے ان کا عین ہیں بخلاف اس کے کہ ان کی تصویر بنائیں اور پھر اس تصویر کی طرف منہ کریں اھ۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۶) (۲؎ مرقات المفاتیح شرح المشکوٰۃ المصابیح کتاب اللباس باب التصاویر الفصل الاول ۸ /۲۷۳) (۱؎ ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایہ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ الخ داراحیاء التراث العربی ۱ /۴۳۶)