قال رحمہ اﷲ تعالٰی او شمع اوسراج لانھما لایعبدان والکراھۃ باعتبارھا وانما یعبدھا المجوس اذاکانت فی الکانون وفیھا الجمر اوفی التنور فلایکرہ التوجہ الیھا علی غیرذٰلک الوجہ۲؎ اھ اقول : البحر تبع التبیین فی قولہ والکراھۃ باعتبارھا فرجع الی الصواب۔
دونوں نے فرمایا(اﷲ تعالٰی ان پررحم فرمائے) شمع یاچراغ کی طرف (بحالت نمازمنہ کرنا مکروہ نہیں اس لئے کہ ان دونوں کی عبادت نہیں کی جاتی، اور کراہت عبادت کی وجہ سے ہواکرتی ہے، اور آتش پرست آگ کی عبادت کرتے ہیں جبکہ چولھے اورتنور میں آگ کے انگارے ہوں۔ لہٰذا اس کی طرف رخ کرنا بغیر اس وجہ کے ہو تو مکروہ نہیں اھ اقول : (میں کہتاہوں) مصنف بحررائق نے تبیین کے اس قول ''کراہت بلحاظ عبادت ہوتی ہے'' میں اس کا اتباع کیا لہٰذا وہ راہ صواب کی طرف لوٹ گیا۔(ت)
(۲؎ تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ الخ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۷)
(بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳۲)
کافی میں ہے:
ان قطع الراس فلاباس بہ لانہ لایعبد بلا راس ولہذا لوصلی الی تنور اوکانون فیہ نارکرہ لانہ یشبہ عبادتھا والی قندیل اوشمع اوسراج لا، لعدم التشبہ۳؎۔
اگرتصویر کاسرکاٹ دیاجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ بغیر سرتصویر کی عبادت نہیں کی جاتی۔ لہٰذا اگر ایسے چولہے یاتنور کی طرف نماز پڑھے کہ جس میں آگ ہو تو مکروہ ہے کیونکہ اس کی عبادت کے مشابہ ہے، اور اگرقندیل یاشمع یا چراغ کی طرف (منہ کرکے نمازپڑھے) توکراہۃ نہیں، اس لئے کہ اس میں کوئی تشبہ عبادت نہیں۔(ت)
(۳؎ الکافی شرح الوافی )
محیط امام شمس الائمہ سرخسی پھرہندیہ میں ہے:
من توجہ فی صلٰوتہ الٰی تنور فیہ نار نتوقد اوکانون فیہ ناریکرہ ولوتوجہ الی قندیل اوالٰی سراج لم یکرہ۱؎۔
جو شخص اپنی نمازمیں ایسے تنور یاچولہے کی طرف منہ کرے کہ جس میں آگ بھڑک رہی ہو توکراہۃ ہوگی، لیکن اگرقندیل یاچراغ کی طرف منہ کرے تو کراہت نہ ہوگی۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الصلٰوۃ الباب السابع الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۰۸)
فتاوٰی امام اجل قاضی خاں میں ہے:
یکرہ ان یصلی وبین یدیہ تنوراوکانون فیہ نار موقدۃ لانہ یشبہ عبادۃ النار وان کان بین یدیہ سراج اوقندیل لایکرہ لان لایشبہ عبادۃ النار۲؎۔
یہ مکروہ کہ آدمی (اس حالت میں نمازپڑھے) کہ اس کے آگے ایساتنور یاچولہا ہوکہ جس میں آگ بھڑک رہی ہو، اس لئے کہ یہ صورت عبادت آگ کے مشابہ ہے اور اگر اس کے سامنے چراغ یاقندیل ہوتومکروہ نہیں کیونکہ یہ عبادت آگ کے مشابہ نہیں۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب الصلٰوۃ باب الحدث فی الصلٰوۃ ومایکرہ فی الصلٰوۃ نولکشور لکھنؤ ۱ /۵۷)
اسی طرح اس سے لایکرہ تک خزانۃ المفتین میں ہے:
اقول : ھذہ نصوص الائمۃ الاجلۃ فسقط مافی القنیۃ ان المجوس یعبدون الجمر لاالنار الموقدۃ۳؎ اھ وان تبعہ فی الدر والتمرتاشی ثم السید ابوالسعود الازھری ثم السید الطحطاوی فی حاشیۃ المراقی وایضا الدررولفظہ لان المجوس لایعبدون اللھب بل الجمر۵؎ اھ ومثلہ فی مجمع الانھر واشار الیہ الشرنبلالی فی مراقیہ ثم الزاھدی نفسہ اظھر ضعفہ اذ قال بعدہ حتی قیل لاتکرہ الی النار الموقدۃ۱؎ اھ۔
اقول : (میں کہتاہوں) یہ جلیل القدرائمہ کی تصریحات ہیں۔ لہٰذا قنیہ میں جو ہے وہ ساقط ہوگیا کیونکہ آتش پرست آگ کے انگاروں کی عبادت کرتے ہیں نہ کہ آگ کے شعلوں کی اھ مصنف درمختار، امام تمرتاشی، سیدابومسعود ازہری، سیدطحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح اور مصنف الدرر ان سب بزرگوں نے اس کا اتباع کیا ہے، اور اس کے الفاظ یہ ہیں: مجوس آگ کے شعلوں کی عبادت نہیں کرتے بلکہ آگ کے انگاروں کی عبادت کیاکرتے ہیں اھ اور اسی طرح مجمع الانہر میں ہے، اور علامہ شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں اس کی طرف اشارہ کیاہے، پھرخودعلامہ زاہدی نے اس کے ضعف کی طرف لفظ قیل کے ساتھ اس کی تعبیر فرمائی، چنانچہ اس کے بعد اس نے کہا یہاں تک کہ یہ کہاگیاہے کہ شعلہ زن آگ کی طرف (نمازمیں منہ کرنا) مکروہ نہیں اھ۔
(۳؎ القنیۃ المنیۃ کتاب الکراھیۃ باب الکراہۃ فی الوضووکیفیات الصلٰوۃ مطبوعہ کلکتہ ص۱۴۹)
(۴؎ الدرالمختار کتاب الکراھیۃ باب مایفسدالصلٰوۃ وکیفیات الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۳)
(فتح المعین بحوالہ تمرتاشی کتاب الکراھیۃ باب مایفسدالصلٰوۃ وکیفیات الصلٰوۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۲۴۶)
(۵؎ الدررالحکام شرح غررالاحکام باب مایفسدالصلٰوۃ وکیفیات الصلٰوۃ میرمحمدکتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰)
(۱؎ القنیۃ المنیۃ کتاب الکراھیۃ باب الکراھیۃ فی الوضوء الخ مطبوعہ کلکتہ انڈیا ص۱۴۹)
اقول : ان کان صحیحا انھم لایعبدونھا فما معنی تعبیرھذا القیل بقیل الا ان یقال ان الموقدۃ فلما تخلو عن جمر وفیہ نظر بل لاتشمل علیہ الاقرب الانتھاء ثم ربما تکون الموقدۃ من حشیش ونحوہ ولاجمر ثمہ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول : (میں کہتاہوں) اگریہ بات صحیح ہے کہ آتش پرست نری آگ کی عبادت نہیں کرتے تو اس کی تعبیر لفظ قیل کے ساتھ کرنے کاکیامطلب ہے، مگریہ کہ کہاجائے کہ شعلہ زن آگ بہت کم انگاروں سے خالی ہوتی ہے، لیکن یہ موجب اشکال ہے۔ بلکہ انگاروں پرصرف آخرمیں مشتمل ہوتی ہے (اور یہ بھی غورکرناچاہئے کہ) بسااوقات آگ، گھاس اور اس جیسی چیزوں سے جس میں بالکل (برائے نام بھی) انگارے نہیں ہوتے۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۴) مصحف شریف
(۵) تلواروغیرہ ہتھیار کاسامنے ہونا مکروہ نہیں کہ ان کی عبادت نہیں ہوتی۔
کما فی الکتب الثلٰثۃ وعامۃ الکتب ولفظ الامام الزیلعی، انھما لایعبدان و باعتبارھا تثبت الکراھۃ وفی استقبال المصحف تعظیمہ وقدامرنابہ۲؎۔
جیسا کہ تین کتابوں اور عام کتابوں میں مذکورہے اور امام زیلعی کے الفاظ یہ ہیں ان دونوں کی (مصحف شریف اورتلوار کی) عبادت نہیں کی جاتی۔ اورکراہت باعتبار عبادت ثابت ہوتی ہے او رمصحف شریف کی طرف منہ کرنا، اس میں اس کی تعظیم، اور ہمیں اس کی تعظیم کرنے کاحکم دیاگیاہے۔(ت)
(۲؎ تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ الخ المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱ /۱۶۷)
اقول : (میں کہتاہوں) یہ وہی فرق نفیس ہے کہ صدرکلام میں فقیرنے گزارش کیا،
بحرالرائق کے الفاظ یہ ہیں رہا مصحف تو اس کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے اور اس کی تعظیم بلاشبہ عبادت ہے اور اس کا استخفاف کفرہے۔ پھر یہ عبادت ایک دوسری سے پیوستہ ہوگئی لہٰذا بالکل کراہت نہ رہی اھ پھراس کو یادرکھئے بلاشبہہ یہ آپ کو فائدہ دے گا۔(ت)
(۱؎ بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۱)
(۶) تصویر صغیرپرقیاس فرماکر مستورسے بھی نفی کراہت کی، کہ ظاہر نہ ہونے میں اس کے مثل ہے جیسے جیب یابٹوے میں روپیہ یابعض ترکی ٹوپیوں میں کہ نصارٰی کی بنائی ہوتی ہیں اندر کی جانب تصویرہوتی ہے ان صورتوں میں نمازمکروہ نہیں مگرناجائزتصویریں حفاظت سے رکھ چھوڑنا خود ہی منع ہے اگرچہ صندوق میں بند رکھے اور نہ کھولے اگرچہ وہاں نمازمکروہ نہ ہوگی۔