Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
135 - 160
اقول : ھو نص نفس الجامع الصغیر ثم المراد بالوسادۃ الصغیرۃ دون کبیرۃ تورث الصورۃ انتصاباکما تقدم ، ثم لایخفی علیک ان التوفیق الذی ذکرہ الفقیراولی ممااختارہ ھذا المحقق لان فیہ اھمال احدھما فی بعض متناولاتہ وفیما ذکرت اعمال کلیھما فی کلہ فانظر الی کثرۃ الفوائد فی کلام المشائخ رحمھم اﷲ تعالٰی وھکذا کلامھم اذا امعن فیہ النظر وساعد التوفیق فی اللطیف الخبیر عزجلالہ وﷲ الحمد۔
اقول : (میں کہتاہوں) یہ خود جامع صغیر کی تصریح ہے وسادہ یعنی جانماز سے چھوٹی جانمازمرادہے نہ بڑی کہ جس سے تصویر کاقیام پیداہوتاہے، جیسا کہ پہلے گزرچکا، اورتم پریہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ جوموافقت فقیر(امام احمدرضا) نے پیش کی وہ  اس سے بہترہے جو اس محقق نے اختیارکی کیونکہ اس میں دومیں سے ایک کے بعض مشمولات کو نظرانداز کردینا ہے، اور جوکچھ میں نے اس باب میں ذکرکیا اس میں یہ فوقیت وخوبی ہے کہ سب میں دونوں کو عمل دیناہے۔ لہٰذا مشائخ رحمہم اﷲ تعالٰی کے کلام میں کثیرفوائد کوملاحظہ فرمائیے، اور ان کاکلام ایساہی ہوتا ہے جبکہ اس پرگہری نظرڈالی جائے او رتوفیق دینے میں پروردگار لطیف وخبیر ہے کہ جس کا جلال غالب اور زبردست ہے، اور اﷲ تعالٰی کے لئے ہرتعریف وتوصیف ہے۔(ت)
ثم اقول : وبہ استعین
 (پھرمیں کہتاہوں اسی سے طلب مدد کرتے ہوئے۔ت)تنقیح علت اگرچہ بفضلہ تعالٰی بروجہ احسن ہوئی مگر ابھی ایک اورتنقیح عظیم باقی ہے جبکہ علت کراہۃ تشبّہ عبادت ہے خاص ہویاعام، توضرور ہے کہ وہ تصویرجنس
مایعبدہ المشرکون
 (تصویر اس جنس سے ہوکہ جس کی مشرکین عبادت کرتے ہیں۔ت) سے ہوکہ جسے مشرکین پوجتے ہی نہیں وہ بت کے حکم میں نہیں کہ اس کے بروجہ تعظیم رکھنے یا اس کی طرف نمازپڑھنے میں معاذاﷲ عبادت بت سے تشبہ ہو، ولہٰذا جابجا کراہت کوعبا دت اور اس کے عدم کو عدم سے تعلیل فرماتے ہیں کہ یہ مشرک اس کی عبادت نہیں کرتے، لہٰذا کراہت نہیں، مثلاً:
 (۱) اتنی چھوٹی تصویر کہ زمین پررکھ کردیکھو تواعضاکی تفصیل نہ معلوم ہومورث کراہت نہیں کہ اتنی چھوٹی کی عبادت مشرکین کی عادت نہیں۔
ہدایہ وکافی وتبیین میں ہے:
لوکانت الصورۃ صغیرۃ بحیث لاتبدو للناظر لایکرہ لان الصغار جدالاتعبد۱؎۔
اگرتصویراتنی چھوٹی ہوکہ دیکھنے والے کیلئے واضح نہ ہو تومکروہ نہیں اس لئے کہ اتنی چھوٹی تصویروں کی پرستش نہیں ہوتی۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ     کتاب الصلٰوۃ     باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا     المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۲۲)
فتح القدیرمیں ہے:
فلیس لہا حکم الوثن فلاتکرہ فی البیت۱؎۔
لہٰذا ایسی تصویر کے لئے حکم صنم نہیں لہٰذا اس کاگھر میں رکھنا مکروہ نہیں۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر         کتاب الصلٰوۃ     باب مایفسدالصلٰوۃومایکرہ فیہا     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱/ ۳۶۳)
اور اس بارے میں امیرالمومنین فاروق اعظم وحضرت عبداﷲ بن مسعود وحذیفہ بن الیمان ونعمٰن بن مقرن وعبداﷲ بن عباس وابوہریرہ وابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہم صحابہ اور سیدنا دانیال علیہ الصلٰوۃ والسلام سے آثارمروی ومذکورہیں کمابیّنھا فی الحلیۃ(جیسا کہ انہیں حلیہ میں بیان فرمایا۔ت)

(۲) سربریدہ یاچہرہ محوکردہ کہ اس کی بھی عبادت نہیں ہوتی، اور بھنویں اورآنکھیں مٹادینا کافی نہیں، نہ چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دینا نفی کراہت کرے۔
تبیین وبحرمیں ہے :
مقطوعۃ الراس لاتکرہ لانھا لاتعبد بدون الراس عادۃ ولااعتبار بازالۃ الحاجبین اوالعینین لانھا تعبد بدونھما۲؎۔
سربریدہ تصویررکھنا مکروہ نہیں اس لئے کہ بغیرسر عادتاً اس کی عبادت نہیں کی جاتی لیکن دونوں ابرواوردونوں آنکھیں مٹادینے کاکچھ اعتبارنہیں، اس لئے کہ ان کے بغیر بھی اس کی عبادت کی جاتی ہے۔(ت)
 (۲؎ تبیین الحقائق    کتاب الصلٰوۃ     ۱ /۶۶    و بحرالرائق     کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ     ۱ /۲۸)
ہدایہ میں فرمایا:
ممحو الراس لیس بتمثال لانہ لایعبد بدون الراس۳؎۔
اگرسرمحوکردیاجائے یعنی مٹادیاجائے تووہ تصویر اورمورتی نہ رہے گی کیونکہ بغیرسراس کی عبادت نہیں کی جاتی(ت)
 (۳؎ الہدایہ        کتاب الصلٰوۃ         باب مایفسد الصلٰوۃ الخ     المکتبۃ العربیہ کراچی    ۱ /۱۲۲)
عنایہ میں ہے:
انہ لایعبد بلاراس فکان کالجمادات۴؎۔
اگرسرنہ ہوتو اس کی عبادت نہ ہوگی کیونکہ وہ محض بے جان چیزوں کی طرح ہے۔(ت)
 (۴؎ العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر         باب مایفسدالصلٰوۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۳۶۳)
خلاصہ وفتح و حلیہ وبحرمیں ہے:
واللفظ لہ لااعتبار بقطع الیدین او الرجلین۱؎ اھ  وکذا ھو فی الخلاصۃ ثمّ الحلیۃ بحرف التردید ولفظ المحقق لوقطع یدیھا ورجلیھا لاترفع الکراھۃ۲؎ اھ  اعنی بحرف الجمع وھو المراد۔
بحرالرائق کے الفاظ یہ ہیں: اگردونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہوں تو ان کاکچھ اعتبار نہیں اھ  او راسی طرح خلاصہ اورپھر حلیہ میں حرف تردید (لفظ او) کے ساتھ ہے اور محقق کے الفاظ یہ ہیں: اگردونوں ہاتھ اوردونوں پاؤں کاٹ ڈالے توکراہت ختم نہ ہوگی اھ  میری مراد یہ ہے کہ (یہاں پرعبارت) حرف جمع(یعنی لفظ واؤکے ساتھ) ہے اور یہی مراد ہے۔(ت)
 (۱؎ بحرالرائق     کتاب الصلٰوۃ     باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۲ /۲۸)

(۲؎ فتح القدیر    کتاب الصلٰوۃ     باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۳۶۳)
غنیہ میں دونوں مسئلہ صغیرہ ومقطوعۃ الراس کی تعلیل میں لکھا :
لانھا لاتعبد فانتفی التشبہ الذی ھو سبب الکراھۃ۳؎۔
اس لئے کہ (تصویرصغیر اورمقطوع الرأس) کی عبادت نہیں کی جاتی، لہٰذا وہ شبہہ زائل ہوگیا جوکراہۃ کاسبب ہے۔(ت)
(۳؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل کراھیۃ الصلٰوۃ   سہیل اکیڈمی لاہور     ص۳۵۹)
(۳) شمع یاچراغ یاقندیل یالیمپ یالالٹین یافانوس نمازمیں سامنے ہوتو کراہت نہیں کہ ان کی عبادت نہیں ہوتی اوربھڑکتی آگ اور دہکتے انگاروں کا تنور یابھٹی یاچولہا یاانگیٹھی سامنے ہوں تومکروہ کہ مجوس ان کوپوجتے ہیں،
عنایہ میں بعد عبارت مذکورہ آنفا ہے:
فصار کالصلٰوۃ الٰی شمع اوسراج فی انھما لایعبد ان ویکرہ لوکان بین یدیہ کانون فیہ جمراونارموقدۃ۴؎۔
پھر وہ شمع یاچراغ کی طرح ہے کہ ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے کیونکہ ان کی عبادت نہیں کی جاتی (لہٰذا کراہت نہیں) لیکن نماز مکروہ ہے جبکہ نمازی کے سامنے ایساچولہا رکھاہو کہ جس میں بھڑکتی ہوئی آگ کے انگارے ہوں۔(ت)
 (۴؎ العنایۃ شرح الہدایۃ علٰی ہامش فتح القدیر  باب مایفسدالصلٰوۃ  مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱ /۳۶۳)
فتح زیرمسئلہ شمع ہے:
لانھم لایعبدونہ بل الضرام جمرا اونارا ۱؎۔
اس لئے کہ مشرکین اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ بھڑکتے انگارے یاآگ کی۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر  کتاب الصلٰوۃ  فصل ویکرہ للمصلی  مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱ /۳۶۴)
Flag Counter