| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
اقول : وبتحقیقنا ھذا یحصل التوفیق فی مسألتین الاولٰی کراھۃ الصلاۃ حیث کانت الصورۃ خلف فمن اثبت وھم الاکثرون وجعلہ فی التنویر الاظھر، اثبت کراھۃ التنزیہ ومن نفی وھو الذی مشی علیہ صدرالشریعۃ فی شرح الوقایۃ وجزم بہ فی متنہ النقایۃ واعتمدہ فی الغایۃ کما فی التبیین والدرر والامام العتابی کما فی الفتح وتبعہ ابن کمال باشافی الایضاح نفی کراھۃ التحریم۔
اقول : (میں کہتاہوں) ہماری اس تحقیق سے دومسئلوں کے درمیان موافقت (اورمطابقت) پیداہوگئی۔ پہلامسئلہ جہاں تصویر پس پشت ہو توبھی نمازمکروہ ہے۔ جن حضرات نے اس کو ثابت کیاہے وہ اکثریت رکھتے ہیں اور ''التنویر'' میں اس کو زیادہ ظاہرقراردیاتوکراہت تنزیہی کااثبات فرمایا اور جن لوگوں نے اس کی نفی فرمائی، چنانچہ شرح وقایہ میں صدرالشریعہ نے یہی روش اختیارفرمائی اورمتن ''النقایہ'' میں اس پر اظہاریقین کیا اور ''الغایہ'' میں اسی پراعتماد کیا جیساکہ تبیین اوردرر اورامام عتابی سے منقول ہے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے ،اور الایضاح میں ابن کمال پاشا نے بھی اس کاساتھ دیا توکراہت تحریمی کی نفی کی۔
والثانیۃ الصلٰوۃ علی سجادۃ فیھا تصاویر اذا لم یسجد علیھا نفی الامام محمد الکراھۃ فی الجامع الصغیر، واثبتھا فی الاصل والکل صحیح بالتوزیع ای یکرہ تنزیھا لاتحریما والوجہ فیھما وجود التشبہ العام دون الخاص وذٰلک ظاھر فی الاولی ،اما الثانیۃ فلان وضع التصویر فی المصلی تعظیم لہ کما سمعت وکل تعظیم لہ تشبہ بعبادتہ کما علمت وکل صلٰوۃ کان معھا التلبس بھٰذا التشبہ کرھت و لاینافیھا وجود الاستھانۃ بوجہ اٰخر کما قدمنا فانتفی ماذکر ھٰھنا فی الحلیۃ حیث قال، قلت یلزم علی ھذا ان یکون مافی الاصل موضوعا فی المصلی لاغیر ومافی الجامع فیما عداہ وفیہ مالایخفی۱؎ اھ
دوسرامسئلہ : ایسی جانماز پرنمازپڑھنا کہ جس میں تصویریں ہوں جبکہ ان پرسجدہ نہ کرے تو اس صورت میں حضرت امام محمد نے جامع صغیر میں کراہت کی نفی فرمائی۔ لیکن کتاب الاصل میں کراہت کو ثابت کیاہے، اور یہ سب کچھ بلحاظ توزیع (تقسیم) صحیح ہے یعنی مکروہ تنزیہی اور تحریمی پر، اور دونوں میں ''وجہ'' تشبّہ عام کاپایاجاناہے نہ کہ تشبہ خاص، اورپہلی صورت میں ظاہرہے لیکن دوسری صورت، اس لئے کہ جانماز میں تصویررکھنا بلاشبہہ اس کی تعظیم ہے جیسا کہ آپ سن چکے، اور تعظیم میں اس کی عبادت سے تشبّہ ہے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے، او رہرنماز کہ جس میں اس ''تشبّہ'' سے تلبس ہو تو وہ مکروہ ہے اور کسی اوروجہ سے اس میں توہین کاپایاجانا اس کے منافی (اورمتصادم) نہیں، جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیاہے، لہٰذا یہاں جوکچھ حلیہ میں ذکرکیاگیاوہ زائل اورختم ہوگیا، چنانچہ مصنف حلیہ نے فرمایا میں کہتاہوں اس طور پرلازم آتاہے کہ جو کچھ اصل میں مذکورہے وہ اس تصویر کے بارے میں ہو جوصرف جانماز میں رکھی ہوئی ہو، اورجوکچھ جامع صغیر میں مذکورہے وہ اس کے علاوہ میں ہے اور اس میں جوکمزوری ہے وہ کسی پرپوشیدہ نہیں اھ ۔
(۱؎ التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی بحوالہ الحلیہ مکروہات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۳۶۵)
اقول : بل کلاھما فی المصلی ولابعد فیہ التطبیق ماذکرنا قال رحمہ اﷲ تعالٰی والاحسن ان یقال ظاھر الکتابین التعارض فیما عداموضع السجود فاما ان یکون مافی الجامع من القید المذکور قیدا اتفاقیا واما ان یکون ما فی الاصل مقیدا بما فی الجامع۲؎ اھ ویزید، ان التوفیق اما بارجاع مافی الجامع الی مافی الاصل من اطلاق الکراھۃ سواء کانت فی محل السجود اوغیرہ والتقیید بکونھا فیہ وقع وفاقا اوبارجاع مافی الاصل الی مافی الجامع بحمل المطلق علی المقید۔
اقول :(میں کہتاہوں) بلکہ یہ دونوں جانماز کے متعلق ہیں، اور اس میں کوئی بعد نہیں بلکہ اس میں وہ طریقہ تطبیق ہے جو ہم نے ذکرفرمایامصنف حلیہ رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ کہاجائے کہ بظاہر دونوں کتابوں میں محل سجود کے علاوہ تعارض ہے (اور دونوں میں مطابقت کی صورت یہ ہے کہ) یایہ ہو کہ جامع صغیر میں جوقیدمذکورہے اس کو قید اتفاقی تسلیم کیاجائے یاجوکچھ اصل میں ہے وہ جامع صغیر کی عبارت سے مقیدہےاھ اورمزید موافقت کی صورت یہ ہے کہ جوکچھ جامع صغیر میں مذکورہے اسے اصل کی طرف راجع کیاجائے یعنی کراہت سے مطلق کراہت مراد ہو خواہ تصویر محل سجدہ میں ہو یامحل سجدہ میں نہ ہو، اور جامع صغیر میں جوتقیید واقع ہوئی وہ قیداتفاقی تسلیم کی جائے یاجوکچھ اصل میں مذکورہے وہ جامع صغیر کی طرف بایں طریقہ راجع ہے کہ یہاں مطلق مقید پرمحمول ہے۔
(۲؎التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی بحوالہ الحلیہ مکروہات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۳۶۵)
اقول : وکانہ عند ھذا التحریر لم یتیسرلہ مراجعۃ الجامع الصغیر فان عبارتہ لاتحتمل ماذکر من الغاء القید وانما کان مساغہ لوکان منطوقہ کراھۃ الصلٰوۃ مقیدا بکون الصورۃ فی محل السجود فکان یفید عدم الکراھۃ فی غیرہ بطریق المفہوم فقال ان القید اتفاقی ولیس کذٰلک بل اصل منطوقہ ماینافی الاصل اعنی عدم الکراھۃ فاین المساغ لما ذکروھذا نص الجامع، لاباس ان یصلی علی بساط فیہ تصاویر ولایسجد علی التصاویر۱؎اھ قال رحمہ اﷲ تعالٰی وھذا اولی (ای الثانی) لانہ لایظھر وجہ القول بکراھۃ الصلٰوۃ علی بساط کبیر فیہ صورۃ تحت قدم المصلی وھو لازم الاول بخلاف الثانی ۲؎اھ ۔
اقول : (میں کہتا ہوں) یہ تحریر کرتے وقت محقق موصوف کوجامع صغیر کی طرف مراجعت کی توفیق حاصل نہیں ہوئی اس لئے اس کی عبارت قید مذکور کو لغوقراردینے کااحتمال نہیں رکھتی، اور اس کے جواز کی صورت تب ہوسکتی کہ اس کامنطوق (عبارت ملفوظ) یہ ہوتاکہ نماز مکروہ ہوگی جبکہ تصویرمحل سجدہ میں ہو۔پھر اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتاکہ اگر محل سجدہ میں تصویر نہ ہوتوکراہت نہ ہوگی۔ اوریہ فائدہ بلحاظ مفہوم حاصل ہوتا، اور کہا کہ قید اتفاقی ہے، حالانکہ اس طرح نہیں بلکہ اس کااصل منطوق کتاب الاصل کے منافی ہے۔ میری مراد یہ ہے کہ وہ عدم کراہۃ ہے توجوکچھ علامہ موصوف نے ذکرکیا اس کاجواز کہاں ہے، (دیکھئے) جامع صغیر کی یہ تصریح ہے، کوئی حرج نہیں اگر ایسے فرش پرنمازپڑھے کہ جس پرتصویریں ہوں جبکہ ان تصویروں پرسجدہ نہ کرےاھ ، موصوف نے فرمایا (اﷲ تعالٰی ان پررحم فرمائے) یہ اولٰی ہے(یعنی دوسری) وجہ کیونکہ اس قول کی وجہ ظاہرنہیں کہ بڑے فرش پرنمازمکروہ ہے کہ جس میں تصویر نمازی کے زیرقدم ہو، اور یہ اول کولازم ہے بخلاف ثانی اھ
(۱؎ الجامع الصغیر کتاب الصلٰوۃ باب فی الامام این یستحب ان یقوم الخ مطبع یوسفی لکھنؤ ص۱۱) (۲؎ التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی بحوالہ الحلیہ مکروہات الصلٰوۃمکتبہ قادریہ لاہورص۳۶۵)
اقول : قدافدناک الوجہ فتشکر، ثم لاوجہ یظھر لتقییدہ بالکبیر بعد فرض الصورۃ تحت القدم واﷲ تعالٰی اعلم وتبعہ البحر فی ھذا البحث کلہ غیرانہ قال اطلق الکراھۃ فی الاصل فیما اذا کان علی البساط المصلی علیہ صورۃ لان الذی یصلی علیہ معظم فوضع الصورۃ فیہ تعظیم لھا بخلاف البساط الذی لیس بمصلی۱؎اھ فحمل البساط علی السجادۃ کما حملنا ثم تبع الحلیۃ فقال، وتقدم عن الجامع الصغیر التقیید بموضع السجود فینبغی ان یحمل اطلاق الاصل علیہ وانھا اذا کانت تحت قدمیہ لایکرہ اتفاقا۲؎اھ ۔
اقول :(میں کہتاہوں) بیشک ہم نے تمہیں اس وجہ کافائدہ بخشا لہٰذا شکریہ ادا کیجئے، پھر لفظ ''بساط'' کولفظ ''کبیر'' سے موصوف اور مقیدکرنے کی کوئی ظاہروجہ موجودنہیں جبکہ یہ فرض کرلیاکہ تصویر(نمازی کے) زیرقدم ہے واﷲ تعالٰی اعلم، بحررائق نے اس پوری بحث میں ا س کی متابعت کی ہے مگریہ کہ فرمایا اصل میں کراہت کومطلق رکھا اس حالت میں جبکہ بچھی ہوئی جانماز پرتصویر ہوکیونکہ جس فرش پرنماز پڑھی جائے وہ قابل تعظیم ہے، پھر اس میں کسی کا رکھنا اس تصویر کی بلاشبہہ تعظیم ہے لیکن وہ فرش ہوجانمازنہ ہواھ (یہاں) موصوف نے فرش کو جانمازپرحمل کیاہے جیسا کہ ہم نے حمل کیاہے،پھرحلیہ کے اتباع میں فرمایا کہ جامع صغیر کاحوالہ پہلے آچکاکہ اس نے اسے محل سجدہ سے مقیدکیاہے۔ لہٰذا مناسب یہ ہے کہ اصل کے اطلاق کو اس پرحمل کیاجائے، او رجب تصویر دونوں پاؤں کے نیچے ہوتوباتفاق کراہت نہیں اھ۔
(۱؎ و ۲؎ بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب یفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۸)
اقول : قولہ وانھا معطوف علی قولہ ان یحمل، داخل تحت ینبغی فھو بحث منہ بناءً علی ماحمل علیہ کلام الاصل وقد علمت مافیہ بل تکرہ فی المصلی مطلقا وان کانت تحت القدم و مافی الدر وغیرہ لایکرہ ولوکانت تحت قدمیہ اومحل جلوسہ لانھا مھانۃ۱؎ مخصوص بغیر السجادۃ بدلیل الدلیل وقد نقلوا قاطبۃ عن الاصل الاطلاق المرسل فی المصلی وما عللوہ بہ شامل لکل صورۃ کمالایخفی نعم فی بساط غیرہ لایکرہ اذاصلی علیہ ولم یسجد علیھا وان لم تکن تحت قدمیہ بل ولوکانت امامہ لوجودالاھانۃ مطلقا مع عدم التعظیم لوجہ قال فی الحلیۃ نقلا من شرح الجامع الصغیر لفخرالاسلام لایکرہ ان یصلی دون وسادۃ علیھا تصاویر۲؎ اھ۔
اقول : (میں کہتاہوں) اس کایہ کہناکہ ''وانہا'' اس کے قول ''ان یحمل'' پرمعطوف ہے اور ''ینبغی'' کے ذیل میں داخل ہے او ریہ اس کی بحث ہے اس بناء پرکہ جس پر اس نے کلام اصل کو حمل کیاہے اور تمہیں معلوم ہے جوکچھ اس میں کمزوری ہے، بلکہ جانماز میں تصویر کاہونا علی الاطلاق مکروہ ہے اگرچہ تصویرزیرقدم ہو، اور جوکچھ دُروغیرہ میں ہے کہ یہ مکروہ نہیں اگرچہ تصویردونوں قدموں کے نیچے ہویا اس کے بیٹھنے کی جگہ میں ہو اس لئے کہ وہ بحالت توہین وتذلیل ہے اوریہ بغیر جانمازمخصوص ہے دلیل وہی دلیل ہے حالانکہ سب نے بالاتفاق کتاب الاصل سے ''اطلاق مرسل'' نقل کیاہے، اور انہوں نے جو اس کی تعلیل ذکرفرمائی وہ ہرتصویر کوشامل ہے جیسا کہ یہ پوشیدہ نہیں، ہاں کسی دوسرے تصویروالے بچھونے پرنمازپڑھے او رتصویر پرسجدہ نہ کرے تو کراہت نہ ہوگی اگرچہ تصویر اس کے قدموں کے نیچے نہ ہو، بلکہ اگرچہ تصویر اس کے آگے ہی ہو اس لئے کہ اس حالت میں مطلقاً توہین پائی گئی باوجویکہ تعظیم کسی وجہ سے بھی نہیں۔ الحلیہ میں شرح جامع صغیر سے نقل کرتے ہوئے فرمایا جانماز کے علاوہ کسی اور فرش پر کہ جس میں تصویریں ہوں نمازپڑھے تو کراہت نہیں اھ۔
(۱؎ درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۲) (۲؎ التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی مکروہات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۳۶۳)