معناہ ان البساط الذی اُعِد للصلٰوۃ معظم من بین سائرالبسط فاذا کان فیہ صورۃ کان نوع تعظیم لھا ونحن امرنا باھانتھا فلاینبغی ان تکون فی المصلی مطلقا سجد علیھا اولم یسجد۲؎۔
اس کامعنی ہے کہ جوفرش (اورقالین وغیرہ) نماز کے لئے تیارکئے گئے وہ دوسرے تمام فرشوں سے اعلی، عمدہ اوربڑے ہیں اور قابل تعظیم ہیں، پھرجب ان پرکوئی تصویر ہوتو اس کی ایک گونہ تعظیم ہوگی حالانکہ ہمیں اس کی توہین وتذلیل کرنے کاحکم دیاگیاہے لہٰذا علی الاطلاق موزوں اورمناسب نہیں کہ تصویر کسی جانمازمیں موجودہو خواہ کوئی اس پرسجدہ کرے یاسجدہ نہ کرے۔(ت)
(۲؎ العنایۃ شرح الہدایہ علی ہامش فتح القدیر باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۲)
اسی طرح تبیین وغیرہ میں ہے:
فانتفی ماوجہ بہ العلامۃ الشامی عدم التعظیم فیما اذاکانت خلفہ علی ستراوحائط، واستقر عرش التحقیق علی التلازم والعلل الثلاث وﷲ الحمد۔
لہٰذا وہ کلام زائل اورمنتفی ہوگیا کہ جس سے علامہ شامی نے عدم تعظیم کی توجیہ فرمائی تھی۔ اگرکوئی تصویرکسی پردے یادیوار پرنمازی کے پس پشت ہو(توکراہۃ نہ ہوگی) لہٰذا عرش تحقیق تینوں علتوں اور تلازم پرقرارپذیرہوگیا، اوراﷲ تعالٰی کے لئے ہی بہرنوع تعریف وتوصیف ہے(ت)
ثم اقول : وباﷲ التوفیق
(پھرمیں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت) تشبّہ دوقسم ہے: ایک عام کہ مطلقاً تصویر ممنوع کوبروجہ تعظیم رکھنے سے حاصل ہوتاہے کما تقدم تحقیقہ والتصریح بہ عن الامام فخرالاسلام(جیسا کہ اس کی تحقیق پہلے ہوچکی، اور امام فخرالاسلام کے حوالے سے اس کی تصریح آگئی۔ت)، دوسرا تشبّہ خاص کہ اس کے علاوہ نفس نماز میں مصلی کے کسی فعل یاہیأت سے ظاہرہومثلاً تصویر کوسامنے رکھ کر اس کی طرف افعال نمازبجالانا یہ اشد واخبث ہے یہ ضرور نفس تعظیم سے اخص ہے،
وعلیہ یصدق قول الشامی ان التعظیم ۱؎ اعم وقول الحلیۃ ان لیس مدار بل یوجب زیادۃ۲؎۔
اور اس پرعلامہ شامی کایہ ارشاد کہ تعظیم زیادہ عام ہے بلاشبہہ صادق آتاہے، اور مصنف الحلیہ کایہ کہنا کہ یہ ''مدار'' نہیں بلکہ موجب زیادت ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
جہاں یہ نمازمیں کراہت تحریم ہوگی ورنہ مکان میں اس کابروجہ تعظیم رکھنا توقطعاً ممنوع وگناہ ہے،
فی الحلیۃ والبحر وردالمحتار ھذہ الکراھۃ کراھۃ تحریم زاد فی البحر ینبغی ان یکون حراما لامکروھا ان ثبت الاجماع اوقطعیۃ الدلیل لتواترہ۴؎۔
حلیہ، بحررائق اورفتاوٰی شامی میں ہے یہ کراہۃ کراہۃ تحریمی ہے۔ اور بحررائق میں یہ اضافہ فرمایا: مناسب ہے کہ یہ بجائے مکروہ ہونے کے حرام ہو، اگراجماع اوردلیل کاقطعی ہوناثابت ہوجائے اس کے تواتر کی وجہ سے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۵)
(۴؎ بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷)
اور اس کے سبب نمازمیں کراہت تنزیہی آجائے گی۔عنایہ میں ہے:
لان تنزیہ مکان الصلٰوۃ عما یمنع دخول الملٰئکۃ مستحب۵؎۔
اس لئے کہ جائے نمازکواپنی چیزسے بچانا جوفرشتوں کے داخل ہونے سے مانع ہومستحب ہے(ت)
(۵؎ العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳)
حاشیۃ علامہ سعدی افندی میں ہے :
فتکون الکراھۃ تنزیھیۃ۱؎۔
لہٰذا یہ کراہت، کراہت تنزیہی ہوگی(ت)
(۱؎ حاشیہ سعدی چلپی علی العنایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث ۱ /۳۶۳)
یہ ہے وہ کراہت جومحقق نے مکان سے نماز کی طرف ساری مانی، ہمارے اس بیان سے ظاہرہوا کہ مسئلہ تصاویر میں دربارہ نمازجولفظ کرہ کتب میں ارشاد ہوا اس سے مراد کراہت تحریمی وتنزیہی سے عام ہے،
وعلیہ یستقیم قول الشامی، ظاھر کلام علمائنا ان مالایؤثر کراھۃ فی الصلٰوۃ لایکرہ ابقاؤہ وقد صرح فی الفتح وغیرہ بان الصورۃ الصغیرۃ لاتکرہ فی البیت۲؎ اھ والافعلۃ کراھۃ التحریم فی الصلٰوۃ ھوا لتشبہ الخاص وفی الابقاء ھو التعظیم وقد اعترف انہ اعم من التشبہ وانتفاء الاخص لایوجب الانتفاء الاعم۔
اور اس پرعلامہ شامی کا قول ٹھیک صادق آتاہے کہ ہمارے علمائے کرام کاظاہرکلام یہ ہے کہ جوچیز نمازکے مکروہ ہونے میں مؤثرنہ ہو تو اس کاباقی رکھنا بھی مکروہ نہیں۔ اور فتح القدیر وغیرہ میں یہ تصریح فرمائی کہ گھر میں چھوٹی تصویرہو توکراہت نہ ہوگی اھ ورنہ نماز میں کراہت تحریمی کی علت تشبّہ خاص ہے اور اس کے باقی رکھنے میں تعظیم ہے، علامہ موصوف نے اس بات کااعتراف کیاہے کہ تشبّہ سے تعظیم زیادہ عام ہے او ر(قاعدہ یہ ہے کہ) خاص کاانتفاء عام کے انتفاء کاموجب نہیں ۔
(۲؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱ /۴۳۷)
اقول : وظھر لماقررنا ان السؤال الذی ذکرہ المحقق لم یکن وارد امن اصلہ فان المنتفی عندالاستدبار ھوالتشبہ الخاص والتنحصر الکراھۃ فیہ واقول : ظھرایضا ان الجواب الذی ابداہ لیس مماابداہ بل ھو مفاد کلام المشائخ وتعلیلھم بامتناع الملٰئکۃ۔
اقول :(میں کہتاہوں) جوکچھ ہم نے ثابت کیا اس سے یہ واضح ہوگیا کہ جس سوال کومحقق نے ذکرفرمایا وہ بالکل واردنہیں، اس لئے کہ وقت استدبار تشبّہ خاص منتفی اور زائل ہے، اور کراہۃ اس میں منحصرنہیں واقول : (اورمیں کہتاہوں) اوریہ بھی ظاہرہوگیا کہ موصوف نے جس جواب کوظاہرقراردیا وہ ظاہرنہیں بلکہ وہ کلام مشائخ اور ان کی تعلیل امتناع ملائکہ سے حاصل ہے_______________________
واقول : ظھر ایضا ان السؤال الذی اوردالمحقق الحلبی علی مسألۃ السجود علی التصویر لم یکن من الوارد ایضا لانہ ان انتفی فیہ فالتشبہ الخاص بل لانسلم انتفائہ ایضا فان السجود علی التصویر یشبہ عبادتہ قطعا کما نص علیہ فی الکافی ولفظہ السجود علیھا یشبہ عبادۃ الاوثان۱؎ والتبیین ونصہ السجود علیھا یشبہ عبادتھا فیکرہ۲؎ فانتفی ماذکر العلامۃ الشامی ان لاتشبہ فیہ اقول : وظھر ایضا ان الجواب الذی ابداہ فی الحلیۃ وظن انھم لم یذکروہ کلامھم محیط بہ کماعلمت وﷲ الحمد۔
واقول : (اور میں کہتاہوں)اور یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ تصویر پرسجدہ کرنے کے مسئلہ پرمحقق حلبی نے جوسوال اٹھایا وہ اصلاً واردنہیں کیونکہ اس میں اگر انتفاء بھی ہوتو تشبّہ خاص کاانتفاء ہوگا بلکہ ہم اس کاانتفاء بھی تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ تصویر پرسجدہ کرنا یقینا اس کی عبادت کے مشابہ ہے جیسا کہ ''الکافی'' میں اس کی تصریح پائی گئی چنانچہ اس کے الفاظ یہ ہیں: کسی تصویر پرسجدہ کرناعبادت صنم کے مشابہ ہے۔ اور التبیین کی تصریح یہ ہے: تصویر پرسجدہ کرنا اس کی عبادت کے مشابہ ہے لہٰذا مکروہ ہے، لہٰذا علامہ کایہ ذکرکرنا کہ اس میں کوئی تشبّہ نہیں، بلاشبہہ زائل ہوگیا۔ اقول : (میں کہتاہوں) اوریہ بھی واضح ہوگیا کہ ''الحلیہ'' میں اس کے مصنف نے جس جواب کوظاہرکیاہے اور یہ گمان کیاکہ ائمہ کرام نے اسے ذکر نہیں فرمایا حالانکہ ان کاکلام اس جواب پرمحیط ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اور اﷲ تعالٰی کے لئے ہی تعریف وتوصیف ہے۔
(۱؎ الکافی شرح الوافی )
(۲؎ تبیین الحقائق کتا ب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۷)