اقول: ماقالہ الامام النووی رحمہ اﷲ تعالٰی ورحمنا بہ محتمل فی الکلب علی نزاع ظاھر فیما استدل لہ بہ وان تبعہ فیہ الشیخ فی اشعۃ اللمعات ورجع اخرا الی استثناء کلب یحل اقتناؤہ وذٰلک لانہ کم من فرق بین مارخصہ الشرع لحاجۃ وبین ماوقع من غیرالمرخص بدون علم وما مثلہ الا کنجاسۃ معفوۃ شرعا واخری کثیرۃ صلی معھا من دون علم بھا، اما ماذکر فی الصورۃ فلایصرح حدیث جبریل المذکور، وایضا اخرج البخاری والامام احمد عن ام المؤمنین انھا کانت اتخذت علی سھوۃ لھا سترافیہ تماثیل فھتکہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قالت فاتخذت منہ نمرقتین فکانتا فی البیت نجلس علیھما۱؎ زاد احمد ولقد رأیتہ متکئا علی احدٰھما وفیھاصورۃ۱؎ اھ
اقول: (میں کہتاہوں) جوکچھ امام نووی نے ارشاد فرمایا (اﷲ تعالٰی ان پررحمت برسائے او ران کے طفیل ہم پربھی رحمت کانزول فرمائے) کتے میں واضح نزاع کی وجہ سے اس کااحتمال ہے کہ جس سے موصوف نے استدلال کیاہے اگرچہ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ نے بھی اس مسئلہ میں ان کاساتھ دیاہے، او رآخرمیں اس کتے کااستثناء فرمایا کہ جس کی حفاظت کرنا شرعاً حلال اورجائزہے، یہ اس لئے کہ بڑا فرق ہے اس کے درمیان کہ جس کی کسی ضرورت سے شریعت نے اجازت اور رخصت دی اور اس کے درمیان کہ بغیررخصت دئیے بغیر علم واقع ہوا۔ اور اس کی مثال نہیں مگر اس مقدارنجاست کی طرح جوشرعاً معاف ہے۔ اوردوسری مقدارعفو سے بہت زیادہ ہے کہ بغیرعلم اس کے ساتھ کسی شخص نے نماز پڑھی۔ لیکن جوکچھ تصویر(صورۃ) کے بارے میں ذکرکیاگیاہے توذکرکردہ حدیث جبریل اس کی کوئی تصریح نہیں کرتی، نیزبخاری اور امام احمد نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کے حوالے سے اس کی تخریج فرمائی کہ مائی صاحبہ نے طاق پر ایک پردہ لٹکایا جس میں نقشی تصویریں تھیں، توحضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اسے پھاڑدالا، مائی صاحبہ نے فرمایا: پھرمیں نے اس کے دو چھوٹے تکیے بناڈالے، وہ گھر میں رکھے ہوتے، اور ہم اہل خانہ ان پربیٹھتے (یعنی ان سے ٹیک لگاکربیٹھتے) امام احمد نے اس پراتنا اضافہ کیا، بلاشبہہ میں نے حضورپاک کودیکھا کہ آپ ان دونوں میں سے ایک پرٹیک لگاکر تشریف فرماہوتے جبکہ اس پر تصویرتھی اھ،
وماکان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لیترک فی البیت شیئا یمنع دخول جبریل علیہ الصلٰوۃ والتسلیم بل فی حدیثھا رضی اﷲ تعالٰی عنھا عند الطحاوی قالت اشتریت نمرقۃ فیھا تصاویر فلمادخل علیّ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فراٰھا تغیر ثم قال یاعائشۃ ماھٰذہ فقلت نمرقۃ اشتریتھا لک تقعد علیھا قال انا لاندخل بیتا فیہ تصاویر۲؎، فالحق ان الامتناع مختص بغیر المھانۃ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
حضوراقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی ہرگزیہ شان نہیں کہ گھرمیں کوئی ایسی چیزچھوڑدیتے جو حضرت جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام کوگھرمیں داخل ہونے سے روک رکھتی، بلکہ امام طحاوی کے نزدیک مائی صاحبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی روایت کچھ اس طرح ہے، فرمایا: میں نے ایک تکیہ خریدا جس میں نقشی تصویریں تھیں پھرجب حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور اسے دیکھا توچہرہ اقدس کارنگ تبدیل ہوگیا اورارشاد فرمایا: (اے عائشہ!) یہ کیاہے؟ میں عرض کی ایک چھوٹا ساتکیہ ہے جومیں نے آپ کی خاطر خریداہے، کہ اس سے آپ سہارالگائیں گے، ارشاد فرمایا: ہم ایسے گھرمیں داخل نہیں ہوتے کہ جس میں تصویریں ہوں۔ حق یہ ہے امتناع اُن تصویروں سے مختص ہے جوبغیرتذلیل وتوہین باعزت طریقے سے رکھی ہوں۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب الصورتکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۰)
توظاہرہواکہ تینوں علتیں متلازم ہیں اور تینوں سے تعلیل صحیح ہے اور ان میں سے ہرایک میں حصربھی کرسکتے ہیں، اورمغز تحقیق یہ ہے کہ اصل علت تعظیم ہے تعظیم ہی سے تشبہ پیداہوتاہے اور تعظیم ہی سے ملائکہ رحمت نہیں آتے، ولہٰذا اہانت کی صورتیں جائزرکھی گئیں کہ فرش میں ہوں جن پربیٹھیں، کھڑے ہوں، پاؤں رکھیں، یہ تقریر کلام مشائخ ہے وﷲ الحمد۔
ثم اقول: (پھرمیں کہتاہوں۔ت) جبکہ ہرتعظیم تشبّہ عبادت صورت ہے اور ہرتشبّہ عبادت ملائکہ کے لئے قطعاً موجب نفرت، توعارض ولازم میں تفرقہ محض بے اصل، تعلیق ونصب میں بھی تعظیم اسی فعل سے عارض ہو ئی نہ کہ نفس ذات صورت کولازم تھی توبساط مفروش میں جب تصاویر کوموضع سجود میں رکھ کر ان پرسجدہ کیاجائے گا بعینہٖ انہیں معلق ومنصوب کرنے کے مثل ہوگا اور اس وقت دخول ملٰئکہ کومنع کرے گا کہ ان کاامتناع بوجہ تعظیم تھا اور تعظیم پائی گئی،
فمااستظھرہ الشامی غیر ظاھر فان فرق بان جعلھا فی المفروش اھانۃ لہا فتعارض تعظیم السجود علیھا فذٰلک امراٰخر غیر کون التعظیم عارضا وستعلم مافیہ بعون اﷲ تعالٰی اما قول الحلیۃ ذٰلک لیس بمانع من دخول الملٰئکۃ۱؎ کما افادتہ ھذہ النصوص اقول: لم تفد النصوص ان مجرد جعلھا فی فراش اووسادۃ یخرجھا عن منع الملٰئکۃ بل قیدتہ بقولہ منبوذتین توطّان وللنسائی فی رایۃ یجعل بساطا یوطأ ۲؎
لہٰذا علامہ شامی نے جس کوظاہر قراردیا ہے وہ (درحقیقت) ظاہرنہیں اور اگریہ فرق کیاجائے کہ بچھے ہوئے فرش میں کسی تصویرکاہونا(اورپیوستگی رکھنا) اس کی توہین وتذلیل ہے اور اس پر سجدہ کرنے کی وجہ سے حصول تعظیم اس کے متعارض ومتصادم ہے تویہ اورچیزہے نہ یہ کہ تعظیم کا عارض ہوناہے اور ابھی تمہیں اﷲ تعالٰی کی مددسے معلوم ہوجائے گا جوکچھ اس میں کمزوری اورنقص ہے لیکن صاحب حلیہ کایہ کہنا کہ یہ دخول ملائکہ سے مانع نہیں جیسا کہ ان نصوص نے افادہ دیا۔ میں اس کے متعلق گزارش کرتاہوں کہ نصوص سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہواکہ کس تصویر کوفرش یا تکیے میں رکھنا اسے امتناع ملائکہ سے نکال دیتاہے بلکہ نصوص نے اس کو اس قول سے مقیدکیاہے کہ وہ تصویریں پھینکی ہوئی پامال شدہ ہوں (تاکہ ان کی صحیح اہانت اور تذلیل ہو) اور امام نسائی کی رائے میں، تصویر کسی ایسے بچھونے میں ہوکہ اسے پامال کیاجائے۔
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
(۲؎ سنن النسائی کتاب الزینۃ ذکراشد الناس عذابا میرمحمدکارخانہ کتب کراچی ۲/ ۳۰۱)
وللطبرانی فی الاوسط رخص فیماکان یوطأ۱؎ فمن جعلہا فی بساط ثم علقہ علی الجدار کالاستار اووضعہ علی الراس حرم قطعا ومنع الملٰئکۃ من الدخول، فکذا من جعلہا فی بساط ثم سجد علیھا وبالجملۃ القصد ھوالاستھان ولم یحصل، الاتری الی مافی البحر عن المحیط اذاکانت علی الوسادۃ ان کانت قائمۃ یکرہ لانہ تعظیم لھا وان کانت مفروشۃ لایکرہ۲؎ اھ والی مافی الحلیۃ من شرح الجامع الصغیر للامام النووی یکرہ مایکون علی الوسائد الکبار (ای لانتصابہ یکرھا) وکذٰلک کل شیئ نصیب فیصیر تعظیما لہ فاما اذاکان تحقیر الہ فلاباس کالبساط المفروش والوسادۃ الملقاۃ لان فی ذٰلک استھانۃ بالصورۃ ۳؎ اھ وقدتقدم معناہ عن الھدایۃ والکافی والتبیین۔
اورامام طبرانی کی ''الاوسط'' میں ہے۔ اس تصویر کی رخصت دی گئی جوپامال کی جائے، لہٰذا جس نے تصویر کوکسی بچھونے میں رکھا، پھر پردوں کی طرح دیوار پرلٹکادیا یا اسے سرپررکھ دیا تویہ قطعی طورپرحرام ہے اور دخول ملائکہ سے مانع ہے اور اسی طرح جس نے اسے فرش میں رکھا اورپھراس پر سجدہ کیا۔ (خلاصہ کلام) مقصود اس کی توہین وتذلیل ہے جویہاں حاصل نہیں ہوا، کیاتم نہیں دیکھتے کہ جوکچھ بحررائق میں بحوالہ محیط نقل کیاہے۔ اگر کوئی تصویر کسی تکئے پرہو اگروہ کھڑا ہے توکراہت ہوگی کیونکہ اس صورت میں تصویر کی تعظیم ہوگی، اور اگر وہ بچھاہواہے تو پھرکراہۃ نہ ہوگی اھ (ارے) تم وہ نہیں دیکھتے جوکچھ حلیہ شرح جامع صغیر امام نووی میں مذکورہے بڑے بڑے تکیوں میں جونقشی تصویریں ہوں (ان کے استعمال میں)کراہت ہے، اس لئے کہ ان کے اونچا کرنے سے تصویریں کھڑی رہتی ہیں، اور یہ حکم ہرکھڑی چیزکاہے کیونکہ اس میں تصویر کی تعظیم ہے، لیکن جب ان کی تحقیر اورذلت ہوتوپھر کچھ حرج نہیں جیسے بچھے ہوئے فرش اورپاؤں میں پڑے ہوئے تکئے وغیرہ، کیونکہ اس میں تصویر کی توہین وتذلیل ہے (جومقصد شریعت ہے) اھ اور اس کامفہوم ہدایہ، کافی اور تبیین کے حوالہ سے پہلے گزرچکاہے(ت)
ثم اقول: (پھرمیں کہتاہوں۔ت) تصویر کہ مصلی کے پس پشت ہو اسی حالت میں مکروہ ہے کہ منصوب یامعلق یادیوارپر منقوش یاچسپاں یاآئینہ میں لگی ہو او ریہ قطعاً تعظیم ہے،
لہٰذا مصنف معراج الدرایہ کاقول منفی اور زائل ہوگیا کہ اس صورت میں تعظیم اورتشبہ دونوں نہیں، جیسا کہ پہلے گزرچکاہے، کاش میں (اس رازکو) سمجھ لیتاکہ جب تعظیم اورتشبّہ دونوں منتفی اورزائل ہیں توپھروجہ کراہت کیا ہے۔ اگرامتناع ملٰئکہ کے استدلال کی طرف میلان کیاجائے توہم کہتے ہیں جب تعظیم نہیں توامتناع کہاں ہے(ت)
ثم اقول: شرع مطہر نے جس شے کی تعظیم حرام اور توہین واجب کی اس سے اگرایسابرتاؤکیجئے جس میں ایک جہت سے توہین اوردوسری جہت سے تعظیم ہو وہ حرام وناجائزہی ہوگا اوریہ نہیں کہہ سکتے کہ تعظیم وتوہین متعارض ہوکربرابرہوگئیں۔
اس لئے کہ حلال اور حرام جمع نہیں ہوتے (مگر بربنائے احتیاط) حرام غالب ہوگا۔ اور اس کا اعتبار اس شخص کے (متضاد کام سے) کیاجاسکتاہے کہ وہ ایک طرف توصنم کوچومتا چاٹتاہے اور دوسری طرف دیکھئے تو اس کی حالت یہ ہے کہ وہ جوتوں سے اسے مارتا پیٹتاہے توپھر اس کے متعلق یہ کہاجاسکتاہے کہ بوسہ بازی اورمارپیٹ دونوں کام باہم برابرہوگئے۔ لہٰذایہ دونوں فعل جائزہوگئے، ہرگزایسانہیں، بلکہ اس کاصنم کوبوسہ دیناحرام ہے، یہاں اس صورت میں اس نے اچھے اوربرے فعل کوباہم مخلوط کردیاہے۔(ت)
ولہٰذا محررالمذہب امام محمدرحمہ اﷲ تعالٰی ورحمنابہ
(پس اس لئے مذہب کوقیدتحریر میں لانے والے حضرت امام محمد ، اللہ تعالی ان پر رحم وکرم فرمائے اور ان کے صدقے ہم سب پر بھی رحمت برسائے۔ت) نے کتاب الاصل میں سجادہ یعنی جانمازمیں تصویر کاہونا مطلقاً مکروہ ٹھہرایا اگرچہ تصویر پرسجدہ نہ ہوکہ جانمازمعظم ہے تو اس میں تصویرہوناتصویرکی تعظیم ہے اور یہ لحاظ نہ فرمایا کہ جانماززمین پربچھائی جائے گی اور زمین پربچھانا تصویر کی توہین ہے اس پرپاؤں رکھاجائے گا اور یہ غایت توہین ہے تو وجہ وہی ہے کہ تعظیم مطلقاً مکروہ ہے اگرچہ اس کے ساتھ توہین بھی ہوجیسے معظمان دینی کی توہین مطلقاً حرام ہے اگرچہ اس کے ساتھ ہزارتعظیمیں بھی ہوں۔
ہدایہ میں ہے:
اطلق الکراھۃ فی الاصل لان المصلی معظم۱؎۔
امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے کتاب الاصل میں کراہۃ کومطلق رکھا اس لئے کہ جانماز ایک قابل تعظیم چیزہے۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۲۲)