لیکن کراہت اس میں زیادہ آسان ہے کیونکہ اس میں نہ تو تعظیم ہے او رنہ تشبہ ہے، معراج۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵)
علامہ شامی نے اس نفی کی یہ توجیہ کی:
قلت وکان عدم التعظیم فی التی خلفہ وان کانت علی حائط اوستران فی استدبارھا استھانۃ لھا فیعارض مافی تعلیقھا من التعظیم بخلاف ماعلی بساط مفروش ولم یسجد علیھا فانہا مستہانۃ من کل وجہ۱؎۔
میں کہتاہوں اگرتصویر پیٹھ پیچھے ہوتو گویا اس کی کوئی تعظیم نہیں اگرچہ دیوار یاپردے پر ہو اس لئے کہ اسے پیٹھ پیچھے رکھنے میں اس کی توہین وتذلیل ہے، اور تصویرلٹکانے میں جو اس کی تعظیم ہے وہ اس کے معارض ہے بخلاف اس صورت کے تصویر بچھائے گئے بچھونے پرہو لیکن اس پرسجدہ نہ کرے پھروہ توبہروجہ ذلیل وخوارہے۔(ت)
(۱؎ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵)
اقول: (میں کہتاہوں) او رعجب تریہ کہ باوصف انتفائے وصفین اثبات کراہت کی یہ توجیہ فرماکر اس کے متصل ہی وہ لکھاکہ:
قدظھر من ھذا ان علۃ الکراھۃ فی المسائل کلھا التعظیم اوالتشبہ وھل ھوالاتفریع علی النقض۲؎۔
اس میں اختلاف کیاگیاجبکہ تصویرپیٹھ پیچھے ہو(کہ اس کاحکم کیاہے) پس زیادہ ظاہریہ ہے کہ کراہۃ ہوگی بیشک اس سے واضح ہوا کہ ان مسائل میں کراہت کی علت تعظیم یاتشبہ ہے، او ریہ تونہیں مگرتفریع برنقض۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵)
یہ ہیں بظاہرسات رنگ کے
اقوال وانا اقول: وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق
(اورمیں کہتاہوں اﷲ ہی کی طرف سے توفیق ہے اور اسی سے ہے تحقیق کی بلندیوں تک پہنچنا۔ت) افادات مشائخ کرام کہ ہدایہ واتباع ہدایہ میں مذکورہوئے ضرور حق وصحیح، اورہرغبار سے پاک ونجیح ہیں بیشک سواتشبّہ کے کچھ علت نہیں، اور بیشک تعظیم علت ہے، اور بیشک امتناع ملائکہ علت ہے، متاخرین کے اختلافات وترددات کامنشا ان امورثلٰثہ میں تفارق سمجھناہے حالانکہ ان میں باہم تلازم ہے تشبہ عبادت بے تعظیم ناممکن ہوناتو بدیہی کہ عبادت غایت تعظیم ہے جہاں اصلاً کسی طرح شائبہ تعظیم نہ ہو وہاں شبہ عبادت کیامعنی، ولہٰذا اگربساط مفروش میں تصویر ہو اور وہ بساط جانمازنہ ہو نہ مصلی تصویر پرسجدہ کرے تو ہمارے ائمہ کے اجماع سے اصلاً کراہت نہیں کہ اب کوئی وجہ تعظیم نہ پائی گئی توتشبہ عبادت کہ یہی علت تھا متحقق نہ ہوا
کماتقدم من الکتب الثلٰثۃ ومثلہ فی سائرھن
(جیساکہ تین کتابوں کے حوالے گزرچکے اورباقی کتابوں میں بھی اسی طرح ہے۔ت) یوہیں تعظیم تصویر تشبہ عبادت کومستلزم کہ تعظیم دونوں کوجامع ہے جب اس کادرجہ اعلٰی عبادت ہے ادنٰی میں اس سے مشابہت ہے اقول: (میں کہتاہوں) یہ اس لئے کہ تصویر کوکوئی علاقہ رب عزوجل سے نہیں اور حقیقی مستحق ہرتعظیم وہی حقیقی جلیل عظیم عزجلالہ ہے معظمان دینی کی تعظیم اس کی طرف نسبت وعلاقہ سے ہے وہ غایت عظمت میں ہے تو غایت تعظم اعنی عبادت اسی کے لائق، دوسرے کہ اس سے منتسب ہیں، اپنی اپنی نسبتوں کے قدر اس کے حکم سے دیگرمعظمات نازلہ کے مستحق، تویہ تعظیمیں ''اعطاء کل ذی حق حقّہ'' کے قبیل سے ہوئیں بلکہ حقیقۃً اسی کی تعظیم ہیں، ولہٰذا حضورسیدالعالمین اعظم المعظمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان من اجلال اﷲ اکرام ذی الشیبۃ المسلم وحامل القراٰن غیرالغالی فیہ والجافی عنہ واکرام السلطان المقسط رواہ ابوداؤد۱؎ بسند حسن عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بوڑھے مسلمان اور سنی عالم اورعادل بادشاہ کی تعظیمیں اﷲ ہی کی تعظیم ہیں (امام ابوداؤد نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کوروایت فرمایا ہے۔ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تنزیل الناس منازلہم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۹)
مگرجس وجہ کو اس عظیم حقیقی سے علاقہ نہیں وہ اصلاً لائق تعظیم نہیں اور اب جو اس کی ذرا بھی تعظیم کی جائے گی استقلال کی بودے گی کہ علاقہ تبعیت منتفی ہے لاجرم تشبہ عبادت سے مفرنہ ہوگا، ولہذا امام علام فخرالاسلام نے شرح جامع صغیرمیں فرمایا:
امساک الصورۃ علی سبیل التعظیم ظاھرا مکروہ لان ذٰلک یشبہ عبادۃ الصنم اھ نقلہ عنہ فی الحلیۃ۲؎۔
برملا بطورتعظیم کسی تصویر کواٹھانا مکروہ ہے کیونکہ اس میں عبادت صنم سے مشابہت ہے اھ ''الحلیہ'' میں اس کو اسی راوی (ابوموسٰی اشعری) سے نقل کیاہے۔(ت)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
یوہیں امتناع ملائکہ اسی گھرمیں جانے سے ہوگا جہاں تصویر بروجہ تعظیم رکھی ہو ورنہ ہرگزنہیں، حدیث مذکور ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی اس میں نص صریح ہے، امین الوحی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اپنے نہ حاضر ہونے کی وجہ یہ عرض کی کہ پردہ پرتصویریں منقوش تھیں اور اس کاعلاج یہ گزارش کیاکہ اسے کاٹ کر دومسندیں بنائی جائیں کہ زمین پرڈالی اور پاؤں سے روندی جائیں، اگر اس کے بعد بھی امتناع باقی رہتا توعلاج کیاہوا،
فانتفی قول العتابی فیماکانت تحت قدمیہ انھا تکرہ کراھۃ جعلھا فی البیوت لاجل الحدیث وقد تقدم عن الفتح انہ خلاف صریح کلامھم اقول: بل خلاف صریح کلام محررالمذھب محمد حیث قال فی مؤطاہ بعدماروی حدیثا فی المعنی وبھذا ناخذ ماکان فیہ من تصاویر من بساط یبسط اوفراش یفرش اووسادۃ فلاباس بذٰلک انما یکرہ من ذٰلک فی الستر وماینصب نصبا وھو قول ابی حنیفۃ والعامۃ من فقہائنا۱؎ اھ وقدروی الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ رخص فیما کان یوطأ وکرہ ماکان منصوبا۲؎۔
لہٰذا علامہ عتابی کاقول منفی اورزائل ہوگیا کہ اگر تصویرقدموں میں پڑی ہو توپھربھی کراہت ہوگی کہ وہ گھرمیں موجودہے اور ایساحدیث کی وجہ سے ہے، اور فتح القدیر کے حوالہ سے پہلے بیان ہوچکاکہ بات کلام ائمہ کرام کے بالکل صریح خلاف ہے اقول: (میں کہتاہوں)(یہی نہیں) بلکہ یہ محررمذہب (مذہب کوقلمبند کرنے والا) امام محمد کے کلام کے بھی صریح خلاف ہے جیسا کہ امام محمد نے اپنی موطامیں ارشاد فرمایا، بعد روایت کرنے حدیث کے اس معنی میں، یہی وجہ ہے کہ ہم اسی کواختیارکرتے ہیں کہ جس بچھائے ہوئے بچھونے پرتصویریں ہوں یابچھائے گئے فرش یاتکیے میں ہوں تو ان میں کچھ حرج نہیں، ہاں اگرپردے پرنقش ہوں یاکسی کھڑی کی ہوئی چیزمیں ہوتو ضرور کراہت ہوگی اور یہی امام ابوحنیفہ اورہمارے عام فقہائے کرام کاارشاد ہے اھ اورامام طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے نبی مکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت فرمائی کہ جوتصویر پامال اورذلیل شدہ ہو آپ نے س کی رخصت اوراجازت دی، اور جواستادہ اوربحالت قیام ہو اسے ناپسند فرمایا۔(ت)
(۱؎ مؤطا الامام محمد باب التصاویر والجرس ومایکرہ منہا آفتاب عالم پریس لاہور ص۳۸۲)
(۲؎ المعجم الاوسط حدیث ۵۶۹۹ مکتبۃ المعارف ریاض ۶/ ۳۲۹)
ردالمحتارمیں ٹھیک کہاکہ:
عدم دخول الملٰئکۃ انما ھو حیث کانت الصورۃ معظمۃ۳؎۔
فرشتوں کاکسی گھرمیں داخل نہ ہونا اس وقت ہے جبکہ تصویر عظمت سے رکھی ہو۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶)
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے:
قال الخطابی انما لاتدخل الملٰئکۃ بیتا فیہ کلب اوصورۃ ممایحرم اقتناؤہ من الکلاب والصور واما مالیس بحرام من کلب الصید والزرع والماشیۃ ومن الصورۃ التی تمتھن فی البساط والوسادۃ وغیرھما فلایمنع دخول الملٰئکۃ بیتہ، قال النووی والاظھرانہ عام فی کل کلب وصورۃ وانھم یمتنعون من الجمیع لاطلاق الاحادیث ولان الجر والذی کان فی بیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تحت السریر کان لہ فیہ عذر ظاھر لانہ لم یعلم بہ، ومع ھذا امتنع جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام من دخول البیت وعللہ بالجرو۱؎ اھ مانقلہ القاری مقرا علیہ۔
علامہ خطابی نے فرمایا: فرشتے اس گھرمیں نہیں داخل ہوتے کہ جس میں ایساکتا یاایسی تصویر ہو ان کتوں یاان تصویروں میں سے کہ جن کامحفوظ رکھنا حرام ہے۔ لیکن جس کتے اورتصویر کامحفوظ رکھناحرام نہیں مثلاً شکاری کتا یاکھیتی باڑی اور مال مویشی کی حفاظت کے لئے کتا رکھنا، یاوہ تصویر جوتوہین وتذلیل کی صورت میں بچھونے اور تکیے وغیرہ پرہو(اورایسی تصویرکارکھنا حرام نہیں) لہٰذا یہ فرشتوں کوگھرمیں داخل ہونے سے نہیں روکتی۔ امام نووی نے فرمایا: زیادہ ظاہر یہ ہے کہ حکم مذکورعام ہے ہرکتے اور ہرتصویر کو شامل ہے لہٰذا فرشتے ان سب وجہوں سے جانے سے رک جاتے ہیں اس لئے کہ احادیث واردہ میں اطلاق ہے(یعنی ان میں کوئی قید مذکورنہیں) اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جو بچہ سگ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے کاشانہ اقدس میں تھا وہ تخت کے نیچے روپوش تھا اور اس میں حضورپاک کے لئے ایک واضح عذرتھا کیونکہ آپ کو اس کی پوری تفصیل معلوم نہ تھی( اور اس کی وجہ آپ کی توجہ تھی) پس اس کے باوجود حضرت جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام گھرمیں داخل ہونے سے رک گئے، اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ گھرمیں بچہ سگ موجود ہے اھ جو حضرت ملاعلی قاری نے اقرار کرتے ہوئے نقل فرمائی۔
(۱؎ مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب اللباس تحت حدیث ۴۴۸۹ ۸/ ۲۶۵ و ۲۶۶)