Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
130 - 160
اسی بناپر صورصغار سے نفی کراہت کی دلیل کہ بدایہ وکافی وتبیین وعامہ مشائخ کرام نے افادہ فرمائی اور ان کے شیخ محقق علی الاطلاق نے اس پرتقریر کی، اعتراض فرمادیا،
فقال اما عدم الکراھۃ اذاکانت الصورۃ صغیرہ لاتظھر للناظر علی بعد فقالوا لانھا لاتعبد والکراھۃ انماکانت باعتبار شبہ العبادۃ۲؎ وقد عرفت مافی ھذا۔
محقق ابن ہمام نے فرمایا، رہی یہ بات کہ کراہت نہ ہوگی جبکہ تصویر اتنی چھوٹی ہوکہ دیکھنے والے کے لئے دور سے واضح اورنمایاں نہ ہوتوائمہ فقہ نے عدم کراہت کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اس قدر چھوٹی تصویر کی عبادت نہیں کی جاتی، اور تحقق کراہت باعتبار شبہ عبادت ہے، بلاشبہہ اس میں جو نقص ہے آپ اسے پہچان گئے(ت)
 (۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
صاحب بحرنے بحرمیں ان کی تبعیت کی بلکہ ان کے استظہار پر جزم کیا،
فقال انما لم تکرہ الصلٰوۃ فی بیت فیہ صورۃ مھانۃ مع عموم الحدیث ان الملٰئکۃ لاتدخلہ وھو علۃ الکراھۃ لوجود مخصص (الٰی ان قال) الا ان تکون صغیرۃ لان الصغار جدا لاتعبد والکراھۃ انما کانت باعتبار شبہ العبادۃ کذا قالوا وقد عرفت مافیہ۱؎  اھ قال فی منحۃ الخالق مافیہ ای ان العلۃ لیست التشبہ بل عدم دخول الملٰئکۃ علیھم السلام۲؎ اھ  اقول:  کل کلامہ ھٰھنا ماخوذ عن الحلیۃ وان لم یعزالیھا ولم یقدم ماقدم ھو لنفی علیۃ التشبہ من لزوم ان لاتکرہ اذا لم تکن امامہ ولافوقہ فلم یستقم لہ قولہ قدعرفت مافیہ۔
مصنف بحررائق نے فرمایا، ایسے گھرمیں نمازپڑھنی مکروہ نہیں کہ جس میں تصویر کی تذلیل ہو باوجود عموم حدیث کہ تصویر والے گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، اور ان کا غیردخول کراہت کے لئے علت ہے باوجودیکہ اس کامخصص موجودہے، یہاں تک کہ فرمایا، مگریہ کہ تصویرچھوٹی ہو، کیونکہ بلاشبہہ چھوٹی تصویروں کی عبادت نہیں ہوتی، اور کراہۃ باعتبار شبہ عبادت ہے، ائمہ کرام نے یونہی ذکرفرمایا۔ اور تمہیں معلوم ہے جوکچھ اس میں کمزوری ہے  اھ، منحۃ الخالق میں فرمایا جوکچھ اس میں ہے (مافیہ) یعنی علت محض تشبّہ نہیں بلکہ ملائکہ کرام علیہم السلام کاوہاں عدم دخول ہے اھ  اقول: (میں کہتاہوں) یہاں ان کاسارا کلام الحلیہ سے ماخوذ ہے اگرچہ اس کی طرف نسبت نہیں کی اورمقدم نہیں کیا (یعنی پہلے ذکرنہیں کیا) جوکچھ اس نے مقدم کیاتھا''علیۃ'' تشبّہ کی نفی کے لئے بوجہ اس لزوم کے کہ نمازمکروہ نہیں ہوتی جبکہ تصویرآگے اوراوپرنہ ہو۔ لہٰذا اس کایہ کہنا کہ قدعرفت مافیہ ٹھیک اور مستقیم نہیں۔(ت)
 (۱؎ بحرالرائق         کتاب الصلوٰۃ     باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۱/ ۲۷،۲۸)

(۲؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق      باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۱/ ۲۷،۲۸)
پھرمحقق حلبی نے اثنائے کلام میں دوعلت باقی اعنی تشبّہ وتعظیم کی طرف بھی میل فرمایا یہاں تک کہ صورت تشبّہ وشبہہ تعظیم کوموجب ٹھہرایا، اور بحرنے بدستوراتباع کیا،
وھذا نص الحلیۃ بعد ماقدمنا عنھا وذکر الاحادیث المخصصۃ، قال نعم علی ھذا یقال ینبغی ان لاتکرہ الصلٰوۃ علی بساط فیہ صورۃ وان کانت فی موضع السجود لان ذٰلک لیس بمانع من دخول الملٰئکۃ کما افادتہ ھذہ النصوص۱؎، فان قلت الکراھۃ فی ھذہ الصورۃ انما ھی معللۃ بالتشبہ بعبادۃ الاصنام لاغیر قلت یمکن ان یقال وجود التشبہ المذکور فی ھذہ الصورۃ ممنوع فان عباد التماثیل والصور لایسجدون علیھا وانما ینصبونھا ویتوجہون الیھا بل الذی ینبغی ان یکرہ علی ھذا مااذا کانت الصورۃ امامہ لافی موضع سجودہ اللھم الا ان یقال انھا اذاکانت امامہ فی موضع سجودہ تکون فی الصلٰوۃ صورۃ الشبہ بالعبادۃ لھا فی حالۃ القیام والرکوع ثم فی حالۃ السجود علیھا ان لم یوجد التشبہ بعبادتھا فھو لایعری عن نوع شبہ بتعظیم الصور لان ذٰلک یشبہ فی صورۃ الخضوع لھا وتقبیلھا ولاباس بھذا التوجیہ وان لم یذکروہ۔
حلیہ کی یہ تصریح، اس کے بعد سے جوکچھ ہم اس کے حوالہ سے  پہلے بیان کرآئے ہیں اور بعد ذکرفرمانے احادیث مخصصہ کے فرمایا چنانچہ اس نے کہا کہ ہاں اس روش پریہ کہاجاسکتاہے کہ پھرتومناسب ہے کہ نماز ایسے بچھونے پر مکروہ نہ ہوکہ جس میں تصویرہواگرچہ وہ جائے سجدہ میں ہو کیونکہ یہ دخول ملائکہ سے مانع نہیں جیساکہ ان نصوص نے افادہ بخشا۔ اگرکہاجائے کہ اس صورت میں کراہت معللہ کی علت صرف تشبہ عبادت اصنام ہے اورکچھ نہیں۔ میں کہتاہوں ممکن ہے یہ کہاجائے کہ اس صورت میں ''تشبہ'' مذکورکاپایاجانا ممنوع (غیرمسلم) ہے اس لئے کہ مورتیوں اور تصویروں کے پجاری ان پرسجدہ نہیں کرتے بلکہ انہیں کھڑاکرکے ان کی طرف متوجہ رہتے ہیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس صورت میں کراہت اس وقت ہو کہ جب تصویر اس کے آگے ہونہ کہ اس کے محل سجدہ میں ہو۔ اے اﷲ! تیری ہی نصرت سے یہ کہا جائے کہ جب تصویر اس کے آگے اس کی جائے سجدہ میں ہوتو پھرنماز میں بحالت قیام اوررکوع تشبہ عبادت صورتاً پایاجائے گا، پھرتصویر پرسجدہ کرنے کی صورت میں اگرچہ تصویر کے لئے تشبہ عبادت نہ پایاجائے گا تاہم یہ حال اس سے خالی نہ ہوگا کہ اس میں تعظیم تصویر کا ایک نوع شبہ ہوگا، کیونکہ یہ صورت تصویر کے لئے عاجزی اور اس کی بوسہ زنی کے مشابہ ہوگی اور اس توجیہ کے ذکر کرنے میں کچھ حرج نہیں اگرچہ ائمہ کرام نے اسے ذکرنہیں فرمایا۔(ت)
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
علامہ شامی نے تشبّہ وتعظیم دوعلتیں رکھیں اورامتناع ملائکہ سے تعلیل کونامناسب ٹھہرایا
اولاً باتباع ہدایہ وغیرہا فرمایا: علۃ کراھۃ الصلٰوۃ بھا التشبہ۱؎،
تصویر کے ساتھ نمازپڑھنے کی کراہت کی علت تشبہ عبادت ہے(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الصلوٰۃ     باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     داراحیاء التراث العربی بیروت  ۱/ ۴۳۵)
پھرچندقول کے بعد لکھا:
قد ظھر من ھذا ان علۃ الکراھۃ فی المسائل کلھا اما التعظیم او التشبہ علی خلاف مایاتی۲؎۔
اس سے یہ ظاہر اور واضح ہوا کہ ان تمام مسائل میں کراہت کی علت دوچیزوں میں سے ایک چیزہے۔

(۱) تعظیم 

(۲) یاتشبہ عبادت۔ اس کے خلاف ہے جوکچھ آگے آئے گا۔(ت)
 (۲؎ردالمحتار     کتاب الصلوٰۃ     باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵)
پھرایک صفحہ کے بعد کلام مذکورحلیہ وبحرتلخیص کرکے فرمایا:  اقول:
الذی یظھر من کلامھم ان العلۃ اما التعظیم او التشبہ کما قدمناہ والتعظیم اعم کما لوکانت عن یمینہ اویسارہ اوموضع سجود فانہ لاتشبہ فیھا بل فیھا تعظیم، وماکان فیہ تعظیم وتشبہ فھو اشد کراھۃ، وخبر جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام معلول بالتعظیم بدلیل الحدیث الاٰخر وغیرہ فعدم دخول الملٰئکۃ انما ھو حیث کانت الصورۃ معظمۃ وتعلیل کراھۃ الصلٰوۃ بالتعظیم اولٰی من التعلیل بعدم الدخول لان التعظیم قدیکون عارضا لان الصورۃ اذا کانت علی بساط مفروش تکون مھانۃ لاتمنع من الدخول ومع ھذا لوصلی علی ذٰلک البساط وسجد علیھا تکرہ لان فعلہ ذٰلک تعظیم لھا والظاھر ان الملٰئکۃ لاتمنع من الدخول بذٰلک الفعل العارض۱؎۔
میں کہتاہوں جوکچھ ان کے (ائمہ کرام کے) کلام سے ظاہرہوتاہے وہ یہ ہے کہ کراہت کی علت تعظیم یاتشبّہ  ہے، جیسا کہ ہم نے اس کو پہلے بیان کردیاہے، او رتعظیم زیادہ عام ہے جیسا کہ اگر تصویر اس کی دائیں یابائیں طرف ہو یا اس کے محل سجدہ میں ہو(توتعظیم پائی جائے گی) کیونکہ ان صورتوں میں تشبہ عبادت نہیں بلکہ ان میں صرف تعظیم ہے، لیکن جس صورت میں تعظیم اورتشبہ دونوں ہوں  توپھر اس میں شدید ترکراہت ہوگی، اورحضرت جبریل علیہ السلام کی خبرمعلول بالتعظیم ہے اس کی دلیل دوسری حدیث وغیرہ ہے اور فرشتوں کاداخل نہ ہونا وہاں ہے جہاں تصویرتعظیم سے رکھی ہو، او رنماز کے مکروہ ہونے کی تعلیل تعظیم کو قراردینا عدم دخول ملائکہ کوتعلیل قراردینے سے کہیں بہترہے کیونکہ تعظیم کبھی عارضی ہوتی ہے مثلاً تصویر کسی بچھے ہوئے بچھونے پرتذلیل سے پڑی ہوتوپھریہ دخول ملائکہ سے مانع نہ ہوگی۔ اس کے باوجود اگر اس بچھونے پرنمازپڑھے اور اس تصویر پرسجدہ کرے تو کراہت ہوگی، کیونکہ اس کا یہ فعل تصویر کی تعظیم ہے، اور ظاہرہے کہ اس عارضی فعل کی وجہ سے فرشتے وہاں جانے سے نہیں رکتے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار     کتاب الصلوٰۃ     باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۴۳۶)
عجب یہ کہ علامہ قوام کاکی نے درایہ میں بعض صورتیں تعظیم وتشبّہ دونوں منتفی مان کرکراہت ثابت مانی۔درمختارمیں ہے:
اختلف فی مااذا کان التمثال خلفہ والاظھر الکراھۃ۲؎۔
اس میں اختلاف کیاگیا جبکہ تصویر پیٹھ پیچھے ہو، زیادہ ظاہریہ ہے کہ کراہت ہوگی الخ (ت)
 (۲؎ درمختار      کتاب الصلوٰۃ     باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا  مطبع مجتبائی دہلی         ۱/ ۹۲)
Flag Counter