Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
13 - 160
مسئلہ ۱۹:  ازمرادآباد محلہ مغلپورہ حصہ دوم متصل مکان جناب حکیم سیدامیرحسن صاحب

مسئولہ سیدحامدحسین صاحب ۱۱ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ

علماء متین ومفتیان شرع مبین کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اس مسئلہ میں آپ حضرات کا کیاارشاد ہے کہ سماع کلام حسن منظوم خواہ منثور بالحان بہ لہجہ عربی ہو یامصری یاہندی خواہ سوا ان کے ہو باستثناء قرآن مجید وفرقان حمید برعایت قواعدوقوانین موسیقی بلامزامیر مردصالح معمریاغیرمعمربلکہ امرد سے جبکہ خوف فتنہ وفساد نہ ہوجائز ہے یانہیں، چنانچہ علماء وغیرہم مثنوی مولاناروم ونعت وحمدوغیرہم پڑھتے ہیں اگرناجائزہے تو کیا علم قوانین موسیقی ناجائزہے یابعد حصول علم موسیقی رعایت اس کی معیوب ومقبوح ہے حالانکہ علم کسی امر کاقبیح نہیں کیونکہ حضورپرنورسیدیوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوجمیع امور کاعلم بالتفصیل بعطاء الٰہی حاصل تھا اور ہے۔ پھراگررعایت اس کی ناجائزہے توجمیع علماء کو اپنے کلام (منظوم یامنثور) کوجوبوقت وعظ وغیرہ پڑھتے ہیں اور اس میں موسیقی پائی جاتی ہے امتیازحاصل کرنے کے لئے موسیقی سے غیرموسیقی کوفن موسیقی معلوم کرنا ضرورہے تاکہ حق کو باطل سے جداکرلیں، کیونکہ یہ قاعدہ کلیہ ہے یعرف الاشیاء باضدادھا (اشیاء اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ت) تو جب تک کہ غیرموسیقی کی ضد کو یعنی موسیقی حاصل نہ ہو اس وقت تک امتیاز بایں ہمہ غیرمتصور، ورنہ اختلاط باوجود قدرت جائزنہ ہوگا والابرعایت موسیقی ہرکلام خواہ نظم ہو یانثر باستثناء قرآن شریف جائزقرارپائے گا۔ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجروثواب پائیے۔ت)
الجواب: جب سامع ومسموع ومُسمَع ومِسمع ومَسمع وسماع واسماع سب مفاسد سے پاک ہوں توسننا سناناسب جائزہے اگرچہ بالقصد برعایت قوانین موسیقی ہو، خواہ فارسی یااردو یاہندی جوکچھ بھی ہو باستثناء قرآن عظیم موسیقی کی نسبت آواز کی طرف وہ ہے جو عروض کی نسبت کلام کی طرف، کلام جب حسن ہو اوزان عروضیہ پرمنظوم کردینے سے قبیح نہ ہوجائے گا۔ یوہیں الحان کہ مباح ہوقوانین موسیقی کی رعایت سے ناجائزنہ ہوجائے گا۔ حدیث میں فرمایا:
الشعر کلام فحسنہ حسن وقبیحہ قبیح۱؎۔
شعرایک کلام ہے، جو اچھاہے وہ اچھاہے، اور جوبراہے وہ براہے۔(ت)
 (۱؎ السنن الکبرٰی للبیہقی    کتاب الحج     باب لایضیق علی واحد منہما الخ     دارالفکر بیروت     ۵/ ۶۸)
سامع تو وہ چاہئے جس کے قلب پرشہوات ردیہ کا استیلانہ ہو کہ سماع کوئی نئی بات پیدا نہیں کرتا بلکہ اسی کو اُبھارتاہے جودل میں دبی ہو، مسموع میں ضرور ہے کہ نہ فحش ہو نہ کوئی کلمہ خلاف شرع مطہر، نہ کسی زندہ امرد کا ذکر ہو نہ کسی زندہ عورت کی تعریف، نہ ایسی قریب مردہ کانام ہو جس کے اعزّہ زندہ ہوں او رانہیں اس سے عارلاحق ہو، امثال لیلے سلمے سعاد میں حرج نہیں۔ مُسمع بالضم یعنی پڑھنے یاگانے والامرد بوڑھا یاجوان ہو، امرد یاعورت نہ ہو۔ مِسمع بالکسر یعنی آلہ سماع مزامیر نہ ہوں اگر ہوتوصرف دف بے جلاجل جوہیئات تطرب پرنہ بجایاجائے۔ مَسمع بالفتح جائے سماع مجلس فساق نہ ہو  اور اگرحمدونعت ومنقبت کے سوا عاشقانہ غزل، گیت، ٹھمری وغیرہ ہوتو مسجد میں مناسب نہیں۔ سماع یعنی سننا ایسے وقت نہ ہو کہ اس سے نمازباجماعت وغیرہ کسی فرض یاواجب یاامراہم شرعی میں خلل آئے۔ اِسماع یعنی پڑھنا یاگانا ایسی آواز سے نہ ہو جس سے کسی نمازی کی نماز یاسوتے کی نیند یامریض کے آرام میں خلل آئے۔ اور حُسن وعشق ووصل وہجر وشراب وکباب کاذکر ہوتو عورات تک آواز نہ پہنچے بلکہ اگرگانے والے کی آوازدلکش ہے تو عورات تک پہنچنے کی مطلقاً احتیاط مناسب ہے۔
یاانجشۃ رویدک بالقَواریر۱؎۔
اے انجشہ! کانچ کی شیشیوں کالحاظ کرکے اپنی آواز آہستہ کیجئے۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری     کتاب الادب     باب مایجوزمن الشعر الخ     قومی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۹۰۸)
ع    حسن بلائے چشم ہے نغمہ وبال گوش ہے۔
رہا علم موسیقی، اس کے تعلم میں وقت ضائع کرنا صالحین کاکام نہیں بلکہ کم ازکم عبث ہے اور ہرعبث میں تضییع وقت ممنوع۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ۲؎۔
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کے حسن اسلام میں سے یہ ہے کہ جو بے فائدہ اوربے سودکام ہو اسے چھوڑدے(ت)
 (۲؎ جامع الترمذی    کتاب الزہد                امین کمپنی دہلی         ۲/ ۵۵)
اور علم اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرقیاس صحیح نہیں کہ وہ بلاتعلم وبے صرف وقت وبے قصد خاص بفن معین تھا حرج اس میں ہے نفس علم میں کوئی حرج نہیں کہ وہ کمال ہے، ولہٰذا حضرت عزت جلالہ جس کے لئے ہرکمال واجب اور ہرنقصان بلکہ ہروہ شَے جو کمال ونقصان دونوں سے خالی ہو محال بکل شیئ علیم ہے ازلاً ابداً وجوباً اور کسی شَے کے علم کی اس سے نفی کفرہے توثابت ہوا کہ ہرشَے کاعلم مطلقاً کیسی ہی ہو عین کمال ہے، یوہیں بعد تعلم اس کے قوانین کی اپنے الحان میں رعایت اہل شرف وصلاح کے لئے عیب ہے کہ وہ ذلیلوں رذیلوں کافن ہے او ربالخصوص فاسقین وفاسقات کے ساتھ مشہورہے، ایسی تخصیص شرعاً شَے کو ممنوع کردیتی ہے اگرچہ فی نفسہٖ اس میں کوئی حرج نہ ہو جیسے جوان یابوڑھے مرد کو ٹوپی انگرکھے یاپاجامے میں چارانگل یا اس سے کم لچکا گوٹا پٹھا لگانا بلاشبہہ بدوضعی ومعیوب ہے کہ فاسقوں اور فحشوں کی وضع ہے اگرچہ فی نفسہ چارانگل تک کی اجازت ہے اور منع رعایت موسیقی پرسائل کاوہ شبہہ کہ اس تقدیر پرتعلم موسیقی سب پرواجب ہوگا محض بے اصل وبے معنی ہے آخر اتنا تو مسلّم ہے کہ قرآن عظیم میں اس کی رعایت حرام ہے تو بے تعلم موسیقی اگر اس سے بچنا ناممکن تھا توخواہی نخواہی اس کاسیکھنا ہرمسلمان پرفرض عین ہوتا تو یہ وہ فرض ہے کہ صحابہ وتابعین وائمہ وعلماء سب اس سے محروم رہے، بات یہ نہیں بلکہ اس کا عکس ہے ممنوع ومعیوب رعایت ہے اوررعایت فعل اختیاری ہے اور فعل اختیاری کوقصد لازم اور قصد بے علم ناممکن تورعایت جبھی کرسکے گاکہ جانتاہو نہ جاننے والا کہ نہ اس سے آگاہ نہ اس کا قصد کرتا ہے اگراتفاقاً اس کاپڑھنا کسی شعبہ موسیقی سے موافق ہوجائے تونہ اس پرالزام نہ یہ شرعاً ممنوع حتی کہ خود قرآن عظیم میں کما نص علیہ فی الفتاوی الخیریۃ وغیرہا (جیسا کہ فتاوٰی خیریہ وغیرہ میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ت) بلکہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لم یتغن بالقراٰن فلیس منّا۱؎۔
جو خوش الحانی سے قرآن نہ پڑھے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔
 ( ۱؎ سنن ابن ماجہ     ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ الخ     باب فی حسن الصوت بالقرآن     ص۹۶)
اور خوش الحانی میں کسی شعبہ سے اتفاقیہ موافقت نادرنہیں بلکہ غالب بلکہ اس فن والوں کے نزدیک لازم ہے الحان میں اگرچہ تان گٹکری نہ ہو مگرتال سم سے خالی نہیں ہوسکتا توناواقف اپنی سادگی کے ساتھ قصد مفسدہ سے بچاہوا نکل جائے گا اور واقف احتیاط کرے گا توقصداً بگاڑے گا اور بنانا چاہے گا تورعایت کی طرف جائے گا لہٰذا اور بھی ضرور ہواکہ اس فن سے ناواقف رہیں، وباﷲ التوفیق، واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter