(۲؎الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ۱/ ۱۲۲)
وبیت لاتدخل فیہ الملٰئکۃ شرالبیوت۳؎۔
جس گھر میں فرشتے داخل نہ ہوں وہ بدترین گھرہے۔(ت)
امام زیلعی نے دونوں تعلیلوں کو جمع فرمایا:
حیث قال لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتدخل الملٰئکۃ بیتا فیہ کلب ولاصورۃ ولانہ یشبہ عبادتھا فیکرہ۱؎۔
چناچہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے فرمایا او روہ یہ ہے کہ فرشتے ایسے گھرمیں داخل نہیں ہوتے کہ جس میں کتایاتصویرہو۔ اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں عبادت تصویر کی مشابہت ہے لہٰذا یہ مکروہ ہے۔(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱/ ۱۶۶)
لوکانت الصورۃ علی وسادۃ ملقاۃ او بساط مفروش لایکرہ لانھا تداس و توطأ بخلاف مااذا کانت الوسادۃ منصوبۃ اوکانت علی السترۃ لانہ تعظیم لھا۲؎ اھ ھذالفظ الھدایۃ ولفظ الکافی والتبیین اوکانت علی الستر۳؎اعنی بدون التاء وھواولی کمالایخفی۔
اگرکوئی تصویر پڑے ہوئے تکیے پرہویابچھے ہوئے بچھونے پرہوتو مکروہ نہیں اس لئے کہ اس صورت میں اسے پامال کیاجاتاہے اور پاؤں میں رکھاجاتاہے بخلاف اس صورت کے کہ جب تکیہ کھڑاکیاجائے یاپردے پرکوئی تصویر ہو(اس صورت میں کراہت ہوگی) اس لئے کہ تصویر کی تعظیم پائی گئی اھ یہ الفاظ ہدایہ کے ہیں، اورکافی اورتبیین کے یہ الفاظ ہیں یاکسی پردے پرتصویر کے نقوش ہوں۔ میری مراد یہ ہے کہ لفظ ستر کے آخر میں حرف تاء نہیں ہوناچاہئے اور یہ زیادہ بہترہے، جیسا کہ مخفی نہیں۔(ت)
(۲؎ الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲)
(۳؎ تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۱۶۷)
محقق نے فتح القدیر میں صرف مکان میں تصویرممنوع بروجہ اکرام رکھے ہونے کی کراہت کو نماز کی طرف ساری بتایا اگرچہ تشبّہ عبادت نہ ہو،
حیث قال لوکانت الصورۃ خلفہ او تحت رجلیہ ففی شرح عتاب لاتکرہ الصلٰوۃ ولکن تکرہ کراھۃ جعل الصورۃ فی البیت للحدیث ان الملٰئکۃ لاتدخل بیتا فیہ کلب اوصورۃ الا ان ھذا یقتضی کراھۃ کونھا فی بساط مفروش وعدم الکراھۃ اذاکانت خلفہ وصریح کلامھم فی الاول خلافہ وقولہ (ای صاحب الھدایۃ) اشدھا کراھۃ ان تکون امام المصلی الی ان قال ثم خلفہ یقتضی خلاف الثانی ایضا لکن قدیقال کراھۃ الصلٰوۃ ثبت باعتبار التشبہ بعبادۃ الوثن ولیسوا یستدبرونہ ولایوطونہ فیھا ففیما یفھم مماذکرنا من الھدایۃ (ای من الکراھۃ اذاکانت خلف المصلی) نظروقدیجاب بانہ لابعد فی ثبوتھا فی الصلٰوۃ باعتبارالمکان کما کرھت الصلٰوۃ فی الحمام علی احد التعلیلین وھو کونھا ماوی الشیاطین فان قیل فلم لم یقل بالکراھۃ ان کانت تحت القدم وماذکرت یفیدہ لانھا فی البیت، وبہ یعترض علی المصنف ایضا حیث یقول لایکرہ کونھا فی وسادۃ ملقاۃ فالجواب لایکرہ جعلھا فی المکان کذٰلک لیتعدی الی الصلٰوۃ وحدیث جبریل مخصوص بذٰلک ۱؎ اھ ملخصا۔
چنانچہ فتح القدیر نے فرمایا اگرتصویرپس پشت ہو یا اس کے دونوں پاؤں کے نیچے پڑی ہو تو شرح عتاب میں فرمایا کہ اس صورت میں نمازمکروہ نہ ہوگی لیکن تصویر کاگھرمیں رکھنا مکروہ ہے اس حدیث کی بناء پر کہ ''اس گھرمیں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتایاتصویر ہو''۔مگر اس کاتقاضاتو یہ ہے کہ اگرتصویر کسی بچھے ہوئے بچھونے پرہوتو کراہت ہوگی لیکن اس وقت کراہۃ نہ ہوگی جبکہ تصویر اس کے پیچھے ہو۔ اور درصورت اول ائمہ کرام کاصریح کلام اس کے خلاف ہے۔ او رصاحب ہدایہ کاارشاد کہ شدیدترکراہت ہوگی، اگرکوئی تصویرنمازی کے آگے ہو۔ یہاں تک کہ فرمایا پھر اس سے کم درجہ کراہت ہوگی جبکہ تصویر اس کے پیچھے ہو۔ اور یہ صورت ثانیہ کے خلاف کاتقاضاکرتی ہے لیکن کبھی یہ بھی کہہ دیاجاتا ہے کہ نمازمیں ثبوت کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں عبادت صنم سے تشبہ ہے، حالانکہ کسی صنم کے پجاری دونوں صورتوں میں نہ تو اس سے پیٹھ پھیرتے ہیں نہ ہی اسے پامال کرتے ہیں لیکن جوکچھ ہم نے ہدایہ سے ذکرفرمایا اس سے تویہی مفہوم ہوتاہے کہ اگرتصویر نمازی کے پیچھے ہوتوبھی کراہت ہوگی۔ لہٰذا اس قول میں نظر اور اشکال ہے۔ لیکن کبھی یہ جواب دیاجاتاہے کہ بحیثیت مکان کراہت نماز کے ثبوت میں کوئی بعد نہیں۔ جیسا کہ ایک تعلیل کے مطابق حمام میں نمازپڑھنا مکروہ ہے اس لئے کہ وہ شیاطین کاٹھکانا (اورمرکز) ہے۔ اگرکہاجائے کہ یہ کیوں نہ کہاگیا کہ اگرتصویر پاؤں میں پڑی ہو توبھی کراہت ہوگی، حالانکہ جوکچھ بیان فرمایاگیا اس سے تویہ فائدہ حاصل ہوتاہے، اس لئے کہ تصویر گھرمیں موجود ہے، باوجودیکہ اس سے مصنف علیہ الرحمۃ پراعتراض کیاجاسکتاہے اس لئے کہ وہ فرمارہے ہیں کہ اگرپڑے ہوئے گدے میں تصویرہوتوکراہت نہ ہوگی، تو اس کاجواب یہ ہے کہ مکان میں بایں طور تصویررکھنا مکروہ نہیں تاکہ نمازکی طرف تعدیہ ہو۔ اور حدیث جبریل اس سے مخصوص ہے اھ ملخصاً(ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ باب یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۲)
ان کے تلمیذ محقق ابن امیرالحاج نے حلیہ میں صرف امتناع ملٰئکہ کے علت ہونے کااستظہار اور تشبہ پرمدار سے انکارفرمایا، ہاں اسے موجب زیادت کراہت بتایا،
وھذا نصہ فان قیل ان کانت العلۃ فی الکراھۃ کون المحل الذی تقع فیہ الصلٰوۃ لاتدخلہ الملٰئکۃ حینئذ لان شرالبقاع بقعۃ لاتدخلہ الملٰئکۃ فینبغی ان تکرہ الصلٰوۃ فی بیت فیہ الصورۃ سواء کانت مھانۃ اوغیرمھانۃ فان ظاھر نص الصحیحین عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتدخل الملٰئکۃ بیتا فیہ کلب ولاصورۃ یقتضی انہ لاتدخل الملٰئکۃ ھذا البیت ایضا (ای مافیہ الصورۃ مھانۃ) لان النکرۃ فی سیاق النفی عامۃ غایۃ الامر ان کراھۃ الصلٰوۃ فیما اذا کانت الصورۃ فی موضع سجودہ اوامامہ اوفوقہ اشد وان کانت العلۃ فی الکراھۃ التشبہ بعبادۃ الصورۃ فلاتکرہ اذالم تکن امامہ ولافوق راسہ لان التشبہ لایظھر الااذاکان علی احد ھٰذین الوجہین فالجواب ان الذی یظھر ان العلۃ ھی الامر الاول واما الباقی فعلاوۃ تفید اشدیۃ الکراھۃ غیر ان عموم النص المذکور مخصوص باخراج ماتقدم اخراجہ من الکراھۃ۱؎ اھ ملخصاً۔
چنانچہ محقق موصوف کی یہ تصریح ہے، اگرکہاجائے کہ کراہت کی علت گھر میں فرشتوں کاداخل نہ ہونا ہے تو جس گھر میں تصویر موجود ہووہاں نمازمکروہ ہو وہ تصویر خواہ تذلیل کی صورت میں ہو یاغیرتذلیل کی صورت میں ہو، کیونکہ بخاری اورمسلم کی ظاہر نص یہی چاہتی ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہ ہوں گے جس میں تصویر بصورت تذلیل ہی رکھی ہو کیونکہ نکرہ سیاق نفی میں عام ہوتاہے، اور نص جوحضوراکرم (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم) سے مروی ہے وہ یہ ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے کہ جس میں کتایاتصویرموجودہو۔ (نکرہ سیاق نفی میں عام ہوتاہے، اس کامطلب یہ ہے کہ حدیث پاک میں لفظ ''بیتا''' نکرہ ہے جس کامعنی ''کوئی گھر'' ہے اور یہ ''لاتدخلہ'' جوجملہ منفیہ ہے اس کے تحت داخل ہے یعنی فرشتے کسی ایسے گھرمیں نہیں جاتے جہاں کسی بھی حالت میں تصویرموجودہو۔مترجم) انتہائی امریہ ہے کہ نمازمیں اس صورت میں شدید ترکراہت ہوگی جبکہ تصویر محل سجدہ میں ہو یانمازی کے آگے یااس کے اوپر، اور اگرکراہت کی علت عبادت تصویر سے تشبہ ہو تو اگرتصویر نمازی کے آگے یا اس کے سرکے اوپر نہ ہوتوکراہت نہ ہوگی کیونکہ تشبّہ صرف ان دوصورتوں میں ظاہرہوتاہے۔ جواب یہ ہے کہ جوکچھ ظاہرہوتاہے وہ یہ ہے کہ علت صرف پہلاامرہے اور اس کے علاوہ جوکچھ باقی ہے وہ شدیدترکراہت کافائدہ دیتاہے۔ علاوہ یہ کہ نص مذکور کاعموم، مخصوص منہ البعض ہے کہ اس سے وہ کراہت خارج کرد ی گئی کہ جس کے اخراج کا ذکرپہلے آگیاہے اھ ملخصاً(ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )