سنن ابی داؤد جامع ترمذی وسنن نسائی وصحیح ابن حبان وشرح معانی الآثار امام طحاوی ومستدرک حاکم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اتانی جبریل قال اتیتک البارحۃ فلم یمنعنی ان اکون دخلت الا انہ کان علی الباب تماثیل وکان فی البیت فرام ستر فیہ تماثیل کلب فمربراس التمثال الذی علی باب البیت فیقطع فیصیر کھیأۃ الشجرۃ ومربالستر فلیقطع فلیجعل وسادتین منبوذتین توطان ومرالکلب فلیخرج ففعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱؎۔
(حضرت ابوہریرہ نے) فرمایاکہ حضورعلیہ الصلوٰہ والسلام نے فرمایا کہ میری خدمت میں حضرت جبرائیل حاضرہوئے اور فرمایا کہ میں گزشتہ رات آپ کی خدمت میں حاضرہواتھا لیکن مجھے اندرداخل ہونے سے صرف اس چیزنے روکاکہ دروازے پرتصویریں تھیں اور گھر میں بھی باریک پردہ تھا کہ جس پرتصویریں موجود تھیں نیزگھرمیں کتاتھا لہٰذا آپ اس تصویر کے متعلق فرمادیں کہ اس کاسرکاٹ دیاجائے تاکہ وہ درخت کی طرح ہوجائے، اورپردے کے بارے میں فرمادیں کہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیاجائے اور دومسندیں بنائی جائیں جوزمین پرڈالی اورپاؤں سے روندی جائیں، اور کتے کے بارے میں فرمادیجئے کہ اسے باہرنکال دیاجائے توحضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے سب کچھ اس طرح کیا۔(ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی الصور آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۷)
(جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان الملائکۃ لاتدخل بیتا الخ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۴)
(شرح معانی الآثار کتاب الکراہۃ باب الصور تکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۲)
دیکھئے جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے بھی عرض کی کہ ان تصویروں کے سرکاٹنے کاحکم فرمادیجئے جس سے ان کی ہیأت درخت کے مثل ہوجائے حیوانی صورت نہ رہے اس کا صریح مفاد تو وہی ہے کہ بے قطع راس حکم منع نہ جائے گا کہ بغیر اس کے نہ پیڑ کی مثل ہوسکتی ہیں نہ صورت حیوانی سے خارج، اور اگرتنزل کیجئے تو اس قدرتولازم کہ ایساکردیجئے جس سے وہ ایک بے جان کی صورت معلوم ہو اس سے حالت بے روحی مفہوم ہو،
ولہٰذا علامہ سیدطحطاوی رحمہ اﷲ تعالٰی نے اسی قولِ دُر کی شرح میں فرمایا:
مصنف کاارشاد کہ اس کے بغیر زندگی نہ ہو۔ پس ایسی تصویر کی طرف منہ کرکے نمازپڑھنا مکروہ نہیں کیونکہ وہ مردے کی تصویر ہے جبکہ مردے کی عبادت نہیں کی جاتی اھ اقول: (میں کہتاہوں کہ) زیادہ بہتریہ ہے کہ کہاجاتا کہ مردے کی صورت کی عبادت نہیں کی جاتی، اس لئے کہ مشرک تومُردوں کی عبادت کیاکرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: ''وہ مُردے ہیں جو زندہ نہیں'' ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ مُردوں کی صورت پر ان کی تصویریں نہیں بناتے بلکہ زندوں کی صورت پر ان کی تصویریں بناتے ہیں۔(ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۷۴)
(۲؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۲۱)
اور شک نہیں کہ عکسی تصویریں اگرچہ نیم قد یاسینہ تک بلکہ اگر صرف چہرہ کی ہو ہرگزنہ مثل شجرہوتی ہیں نہ مردہ، ذوالصورۃ کی حکایت کرتی ہیں بلکہ یقینا جیتے جاگتے کی صورت دکھاتی ہیں، اور ناظرین کا ذہن ان سے حالت حیات ذوالصورۃ ہی کی طرف جاتاہے کوئی نہیں سمجھتا کہ یہ مردہ کی صورت ہے اور مدار حکم اسی فہم پرتھا، نہ حیات وموت حقیقی پرجس سے تصویر کوبہرہ نہیں۔ آیا نہیں دیکھتے کہ سلاطین نصارٰی اپنی ایسی ہی ناقص تصویریں سکہ پرمنقوش کراتے ہیں اگر اس سے حالت موت مفہوم ہوتی تو کبھی نہ چاہتے کہ سکہ میں اپنی مردہ کی صورت دکھائیں تو انصافاً یہ عبارتِ دُرمختار بھی ان تصویروں سے نفی ممانعت نہیں کرتی وہ اس تصویر کے لئے ہے جسے توڑپھوڑ کر اس حالت پرکردیں کہ اس میں حالت حیات کی حکایت نہ رہے جو اسے دیکھے میت بے روح کی صورت جانے اقول: (میں کہتاہوں۔ت) اور اب عجب نہیں کہ چہرہ کے سوادیگر اعضائے مدارحیات کے عدم اصلی واعدام بنقض وابطال میں معنی مقصود بحکایۃ الحیاۃ عرفاً مفہوم ہونے نہ ہونے سے بعض صورمیں فرق پیداہو بخلاف چہرہ کہ سرے سے نہ بنایا یا بناہوا توڑدیا بہرحال حکایت نہیں ہوتی
کمالایخفی فلیتسأل وباﷲ التوفیق
(جیسا کہ یہ بات پوشیدہ نہیں، پھرپوچھنا چاہئے، او راﷲ تعالٰی کے فضل ہی سے توفیق حاصل ہوسکتی ہے۔ت)
ثالثاً بتوفیق اﷲ وجل کے وہ تحقیق بیان کریں جس سے اس مبحث کے تمام علل واحکام واصول وفروع متجلی ہوں۔ تصویر ممنوع میں کراہت نمازوحکم ممانعت کی علت مشائخ کرام رحمہم اﷲ تعالٰی نے مشابہت عبادت صنم بتائی،
ہدایہ میں صراحۃً اسی میں حصر فرمایا:
حیث قال لاباس بان یصلی وبین یدیہ مصحف معلق اوسیف معلق لانھما لایعبد ان وباعتبارہ تثبت الکراھۃ۱؎۔
چنانچہ فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی نمازپڑھے جبکہ اس کے سامنے مصحف شریف یاتلوار لٹکی ہوئی ہو اس لئے کہ ان دونوں کی عبادت نہیں کی جاتی، اور باعتبار عبادت کراہت ثابت ہوتی ہے۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲)
فتح القدیرمیں ہے:
قولہ وباعتبارہ تثبت الکراھۃ قدم المعمول لقصد افادۃ الحصر۲؎۔
مصنف کایہ کہنا کہ عبادت کی وجہ سے کراہت ثابت ہوتی ہے اس میں معمول کومقدم کیاگیاہے تاکہ حصرکافائدہ حاصل ہو۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ فصل ویکرہ للمصلی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۱)
جب تصویر چھوٹی ہو کہ دیکھنے والے کے لئے واضح نہ ہوتو اس کی عبادت نہیں کی جاتی اور کراہت بلحاظ عبادت ہے، پھرجب اس قسم کی تصویر کی عبادت نہ کی گئی توکراہت نہیں۔(ت)
(۳؎ تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۱۶۶)
اورمصلی کے کپڑوں پرتصویر ہونے کی ممانعت کوحامل صنم کی مشابہت سے تعلیل فرمایا جیسا کہ ہدایہ وکافی وتبیین میں ہے:
واللفظ للھدایۃ، لو لبس ثوبافیہ تصاویر یکرہ لانہ یشبہ حامل الصنم والصلٰوۃ جائزۃ فی جمیع ذٰلک لاستجماع شرائطہا وتعاد علی وجہ غیرمکروہ۔۱؎
ہدایہ میں یہ الفاظ ہیں کہ اگرکسی نے ایساکپڑاپہنا کہ جس میں تصویریں ہیں تومکروہ ہے اس لئے کہ یہ حالت بت اٹھانے والے کے مشابہ ہے اور نماز ان تمام صورتوں میں جائز ہے، اس لئے کہ اس کی تمام شرائط موجود ہیں البتہ غیرمکروہ صورت پرنماز کولوٹایاجائے۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲)