Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
127 - 160
اقول:  فمناط الصراحۃ ھو غلبۃ الاستعمال کما افاد اٰخرا ممالم یستعمل فی غیرالطلاق کان اولٰی بالصراحۃ فیہ فلذا علل الصراحۃ بہ فی الالفاظ الثلٰثۃ وھو لایفید ان یستعمل فی غیرہ نادرا لایکون صریحا فیہ وبالجملۃ وھو تعلیل بما یتضمن العلۃ مع شیئ زائد یفیدہ من باب اولٰی کذا ھٰھنا مناط المنع ھو الراس ولووحدہ فاذا کان جمیع مایحتاج الیہ للحیاۃ باقیا تضمن العلۃ شیئ مع زائدہ افاد المنع بالاولٰی فلاتدافع بین کلامی الھدایۃ اولاواٰخرا و قد کان افاد ھذا فی الفتح نفسہ اذقال ما غلب استعمالہ فی معنی بحیث یتبادر حقیقۃ اومجازاً صریح فان لم یستعمل فی غیرہ فاولٰی بالصراحۃ فلذا رتب الصراحۃ فی ھذہ الالفاظ علی الاستعمال فی الطلاق دون غیرہ۱؎ اھ ثم زعم التدافع مع انہ قد اندفع بماقرر۔
اقول:  (میں کہتاہوں۔ت)صراحت کامدار غلبہ استعمال ہے جیسا کہ آخر میں صاحب ہدایہ نے یہ افادہ پیش کیا، جو الفاظ بغیر طلاق نہ استعمال کئے جائیں وہ باب طلاق میں صریح ہونے کے زیادہ لائق ہیں۔ لہٰذا یہی وجہ ہے کہ مصنف نے الفاظ ثلاثہ مذکورہ میں صراحت بالطلاق ہونے کی تعلیل ذکرفرمائی ہے، یعنی الفاظ مذکورہ  طلاق صریح کے الفاظ ہیں اور علت غلبہ استعمال ہے اور یہ اس بات کیلئے مفیدنہیں کہ اگرالفاظ مذکورہ بطورنادر غیرطلاق میں استعمال کئے جائیں توپھر وہ مفہوم طلاق میں صریح نہ ہوں گے (بلکہ اس کے باوجود وہ صریح طلاق کے الفاظ ہیں)(خلاصہ کلام) وہ ایک ایسی چیز کے ساتھ تعلیل ہے جو شیئ زائد سمیت علت پر مشتمل ہے، جو بطریق اولٰی حکم کے لئے مفیدہے پس یہاں بھی اسی طرح ہے کہ منع کامدار رأس (سر) ہے اگرچہ اکیلاہو، پھرجب تمام محتاج الیہ حیات باقی ہوں توپھرعلت شیئ زائد پرمشتمل ہوگی، توپھر اس سے ممانعت بطریق اولٰی کافائدہ ہوگا، لہٰذا صاحب ہدایہ کے پہلے اور پچھلے کلام میں کوئی تدافع اورتناقض نہیں، فتح القدیر میں بالکل یہی افادہ پیش فرمایا، جس لفظ کااستعمال کسی معنٰی میں غالب اور زیادہ ترہوکہ بطور حقیقت یامجازوہی معنٰی متبادر ہوتو پھر وہ لفظ اس معنی میں ''صریح'' ہے۔ اور اگرکسی دوسرے معنی میں بالکل استعمال نہ کیاجائے توپھر وہ اولٰی بالصراحۃ ہوگا، لہٰذا یہی وجہ ہے کہ ان الفاظ میں صراحت اس بات پر مرتّب ہے کہ الفاظ مذکورہ صرف معنی طلاق میں مستعمل ہیں نہ کہ کسی دوسرے معنی میں اھ پھر اس نے تدافع سمجھا حالانکہ وہ اس کی تقریر(اور اثبات) سے دفع ہوگیاہے۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر     کتاب الطلاق     باب ایقاع الطلاق     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳/ ۳۵۱)
وﷲ الحمداسی طرز پرایک بحث میں اُن کے تلمیذ امام ابن امیرحاج کے کلام سے اشارہ نکل سکتاہے اور ویساہی اس کاجواب ہے،
حیث یقول اما قطع الراس عن الجسد بخیط مع بقاء الراس علی حالہ فلاینفی الکراھۃ لان من الطیر ماھو مطوق فلایتحقق القطع بذٰلک کذا ذکروہ ھو قاصر علی الطیر والظاھر ان الکراھۃ لاتنتفی فی غیرہ من الحیوانات بھذا الضنیع کمالاتنتفی فیہ فیحتاج الغیر الی توجیہ غیرھذاولعل الاولی ان یقال لان الحیوان الحی قدیجعل علی رقبتہ شیئ ساترلھا من خیط اوغیرہ لغرض من الاغراض فیکون ھذا بمنزلتہ فلاتزول بہ الکراھۃ ثم لم اقف علی انہ لو فصل بین نصفہ الاعلی والاسفل بخیط حتی صار کانہ مقطوع شطرین ھل تزول الکراھۃ الظاھر انھا لاتزول کمافی الراس لنحو ماذکرنا انفا فی الراس ولاسیما فی الاٰدمی فان ذٰلک یکون فیہ بمنزلۃ شد الوسط واﷲ تعالٰی اعلم۱؎ اھ
چنانچہ موصوف فرماتے ہیں اگرسر کو کسی دھاگے سے جدا اورقطع کیاجائے باوجودیکہ سربدستور اپنے حال پرباقی رہے تو اس سے کراہت منفی نہ ہوگی کیونکہ کچھ پرندے مطوق (یعنی طوق کئے ہوئے ہوتے ہیں) تو اس سے قطع نہیں پایاجاتا چنانچہ ائمہ کرام نے اسی طرح ذکرفرمایا۔ اور یہ صرف پرندے میں منحصر (بند) ہے۔ لیکن ظاہریہ ہے کہ کراہت باقی حیوانات میں بھی اس توجیہ کے علاوہ کسی اورتوجیہ کی ضرورت ہے، شاید اولٰی یہ ہے کہ کہاجائے کہ کبھی ایساہوتاہے کسی نہ کسی غرض کی وجہ سے۔ اکثردھاگہ وغیرہ کسی حیوان کی گردن پررکھ دیاجاتاہے جو اس کی گردن کوڈھانپ دیتاہے۔ لہٰذا یہ اس کی جگہ یعنی اس کے قائم مقام ہے، پس اس سے کراہت زائل نہ ہوگی۔ پھرمیں اس پرواقف اور مطلع نہیں ہواکہ اگرنصف اعلٰی اورنصف اسفل(یعنی اوپراورنیچے کے حصہ میں) کسی دھاگے سے فصل کردیاجائے اور وہ اس طرح ہوجائے کہ گویا دوحصوں میں قطع کردیاگیاہے تو کیااس صورت میں کراہت زائل ہوجائے گی یانہیں؟ ظاہریہ ہے کہ کراہت زائل نہ ہوگی، جیسا کہ حالت رأس (سر) میں کراہت  زائل نہ ہوگی بشرطیکہ رأس میں اس طریقہ کے مطابق کارروائی کی جائے کہ جس کو رأس میں ہم نے بیان کیاہے، خصوصاً انسان میں، کیونکہ اس میں وہ کارروائی کمربستگی کے قائم مقام ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم،
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول:  والاتیان بلفظ الظاھر فی الموضعین من شدۃ ورعہ رحمہ اﷲ تعالٰی والا فالحکم مقطوع بہ فیھما ولایتوھم احد ان لو ربط خیط فی عنق صورۃ انسان لابھیمۃ اوفی وسطھا ذھب الحکم الشرعی وجاز اقتناؤھا، ثم لیس حاصلہ الامثل مافی الفتح ان کل ما لاینافی الحیاۃ لاینفی الکراھۃ ولایلزم منہ ان کل ماینافی الحیاۃ ینفی الکراھۃ کمالایخفی الاتری ان کل مالاینافی الانسانیۃ لاینفی الحیوانیۃ اذ لونفی الحیوانیۃ ینافی الانسانیۃ ولیس ان کلما ینافی الانسانیۃ ینفی الحیوانیۃ کالصھیل والنھیق و التوھب فان کل ذٰلک ینافی الانسانیۃ و لاینافی الحیوانیۃ۔
  اقول:  (میں کہتاہوں) لفظ ''ظاہر''دوجگہ ذکرکرنے سے مصنف علیہ الرحمۃ کی شدت ورع اور احتیاط ہے ورنہ دونوں میں حکم یقینی ہے اورکوئی یہ وہم نہ کرے کہ اگرکسی انسانی تصویر کی گردن میں کوئی دھاگہ باندھاجائے یا اس کے وسط (درمیان) میں ایساکیاجائے نہ کہ چوپایہ میں۔ پس اس صورت میں حکم شرعی ختم ہوجائے گا اورپھر اس کومحفوظ رکھناجائزہوگا۔ پھر اس کا حاصل بالکل وہی ہے جو فتح القدیر میں مذکورہے، جوچیزحیات کے منافی نہ ہو تووہ کراہت کی نفی نہیں کرتی اور اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ جوچیزحیات کے منافی ہو وہ کراہت کی نفی کرتی ہے جیساکہ یہ امرمخفی اورپوشیدہ نہیں، کیاتم دیکھتے نہیں کہ جوچیز انسانیت کے منافی نہیں وہ حیوانیت کی نفی نہیں کرتی کیونکہ اگر حیوانیت کی نفی ہوتوانسانیت کی نفی ہوجائے، اورایسانہیں کہ جوانسانیت کے منافی ہو اس سے حیوانیت کی نفی ہوجائے جیسے صہیل (گھوڑے کا ہنہنانا) اور نہیق (گدھے کاڈِھیچوں کرنا) اور ترہب (راہب بننا) اس لئے کہ یہ سب کچھ انسانیت کے منافی ہے لیکن حیوانیت کے منافی نہیں۔(ت)
عجب نہیں کہ مدقق علائی نے انہیں عبارات فتح وحلیہ کودیکھ کریہ تعمیم اضافہ فرمائی ہوحالانکہ وہ مفیدتعمیم نہیں، ہاں کلام امام ابوجعفر طحاوی میں فقیر نے اس کی طرف اشارہ پایا،
حیث قال رحمہ اﷲ تعالٰی بعد مااحتج علی من قال بکراھۃ الصورۃ مطلقا ولو لغیر حیوان کشجر مثلاً باحادیث فیھا الامر بقطع راس التماثیل مانصہ فلما ابیحت التماثیل بعد قطع راسھا الذی لو قطع من ذی الروح لم یبق، دل ذلک علی اباحۃ تصویر مالاروح لہ وعلی خروج مالاروح لمثلہ من الصورمماقدنھی عنہ فی الاثار التی ذکرنا فی ھذا الباب وقدروی عن عکرمۃ فی ھذا الباب ایضا ماحدثنا محمد بن النعمٰن (نذکربسندہ) عن عکرمۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال الصورۃ الراس۱؎ الٰی اٰخرماتقدم۔
چنانچہ امام طحاوی رحمۃ اﷲ علیہ نے ان لوگوں کے خلاف استدلال پیش کرنے کے بعدفرمایا جنہوں نے یہ کہہ دیا کہ تصویر مطلقاً مکروہ ہے اگرچہ غیرحیوان کی کیوں نہ ہو، مثلاً درخت وغیرہ کی تصویر، ان روایات کی وجہ سے کہ جن میں تماثیل (مجسمے) کے سرکاٹنے کاحکم دیاگیا ہے، چنانچہ موصوف کی یہ نص ہے۔ جب قطع راس (سرالگ کردینا) کے بعد تماثیل کی اجازت دی گئی (اور اسے مباح قراردیاگیا) لہٰذا اگرذی روح کاسرکاٹ دیاجائے توپھر وہ ذی روح کی صورت نہ رہے گی، او ریہ غیرذی روح کی تصویرکے مباح ہونے کی دلیل ہے اور جس میں روح نہ ہو وہ اس تصویر سے خارج ہے کہ جس سے ان آثار میں منع کردیاگیا کہ جنہیں ہم نے اس باب میں ذکر کیاہے، چنانچہ اس باب میں نیزحضرت عکرمہ سے وہ حدیث مروی ہے کہ جس کو ہم سے محمدبن نعمان نے بیان فرمایا ہم اسے سند سے بحوالہ عکرمہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بیان کرتے ہیں، فرمایا: تصویرسر کانام ہے۔ آخرتک وہی کلام ہے جوپہلے بیان ہوچکا۔(ت)
(۱؎ شرح معانی الآثار     کتاب الکراہیۃ    باب الصورتکون فی الثیاب     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۳)
کلام دُر کے لئے یہ غایت ابدائے سند ہے  اقول:  اگرچہ ان کاآخر کلام اور حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے استناد بتارہاہے کہ تصویرنہ رہناحکم منع سے خارج کرنے کامدارہے اور یہی چاہئے کہ شرع نے حکم منع تمثال ظاہر غیرمستہان پرفرمایا تو جب تک تمثال بلااہانت ظاہر ہے منع باقی ہے، ہاں جب تمثال نہ رہے یااہانت ہومنع نہ رہے گا کہ مناط منع منتفی ہوگیا قطع سرمیں تمثال نہیں رہتی جیسا کہ حدیث ا بوہریرہ وعبارت ہدایہ سے خود کلام امام اعظم سے گزرابخلاف دیگراعضا کہ جب تک چہرہ باقی تصویرباقی اگرچہ اور اعضانہ ہوں ولہٰذا جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے حدیث آئندہ اورمحرر مذہب امام محمدنے جامع صغیر اورجملہ کتب مذکورہ مذہب متون وشروح وفتاوٰی میں صرف نفی راس پراقتصارفرمایا، واﷲ تعالٰی اعلم، بہرحال اگراسی پرچلئے
فاقول:  وباﷲ التوفیق
 (اﷲ تعالٰی کی توفیق ہی کے سہارے میں کہتاہوں۔ت) تصویر میں حیات آپ توکسی حالت میں نہیں ہوتی نہ وہ کسی حال میں جملہ اعضائے مدارحیات کااستیعاب کرتی ہے عکسی میں توظاہرکہ اگرپورے قدکی بھی ہوتوصرف ایک طرف کی سطح بالا کاعکس لائے گی خول میں نصف جسم بھی ہوتا تو عادۃً حیات ناممکن ہوتی نہ کہ صرف نصف سطح اوربت میں بھی اندرونی اعضا مثل دل وجگر وعروق نہیں ہوتے اورڈاکٹری کی ایک تصویرخاص لیجئے جس میں اندرباہر کے رگ پٹھے تک سب دکھائے جاتے ہیں تورگوں میں خون کہاں سے آئے گا غرض تصویر کسی طرح استیعاب مابہ الحیاۃ نہیں ہوسکتی فقط فرق حکایت وفہم ناظرکاہے اگر اس کی حکایت محکی عنہ میں حیات کاپتادے یعنی ناظریہ سمجھے کہ گویا ذوالتصویر زندہ کودیکھ رہاہے تووہ تصویر ذی روح کی ہے اور اگرحکایت حیات نہ کرے ناظر اس کے ملاحظہ سے جانے کہ یہ حی کی صورت نہیں، میت وبے روح کی ہے تو وہ غیرذی روح کی ہے،
Flag Counter