Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
126 - 160
اقول:  و باﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق۔ اقول:
 (میں کہتاہوں) اﷲ تعالٰی کے کرم ہی سے توفیق حاصل ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے آدمی تحقیق کی چوٹی تک پہنچ سکتاہے(ت)
یہاں یہ قول اس کاہوسکتا ہے جس نے خدمت فقہ وحدیث نہ کی، نہ اسے مقاصد شرع پرنظرملی، اولاً مقام تنقیح میں سرے سے یہ عبارت دُرہی محل نظرہے فقیرنے جس قدرکتب فقہیہ متون وشروح وفتاوٰی حاضرہیں سب کی طرف مراجعت کی، بیان حکم میں اس تعمیم میں درمختار کاسلف نہ پایا یہاں تک کہ بحرودررکہ اکثرماخذ کتاب ہیں ان میں بھی اس کانشان نہیں،
عامہ کتب مثل بدایہ ووقایہ ونقایہ وکنزووافی وغرر واصلاح ومنتقی ومنیہ ونورالایضاح وہدایہ وشرح وقایہ وبرجندی وتبیین وکافی ودرر و ایضاح ومجمع الانہر ومراقی الفلاح وفتح القدیروعنایہ وخانیہ وخزانۃ المفتین وہندیہ
حتی کہ خود جامع صغیر محررمذہب امام محمدرحمہ اﷲ تعالٰی میں صرف ذکررأس پر اقتصار فرمایا کہ اگر تصویربے سرکی ہویااس کاسر کاٹ دیں توکراہت نہیں، اورخلاصہ پھر اس کی تبعیت سے تنویر الابصار وحلیہ وبحرالرائق وجامع الرموز وغنیہ وصغیری وشرنبلالی وعبدالحلیم علی الدرر میں ''وجہ''  کا اضافہ کیاکہ چہرہ مٹادینا بھی سرکاٹ دینے کی مثل ہے ذخیرۃ العقبٰی وشلبی علی الزیلعی وحسن عجیمی علی الدرر وسعدی افندی علی العنایہ ومسکین علی الکنزکہ سیدابوالسعود ازہری نے بھی کہ درمختارسے کثیرالاخذ ہیں زیادت سے اصلاً تعرض نہ کیا  اقول:  اور ذکر ''وجہ'' حقیقۃً زیادت نہیں کہ رأس کااطلاق اکثرچہرہ پرآتاہے گردن جداکردینے کو سرکاٹناہی کہتے ہیں تو مقصود خلاصہ اس کاافادہ بھی ہے کہ محوبھی مثل قطع ہے اس کی عبارت یہ ہے:
ان کان مقطوع الراس لاباس بہ ولو محی وجہ الصورۃ فہو کقطع الراس۱؎۔
اگرتصویر کاسرکاٹ دیاگیاتو پھر اس کے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ، اور تصویر کے چہرے کو مٹادیناسرکاٹنے کی طرح ہے۔(ت)
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی  کتاب الصلوٰۃ   الفصل الثانی الجنس فیمایکرہ فی الصلوٰۃ  مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۵۸)
ثم  اقول:  (پھرمیں کہتاہوں۔ت) دیگراعضاوجہ وراس کے معنی میں نہیں اگرچہ مدارحیات ہونے میں مماثل ہوں کہ چہرہ ہی تصویر جاندارمیں اصل ہے، ولہٰذا سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اسی کا نام تصویر رکھا اورشک نہیں کہ فقط چہرہ کوتصویرکہتے اوربنانے والے بارہا اسی پراقتصار کرتے ہیں ملوک نصارٰی کہ سکہ میں اپنی تصویر چاہتے ہیں اکثر چہرہ تک رکھتے ہیں اور بیشک عامہ مقاصدتصویرچہرہ سے حاصل ہوتے ہیں
وانما الشیئ بمقاصدہ
 (یہی بات ہے کہ شَے اپنے مقاصد پرمبنی ہوتی ہے۔ت)امام اجل ابوجعفر طحاوی حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
قال الصورۃ الراس فکل شیئ لیس لہ راس فلیس بصورۃ۲؎۔
فرمایا: تصویر''سر'' کانام ہے لہٰذا جس چیزکاسرنہ ہو وہ تصویرنہیں(ت)
 (۲؎ شرح معانی الآثار     کتاب الکراہیۃ     باب الصورۃ تکون فی الثیاب     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۳)
اور اسی طرف عبارت ہدایہ ناظر:
حیث قال اذا کان التمثال مقطوع الراس فلیس بتمثال۱؎۔
چنانچہ (صاحبہ ہدایہ نے) فرمایا کہ جب کسی مجسمّے کا سرکاٹ دیاگیاہو توپھر وہ مجسمہ نہ ہوگا۔(ت)
 (۱؎ الہدایۃ         کتاب الصلوٰۃ     باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲)
بلکہ یہ جامع صغیرمیں نص امام کبیرہے:
محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم اذا کان راس الصورۃ مقطوعا فلیس بتمثال۲؎۔
امام محمدنے امام ابویوسف کے حوالہ سے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت فرمائی کہ اگرتصویرکاسرکاٹ دیاگیاہے توپھر وہ بلاشبہہ تمثال(مورتی) نہیں(ت)
 (۲؎ الجامع الصغیر   کتاب الصلوٰۃ      باب فی الامام این تستحب لہ ان یقوم     مطبع یوسفی لکھنو ص۱۱)
لاجرم امام نسفی نے وافی وکافی میں تصریح فرمائی کہ اگرتصویر کاسرمقطوع نہیں کراہت مدفوع نہیں
وھذا نصہ لوکان فوق راسہ فی السقف اوبین یدیہ اوبحذائہ صورۃ غیرمقطوع راسھا کرہ۳؎۔
امام نسفی کی تصریح یہ ہے، اگرتصویر کسی شخص کے سرکے اوپرچھت میں موجود ہو یا اس کے سامنے ہو یا اس کے مقابل ہو لیکن اس کاسرنہ کاٹاگیاہو توکراہت ہوگی(ت)
 (۳؎کافی شرح وافی )
ظاہرہے کہ نیم قد یاسینہ تک کی تصویر پربھی صادق ہے کہ اس کاسرمقطوع نہیں توحکم منع مدفوع نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
ثانیاً قول درمختار ہی لیجئے جس پرمحشیوں نے تقریراورخادمی نے حاشیہ دررمیں تبعیت کی،
حیث قال مقطوعۃ الراس والمراد ممحوۃ عضولاتعیش بدونہ کالوجہ۴؎۔
چنانچہ اس نے کہا تصویر کاسرکاٹ دیاگیاہو، مراد یہ ہے کہ اس کے کسی ایسے اندام کومٹادیاگیا ہو کہ جس کے بغیر زندگی نہیں ہوسکتی جیسے چہرہ۔(ت)
 (۴؎ حاشیۃ الدرر علی الغرر للخادمی     کتاب الصلوٰۃ     باب مایفسد الصلوٰۃ     مطبعہ عثمانیہ ص۷۰)
بیان مسئلہ میں اگرچہ یہ تعمیم فقیرنے کہیں نہ پائی مگرایک مسئلہ کی دلیل میں کلام فتح سے اس کی طرف اشارہ سمجھاگیا:
اذ قال لوقطع یدیھا ورجلیھا لاترفع الکراھۃ لان الانسان قدتقطع اطرافہ وھو حی۱؎۔
جبکہ فتح القدیرمیں فرمایا اگرکسی نے تصویر (فوٹو) کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے توکراہت مرفوع نہ ہوگی اس لئے کہ کبھی انسان کے اطراف یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ کاٹ دئیے جاتے ہیں مگراس کے باوجودوہ زندہ ہوتاہے۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر         کتاب الصلوٰۃ     فصل ویکرہ للمصلی الخ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱/ ۳۶۳)
علامہ طحطاوی نے اس سے وہ تعمیم استنباط فرمائی حاشیہ مراقی الفلاح میں لکھا:
افاد بھذا التعلیل ان قطع الراس لیس بقید بل المراد جعلھا علی حالۃ لاتعیش معھا مطلقا۲؎۔
اس تعلیل نے یہ فائدہ دیا کہ قطع الراس کاذکر بطور قیدنہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ تصویر کوایسی حالت میں کردینا کہ جس کی موجودگی میں وہ مطلقاً زندہ نہ رہ سکے۔(ت)
 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح کتاب االصلوٰۃ     فصل فی المکروہات     نورمحمدکارخانہ تجارت کتب ص۱۹۹)
اقول:  (میں کہتاہوں۔ت) اس استنباط میں نظرظاہرہے،
فان حاصل کلام الفتح ان ھذا مکروہ لکونہ علی حالۃ یعاش معھا وکل ماکان کذا فھو مکروہ ولایلزم منہ ان کل ماھو مکروہ فھو کذا فان الموجبۃ الکلیۃ لاتنعکس کنفسھا ووجدت نظیرہ فی الھدایۃ اذقال الطلاق علی ضربین صریح وکنایۃ فالصریح قولہ انت طالق ومطلقۃ و طلقتک فھذا یقع بہ الطلاق الرجعی لان ھذہ الالفاظ تستعمل فی الطلاق ولاتستعمل فی غیرہ فکان صریحا وانہ یعقب الرجعۃ بالنص ولایفتقر الی النیۃ لانہ صریح فیہ لغلبۃ الاستعمال۱؎ اھ
فتح القدیر کے کلام کاحاصل یہ ہے کہ یہ مکروہ ہے اس لئے کہ شیئ ایسی حالت پرہے کہ جس کی موجودگی میں زندگی پائی جاسکتی ہے(مرادیہ کہ وہ حالت مانع حیات نہیں) اورہرکام جو اس طرح ہو وہ مکروہ ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا۔ ہرکام جومکروہ ہے وہ اس طرح ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ موجبہ کلیہ کاعکس بنفسہا نہیں(یعنی موجبہ کلیہ کاعکس موجبہ کلیہ نہیں) میں نے ہدایہ میں اس کی نظیرپائی ہے کیونکہ صاحب ہدایہ نے فرمایا کہ طلاق کی دوقسمیں ہیں:(۱) صریح ، (۲) کنایہ، چنانچہ طلاق صریح کی مثال مثلاً یہ کہنا (اپنی منکوحہ کومخاطب کرتے ہوئے) توطلاق والی ہے(انت طالق)، توطلاق ہوگئی ہے (انت مطلقۃ) میں نے تجھے طلاق دے دی (طلقتک) پس ان الفاظ سے طلاق رجعی واقع ہوگئی۔ اس لئے کہ الفاظ مذکورہ صرف طلاق میں استعمال کئے جاتے ہیں لہٰذا کسی دوسرے مفہوم میں استعمال نہیں کئے جاتے(اس لئے یہ طلاق کے الفاظ صریحہ ہیں) لہٰذا ان میں سے کسی ایک کے وقوع کے بعد رجعت ہوگی، او ریہ محتاج نیت نہیں، اس لئے کہ یہ افادیت معنٰی نہیں، ''صریح'' ہیں، اور اس کی وجہ غلبہ استعمال ہے  اھ
 (۱؎ الہدایۃ     کتاب الطلاق     باب ایقاع الطلاق     المکتبۃ العربیہ کراچی     ۲/ ۳۲۹)
Flag Counter