| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
صوروا ای صور الصلحاء تذکیرابھم ترغیبا فی العبادۃ لاجلھم ثم جاء من بعدھم فزیّن لھم الشیطٰن اعمالھم وقال لھم سلفکم یعبدون ھذہ الصور فوقعوا فی عبادۃ الاصنام۲؎۔
(حدیث شریف میں ہے کہ) وہ نادان لوگ اچھے اورصالح لوگوں کی تصویریں بناکر اپنی عبادت گاہوں میں سجاکررکھ دیتے تاکہ ان کی یاد آتی رہے اور ان کے ذریعے عبادت الٰہی کی طرف رغبت پیدا ہو۔ پھر ان کے بعد جب اورلوگ دنیامیں آئے توشیطان نے پہلوں کے کارنامے ان آنے والے لوگوں کی نگاہوں میں آراستہ کرکے پیش کئے اور ان سے کہاکہ تمہارے اسلاف ان تصویروں کی پرستش کیاکرتے تھے، توپھر یہ بھی ان کی عبادت میں مصروف ہوگئے۔(ت)
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب التصاویر المکتبۃالحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۸۲)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتدخل الملٰئکۃ بیتا فیہ کلب و لاصورۃ۱؎۔ رواہ الائمۃ احمد والستۃ والطحاوی عن ابی طلحۃ۲؎، والبخاری والطحاوی عن ابن ۳؎ عمر وعن ابن عباس، ومسلم وابوداؤد والنسائی الطحاوی۴؎ عن ام المؤمنین میمونۃ، ومسلم وابن ماجۃ والطحاوی عن ام المؤمنین الصدیقۃ واحمد ومسلم والنسائی والطحاوی و ابن حبان عن ابی ھریرۃ ۵؎ والامام احمد والدارمی وسعید بن منصور وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابویعلٰی والطحاوی وابن حبان والضیاء والشاشی وابونعیم فی الحلیۃ عن امیرالمؤمنین ۱؎ علی والامام مالک فی المؤطا، والترمذی والطحاوی عن ابی سعید۲؎ الخدری، واحمد والطحاوی والطبرانی فی الکبیر۳؎ عن اسامۃ بن زید والطحاوی عن ابی ایوب الانصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہم وقد فصلناھا فی فتاوٰنا۔
رحمت کے فرشتے اس گھرمیں نہیں آتے جس میں کتایاتصویر ہو(ائمہ محدثین مثلاً امام احمد، دوسرے چھ ائمہ حدیث اورامام طحاوی نے حضرت ابوطلحہ سے اس کو روایت فرمایا، نیزبخاری اورطحاوی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر، اورحضرت ابن عباس سے اس کوروایت کیا۔ امام مسلم، ابوداؤد، سنن نسائی اورطحاوی نے ام المؤمنین سیدہ میمونہ سے اورمسلم وابن ماجۃ اورطحاوی نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے اس کوروایت کیاہے۔مسنداحمد، مسلم، نسائی، طحاوی اورا بن حبان نے بحوالہ حضرت ابوہریرہ اس کوروایت کیاہے(اوراسی طرح) امام احمد، دارمی، سعیدبن منصور، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابویعلٰی، طحاوی، ابن حبان، الضیاء، الشاشی، اورابونعیم نے حلیہ میں امیرالمومنین حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیاہے۔ نیزامام مالک نے ''موطا'' میں ترمذی اورطحاوی نے ''معجم کبیر'' میں حضرت اسامہ بن زید سے اس کو روایت فرمایا۔ اور اسی طرح طحاوی نے حضرت ابوایوب انصاری کے حوالہ سے اس کو روایت فرمایا، اﷲ تعالٰی ان تمام بزرگوں سے راضی ہو۔ اور ہم نے ان سب باتوں کو اپنے فتاوٰی میں تفصیل سے بیان فرمایاہے(ت)
(۱؎ مسنداحمد بن حنبل، عن ابی طلحہ ۴/ ۲۸ و صحیح البخاری کتاب بدؤالخلق ۱/ ۴۵۸، ۴۶۸) (صحیح مسلم کتاب اللباس ۲/ ۲۰۰ و سنن ابی داؤد کتاب اللباس ۲/ ۲۱۶) (جامع الترمذی ابواب الاب ۲/ ۱۰۳ و وسنن النسائی ص۲۹۹) (شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب الصورتکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۰) (۲؎شرح معانی الآثار عن ابن عباس ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۴۰۰) (صحیح البخاری کتاب المغازی ۲/ ۵۷۰ و کتاب اللباس ۲/ ۸۸۱) (۳؎ صحیح مسلم ۲/ ۱۹۹ و مسنداحمدبن حنبل ۶/ ۳۳۰ وسنن ابی داؤد ۲/ ۲۱۷) (۴؎ صحیح مسلم ۲/ ۲۰۰ و ۲۰۱ سنن ابن ماجہ ص۲۱۸ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۰۱و۴۰۰) (۵؎صحیح مسلم ۲/ ۲۰۲ و سنن النسائی ۲/ ۳۰۱ وشرح معانی الآثار ۲/ ۳۰۴) (۱؎ سنن ابی داؤد ۲/ ۲۱۶ و سنن النسائی ۲/ ۳۰۰ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۰۰) (۲؎ جامع الترمذی ۲/ ۱۰۴ و مؤطا امام مالک ماجاء فی الصور والتماثیل ص۷۲۶) (۳؎ مسند احمدبن حنبل ۵/ ۲۰۳ و المعجم الکبیر حدیث ۳۸۷ ۱/ ۱۶۲ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۰۰)
او ر اس میں کسی معظم دینی کی تصویرہونانہ عذرہوسکتاہے نہ اس وبال عظیم سے بچاسکتاہے بلکہ معظم دینی کی تصویر زیادہ موجب وبال ونکال ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے گی اور تصویر ذی روح کی تعظیم خاصی بت پرستی کی صورت اورگویا ملت اسلامی سے صریح مخالفت ہے۔ ابھی حدیث سن چکے کہ وہ اولیاء ہی کی تصویریں رکھتے تھے جس پر ان کوبدترین خلق اﷲ فرمایا۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے بڑھ کر کون معظم دین ہوگا اورنبی بھی کون حضرت شیخ الانبیاء خلیل کبریا سیدناابراہیم علٰی ابنہ الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کہ ہمارے حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد تمام جہان سے افضل واعلٰی ہیں ان کی اور حضرت سیدنا اسمٰعیل ذبیح اﷲ وحضرت بتول مریم علیہم الصلوٰۃ کی تصویریں دیوارکعبہ پرکفارنے منقش کی تھیں، جب مکہ معظمہ فتح ہوا حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو پہلے بھیج کروہ سب محوکرادیں،جب کعبہ معظمہ میں تشریف فرماہوئے بعض کے نشان کچھ باقی پائے پانی منگاکر بنفس نفیس انہیں دھویا اوربنانے والوں کو قاتل اﷲ فرمایا اﷲ انہیں قتل کرے،
ھذا معنی ماروی البخاری۴؎ فی صحیحہ والامام الطحاوی عن ابن عباس والامام احمد وابوداؤد عن جابر بن عبداﷲ وعمر بن شیبۃ والامام الطحاوی عن اسامۃ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنھم کما فصلناہ فی فتاوٰنا۔
جوکچھ امام بخاری نے اپنی صحیح میں روایت فرمایا اس کامفہوم او رمعنی یہی ہے، امام طحاوی نے حضرت عبداﷲ بن عباس سے۔ امام احمد، ابوداؤد نے حضرت جابربن عبداﷲ کے حوالہ سے۔ اور عمربن شیبہ اورامام طحاوی نے اسامہ بن زید سے اس کو روایت کیاہے رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کو مفصل بیان کیاہے۔(ت)
(۴؎ شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب الصور تکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۰) (صحیح البخاری کتاب المناسک ۱/ ۲۱۸ و کتاب الانبیاء ۱/ ۴۷۳ قدیمی کتب خانہ کراچی ) (سنن ابی داؤد کتاب المناسک ۱/ ۲۷۷ و مسنداحمدبن حنبل عن ابن عباس ۱/ ۳۳۵ و ۳۶۵)
ہاں بادی النظرمیں یہاں یہ شبہ گزرسکتاہے کہ صاحبزادہ موصوف کی یہ تصویر صرف سینے تک ہے اور انسان اتنے جسم سے زندہ نہیں رہتا۔ اوردرمختارمیں ہے کہ جب تصویر سے وہ عضو محوکردیاجائے جس کے بغیرحیات نہ ہو تو وہ ممانعت سے مستثنٰی ہے۔
حیث قال (اوکانت صغیرۃ) لاتتبین تفاصیل اعضائھا للناظر قائما وھی علی الارض ذکرہ الحلبی (اومقطوعۃ الراس اوالوجہ) اوممحوۃ عضو لاتعیش بدونہ (اولغیرذی روح) لایکرہ۱؎۔
چنانچہ فرمایا اگرتصویر اتنی چھوٹی ہوکہ زمین پررکھی ہو توکھڑے ہوکردیکھنے والے کو اس کے اعضاء کی تفصیل معلوم نہ ہوسکے۔ چنانچہ حلبی نے اس کو بیان فرمایا یا اس کا سریاچہرہ کاٹ دیاگیاہو یا اس کے کسی ایسے اندام کو مٹادیاگیاہو کہ جس کے بغیروہ زندہ نہ رہ سکے، یاکسی غیرجاندار کی تصویر ہو تو ان ساری صورتوں میں کراہت نہ ہوگی(ت)
اوربنانے کے بعد مٹادینا اور سرے سے نہ ہونا دونوں کاایک حکم ہے۔ ردالمحتارمیں ہے:
قولہ اومقطوعۃ الرأس ای سواء کان من الاصل اوکان لھا رأس ومحی۲؎
مصنف کاقول کہ یاتصویر کاسرکاٹ دیاگیا، یعنی اصل سے اس کاسرنہ ہو، یاسرہولیکن اسے مٹادیاگیاہو۔
(۱؎ درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲) (۲؎ ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶)