Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
124 - 160
رسالہ

العطایاالقدیرفی حکم التصویر(۱۳۳۱ھ)

(تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

الحمدﷲ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ وعلٰی اٰلہ وصحبہ المکرمین عندہ
مسئلہ ۲۵۰: ازاحمدآباد محلہ جمالپور متصل مسجدکانچ مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب ۲۹صفرالمظفر۱۳۳۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ان دنوں شہراحمدآباد میں کاپیاں فوٹوگراف کی قیمت ۰۲/کے بک رہی ہیں او رنمونہ اصل خدمت میں آپ کی مرسل ہے آپ اس کوملاحظہ فرمائیں، یہ فوٹو حضرات پیرابراہیم بغدادی عم فیضہ الصوری والمعنوی سجادہ نشین خانقاہ حضرت غوث اعظم حضرت پیران پیرقدس سرہ العزیز کاہے اس کو احمدآبادی وغیرہ تبرک کے طورپر رکھتے ہیں اس کارکھنامکانوں میں حرام ہے یانہیں؟ اور جن مکانوں میں یہ فوٹو ہوگا ان میں رحمت کے فرشتے آئیں گے یانہیں؟ اور اس فوٹو کے رکھنے سے برکت نازل ہوگی یانہیں؟ اور برزخ شیخ جمانے کے لئے فوٹو شیخ کاسامنے رکھ کر اس کابرزخ جماناشریعت وطریقت میں جائزہے یانہیں؟
بیّنوابیانا شافیا توجروااجرا وافیا
 (شفابخش بیان فرماؤ اور اﷲ تعالٰی کی بارگاہ سے پوراپورا اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب

بسم اﷲالرحمن الرحیم

الحمدﷲ الخالق الباری المصور الذی صورنا فاحسن صورنا وخلق وحدہ العالم فقیرہ وقطیرہ وقضی بالعذاب اشد ھو العقاب علی الذین یضاھؤن خلق اﷲ فیخلقوا ذرۃ اولیخلقوا حبۃ اویخلقوا شعیرۃ اوالصلٰوۃ والسلام علی من اتی بمحق الاوثان و توحیدالرحمٰن وحرم التصویر صغیرۃ وکبیرۃ  وجعلہ کبیرۃ وعلٰی اٰلہ وصحبہ وابنہ الاکرم الغوث الاعظم وسائر حزبہ صلوٰۃ وسلاما توازیان عزہ وتوقیرہ رب انی اعوذبک من ھمزات الشیطین واعوذ بک رب ان یحضرون۔
ہرقسم کی تعریف وتوصیف اس اﷲ تعالٰی کے لئے ہے جو (تخلیق کا) اندازہ کرنے والا، بنانے والا اورتصویرکشی کرنے والا کہ جس نے ہماری صورتیں بنائیں اور ہمیں حسین وجمیل صورتوں سے نوازا، اور اس نے تنہا ساری دنیا کو پیدا فرمایا خواہ تخم خُرما کاگڑھاہو یااورکوئی معمولی چیزہو،اور اس نے عذاب دینے کا بڑا سخت فیصلہ فرمایا کہ ان لوگوں پرنزول عقاب ہے جواﷲ تعالٰی کی تخلیق میں اس سے مشابہت اختیارکرتے ہیں تو وہ کوئی ذرہ یاکوئی دانہ یا جَو پیداکردکھائیں اوردرودوسلام ان پر جوبتوں کومٹانے اور وحدانیت رحمان کوبیان فرمانے کیلئے تشریف لائے اور انہوں نے چھوٹی بڑی تصویر کوحرام ٹھہرایا او اس کام کو کبیرہ گناہ قراردیا، اور ان کی آل اورساتھیوں پر، اور ان کے مکرم شہزادے غوث اعظم (بڑے فریادرس) پرَ، اور ان کے باقی تمام گروہ پر (ہدیہ درودوسلام ہو) ایساشاندار درودوسلام کہ ان کی عزت وتوقیر کے برابر اور مساوی ہو۔ اے میرے پروردگار! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتاہوں، میرے پروردگار! میں تیری پناہ چاہتاہوں، کہ وہ میرے پاس آئیں (اور مجھے اپنے مکروفریب سے پریشان کریں)۔(ت)
اﷲ عزوجل ابلیس کے مکر سے پناہ دے، دنیا میں بت پرستی کی ابتداء یوہیں ہوئی کہ صالحین کی محبت میں ان کی تصویریں بناکرگھروں اورمسجدوں میں تبرکا رکھیں اور ان سے لذت عبادت کی تائید سمجھی، شدہ شدہ وہی معبود ہوگئیں، صحیح بخاری وصحیح مسلم میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے آیہ کریمہ:
وقالوا لاتذرن اٰلھتکم ولاتذرن ودّا ولاسواعا ولایغوث ویعوق ونسرا۱؎۔
کافروں نے کہا ہرگز اپنے خداؤں کونہ چھوڑو، اور ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی نہ چھوڑو۔(ت)

کی تفسیرمیں ہے:
قال کانوا اسماء رجال صالحین من قوم نوح فلما ھلکوا اوحی الشیطان الٰی قومھم ان نصبوا الی مجالسھم التی کانوا یجلسون انصابا وسموھا باسمائھم ففعلوا فلم تعبد حتی اذا ھلک اولٰئک ونسخ العلم عبدت۲؎۔
حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے فرمایا یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نیک اور پارسالوگوں کے نام ہیں، جب وہ وفات پاچکے توشیطان نے بعد والوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ جہاں یہ لوگ بیٹھتے تھے وہیں اُن مجالس میں انہیں نصب کردو(یعنی قرینے سے انہیں کھڑاکردو) اور جو ان کے نام (زندگی میں) تھے وہی نام رکھ دو، تو لوگوں نے (جہالت سے) ایساہی کیا۔ پھر کچھ عرصہ ان کی عبادت نہ ہوئی، یہاں تک کہ جب وہ تعظیم کرنے والے مرگئے اور علم مٹ گیا(اور ہرطرف جہالت پھیل گئی) توپھر ان کی عبادت شروع ہوگئی۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۷۱/ ۲۳)

(۲؎ صحیح البخاری     کتاب التفاسیر     باب وَدّاً وسواعاً الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۳۲)
عبدبن حمیداپنی تفسیرمیں ابوجعفر بن المہلب سے راوی:
قال کان ود رجلا مسلماً وکان محببا فی قومہ فلما مات عسکروا حول قبرہ فی ارض بابل وجزعوا علیہ فلما رأی ابلیس جزعھم علیہ تشبہ فی صورۃ انسان ثم قال اری جزعکم علی ھذا فھل لکم ان اصورلکم مثلہ فیکون فی نادیکم فتذکرونہ بہ قالوا نعم فصورلھم مثلہ فوضعوہ فی نادیھم وجعلوا یذکرونہ فلما رأی مالھم من ذکرہ قال ھل لکم ان اجعل لکم فی منزل کل رجل منکم تمثالامثلہ فیکون فی بیتہ فتذکرونہ قالوا نعم فصورلکل اھل بیت تمثالامثلہ فاقبلوا فجعلوا یذکرونہ بہ قال وادرک ابنائھم فجعلوا یرون مایصنعون بہ وتناسلوا ودرس امر ذکرھم ایاہ حتی اتخذوہ اٰلھا یعبدونہ من دون اﷲ قال وکان اول ماعبد غیراﷲ فی الارض ود الصنم الذی سموہ بود۱؎۔
ابوجعفرنے فرمایا:''ود'' ایک مسلمان شخص تھا جو اپنی قوم میں ایک پسندیدہ اور محبوب شخص تھا جب وہ مرگیا توسرزمین بابل میں لوگ اس کی قبرکے آس پاس جمع ہوئے اور اس کی جدائی پر بیقرار ہوئے (اور صبرنہ کرسکے) جب شیطان نے اس کی جدائی میں لوگوں کوبیتاب پایا تو وہ انسانی صورت میں اُن کے پاس آیا او رکہنے لگامیں اس شخص کے مرنے پرتمہاری بیقراری دیکھ رہاہوں کیامناسب سمجھتے ہو کہ میں بالکل اس جیسی تمہارے لئے اس کی تصویربنادوں، پھروہ تمہاری مجلس میں رہے پھر اس کی تصویردیکھ کرتم اسے یادکرو۔ لوگوں نے کہا ہاں یہ تواچھی تجویز ہے۔ پھرشیطان نے لوگوں کے لئے بالکل اسی جیسی اس کی تصویربنادی اور لوگوں نے اسے اپنی مجالس میں سجارکھا اور اس کی یادکرنے لگے۔ پھرجب شیطان نے دیکھا کہ اس کے ذکر سے لوگوں کی جوحالت ہوتی ہے۔ پھرشیطان کہنے لگا کیاتم یہ مناسب کہتے ہوکہ میں تم میں سے ہرشخص کے لئے اس کے گھرمیں اس کے بزرگ کاعکس تیارکرکے سجادوں تاکہ وہ اس کے گھرمیں موجود ہو، اور تم سب لوگ (انفرادی اوراجتماعی طورپر) اس کاتذکرہ کرتے رہو۔ لوگ کہنے لگے ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے۔ پھر اس نے سب گھروالو ں کے لئے بالکل اسی جیسااس کاایک ایک فوٹوتیارکردیا پھرلوگ اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس کافوٹو دیکھ کر اُسے یادکرتے رہے۔ راوی نے کہا اور ان کی اولاد نے یہ دَور پالیا، پھر وہ دیکھتے رہے کہ جو کچھ ان کے بڑے کرتے رہے، اور پھر نسل آگے بڑھی (اورپھیلی) اور جب اس کے ذکر کاسلسلہ کچھ پرانا ہوگیا یہاں تک کہ جہالت سے پچھلے اورآنے والی نسلوں نے اسے خدابنالیا کہ اﷲ تعالٰی کوچھوڑکر اس کی عبادت کرنے لگے۔ (راوی نے کہا) سب سے پہلے زمین پر اﷲ تعالٰی کے علاوہ جس کی عبادت کی گئی وہ یہی بت ہے کہ جس کانام لوگوں نے وَد رکھاہے۔(ت)
 (۱؎ الدرالمنثور         بحوالہ عبدبن حمید     تحت آیۃ ۷۱/ ۲۳    دارحیاء التراث العربی بیروت     ۸/ ۷۴۔۲۷۳)
نیزصحیحین بخاری ومسلم میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے:
لمااشتکی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ذکر بعض نسائہ کنیسۃ یقال لہا ماریۃ وکانت ام سلمۃ وام حبیبۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما اتتاارض الحبشۃ فذکرتا من حسنھا وتصاویرفیھا فرفع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رأسہ فقال اولٰئک اذا مات فیھم الرجل الصالح بنوا علی قبرہ مسجدا ثم صوّروا فیہ تلک الصور و اولٰئک شرار خلق اﷲ عنداﷲ۱؎۔
جب حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیمارہوئے توآپ کی بعض بیویوں نے ایک گرجے کاذکر فرمایا کہ جس کوماریہ کہاجاتاتھا چنانچہ سیدہ ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما (اﷲ تعالٰی ان دونوں سے راضی ہو) ملک حبشہ میں تشریف لے گئیں، پھرانہوں نے وہاں یہ گرجا دیکھا، دونوں نے اس کے حسن او ر اس میں سجی تصویروں کاتذکرہ فرمایا، تو حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنا سرمبارک اٹھاکرفرمایا: جب ان لوگوں میں کوئی نیک اور صالح آدمی مرجاتا تو اس کی قبرپرمسجد تعمیرکرتے پھر ان تصویروں کوسجاکر اس میں رکھ دیتے وہی اﷲ تعالٰی کی بدترین مخلوق ہیں۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخای         کتاب الجنائز     باب بناء المسجد علی القبر     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۷۹)

(صحیح مسلم         کتاب المساجد    باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ     ۱/ ۲۰۱)
Flag Counter